Skill Development Students Organization

Skill Development Students Organization

Share

Skill Development Students Organization

21/12/2025

ماشاءاللہ پاکستان کی نوجوان ٹیم نے سرفراز احمد کی کوچنگ میں بھارت کو فائنل میں ہارا کر انڈر 19 ایشیا کپ اپنے نام کر لیا ....💫👑💯💪😍

02/12/2025

760 دن زیر زمین قیادت
ناقدین یہ الزام لگاتے رہے کہ لڑکوں کو سرنگوں میں تنہا چھوڑ کر نام نہاد قائد خود کہیں نکل گیا ہے۔ نفاق میں ڈوبے زندیقوں کا یہ بھی خیال تھا کہ وہ دجالیوں سے سازباز کرکے غزہ سے ہی فرار ہو چکا ہے۔ کسی نے کہا قطر میں پناہ لے لی، یا مصر کی سرحد پار کر کے محفوظ نگرانی میں بیٹھا ہے۔ مگر آج اس کے لہو نے، اس کے چھلنی بدن نے، اس کے بھوکے مہینوں نے، اس کی پیاسی راتوں نے اور اس کی 760 دن کی خاموش قیادت نے انسانی تاریخ کے صفحے پر ان مٹ نقوش ثبت کرکے ان تمام منافقین کا منہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا ہے۔
نہ وہ بھاگا، نہ اس نے اپنے جوان چھوڑے، نہ وہ تنہا نکلا، وہ شروع سے آخری سانس تک اپنے سپاہیوں کے ساتھ رہا، بھوک میں، پیاس میں، اندھیرے میں، دھمکیوں میں، گولہ باری میں، ہر لمحہ… ہر سانس… ہر دن۔
یہ ہیں رفح شرقی کے ق،،امی کمانڈر، جس نے خون کے آخری قطرے تک ڈٹنے کی قسم کھا رکھی تھی۔ ابو احمد البواب رحمہ اللہ۔ وہ شخص جس نے مسلسل 760 دن زیر زمین گزارے۔ نہ پانی، نہ کھانا، نہ آسمان کی روشنی، نہ صبح کی ہوا… صرف دھماکوں کی آوازیں اور ایمان کی حرارت۔ وہ ہر روز موت کو اپنی طرف آتے دیکھتا تھا، مگر اتنی ہی استقامت سے کھڑا

26/11/2025
25/11/2025

اک مُجَاہِد و شہید صدر مملکت!!
وہ ایک باقاعدہ صدرِ مملکت تھا۔ بین الاقوامی طور پر منتخب، دنیا کے نقشے پر ایک چھوٹی مگر جری قوم کا آئینی سربراہ۔ لیکن یہ دنیا کا وہ واحد صدر تھا جس کے سر کی قیمت بھی مقرر تھی پورے ایک کروڑ ڈالر۔ ابھی اسے حکومت سنبھالے دو سال بھی نہیں ہوئے تھے کہ اسے دوبارہ بندوق اٹھانا پڑی۔ روس نے پورے قفقاز میں آگ لگا دی، چیچنیا پر چڑھائی کی اور وہ صدر جو امن چاہتا تھا، ایک بار پھر میدانِ کارزار میں اترنے پر مجبور ہوگیا۔ تاریخ کے اس بہادر شخص کا نام تھا اصلان مسخادوف۔
مسخادوف اپنی قوم کا صرف سیاسی سربراہ نہیں تھا، وہ ان کا جرنیل، ان کا منصوبہ ساز اور سب سے بڑھ کر ان کی امید تھا۔ اس نے فوج میں تربیت لی تھی، سوویت آرمی میں کیپٹن کے عہدے تک پہنچا تھا اور پیشہ ورانہ عسکری سمجھ بوجھ رکھتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ چیچنوں کی آزادی کی تحریک میں وہ صرف ایک لیڈر نہیں بلکہ ریڑھ کی ہڈی بن گیا۔
1994 ء میں جب پہلی چیچن جنگ شروع ہوئی تو روس نے پوری طاقت جھونک دی۔ ٹینکوں، توپوں اور بھاری مشینری کے مقابل چیچن مُجَاہِدین کے پاس پہاڑوں کے راستے اور ایمانی حوصلہ تھا۔ اسی دوران مسخادوف چیچن فوج کے چیف آف اسٹاف تھے۔ انہوں نے بکھرے ہوئے گروہوں کو مرکزی نظم و ضبط میں ڈالا، چھاپہ مار اور گوریلا حکمت عملی ترتیب دی اور ایسے وقتوں میں روس کو حیران کر دیا جب اسے اپنی فتح یقینی لگتی تھی۔ انہی کی عسکری منصوبہ بندی نے 1996ء میں روس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور چیچن مجاہدین کو فتح کی خوشبو محسوس ہونے لگی۔
اس کے بعد 1997ء میں ایک تاریخی دن آیا جب روسی صدر یلتسن اور چیچن لیڈر اصلان مسخادوف نے امن معاہدے پر دستخط کیے۔ مسخادوف چیچنیا کے آئینی صدر منتخب ہوئے اور پوری قوم کو امید تھی کہ شاید اب خونریزی ختم ہوجائے گی۔ لیکن امن کی وہ کھڑکی زیادہ دیر کھلی نہ رہ سکی۔ دوسری جنگ نے سب کچھ پھر زمین بوس کردیا۔
2002 ء کے ماسکو تھیٹر حملے نے روسی قیادت کو پھر مشتعل بنا دیا۔ ولادیمیر پیوٹن نے اعلان کر دیا کہ اب کسی مجاہد گروہ سے بات نہیں ہوگی۔ مسخادوف کی منتخب حکومت کو دشمن قرار دے دیا گیا اور اس کی جگہ روسی حمایت یافتہ احمد قادروف کو بٹھایا گیا۔ وہی شخص جسے چیچن عوام غدار کہتے تھے۔ مسخادوف نے اس فیصلے کی سخت مخالفت کی اور پیش گوئی کی کہ ’’قادروف کا انجام چیچن عوام کے ہاتھوں ہوگا‘‘۔ اور 2004ء میں قادروف واقعی ایک حملے میں مارا گیا۔
روس کو اصل مسئلہ یہ تھا کہ مسخادوف صرف جنگجو نہیں، ایک قانونی صدر بھی تھے، جو عالمی سطح پر چیچن عوام کی نمائندگی کا حق رکھتے تھے۔ ان کی موجودگی روس کے لیے سیاسی شکست تھی۔ اس لیے روس نے انہیں ’’ناقابلِ برداشت‘‘ قرار دیا اور ہر قیمت پر مارنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے ٹھکانوں پر مسلسل کمانڈو آپریشن ہوتے رہے۔ کئی بار محاصرے میں آئے، مگر بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ کبھی پہاڑوں میں، کبھی زیرزمین سرنگوں میں، وہ روس کے لیے ایک ناقابلِ گرفت دشمن اور موسٹ وانٹڈ شخص بن چکے تھے۔ اس لیے روس نے ان کے بارے میں اطلاع دینے والے پر دس ملین ڈالر انعام کا اعلان کیا۔
آخرکار 8 مارچ 2005ء کو روسی اسپیشل فورسز نے ایک خفیہ گھر کو گھیر لیا جہاں مسخادوف موجود تھے۔ انہیں ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا گیا، مگر وہ جانتے تھے کہ گرفتاری دراصل تذلیل اور اپنی قوم کے حوصلے کی موت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے انجام کے لیے تیار ہیں۔ چند لمحوں بعد فائرنگ ہوئی، پھر دھماکہ ہوا اور وہ چیچن صدر جس نے ٹینکوں کا مقابلہ ایمان سے کیا تھا، شہید ہوگیا۔
مسخادوف کا کردار چیچن تحریک میں ایک روشن باب ہے۔ وہ ان لیڈروں میں سے تھے، جو تختِ صدارت پر بیٹھ کر بھی یہ نہیں بھولے کہ قوم کی آزادی کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے۔ اپنے دو سالہ دور صدارت میں جتنا وقت قصر صدارت میں گزارا، اس سے کہیں زیادہ وہ پہاڑوں میں، مورچوں میں اور اپنے سپاہیوں کے درمیان تھے۔ دشمن انہیں دہشت گرد کہتے رہے، مگر چیچن قوم انہیں آج بھی مُجاہد صدر کہتی ہے۔
تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ ہتھیاروں سے نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی کسی قوم کی تاریخ ایک ایسے انسان کے لہو سے روشن ہوتی ہے جسے تخت بھی دیا گیا ہو اور اس نے تلوار بھی نہیں چھوڑنے دی۔ اصلان مسخادوف انہی لوگوں میں سے تھے۔ ایک صدر، جو آخرکار میدان میں کھڑا ہو کر شہید ہوا۔
واضح رہے کہ چیچنیا قفقاز کا وہ پہاڑی علاقہ ہے جہاں اسلام بہت قدیم زمانے میں پہنچا۔ عرب تاجروں، صوفی بزرگوں اور قفقاز کے مبلغین کے ذریعے آٹھویں سے دسویں صدی کے درمیان اسلام نے یہاں قدم رکھا اور پندرھویں صدی تک چیچنیا مکمل طور پر مسلمان خطہ بن چکا تھا۔ یہاں کے لوگ سخت مزاج، بہادر اور آزادی کے شیدائی تھے، اس لیے اسلام نے ان کی روایات کے ساتھ ایک مضبوط رشتہ بنا لیا۔ وقت کے ساتھ شمالی قفقاز پر روس کی نظریں پڑیں۔ روسی افواج نے پورے علاقے پر قبضہ کرنے کے لیے کئی مہمات شروع کیں، جن کے خلاف چیچن جانبازوں نے سخت مزاحمت کی۔ امام شاملؒ کی قیادت میں طویل جہاد چلا، مگر روس نے بالآخر 1859 میں چیچنیا پر قبضہ کرلیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے ڈیڑھ صدی پر محیط غلامی اور مزاحمت کی تاریخ کو جنم دیا۔
سوویت یونین کے دور میں بھی چیچن عوام نے آزادی کی خواہش نہیں چھوڑی۔ جب 1991 میں سوویت یونین ٹوٹا تو چیچنیا نے خود کو آزاد ریاست قرار دیا۔ لیکن روس اس آزادی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ یوں 1994 میں پہلی چیچن جنگ شروع ہوئی۔ ٹینکوں اور بھاری توپ خانے سے لیس روسی فوج کے مقابل چیچن مجاہدین نے محدود وسائل کے باوجود تاریخ ساز مزاحمت دکھائی۔ انہی لڑائیوں میں اصلان مسخادوف اور دوسرے جانبازوں نے غیر معمولی کردار ادا کیا اور 1997 میں ایک امن معاہدہ ہوا جس سے چیچنیا کو وقتی آزادی ملی۔ مگر یہ آزادی زیادہ دیر نہ چل سکی۔ 2002 کے ماسکو تھیٹر واقعے کے بعد روس نے دوبارہ سخت کارروائیاں شروع کیں اور دوسری چیچن جنگ نے پورے خطے کو تباہ کردیا۔ روس نے اپنی مرضی کی حکومت قائم کی جس کا سربراہ احمد قادروف تھا، اور اس کے بعد چیچنیا عملی طور پر دوبارہ روس کے کنٹرول میں چلا گیا۔
احمد قادروف 2004 میں مارا گیا تو اس کا بیٹا رمضان قادروف حکمران بن بیٹھا اور آج تک چیچنیا اس کی آہنی گرفت میں ہے۔ بظاہر چیچنیا "خود مختار ریپبلک" کہلاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ تمام سیاسی، عسکری اور معاشی فیصلے ماسکو کی منظوری سے ہوتے ہیں۔ چیچن قوم کی حقیقی آزادی آج بھی خواب ہی ہے، جسے صرف تاریخ، قبرستانوں اور شہیدوں کی داستانیں یاد دلاتی ہیں۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں اصلان مسخادوف جیسے قائد پیدا ہوئے، جنہوں نے اپنی قوم کی آزادی کے لیے جان دی، مگر غلامی کا دفتر اب تک بند نہیں ہوا۔

11/11/2025

60
ساٹھ (60)سال سے زیادہ عمر کے بزرگ شہریوں کے لیے حکمت عملی
وہ بیمار لوگ جو اپنی بیماری کا علاج کروانے سے قاصر ہیں وہ صرف ایک سادہ فارم پر کر کے سندھ سوشل ویلفیئر آفس میں جمع کرائیں۔
ان کا علاج سندھ حکومت کے خرچ پر اچھے پرائیویٹ اسپتال میں ہوگا۔
زیادہ سے زیادہ شیئر کریں یا کاپی کر کے اپنے پروفائل پر ڈالیں تاکہ یہ سہولت مستحق بزرگ شہریوں تک پہنچ سکے۔

25/10/2025

*حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے چرواہے کی ملاقات کا واقعہ*
حضرت نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مدینہ طیبہ کے نواح میں نکلے، آپ کے ساتھ آپ کے شاگرد بھی تھے۔ (کھانے کا وقت ہوا تو) شاگردوں نے کھانے کے لئے دسترخوان بچھایا۔ اتنے میں پاس سے ایک چرواہا گزرا اور اس نے سلام کیا۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: آؤ بھئی! تم بھی کھانے میں شریک ہو جاؤ۔
اس نے کہا: میر ا تو روزہ ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا تم اس قدر شدید ترین گرمی کے دن میں بھی روزہ رکھے ہوئے ہو اور اس حالت میں بھی بکریاں چرا رہے ہو؟

اس نے کہا:
وَاللّٰهِ إِنِّي أَبَا دُرْ أَيَّامِي هٰذِهِ الْخَالِيَةَ
بخدا! میں ان ایامِ خالیہ سے حصہ وصول کر رہا ہوں۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے زہد و ورع کا امتحان لینے کے لئے اس سے فرمایا: ایسے کرو کہ اپنی بکریوں میں سے ایک بکری ہمارے ہاتھ فروخت کر دو، ہم تمہیں اس کی قیمت بھی دیں گے اور گوشت بھی دیں گے، گوشت سے تم روزہ افطار کرنا۔

اس چرواہے نے عرض کیا: کہ ان بکریوں میں سے کوئی بکری بھی میری نہیں، بلکہ سب بکریاں میرے آقا کی ہیں۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: تمہارے آقا کو ایک بکری نہ ملی تو وہ تمہارا کیا بگاڑ لے گا؟

اس چرواہے نے آپ سے رخ موڑ کر آسمان کی طرف انگلی اٹھاتے ہوئے کہا:
فَأَيْنَ اللّٰهُ؟
اللہ کہاں جائے گا؟
(یعنی بالفرض اگر میں دنیاوی آقا سے بیچ بھی گیا تو اللہ تو دیکھ رہا ہے، وہ تو کہیں چلا نہیں گیا، اس سے بیچ کر کہاں جاؤں گا؟)

حضرت نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ (چرواہے کی بات سن کر) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو گئی اور آپ بار بار چرواہے کی بات دہراتے رہے کہ دیکھو! چرواہا کہہ رہا ہے:
فَأَيْنَ اللّٰهُ؟
اللہ کہاں جائے گا؟

حضرت نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب آپ مدینہ طیبہ واپس تشریف لائے تو آپ نے اس چرواہے کے آقا سے وہ ساری بکریاں اور چرواہا خرید لیا، پھر چرواہے کو آزاد کر کے ساری بکریاں اُسے بخش دیں۔
(اسد الغابہ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*علم کا صدقہ*

رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا:
“سب سے اچھا صدقہ یہ ہے کہ مسلمان ایک علم سیکھے، پھر اسے اپنے مسلمان بھائی کو سکھائے۔”
(رواہ أحمد عن أبی ہریرہ)

صدقہ صرف مال دینے کا نام نہیں، بلکہ خیرخواہی کا اظہار ہے۔
سب سے اعلیٰ خیرخواہی یہ ہے کہ آدمی دوسروں کو علمِ حق پہنچائے۔

علم دینا تب ممکن ہے جب آدمی دوسرے کا درد اپنے دل میں محسوس کرے،
اپنے نفس کو پیچھے رکھے، اور دوسرے کو فائدہ پہنچانے کی نیت کرے۔

علم کا صدقہ سب سے بڑی قربانی ہے —
دینے والا بننے کے لیے کھونے والا بننا پڑتا ہے،
اور جو کھونے کے لیے تیار نہیں، وہ کبھی دینے والا نہیں بن سکتا۔
🌼🌸♥️🌹🤲

25/10/2025

Celebrating my 4th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

23/10/2025

اسلام آباد ( اے بی این نیوز )آئی جی اسلام آباد پمز ہسپتال پہنچ گئے۔ اسلام آباد میں تعینات افسران شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے۔ ذرائع کے مطابق
ایس پی انڈسٹریل ایریا عدیل اکبر ٹیلی فون پر کسی سے بات کر رہے تھے۔
ٹیلی فون کال کے بعد پستول سے خود کو گولی ماری۔ اس سے قبل پولیس افسران کو دل کے دورے بھی پڑ چکے ہیں۔ ایس پی عدیل اکبر مسلسل رات دن کی ڈیوٹیوں سے اکتا چکے تھے۔
اپنی میڈیکل رپورٹ افسران کو بھجوائی مگر چھٹی پھر بھی نہ ملی۔ جس کے باعث وہ انتہائی سخت ذہنی دباؤ کا شکار تھے۔
وفاقی پولیس کے ایس پی کی خود کشی کا معاملہ۔ ذرائع کے مطابق عدیل اکبر کا تعلق ضلع گجرات سے تھا۔ ایس پی عدیل اکبر کی ایک سالہ ننھی بیٹی بھی ہے۔ عدیل اکبر کا تعلق پولیس سروس آف پاکستان کے 46ویں کامن سے تھا۔

عدیل اکبر سی ایس ایس میں اپنے بیچ کے ٹاپر تھے۔ عدیل اکبر کو تین روز قبل ڈینگی رپورٹ ہوا تھا۔ ڈینگی کے باوجود عدیل اکبر ہمہ وقت ڈیوٹی پر موجود رہے۔ عدیل اکبر نے متعدد بار بیماری کی وجہ سے چھٹی لیے رجوع کیا تھا۔

اے ایس پی عدیل اکبر اسلام آباد پولیس میں بطور ایس پی آئی نائن تعینات تھے۔ عدیل اکبر کے سٹاف سے ایک اہلکار کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Karachi