14/06/2023
Owing to stormy weather conditions, all the papers have been cancelled, which are being taken under Board of Higher Intermediate Education.
A place where leaders groomed Providing Coaching Classes
14/06/2023
Owing to stormy weather conditions, all the papers have been cancelled, which are being taken under Board of Higher Intermediate Education.
سیلاب متاثرین کے لئے عطیات: وزیراعظم فلڈ ریلیف 2022 کا شارٹ کوڈ 9999 جاری
شہری موبائل فون سے "فنڈ" لکھ کر 9999 پر ایس ایم ایس بھیج کر 10 روپے عطیہ کرسکتے ہیں
پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی (پی ٹی اے) نے باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا
تمام آپریٹرز جمع ہونے والے عطیات سے این ڈی ایم اے کو مطلع کریں گے: پی ٹی اے کا نوٹیفیکیشن
وزیراعظم آفس کے حکم پر پی ٹی اے نے نوٹیفیکیشن جاری کیا
وزیراعظم شہباز شریف نے تباہ کن سیلاب کی صورتحال میں اندرون و بیرون ملک پاکستانیوں، مخیر حضرات اور اداروں سے عطیات دینے کی اپیل کی تھی
عوام 'وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ' اکاؤنٹ نمبر G-12164 میں عطیات جمع کرا سکتے ہیں
وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب متاثرین کے لئے 'وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ 2022' قائم کیا تھا
30/03/2022
07/01/2022
تاج محل اور آکسفورڈ: ایک پروپیگنڈہ
کچھ لوگ اکثر یہ بات کہتے نظر آتے ہیں کہ جب برطانیہ میں آکسفورڈ بن رہی تھیبتب ہندوستان میں ہم تاج محل بنا رہے تھے وہ بھی ایسی ملکہ کی یاد میں جس کاانتقال چودھویں حمل کے دوران ہوا تھا۔
اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں!!
اس دور کی دیسی گائنیز کو داد دینا تو بنتی ہے جنہوں نے نازوں سے پلی ملکہ کی تیرہ نارمل ڈیلیوریز کروادیں۔۔۔ آج کے گوروں کی سائنس پڑھ کر تو ڈاکٹر اٹھارہ سال کی لڑکی کا آپریشن کروادیتی ہے۔۔۔
تصویر کا تیسرا رخ
تاج محل پر بی بی سی کی ایک ڈاکیومنٹری ہے جس کے مطابق جب تاج بنا تو اس میں ایروڈائنامکس سمیت 26 ایسے جدید علوم استعمال کیے گئے جو اس کی ہم عصر بننے والی آکسفورڈ یونی ورسٹی میں ابھی پڑھائے جانے تھے۔۔۔
تصویر کا چوتھا رخ
دنیا کی سب سے قدیم یونی ورسٹی نالندہ تھی جو قبلِ مسیح میں ہندوستان میں تھی اور دنیا بھر سے لوگ یہاں پڑھنے آتے تھے۔
تصویر کا پانچواں رخ
سات ہزار سال قبل مسیح میں مہر گڑھ اور پانچ ہزار سال قبل ِ مسیح میں تعمیر ہونے والے موہن جو دڑو اس بات کی گواہی ہیں کہ جب باقی دنیا کے بیشتر حصوں میں انسانوں نے جھگی بھی ڈھنگ سے بنانا نہیں سیکھی تھی، ہمارے علاقے میں دنیا کا سب سرخ
پرشکوہ شہر آباد تھا۔
تصویر کا چھٹا اور آخری رخ
مسلم دورِ حکومت کے عروج کے بعد جب زوال پذیر مغلوں کا دور آیا تو ہم جو کبھی فنِ تعمیر میں امام ہوا کرتے تھے، صنعت و حرفت کے میدان میں پیچھے رہ گئے اور کبوتر اڑانے لگے، کبوتر اور مرغ بازی کا شوق ایسا گھاتک تھا کہ آج تک ہم اسی میں مبتلا ہیں، بجائے یہ کہ ہم اپنی اصلاح کریں، اسس شوق کے زیرِ اثر ایسے شگوفے چھوڑدیتے ہیں کہ جب یورپ میں آکسفورڈ بن رہی تھی تب ہم تاج محل بنا رہے تھے۔
فواد رضا
12/11/2021
Red Day Celebrated in
MAC SCHOOL OF EXCELLENCE
02/11/2021
11/09/2021
شاہ فضل الرحمن گنج مراد آبادی اپنے شاگردوں میں گھرے بیٹھے تھے۔ سب ہمہ تن گوش تھے۔ بخاری شریف کا سبق ہورہا تھا۔ ریاست رام پور سے ایک پیغام رساں پہنچا۔ عرض کیا: ''رام پور کے نواب نے یاد فرمایا ہے۔نواب صاحب دیدار کے مشتاق ہیں اور آپ کے جانے پر ایک لاکھ روپیہ نذرانہ بھی پیش کریں گے۔''
شاہ جی جوش میں آگئے اور فرمایا:
''ارے! ایک لاکھ روپے پر ڈالو خاک اور میری بات غور سے سنو ؎
جو دل پہ ہم ان کا کرم دیکھتے ہیں
تو دل کو بہ از جام جم دیکھتے ہیں''
شیخ عبدالقادر جیلانی کے پاس بھی ایسا ہی کوئی شخص آیا۔ عرض کیا:'' بادشاہ ایران کا مشہور شہر ''نیمروز'' آپ کو دینا چاہتا ہے۔ مگر جس کے سامنے دنیا کی حقیقت کھل چکی ہو وہ کہاں ان کھلونوں سے بہلتا ہے۔ شیخ نے جواب دیا:
زانگہ کہ یافتم خبر از ملک نیم شب
من ملک نیمروز بیک جو نمی خرم
(رات کی تنہائی میں خدا سے سرگوشیوں کی دولت ملنے کے بعد، نیمروز کی سلطنت ایک ٹکے میں بھی نہیں خریدنا چاہتا)
آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ دولت کی خاطر دوسروں کی جان لے لیتے ہیں۔ کچھ لوگوں کی زندگی کا مقصد زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا ہے۔ کچھ لوگ پیسے کی خاطر جیتے اور اسی کی خاطر مرتے ہیں۔ انگریز مصنف مسٹر جوڈ کے بقول: ''اس وقت کا نظریہ یہ ہے کہ ہر مسئلے اور معاملے کو پیٹ یا جیب کے نقطہ نظرسے دیکھا جائے۔'' پاپائے لیو دہم نے تین پاپاؤں کی آمدنی اڑا ڈالی تھی۔ دنیا کو دو بار انتہائی تباہ کن جنگوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم کی ایک ہی وجہ تھی: ''دولت جمع کرنا۔'' برطانیہ اور فرانس سے لے کر جرمنی تک تمام ممالک دولت کی ہوس میں اندھے ہوچکے تھے۔ معاشی دوڑ میں آگے نکلنے کے لےے دنیا کو ہولناک جنگوں میں جھونک دیا۔ پہلی جنگ عظیم میں تین کروڑ ستر لاکھ سے زیادہ افراد موت کے گھاٹ اتار دےے گئے۔ پھر دوسری جنگ عظیم چھڑی اور خون کے چھینٹے ہر بر اعظم اور ہر ملک تک پھیل گئے۔ طاقت کے نشے میں دھت، بدمست ملکوں نے ایک دوسرے کو ختم کرنے کے لےے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ آئن اسٹائن نے دیکھا تو بول اٹھا: ''ایک جنگ اور ہوئی تو دنیا پتھر کے دور میں واپس پہنچ جائے گی۔ جہاں کیل کانٹے اور تلوار نیزے لہرائے جارہے ہوں گے۔'' دوسری جنگ عظیم کی گرد بیٹھی تو پتا چلا کہ سات کروڑ 50لاکھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
دنیا کتنی رنگارنگ ہے۔ ایک طرف قدموں میں دولت کے ڈھیر پڑے ہیں، مگر ایک نظر اٹھا کر نہیں دیکھتے۔ غلام اور خادم ہرسو کھڑے ہیں، سلطنت پھیلی ہے مگر بادشاہ اپنی دوشالہ کندھے پر ڈالے خدا تلاشنے نکل پڑتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو شک پڑنے پر نوے فیصد حلال چیزیں چھوڑ دیتے ہیں۔ سیدنا معروف کرخی کو بھی یہ فکر لگی تو فرمایا: ''صرف ایک خراب لقمہ کبھی دل کی دنیا اس قدر تباہ کردیتا ہے کہ عمر بھر سکون نہیں ملتا۔ حرام لقمہ آدمی کو ایک سال تک تہجد کی نعمت سے محروم کردیتا ہے۔ ''
اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں؟ اس سوال کا جواب سہل بن عبداللہ تستری سے سنیے:
''انسان اس وقت ایمان کی حقیقت سے آشنا ہوتا ہے، جب اس میں چار خصوصیات پائی جائیں: سنت کے ساتھ فرض ادا کرے، تقوی کے ساتھ ساتھ حلال کھائے، ظاہری اور باطنی گناہوں سے بچے اور موت تک ان باتوں پر عمل کرے۔''
(موعظۃ المتقین، کتاب الحلال و الحرام، فضیلۃ الحلال و مذمۃ الحرام)
تحریر: مفتی عبدالمنعم فائز
ایڈیٹر ہفت روزہ شریعہ ایںڈ بزنس
09/08/2021
07/07/2021
| Monday | 07:45 - 14:00 |
| Tuesday | 07:45 - 14:00 |
| Wednesday | 07:45 - 14:00 |
| Thursday | 07:45 - 14:00 |
| Friday | 07:45 - 14:00 |
| Saturday | 08:00 - 13:00 |