Online D islamic

Online D islamic قرآن،حدیث،عقاٸد،مساٸل
عقلی و نقلی معتبر دلائل
اصولی و فروعی علوم و فنون

یہ سب اور بہت کچھ

Book Cover Design Special OfferEye-catching book covers tailored to your story! Professional designs, quick delivery, un...
24/03/2024

Book Cover Design Special Offer
Eye-catching book covers tailored to your story! Professional designs, quick delivery, unlimited revisions in just $5
https://www.fiverr.com/s/3194Qx

09/12/2021
28/10/2021

بچّی نے جب کُنویں میں تُھوکا۔۔۔۔۔
حضرتِ سیِّدُناشیخ محمد بن سُلیمان جَزُولی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلی فرماتے ہیں : میں سفر پر تھا، ایک مقام پر نَماز کا وقت ہو گیا، وہاں کُنواں (Well) تو تھا مگر ڈَول(Bucket) اور رسّی (Rope) نہیں تھی۔ میں اِسی فکر میں تھا کہ ایک مکان کے اوپر سے ایک بچّی نے جھانکا اور پوچھا:آپ کیا تلاش کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا: بیٹی ! رسّی اور ڈَول ۔ اُس نے پوچھا: آپ کا نام ؟کہا: محمد بن سُلیمان جَزُولی ۔ بچّی نے حیرت سے کہا: اچّھا آپ وُہی ہیں جن کی شُہرت کے ڈنکے بج رہے ہیں مگر حال یہ ہے کہ کُنویں سے پانی بھی باہَر نہیں نکال سکتے ! یہ کہہ کر اُس نے کُنویں میں تھوک دیا، کمال ہو گیا! آناً فاناً پانی اُوپر آگیا ۔ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے وُضُو کرنے کے بعد اُس بچّی سے فرمایا: بیٹی! سچ بتاؤتم نے یہ کمال کس طرح حاصِل کیا؟ کہنے لگی : ’’ میں بکثرت دُرُودِ پاک پڑھتی ہوں ، اِسی کی بَرَکت سے یہ کرم ہوا ہے۔‘‘ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں: اُس ’’بچّی‘‘ سے مُتَأَثِّر ہو کر میں نے وَہیں عَہْد کیا کہ دُرُود شریف کے مُتَعَلِّق کتاب لکھوں گا۔(پھر انہوں نے دُرُود شریف کی کتاب’’ دلائلُ الْخیرات‘‘ لکھی ) (سعادۃُ الدّارین ص۱۵۹)

16/10/2021

بھیانک اونٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Terrible camel
کُفّارِ قریش ایک دن کعبۂ مُشرَّفہ میں جمع تھے،نبیِّ اکرم، نورِ مُجَسَّم ، شاہِ آدم و بنی آدم ، رسُولِ مُحتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بھی قریب ہی نَماز ادا فرما رہے تھے، ابوجَہْل ایک بھاری پتھّر اُٹھا کر دُکھیادلوں کے چَین، رحمتِ کونین، رسولِ ثَقَلَین، نانائے حَسَنَین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سرِ مُبارک کو معاذَاللّٰہ سَجدے کی حالت میں کُچلنے کے ناپاک ارادے سے آگے بڑھا اور جُوں ہی نزدیک پہنچا تو ایک دم بوکھلا کر پیچھے کی طرف بھاگا، کُفّارِ ناہنجار نے حیر ت سے پوچھا: اَبُوالْحَکَم! تجھے کیا ہوا؟ بولا:میں جُوں ہی قریب پہنچا میرے تو اَوسان ہی خطا ہوگئے، میں نے دیکھا کہ ایک دَہشت ناک سَراور خوفناک گردن والا بھیانک اُونٹ مُنہ کھولے دانت کچکچاتا ہوا مجھے ہڑپ کرنے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے!ایسا بھیانک اُونٹ میں نے آج تک نہیں دیکھا۔ سرکارِ دو عالم، نُورِ مجَسَّم، شاہِ آدم و بنی آدم ، رسولِ مُحتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: وہ جبرائیل(عَلَیْہِ السَّلَام )تھے ،اگر ابوجہل اور نزدیک آتا تو اُسے پکڑلیتے۔(اَلسِّیْرَۃُ النَّبَوِیَّۃ لابن ہشّام ص۱۱۷)

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی شانِ بے نیازی بھی خوب ہے !کبھی اپنے محبوب مُبلِّغ کو دشمنوں کے ذَرِیعے مصائب وآلام میں مُبتَلا کرکے اِن کے خوب خوب دَرجات بُلند فرماتا ہے تو کبھی مُبلِّغ اعظم، رحمتِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دشمن کو وار کرنے سے قبل ہی خوفزدہ کرکے یہ باوَر کرادیتا ہے کہ کہیں ہمارے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اکیلا مت سمجھ بیٹھنا!

آقائے مظلوم کو ستانے کا سبب
ہمارے آقائے مظلوم، سرورِ معصوم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر کُفّارِ بَداطوار کے ظُلم و ستم کا سبب صرف یِہی تھا کہ اب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کھل کر لوگوں کو نیکی کی دعوت پیش کرنے لگے تھے ،جب کہ ابتداء ً سیِّدُ الْمُبلِّغین،رَحمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تین سال تک خُفیَۃً(یعنی چھپ کر) اسلام کی دعوت دی، پھراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے عَلی الاعلان تبلیغ کا حکم ہوا۔ (ایضاً ص ۱۰۲)

پیارے آقا ﷺ نے امت کی خاطر کتنی تکلیفیں برداشت کی لوگوں کو نیکی کی دعوت دی دین کی تبلیغ فرمائی ہمارا بھی حق بنتا ھے کہ ہم ان کی شان بیان کریں ان کی سیرت کا خود بھی مطالعہ کریں اور دوسروں کو بھی دعوت دیں تاکہ پیارے آقا ﷺ کی محبت ہمارے دلوں میں بڑھے اور جب ہم ان کی سیرت کا مطالعہ کریں گے تو پتا لگے گا کہ حضور ﷺ نے دنیا زندگی کیسے گزاری اور پھر ہم بھی ان کے طریقے پر چلتے ہوئے کامیاب زندگی گزارسکیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
TRANSLATE :

The disbelievers were gathered in the Ka'bah one day. The Holy Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said: He asked: اَبُوالْحَکَم! What happened to you He said: As soon as I approached, I made the same mistake. I saw a horrible camel with a horrible neck and a terrible neck, opening its mouth and gnashing its teeth, moving towards devouring me! I have never seen such a horrible camel. Seen The government of the two worlds, the King of Adam, the Messenger of God, peace be upon him and his family, said:

The glory of Allah Almighty is also good! Sometimes He exalts His beloved preacher by inflicting pain and suffering on him through his enemies, and sometimes He exalts him to a very high rank. It frightens us beforehand and makes us believe that we should not consider our beloved Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) alone!

The reason for persecuting the oppressed master
Our oppressed master, may Allah bless him and grant him peace, was the only reason for the persecution of the infidels. The preachers, may God have mercy on the worlds. (See also page 4)

Dear Master, for the sake of the Ummah, he endured many hardships and invited people to do good deeds. He also preached the religion. May the love of the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) grow in our hearts and when we study his biography, we will find out how the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) lived the world and then we too can live a successful life following his path. ...

23/09/2021

جنتی لاٹھی

یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وہ مقدس لاٹھی ہے جس کو ''عصاءِ موسیٰ''کہتے ہیں اس کے ذریعہ آپ کے بہت سے اُن معجزات کا ظہور ہوا جن کو قرآن مجید نے مختلف عنوانوں کے ساتھ بار بار بیان فرمایا ہے۔

اِس مقدس لاٹھی کی تاریخ بہت قدیم ہے جو اپنے دامن میں سینکڑوں اُن تاریخی واقعات کو سمیٹے ہوئے ہے جن میں عبرتوں اور نصیحتوں کے ہزاروں نشانات ستاروں کی طرح جگمگا رہے ہیں جن سے اہل نظر کو بصیرت کی روشنی اور ہدایت کا نور ملتا ہے۔

یہ لاٹھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قد برابر دس ہاتھ لمبی تھی۔ اور اس کے سر پر دو شاخیں تھیں جو رات میں مشعل کی طرح روشن ہوجایا کرتی تھیں۔ یہ جنت کے درخت پیلو کی لکڑی سے بنائی گئی تھی اور اس کو حضرت آدم علیہ السلام بہشت سے اپنے ساتھ لائے تھے۔ چنانچہ

حضرت سید علی اجہوزی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ ؎

واٰدَمُ مَعَہٗ اُنْزِلَ الْعُوْدُ وَالْعَصَا لِمُوْسٰی مِنَ الْاٰسِ النَّبَاتِ الْمُکَرَّمِ

وَ اَوْرَاقُ تِیْنٍ وَّالْیَمِیْنُ بِمَکَّۃَ وَ خَتْمُ سُلَیْمٰنَ النَّبِیِّ اَلمُعَظَّم

ترجمہ: حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ عود (خوشبودار لکڑی) حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا جو عزت والی پیلو کی لکڑی کا تھا،انجیر کی پتیاں، حجر اسود جو مکہ معظمہ میں ہے اور نبئ معظم حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی یہ پانچوں چیزیں جنت سے اُتاری گئیں۔

(تفسیر الصاوی ،ج۱،ص۶۹،البقرۃ:۶۰ )

حضرت آدم علیہ السلام کے بعد یہ مقدس عصاء حضرات انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کو یکے بعد دیگرے بطور میراث کے ملتا رہا۔ یہاں تک کہ حضرت شعیب علیہ السلام کو ملا جو ''قومِ مدین''کے نبی تھے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر سے ہجرت فرما کر مدین تشریف لے گئے اور حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی صاحبزادی حضرت بی بی صفوراء رضی اللہ عنہا سے آپ کا نکاح فرما دیا۔ اور آپ دس برس تک حضرت شعیب علیہ السلام کی خدمت میں رہ کر آپ کی بکریاں چراتے رہے۔ اُس وقت حضرت شعیب علیہ السلام نے حکمِ خداوندی (عزوجل) کے مطابق آپ کو یہ مقدس عصا عطا فرمایا۔

پھر جب آپ اپنی زوجہ محترمہ کو ساتھ لے کر مدین سے مصر اپنے وطن کے لئے روانہ ہوئے۔ اور وادی مقدس مقام ''طُویٰ'' میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی تجلی سے آپ کو سرفراز فرما کر منصب ِ رسالت کے شرف سے سربلند فرمایا۔ اُس وقت حضرت حق جل مجدہ نے آپ سے جس طرح کلام فرمایا قرآن مجید نے اُس کو اِ س طرح بیان فرمایا کہ!

وَمَا تِلْکَ بِیَمِیۡنِکَ یٰمُوۡسٰ فِیۡہَا مَاٰرِبُ اُخْرٰی ﴿18﴾ی ﴿17﴾قَالَ ہِیَ عَصَایَ ۚ اَتَوَکَّؤُا عَلَیۡہَا وَ اَہُشُّ بِہَا عَلٰی غَنَمِیۡ وَلِیَ

ترجمہ کنز الایمان :۔اور یہ تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے، اے موسیٰ عرض کی یہ میرا عصا ہے میں اس پر تکیہ لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور میرے اِس میں اور کام ہیں۔(پ 16،طہ:17،18)

مَاٰرِبُ اُخْرٰی(دوسرے کاموں)کی تفسیر میں حضرت علامہ ابو البرکات عبداللہ بن احمد نسفی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ مثلاً:۔

(۱)اس کو ہاتھ میں لے کر اُس کے سہارے چلنا (۲)اُ س سے بات چیت کر کے دل بہلانا (۳)دن میں اُس کا درخت بن کر آپ پر سایہ کرنا(۴)رات میں اس کی دونوں شاخوں کا روشن ہو کر آپ کو روشنی دینا (۵)اُس سے دشمنوں، درندوں اور سانپوں، بچھوؤں کو مارنا (۶)کنوئیں سے پانی بھرنے کے وقت اس کا رسی بن جانا اور اُس کی دونوں شاخوں کا ڈول بن جانا (۷)بوقتِ ضرورت اُس کا درخت بن کر حسبِ خواہش پھل دینا(۸)اس کو زمین میں گاڑ دینے سے پانی نکل پڑنا وغیرہ

(مدارک التنزیل،ج۳،ص۲۵۱،پ۱۶،طہ:۱۸)

17/09/2021

استغفار و توبہ

17/09/2021

masjid abad karne ki fazilat

17/09/2021

مناقب عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ

Address

Muach Goth
Karachi
72400

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Online D islamic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Online D islamic:

Shortcuts

Share

Category