17/05/2026
https://youtu.be/-ohUvpfqsGA?si=7li0PVwqW0JkiNNP
BLESSING DAYS OF ZIL HAJJA
🌸 **ELAF-UL-QURAN** 🌸📖 *Quran Se Zindagi Ki Roshni Tak* ✨Welcome to **Elaf-ul-Quran** – a platform dedicated to spreading the light of the Holy Quran with...
17/05/2026
Day of Arafah کے روزے کی بہت بڑی فضیلت حدیثِ مبارک میں آئی ہے۔
Prophet Muhammad نے فرمایا:
> “یومِ عرفہ کے روزے کے بارے میں مجھے اللہ سے امید ہے کہ یہ ایک گزشتہ سال اور ایک آنے والے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔”
— صحیح مسلم
عربی متن:
> صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللّٰهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ
اس کا مطلب یہ ہے کہ 9 ذوالحجہ کا روزہ رکھنے سے اللہ تعالیٰ پچھلے ایک سال اور آنے والے ایک سال کے صغیرہ گناہ معاف فرما دیتے ہیں۔
البتہ حاجی جو میدانِ عرفات میں ہوں، ان کے لیے یہ روزہ نہ رکھنا افضل ہے تاکہ عبادت میں طاقت رہے۔
17/05/2026
تکبیرِ تشریق یہ ہے:
اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ
اردو ترجمہ:
اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔
کب پڑھی جاتی ہے؟
Eid al-Adha کے موقع پر:
9 ذوالحجہ کی فجر سے
13 ذوالحجہ کی عصر تک
ہر فرض نماز کے بعد ایک مرتبہ پڑھنا واجب ہے۔
مرد بلند آواز سے اور خواتین آہستہ آواز سے پڑھتی ہیں
17/05/2026
اسلامی سال کے آخری مہینے Dhul Hijjah کے پہلے 10 دن بہت بابرکت اور فضیلت والے ہوتے ہیں۔ ان 10 دنوں کی خاص عبادات یہ ہیں:
نماز کی پابندی
روزہ رکھنا خصوصاً 9 ذوالحجہ کا روزہ (یومِ عرفہ)
ذکر و اذکار — سبحان اللہ، الحمدللہ، اللہ اکبر، لا الٰہ الا اللہ
تکبیرات پڑھنا
تلاوتِ قرآن
صدقہ و خیرات
توبہ و استغفار
دعا مانگنا
قربانی کی تیاری اور قربانی کرنا
نفل عبادات اور نیک اعمال میں اضافہ
حدیث میں آتا ہے کہ ان دنوں میں کیے گئے نیک اعمال اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہ
Afshan imran
14/05/2026
خانۂ کعبہ کی تعمیر کی مکمل تاریخ
✨ بیت اللہ کی تعمیر و تجدید کا تفصیلی نوٹ
مرتبہ: افشان عمران
ELAF UL QURAN / ایلاف القرآن
🌙 تعارفِ خانۂ کعبہ
کعبہ
خانۂ کعبہ اللہ تعالیٰ کا پہلا گھر ہے جو انسانوں کی ہدایت اور عبادت کے لیے بنایا گیا۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّہُدًی لِّلْعٰلَمِیْنَ
(آل عمران: 96)
ترجمہ:
“بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا وہ مکہ میں ہے، بابرکت اور تمام جہانوں کے لیے ہدایت ہے۔”
🕋 خانۂ کعبہ کی تعمیر کے مختلف ادوار
1️⃣ حضرت آدم علیہ السلام کی تعمیر
سب سے پہلے
حضرت آدم علیہ السلام
نے فرشتوں کی مدد سے خانۂ کعبہ تعمیر کیا۔
روایات کے مطابق:
یہ زمین پر اللہ کا پہلا عبادت خانہ تھا۔
فرشتے پہلے بیت المعمور کا طواف کرتے تھے، پھر حضرت آدمؑ کو زمین پر اسی طرز پر کعبہ بنانے کا حکم دیا گیا۔
2️⃣ طوفانِ نوح میں منہدم ہونا
حضرت نوح علیہ السلام
کے زمانے میں آنے والے عظیم طوفان میں خانۂ کعبہ کی عمارت منہدم ہوگئی اور اس کے نشانات مٹ گئے۔
3️⃣ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی تعمیر
بعد میں اللہ تعالیٰ نے
حضرت ابراہیم علیہ السلام
اور
حضرت اسماعیل علیہ السلام
کو انہی بنیادوں پر دوبارہ خانۂ کعبہ تعمیر کرنے کا حکم دیا۔
قرآن مجید میں ہے:
وَاِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰہٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُ
ترجمہ:
“اور جب ابراہیم اور اسماعیل بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے۔”
اس تعمیر کی خصوصیات
کعبہ کے دو دروازے تھے۔
ایک دروازہ داخل ہونے کے لیے اور دوسرا باہر نکلنے کے لیے تھا۔
دروازے زمین کے برابر تھے۔
موجودہ حطیم بھی کعبہ کا حصہ تھا۔
🌟 حطیم کیا ہے؟
حطیم
حطیم وہ نیم دائرہ حصہ ہے جو آج خانۂ کعبہ کے ساتھ موجود ہے۔
اہم بات:
اصل میں یہ بھی خانۂ کعبہ کا حصہ تھا۔
قریش کے پاس حلال مال کم پڑ گیا تو انہوں نے اس حصے کو عمارت سے باہر چھوڑ دیا۔
اسی لیے:
حطیم کے اندر نماز پڑھنا کعبہ کے اندر نماز پڑھنے کے برابر سمجھا جاتا ہے۔
4️⃣ قبیلہ جرہم کی تعمیر
بعد کے زمانے میں
قبیلہ جرہم
نے خانۂ کعبہ کی مرمت اور تعمیر کی۔
یہ وہی قبیلہ تھا جو حضرت اسماعیلؑ کے زمانے میں مکہ میں آباد ہوا۔
5️⃣ عمالقہ کی تعمیر
پھر ایک دور میں
عمالقہ
نے خانۂ کعبہ کی تعمیر نو کی۔
6️⃣ قریش کی تعمیر
نبوت سے تقریباً پانچ سال پہلے
قریش
نے خانۂ کعبہ کو دوبارہ تعمیر کیا۔
اس تعمیر میں
حضرت محمد ﷺ
بھی شریک ہوئے۔
🌟 حجرِ اسود نصب کرنے کا واقعہ
حجر اسود
جب حجرِ اسود رکھنے کا وقت آیا تو قبائل میں اختلاف ہوگیا کہ یہ سعادت کس کو ملے گی۔
آخرکار فیصلہ ہوا:
جو شخص سب سے پہلے مسجد میں داخل ہوگا وہ فیصلہ کرے گا۔
سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔
آپ ﷺ نے اپنی چادر بچھائی۔
حجر اسود اس میں رکھا۔
تمام قبائل کے سرداروں نے چادر پکڑی۔
پھر آپ ﷺ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے حجر اسود نصب فرمایا۔
یہ آپ ﷺ کی عظیم حکمت اور دانائی کی مثال ہے۔
🕋 قریش کی تعمیر میں تبدیلیاں
قریش نے تعمیر کے دوران کچھ تبدیلیاں کیں:
✔ حطیم کو الگ کردیا
اصل کعبہ کا حصہ عمارت سے باہر کردیا گیا۔
✔ ایک دروازہ بند کردیا
پہلے دو دروازے تھے۔
قریش نے صرف ایک دروازہ باقی رکھا۔
✔ دروازہ بلند کردیا
دروازہ زمین سے اونچا کردیا تاکہ ہر شخص اندر داخل نہ ہوسکے۔
🌙 رسول اللہ ﷺ کی خواہش
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا
سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“اگر تمہاری قوم نئی نئی اسلام میں داخل نہ ہوئی ہوتی تو میں کعبہ کو گرا کر حضرت ابراہیمؑ کی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر کرتا۔”
آپ ﷺ چاہتے تھے:
حطیم کو دوبارہ شامل کیا جائے۔
دو دروازے بنائے جائیں۔
دروازے زمین کے برابر کیے جائیں۔
لیکن:
نئے مسلمانوں میں غلط فہمی کے خوف سے آپ ﷺ نے ایسا نہ کیا۔
⚔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی تعمیر
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ
یزیدی دور میں جنگ کے دوران خانۂ کعبہ کو نقصان پہنچا۔
بعد میں:
حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے کعبہ کو منہدم کرکے
رسول اللہ ﷺ کی خواہش کے مطابق
حضرت ابراہیمؑ کی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر کیا۔
انہوں نے:
✔ حطیم شامل کردیا
✔ دو دروازے بنائے
✔ دروازے زمین کے برابر رکھے
⚔ حجاج بن یوسف کی تبدیلی
حجاج بن یوسف
جب حجاج بن یوسف نے مکہ پر حملہ کیا:
حضرت عبداللہ بن زبیرؓ شہید ہوگئے۔
حجاج نے دوبارہ کعبہ کی شکل تبدیل کردی۔
اسے قریش والی حالت پر واپس کردیا۔
یعنی:
حطیم دوبارہ باہر کردیا گیا۔
ایک دروازہ ختم کردیا گیا۔
🌟 امام مالکؒ کا اہم فتویٰ
امام مالک بن انس
بعد کے مسلم حکمرانوں نے چاہا کہ:
کعبہ کو پھر حضرت ابراہیمؑ کی بنیادوں پر بنایا جائے۔
لیکن امام مالکؒ نے فرمایا:
“اگر ہر بادشاہ اپنی مرضی سے کعبہ کو گراتا اور بناتا رہا تو بیت اللہ بادشاہوں کے کھیل کی چیز بن جائے گا۔”
اسی وجہ سے:
امت نے موجودہ شکل کو برقرار رکھنے پر اتفاق کرلیا۔
🕋 موجودہ خانۂ کعبہ
آج خانۂ کعبہ:
بنیادی طور پر حجاج بن یوسف کے دور کی تعمیر پر قائم ہے۔
البتہ وقتاً فوقتاً مرمت اور مضبوطی کا کام ہوتا رہتا ہے۔
🌟 خانۂ کعبہ کے بارے میں اضافی معلومات
📌 خانۂ کعبہ کے نام
خانۂ کعبہ کو کئی ناموں سے یاد کیا جاتا ہے:
بیت اللہ
بیت العتیق
کعبہ
البیت الحرام
📌 غلافِ کعبہ
غلاف کعبہ
کعبہ پر سیاہ غلاف چڑھایا جاتا ہے۔
اسے “کسوہ” کہتے ہیں۔
ہر سال 9 ذوالحجہ کو تبدیل کیا جاتا ہے۔
📌 حجرِ اسود
جنت سے آیا ہوا مبارک پتھر ہے۔
شروع میں سفید تھا۔
انسانوں کے گناہوں کی وجہ سے سیاہ ہوگیا۔
📌 ملتزم
ملتزم
دروازۂ کعبہ اور حجرِ اسود کے درمیان والی جگہ۔
یہاں دعا قبول ہونے کی خاص فضیلت بیان کی گئی ہے۔
🌙 خلاصہ
خانۂ کعبہ:
اللہ کا پہلا گھر ہے۔
کئی انبیاء اور اقوام نے اس کی تعمیر و مرمت کی۔
موجودہ شکل تاریخی مراحل سے گزر کر ہم تک پہنچی۔
یہ پوری امتِ مسلمہ کے اتحاد، عبادت اور توحید کی علامت ہے۔