23/05/2026
تاریخ کا ایک سنہرا اور نایاب ورق!
محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ (بانی و مہتمم اول و شیخ الحدیث ، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی) اور عالمِ اسلام کے مایہ ناز فقیہ ، مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ ایک ساتھ جلوہ افروز ہیں۔
علم اور تقویٰ کا ایسا حسین دور اب کہاں... 🖤
💬 کیا آپ تصویر میں موجود دیگر اکابرین کو پہچانتے ہیں؟ کمنٹس میں بتائیں اور اس نایاب یادگار کو شیئر ضرور کریں۔
22/05/2026
✨ آلِ رسول ﷺ کی معیت میں بارگاہِ رسالت ﷺ میں سلام عقیدت...
(قاری سعد نعمانی)
گزشتہ شبِ جمعہ کیا ہی سعادت بھری رات تھی…
اللہ رب العزت نے ایک ایسی یادگار ساعت عطا فرمائی جسے دل عمر بھر فراموش نہیں کرسکے گا۔
اپنے دیرینہ مشفق ، مخلص دوست اور ہر دلعزیز شخصیت حضرت مولانا سید سلیمان یوسف بنوری صاحب زید مجدہم (رئیس جامعة العلوم الاسلامیة علامه يوسف بنورى ٹاؤن کراچی) کی معیت میں اُن کا ہاتھ تھامے روضۂ رسول ﷺ پر حاضری کا شرف حاصل ہوا۔
اور دل میں ایک عجیب کیفیت موجزن تھی کہ آج آلِ رسول ﷺ کے ایک چشم و چراغ کی معیت میں بارگاہِ رسالت ﷺ میں سلام پیش کرنے کی سعادت نصیب ہورہی ہے۔
مدینہ منورہ میں اُن کے چالیس سالہ مبارک قیام ، محبتوں ، نسبتوں اور خدمتِ دین کی خوشبو ان لمحوں میں سمٹ آئی تھی۔
روضۂ اقدس کے سامنے کھڑے ہوکر نگاہیں جھک گئیں ، دل نرم ہوگیا ، اور روح پر ایسی سکینت نازل ہورہی تھی جسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
یہ لمحے صرف ملاقات کے نہ تھے ، بلکہ محبت ، ادب ، عقیدت اور نسبتِ رسول ﷺ سے بھرپور ایک روحانی کیفیت تھے۔
اللہ تعالیٰ ان مبارک نسبتوں کو سلامت رکھے ، مدینہ منورہ کی حاضریاں بار بار نصیب فرمائے ، اور ہمیں ادبِ مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
قاری سعد نعمانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🤲 اللہ تعالیٰ حضرت رئیس الجامعہ مدظلہ العالی کے اس سفرِ حج کو ، اور اس مبارک حاضری کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے، انہیں صحت و عافیت کے ساتھ لمبی زندگی عطا فرمائے ، آمین!
💬 کمنٹ سیکشن میں 'آمین' لکھ کر اس برکت میں شامل ہوں اور اپنے دوستوں کے ساتھ لازمی شیئر کریں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#حج
22/05/2026
✨ آلِ رسول ﷺ کی معیت میں بارگاہِ رسالت ﷺ میں سلام عقیدت...
(قاری سعد نعمانی)
گزشتہ شبِ جمعہ کیا ہی سعادت بھری رات تھی…
اللہ رب العزت نے ایک ایسی یادگار ساعت عطا فرمائی جسے دل عمر بھر فراموش نہیں کرسکے گا۔
اپنے دیرینہ مشفق ، مخلص دوست اور ہر دلعزیز شخصیت حضرت مولانا سید سلیمان یوسف بنوری صاحب زید مجدہم (رئیس جامعة العلوم الاسلامیة علامه يوسف بنورى ٹاؤن کراچی) کی معیت میں اُن کا ہاتھ تھامے روضۂ رسول ﷺ پر حاضری کا شرف حاصل ہوا۔
اور دل میں ایک عجیب کیفیت موجزن تھی کہ آج آلِ رسول ﷺ کے ایک چشم و چراغ کی معیت میں بارگاہِ رسالت ﷺ میں سلام پیش کرنے کی سعادت نصیب ہورہی ہے۔
مدینہ منورہ میں اُن کے چالیس سالہ مبارک قیام، محبتوں، نسبتوں اور خدمتِ دین کی خوشبو ان لمحوں میں سمٹ آئی تھی۔
روضۂ اقدس کے سامنے کھڑے ہوکر نگاہیں جھک گئیں، دل نرم ہوگیا، اور روح پر ایسی سکینت نازل ہورہی تھی جسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
یہ لمحے صرف ملاقات کے نہ تھے، بلکہ محبت، ادب، عقیدت اور نسبتِ رسول ﷺ سے بھرپور ایک روحانی کیفیت تھے۔
اللہ تعالیٰ ان مبارک نسبتوں کو سلامت رکھے، مدینہ منورہ کی حاضریاں بار بار نصیب فرمائے، اور ہمیں ادبِ مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
قاری سعد نعمانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🤲 اللہ تعالیٰ حضرت رئیس الجامعہ مدظلہ العالی کے اس سفرِ حج کو ، اور اس مبارک حاضری کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے، انہیں صحت و عافیت کے ساتھ لمبی زندگی عطا فرمائے اور ہمیں بار بار ادبِ مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ ایسی حاضریوں کی توفیق دے۔ آمین!
💬 کمنٹ سیکشن میں 'آمین' لکھ کر اس برکت میں شامل ہوں اور اپنے دوستوں کے ساتھ لازمی شیئر کریں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
18/05/2026
✍️ "باطل کا کام صرف شور مچانا ہے ، اور حق کا کام خاموشی سے دلوں کو فتح کرنا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ شور ہمیشہ ختم ہو جاتا ہے اور فتح ہمیشہ حق کی ہوتی ہے۔"
~ شہیدِ اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ ❤️🩹
🖤 آج 18 مئی ، یومِ شہادت حضرت لدھیانوی شہیدؒ 🖤
آج امتِ مسلمہ کے اس عظیم مجاہد اور جامع الکمالات شخصیت کا 26 واں یومِ شہادت ہے جو بیک وقت متعدد محاذوں کے جرنیل تھے:
🕌 علمِ حدیث و تصنیف و تالیف : جامعۃ العلوم الاسلامیۃ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے مایہ ناز استاذ الحدیث اور مدیرِ اعلیٰ ماہنامہ "بینات" تھے۔
⚔️ تحفظِ ختمِ نبوت کے نقیب : عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کے مرکزی نائب امیر تھے۔
📿 سلوک و احسان کے امین : حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ اور حضرت ڈاکٹر عبدالحئ عارفیؒ کے خلیفہِ مجاز تھے، اور آپ کے نامور خلفاء میں حضرت ڈاکٹر مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ اور حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحبؒ جیسی مایہ ناز شخصیات شامل تھیں۔
18 مئی سن 2000ء کو باطل کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہو جانے والے اس حق گو قلم کو شہر کراچی میں شہید کردیا گیا تھا ، لیکن ان کے مخلصانہ افکار آج بھی لاکھوں دلوں میں زندہ ہیں۔
👉 حضرت شہید کی روح کے ایصالِ ثواب اور بلندیِ درجات کے لیے کمنٹ میں "آمین" ضرور لکھیں ، اور ان کے اس قیمتی فرمان کو اکابر میں شیئر کر کے دنیا بھر میں پہنچائیں۔
📚 خصوصی گزارش : حضرت شہیدؒ کی بے مثال شخصیت ، علمِ دین کے لیے ان کی مخلصانہ محنت ، اکابرینِ امت کے ان پر بے پناہ اعتماد اور باطل قوتوں کے خلاف ان کی کڑک للکار کو قریب سے جاننے کے لیے "ماہنامہ بینات" کے یادگار "حضرت لدھیانوی شہیدؒ خاص نمبر" کا مطالعہ ضرور کریں۔
16/05/2026
گلشنِ بنوری ٹاؤن (Jamia Banuri Town Alumni) کے فیس بک پیج پر 20,000 فالوورز کا سنگِ میل مکمل! 🎉✨
یہ کامیابی آپ سب ساتھیوں ، بزرگوں اور علم کے پروانوں کی محبت اور مسلسل تعاون کا نتیجہ ہے۔
اس خوبصورت سفر میں ہمارے ساتھ جڑے رہنے اور ہماری حوصلہ افزائی کرنے پر ہم اپنے تمام فالوورز کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ جزاکم اللّٰہ خیرا کثیرا! 🖤
ایک چھوٹی سی گزارش:
علم ، خیر اور بھائی چارے کے اس سلسلے کو مزید آگے بڑھانے میں ہمارا ساتھ دیں۔ اس پوسٹ کو شیئر کریں اور اپنے دوستوں و احباب کو بھی پیج اور ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کرنے کی دعوت دیں ، تاکہ یہ گلشن یوں ہی آباد رہے۔
واٹس ایپ چینل و فیس بُک پیج کا لنک نیچے کمنٹس میں دیکھیں 👇🏻
#بنوری
14/05/2026
جامعہ بنوری ٹاؤن کی تمام تازہ ترین اپڈیٹس براہِ راست اپنے واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل ابھی جوائن کریں اور دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں۔
لنک پہلے کمنٹ میں موجود ہے! 👇
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#بنوری
13/05/2026
✨ جب علم کا سمندر ہمارے دروازے سے صرف "انور" بن کر واپس لوٹا... ✨
علم کا وقار نمائش میں نہیں ، بلکہ اس انکساری میں ہے جو انسان کو مٹی بنا دیتی ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں القابات کی دوڑ لگی ہے ، "گلشنِ بنوری ٹاؤن" کے قارئین کے لیے ایک ایسی بصیرت افروز تحریر جو ہمیں اپنے اسلاف کی سادگی کی یاد دلاتی ہے۔ جب علم کے پہاڑ اور زہد و تقویٰ کے امام اپنے نام کے ساتھ کوئی سابقہ یا لاحقہ لگانا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔
یہ صرف ایک واقعہ نہیں ، بلکہ آج کے دور کے لیے ایک خاموش پیغام اور لمحہ فکریہ ہے۔
ضرور پڑھیں.........
-------------------------------------------
"جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن سے ہماری فراغت 2006 کی ہے اس کے بعد دو سالہ تخصص والد صاحب کے حکم پر کیا۔۔۔ ذاتی طور اس وقت اس کی خواہش تھی نہ اب کرکے خوش ہوں۔۔۔۔ کیونکہ یہ ایک بھاری پتھر ہے جس کے ہم متحمل نہیں ہو سکتے ۔۔۔۔ تدریس کو بھی پندرہ سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا۔۔۔ ان سب کے باجود اپنے نام کے ساتھ “مولانا” لکھنے کی ہمت کبھی نہ ہوئی بلکہ آگے سے بھی کوئی کہے تو کافی ثقیل معلوم ہوتا ہے۔۔
وجہ شاید اس کی یہ ہو کہ ہم جن استاذوں کے سامنے براہ راست زانوئے تلمذ ہوئے وہ سب اپنے وقت کے امام تھے علم میں ، تقوی میں ، زہد میں۔۔۔ فہرست بہت لمبی ہے ۔۔۔ نہایت اختصار کے ساتھ چار ان استاذوں کا نام لکھتا ہوں جو دنیا سے پردہ فرما گئے ہیں:
حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب رح ، حضرت مولانا سید محمد انور بدخشانی صاحب رح ، حضرت مولانا عطاء الرحمن شہید صاحب رح ، حضرت مولانا قاری مفتاح اللہ صاحب رح ، حضرت مولانا سعید اللہ صاحب رح ۔۔۔۔ ان میں سے ہر ایک کی شخصیت صفات کے لحاظ سے ایک ضخیم کتاب کا تقاضہ کرتی ہے۔۔ باجود اس کے ان حضرات میں سادگی اور انکساری قیامت کی تھی۔۔۔ حالانکہ زمانے کے استاذ تھے۔۔ ہم نے جب بھی انہیں اپنا نام کسی کو بتاتے ہوئے سنا (عام طور اس زمانے میں فون میں بات کرتے ہوئے تعارف کی ضرورت پیش آتی تھی) یا نام لکھتے دیکھا تو بغیر کسی سابقے اور لاحقے کے صرف نام پر ہمیشہ انہوں نے اکتفاء کیا۔
1998 کے آس پاس کا واقعہ ہے ہماری دادی کا انتقال ہوا تو والد صاحب کے پاس تعزیت کے لئے بہت سارے حضرات تشریف لے آئیں ۔ ایک دن والد صاحب گھر پر موجود نہیں تھے دروازہ بجا ہم باہر نکلے تو ایک دراز قد بزرگ کو وہاں موجود پایا۔۔ پوچھا کہ قاری صاحب موجود ہیں۔۔ نفی میں جواب پاکر ایک پرچی مجھے تھمایا اور اپنا نام "انور" بتایا۔۔۔ ہم دیہات سے نو وارد تھے انہیں بیٹھنے کا کہنے کو اردو کے الفاظ سوچتے رہے اتنے دیر میں یہ بزرگ واپس روانہ ہو گئے۔۔۔ خیر وہ پرچی سنبھال کر رکھی۔۔۔ واپسی پر والد صاحب کو دی اور کہا کہ ایک بزرگ آئے تھے نام اپنا انہوں نے انور بتایا تھا ۔۔ والد صاحب نے پرچی دیکھی اور کہا کہ "بےوقوف! یہ تو مولانا انور بدخشانی صاحب آئے تھے"۔۔۔ ہم کو کیا معلوم کہ علم کا سمندر ہمارے دروازے سے واپس ہوئے ہیں۔۔
اس ساری کہانی کی اسٹوری یہ ہے کہ آج کل کے بچے انڈے سے پوری طرح ابھی نکلے بھی نہیں ہوتے ہیں کہ آگے نام کے ساتھ “مفتی” مولانا یا علامہ جوڑ دیتے ہیں۔۔۔ بات یہاں تک بھی کسی طرح قابل برداشت ہے لیکن جب سوشل میڈیا میں ان بڑے القابات کے ساتھ غیر سنجیدہ حرکات کرتے ہیں۔۔۔ تو واقعی میں جو لوگ ان القابات کے مستحق ہیں ان کی بدنامی کا سامان پیدا ہوتا ہے۔۔۔
دوستو! علم اور کردار اپنا تعارف خود کراتی ہے اسے نمائش کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔ یہ تحریر عمومی ماحول کے تناظر میں لکھی گئی ہے ، کوئی خاص فرد ہمارا ہدفِ تنقید نہیں۔۔۔
کیا آپ بھی اپنے اردگرد ایسا محسوس کرتے ہیں؟ "
کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔
از : مولانا ولی اللہ چترالی
اللہ رب العزت استاد جی حضرت مولانا سید محمد انور بدخشانی صاحب رحمہ اللہ کی تمام علمی و تحقیقی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے ان اکابرین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سادگی ، اخلاص اور حقیقی علم کی دولت نصیب فرمائے۔ آمین
------------------------------------------
#بنوری
10/05/2026
یہ تصویر ایک روحانی سفر کی طرح ہے ، جہاں ہر طرف کلام اللہ ہے ۔ میں نے اس تصویر کو دیکھا تو میری نظر سب سے پہلے اس خوبصورت آیت پر پڑی:
📖 وَاُفَوِّضُ اَمْرِیْ اِلَی اللّٰہِ (میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں)
سبحان اللہ! کتنا اطمینان ہے اس ایک فقرے میں۔ ❤️
اب آپ کی باری ہے! اس تصویر میں بہت سی آیات ہیں ، لیکن آپ کی نظر سب سے پہلے کس آیت پر پڑی؟ کمنٹس میں لکھ کر بتائیں اور اس خوبصورت ذکر کا حصہ بنیں۔ 👇
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
08/05/2026
روضہِ رسول ﷺ پر حاضری کا "بنوری" انداز! ❤️
روضہِ رسول ﷺ پر حاضری نصیب ہو تو کیا کہیں؟ اور جو خود نہیں جا پاتے ، وہ اپنوں سے سلام کیسے کہلوائیں؟
محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری نور اللہ مرقدہ نے اپنے صاحبزادے حضرت مولانا سید محمد بنوری شہیدؒ کو لکھے گئے ایک خط میں کس والہانہ انداز میں اپنا سلام پیش کرنے کی تلقین فرمائی۔
الفاظِ سلام:
"السلام علیک یا سیّدی و یا مولای یا رسول اللہ! عن والدی محمد یوسف البنوریّ خادمِ مدرستك العربیة الاسلامیة راجیاََ عنك ما تقرُّ به عینه فی الدّنیا والآخرۃ۔"
ترجمہ: "اے میرے سردار، اے میرے آقا، اے اللہ کے رسول ﷺ آپ پر سلام ہو! یہ سلام میرے والد محمد یوسف بنوری کی جانب سے ہے جو آپ کے مدرسہ (جامعہ بنوری ٹاؤن) کے خادم ہیں، اور آپ ﷺ سے ایسی امید رکھتے ہیں جس سے دنیا و آخرت میں ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔"
سبحان اللہ! عاجزی اور عشق کا یہ حسین امتزاج ہمیں سکھاتا ہے کہ نسبتِ رسول ﷺ ہی اصل سرمایہ ہے۔
✅ یہ الفاظِ سلام اپنے پاس محفوظ کر لیں اور ان دوستوں کو ٹیگ کریں جو جلد عمرہ یا حج پر جانے والے ہیں تاکہ وہ حضرت بنوریؒ کے اس خوبصورت انداز میں آپ کا سلام بھی پہنچا سکیں۔
📍 کمنٹ میں درود شریف لکھ کر اپنی محبت کا اظہار ضرور کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#سلام