The Vision Developers

The Vision Developers The purpose of this page is the provision of information of teachers training motivational speaches

20/09/2026

زندگی میں ہر انسان کو کوئی بڑا نام، کوئی بڑا مقام، کوئ بڑا منصب چاہیے ۔۔۔۔!!!

مگر ایک اور طرح کا “بننا “بھی ہے ، جس کا کوئی اعلان نہیں ہوتا، مگر جس کا اثر دیرپا ہوتا ہے۔ وہ ہے کسی کے لیے وسیلہ بن جانا۔ کسی دروازے کی مانند، جس سے خیر گزر کر کسی اور تک پہنچے۔

دروازہ بننے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کسی کی زندگی میں آسانی کا ذریعہ بنیں۔ کوئی مدد، کوئی نصیحت، کوئی حوصلہ
جو آپ کے ذریعے کسی محتاج تک پہنچے۔ دروازہ خود کچھ نہیں کہتا، وہ بس راستہ دیتا ہے۔ اسی طرح انسان کا اصل کمال یہ نہیں کہ وہ خود روشن ہو، بلکہ یہ ہے کہ وہ روشنی کے گزرنے کا سبب بنے۔

مگر ہر وقت دروازہ بننا ممکن نہیں ،کبھی حالات ساتھ نہیں دیتے، کبھی وسائل کم پڑ جاتے ہیں، کبھی اختیار محدود ہوتا ہے۔ ایسے میں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔

اگر دروازہ نہ بن سکیں تو کھڑکی بن جائیں چھوٹی سی، مگر ایسی کہ جس سے روشنی کی ایک کرن اندر اتر آئے۔ ایک اچھا لفظ، ایک مسکراہٹ، ایک دعا ، یہ بھی کسی اندھیرے دل میں امید کی کرن بن سکتے ہیں۔ کبھی کبھار بڑے کام کی بجائے چھوٹا سا اشارہ ہی کسی کی رات کو سحر میں بدل دیتا ہے۔

اور اگر کھڑکی بننا بھی ممکن نہ ہو، تو مایوس ہونے کے بجائے دیوار بن جائیں ۔
ایسی دیوار جو کسی تھکے ہوئے وجود کو سہارا دے سکے۔ سہارا دینا بھی ایک نعمت ہے۔ ہر انسان روشنی نہیں دے سکتا، ہر انسان راستہ نہیں بنا سکتا، مگر ہر انسان اتنا ضرور کر سکتا ہے کہ کسی کے گرنے سے پہلے اس کے پیچھے مضبوطی سے کھڑا ہو جائے۔

یہی درجہ بندی دراصل زندگی کا ایک سبق ہے کہ نیکی کے کئی روپ ہوتے ہیں، اور ہر روپ اپنی جگہ قیمتی ہے۔ ضروری نہیں کہ آپ سب سے بڑا کردار ادا کریں۔ بس اتنا کافی ہے کہ جو بھی کردار آپ کے حصے میں آئے، اسے خلوصِ دل سے نبھائیں ، چاہے وہ دروازہ ہو، کھڑکی ہو، یا دیوار۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ خیر کسی بھی صورت میں آ سکتی ہے، اگر ہم اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ نہ ہر کوئی سورج بن سکتا ہے، نہ ہر کوئی چراغ مگر ہر کوئی اتنا ضرور بن سکتا ہے کہ کسی کی تاریکی میں تھوڑی سی روشنی کا سبب بن جائے۔

20/09/2026
20/09/2026

سائنس اور روحانیت دونوں یہ بات مانتی ہیں کہ اس کائنات میں کوئی بھی چیز ساکن نہیں ہے؛ ہر چیز توانائی ہے جو ایک خاص رفتار یا فریکوئنسی پر ہل رہی ہے جسے ہم ارتعاش یا 'وائبریشن' کہتے ہیں. بالکل اسی طرح، ہمارے جذبات اور احساسات کی بھی اپنی ایک پوشیدہ فریکوئنسی ہوتی ہے. جب ہم غصے، خوف، یا حسد میں ہوتے ہیں، تو ہماری توانائی بہت بھاری اور سست ہو جاتی ہے، جسے ہم 'لو وائبز' کہتے ہیں. اس کے برعکس، جب ہم محبت، شکر گزاری اور خوشی محسوس کرتے ہیں، تو ہمارا ارتعاش بہت ہلکا اور تیز ہو جاتا ہے. کائنات کا اصول ہے کہ 'جیسا ارتعاش ہوگا، ویسی ہی چیزیں آپ کی زندگی میں کھنچی چلی آئیں گی'. اس لیے اگر آپ اپنی زندگی کو بدلنا چاہتے ہیں، تو حالات کو بدلنے کے پیچھے مت بھاگیں، بلکہ اپنے اندر کی فریکوئنسی کو شکر گزاری کے ذریعے تبدیل کریں؛ دنیا خود بخود بدل جائے گی.

14/09/2026

مدینہ کا محافظ —
ں۔ وہ سپہ سالار جس نے کہا: ’’میں مدینہ نہیں چھوڑوں گا‘‘ اور رسول الله کے شہر، روضۂ مبارک کی حفاظت کی !
تاریخ کے اوراق میں ایک ایسا عثمانی سپہ سالار بھی گزرا ہے جس نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا معرکہ کسی تخت، سلطنت یا دولت کے لیے نہیں بلکہ مدینہ منورہ کے دفاع کے لیے لڑا۔

وہ شخص جسے تاریخ آج ’’مدینہ کا محافظ‘‘ کہتی ہے۔

اس کا اصل نام عمر فخرالدین تھا، مگر دنیا اسے فخرالدین پاشا کے نام سے جانتی ہے۔

پہلی جنگ عظیم اپنے عروج پر تھی۔ برطانیہ اور اس کے اتحادی سلطنتِ عثمانیہ کو مختلف محاذوں پر کمزور کرنے میں مصروف تھے۔ اسی دوران حجاز میں عثمانی اقتدار کے خلاف عرب بغاوت شروع ہوئی۔ شریفِ مکہ حسین بن علی اور ان کے بیٹوں کی افواج نے برطانوی حمایت کے ساتھ عثمانی علاقوں پر حملے شروع کیے۔ ٹی۔ ای۔ لارنس، جسے دنیا ’’لارنس آف عریبیہ‘‘ کے نام سے جانتی ہے، بھی اس مہم میں اہم کردار ادا کر رہا تھا۔ مدینہ، جہاں مسجدِ نبوی ﷺ واقع تھی، اس جنگ کا سب سے حساس مقام بن گیا۔

اور پھر وہاں پہنچا ایک ایسا سپہ سالار جس کے لیے مدینہ صرف ایک شہر نہیں تھا۔

مدینہ اس کے ایمان کا حصہ تھا۔

فخرالدین پاشا نے مدینہ کے دفاع کی ذمہ داری سنبھالی تو اسے اندازہ تھا کہ دشمن کی تعداد زیادہ ہے، رسد کم ہے اور مدد کے راستے ایک ایک کرکے بند کیے جا رہے ہیں۔

حجاز ریلوے پر حملے ہونے لگے۔ بیرونی امداد تقریباً ناممکن ہوگئی۔ شہر کا محاصرہ سخت ہوتا گیا۔

مگر مدینہ کا محافظ پیچھے نہ ہٹا۔

تاریخی روایات کے مطابق مدینہ پر مسلسل حملے ہوتے رہے، ریلوے لائن کو نشانہ بنایا گیا اور 30 اپریل 1918 کو صرف ایک دن میں تین سو سے زیادہ بم برسائے گئے۔

لیکن مدینہ پھر بھی کھڑا رہا۔

پھر وہ دن آیا جب دنیا کی جنگ ختم ہوگئی۔

30 اکتوبر 1918 کو سلطنتِ عثمانیہ نے جنگ بندی قبول کرلی۔

فوجوں کو ہتھیار ڈالنے کے احکامات مل گئے۔

مگر مدینہ میں ایک شخص نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا۔

وہ تھا…

فخرالدین پاشا۔

دنیا کے دوسرے محاذ خاموش ہو چکے تھے، مگر مدینہ کا محاذ ابھی زندہ تھا۔

جنگ ختم ہوچکی تھی، مگر فخرالدین پاشا کے نزدیک شاید ایک اور جنگ باقی تھی:

مدینہ کی حرمت کی جنگ۔

وہ تقریباً 72 دن تک جنگ بندی کے بعد بھی مدینہ میں ڈٹا رہا۔ بالآخر 10 جنوری 1919 کو اسے مدینہ چھوڑنا پڑا۔

ایک طرف دنیا کی بڑی طاقتیں تھیں۔

دوسری طرف محصور شہر۔

نہ مناسب رسد۔

نہ کمک۔

نہ واپسی کا محفوظ راستہ۔

اور سامنے صرف ایک سوال:

کیا مدینہ کو چھوڑ دیا جائے؟

فخرالدین پاشا کا جواب تھا:

نہیں۔

اس کے لیے مدینہ محض ایک فوجی چوکی نہیں تھا۔

یہ وہ شہر تھا جہاں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تھے۔

وہ شہر جہاں مسجدِ نبوی ﷺ تھی۔

وہ شہر جہاں نبی کریم ﷺ کا روضۂ اقدس ہے۔

اسی نسبت نے اس سپہ سالار کے عزم کو عام جنگ سے کہیں آگے بڑھا دیا۔

کہا جاتا ہے کہ فخرالدین پاشا نے مدینہ کے مقدس آثار اور اہم اسلامی مخطوطات کو جنگ کی تباہی سے بچانے کے لیے استنبول منتقل کروایا، تاکہ وہ حملوں میں ضائع نہ ہوجائیں۔

مگر آخرکار وہ وقت بھی آیا جب مدینہ کا محاذ ٹوٹ گیا۔

10 جنوری 1919 کو فخرالدین پاشا گرفتار ہوگیا۔

وہ قیدی بنا دیا گیا۔

پھر مصر اور مالٹا کی قید میں رہا۔

لیکن عجیب بات دیکھیے…

جس شخص نے مدینہ نہیں چھوڑا، تاریخ نے بھی اسے نہیں چھوڑا۔

اس کے مخالفین نے بھی اس کی استقامت کو تسلیم کیا اور اسے ’’Tiger of the Desert‘‘ — صحرائی چیتا جیسے القابات سے یاد کیا گیا۔ البتہ اس لقب کے برطانوی ماخذ کے بارے میں تاریخی بحث بھی موجود ہے، اس لیے اسے قطعی طور پر براہِ راست کسی ایک برطانوی شخصیت سے منسوب کرنا محتاط رویہ نہیں ہوگا۔

آج تقریباً ایک صدی بعد بھی فخرالدین پاشا کا نام جب مدینہ کے دفاع کے ساتھ لیا جاتا ہے تو ذہن میں ایک سوال ضرور آتا ہے:

آخر اس شخص میں ایسی کیا چیز تھی کہ دنیا کی ایک بڑی جنگ ختم ہوگئی، سلطنت ٹوٹ گئی، راستے بند ہوگئے، مگر وہ مدینہ سے دستبردار نہ ہوا؟

شاید جواب اس کی فوجی تربیت میں نہیں…

اس کے دل میں تھا۔

وہ مدینہ کو نقشے پر بنا ہوا ایک شہر نہیں سمجھتا تھا۔

وہ اسے اپنے محبوب ﷺ کا شہر سمجھتا تھا۔

اور کبھی کبھی انسان کی سب سے بڑی طاقت اس کے ہتھیار نہیں ہوتے…

اس کی محبت ہوتی ہے۔

فخرالدین پاشا ہار گیا یا جیت گیا؟

فوجی تاریخ شاید اس سوال کا اپنا جواب دے۔

مگر محبت کی تاریخ کا جواب مختلف ہے۔

کیونکہ وہ شخص جس نے مدینہ کی گلیوں، مسجدِ نبوی ﷺ کی نسبت اور اپنے ایمان کی خاطر آخری حد تک کھڑے رہنے کا فیصلہ کیا…

وہ آج بھی تاریخ کے ایک روشن باب میں زندہ ہے۔

14/09/2026

اﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ سیکھنے کی ﮐﻮﺷﺶ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ۔

* ﻣﻨﮕﯿﺘﺮ ﮐﯽ ﻣﻮﺕ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ، ﺑﺰﻧﺲ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ، ﻧﺮﻭﺱ ﺑﺮﯾﮏ ﮈﺍﻭﻥ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺁﭨﮫ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﺷﮑﺴﺖ ﮨﻮﺋﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮨﯽ ﺷﺨﺺ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﮐﺎ ﺳﻮﻟﮩﻮﺍﮞ ﺻﺪﺭ ﺑﻨﺎ، ﺟﺴﮯ ﺩﻧﯿﺎ " ﺍﺑﺮﺍﮨﻢ ﻟﻨﮑﻦ " ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﮯ۔
* ﭼﺎﺭ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﺗﮏ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﯾﮩﯽ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﺭﮨﮯ ﻭﮦ ﮔﻮﻧﮕﺎ ﮨﮯ، ﭼﺎﺭ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺑﻮﻻ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻓﮑﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﺳﺮﻭﺍﺋﯿﻮ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ، ﻭﮨﯽ ﺑﭽﮧ " ﺍﻟﺒﺮﭦ ﺁﺋﻦ ﺍﺳﭩﺎﺋﻦ " ﺑﻨﺎ۔
* ﮔﯿﺎﺭﮦ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﭨﯿﻢ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﻗﺪ ﺑﮍﮬﻨﺎ ﺭﮎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ، ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﻭﮨﯽ ﻟﮍﮐﺎ ﺁﺝ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻓﭧ ﺑﺎﻟﺮ " ﻟﯿﻮﻧﻞ ﻣﯿﺴﯽ " ہے۔
* ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺳﻤﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ، ﺗﻢ ﺍﯾﮏ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﮐﻨﺪ ﺫﮨﻦ ﺑﭽﮯ ﮨﻮ، ﻭﮨﯽ ﮐﻨﺪ ﺫﮨﻦ ﺑﭽﮧ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﯿﮑﭩﺮﮎ ﺑﻠﺐ ﺳﻤﯿﺖ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﯾﺠﺎﺩﺍﺕ ﮐﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﺑﻨﺎ، ﺟﺴﮯ ﮨﻢ " ﺗﮭﺎﻣﺲ ﺍﯾﮉﯾﺴﻦ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
* ﺍﺧﺒﺎﺭﯼ ﻧﻮﮐﺮﯼ ﺳﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺨﻠﯿﻔﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭﯾﺠﻨﻞ ﺁﺋﯿﮉﯾﺎﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﻭﮨﯽ ﺷﺨﺺ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ " ﻭﺍﻟﭧ ﮈﺯﻧﯽ " ﺑﻨﺎ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻣﮑﯽ ﻣﺎﻭﺱ ﻧﺎﻣﯽ ﮐﺮﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔
* ﺗﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺗﺒﺎﮦ ﺷﺪﮦ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﻨﮩﺎﮦ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺷﯿﺌﺮ ﮨﻮﻟﮉﺭﺯ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﮐﻤﭙﻨﯽ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺎ ﺟﺴﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ، ﻭﮨﯽ ﺷﺨﺺ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﭨﭻ ﺍﺳﮑﺮﯾﻦ ﭨﯿﮑﻨﺎﻟﻮﺟﯽ ﺳﮯ ﺁﺷﻨﺎ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﭙﻞ ﮐﮯ ﺑﺎﻧﯽ " ﺍﺳﭩﯿﻮ ﺟﺎﺑﺰ " ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﮯ۔
* ﭨﻮﯾﻮﭨﺎ ﮐﻤﭙﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﻄﻮﺭ ﺁﭨﻮ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮ ﮐﯽ ﺟﺎﺏ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻧﭩﺮﻭﯾﻮ ﺩﯾﻨﮯ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﺭﮨﺎ، ﺟﺴﮯ ﭨﻮﯾﻮﭨﺎ ﮐﻤﭙﻨﯽ ﻧﮯ ﺟﺎﺏ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺁﺝ ﻭﮨﯽ ﺷﺨﺺ ﮨﻨﮉﺍ ﮐﻤﭙﻨﯽ ﮐﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﮨﮯ۔

ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﯿﮟ آپ کو کوئی چیز نہیں ہرا سکتی، اگر آپ خود ہارنا نہ چاہیں تو، کامیابی، ناکامی آپ کے حوصلوں، آپ کی لگن اور آپ کے ارادوں پر انحصار کرتی ہے۔ آپ کے پاس لگن ہے تو ناکامی بھی کامیابیوں میں تبدیل ھو جاتی ہے۔

پاکستان کے 10 سالہ ہونہار طالب علم شہیر عباس نے تھائی لینڈ میں منعقدہ انٹرنیشنل جیوگرافی چیمپئن شپ (IGC 2026) میں غیر مع...
03/08/2026

پاکستان کے 10 سالہ ہونہار طالب علم شہیر عباس نے تھائی لینڈ میں منعقدہ انٹرنیشنل جیوگرافی چیمپئن شپ (IGC 2026) میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی سطح پر ملک کا پرچم لہرایا ہے۔
چکوال کے گاؤں تھنیل فتوحی سے تعلق رکھنے والے اس کم عمر شاہین نے دنیا بھر کے 250 سے زائد ذہین ترین طلبہ کے درمیان مقابلہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 1 گولڈ میڈل، 3 سلور میڈلز اور 2 برونز میڈلز سمیت دو اچیومنٹ شیلڈز اپنے نام کیں اور وہ اس عالمی مقابلے کی تاریخ میں میڈل جیتنے والے پہلے پاکستانی طالب علم بن گئے ہیں۔
کسی روایتی مہنگے اسکول کے بجائے گھر پر ہی ہوم اسکولنگ کے ذریعے تعلیم حاصل کرنے والے شہیر عباس کی اس تاریخی اور بے مثال کامیابی پر ملک بھر میں ان کا شاندار خیرمقدم کیا جا رہا ہے اور اسے قومی سطح پر نوجوانوں کے لیے ایک عظیم ترغیب قرار دیا جا رہا ہے۔

30/07/2026


_یاد رکھیں...! 🌟_  _✍️کامیاب لوگ آپ کو آگے بڑھنے کی ہمت دیتے ہیں،جبکہ ناکام لوگ آپ کو شروع کرنے سے پہلے ہی ڈرا دیتے ہیں🙌...
30/07/2026

_یاد رکھیں...! 🌟_

_✍️کامیاب لوگ آپ کو آگے بڑھنے کی ہمت دیتے ہیں،جبکہ ناکام لوگ آپ کو شروع کرنے سے پہلے ہی ڈرا دیتے ہیں🙌۔_

_اگر آپ نے بھی اپنی زندگی بدلنی ہے تو اُن لوگوں سے رہنمائی لیں جو خود کامیابی کی مثال ہیں، نہ کہ اُن سے جو صرف منفی سوچ پھیلاتے ہیں۔_
_اپنا فیصلہ دوسروں کے خوف پر نہیں، اپنی کامیابی کے خواب پر کریں۔ 💯_

یہ ایک انتہائی جذباتی اور سبق آموز کہانی ہے۔ جب ایک نوجوان پردیس (دبئی یا کسی بھی دوسرے ملک) سے محنت مزدوری کر کے واپس ل...
05/07/2026

یہ ایک انتہائی جذباتی اور سبق آموز کہانی ہے۔
جب ایک نوجوان پردیس (دبئی یا کسی بھی دوسرے ملک) سے محنت مزدوری کر کے واپس لوٹتا ہے، تو اسے اپنے ہی گھر میں والد اور چچا کے درمیان کشیدگی کے باعث بنی ہوئی دیوار نظر آتی ہے۔ خاندان کی اس تقسیم اور دراڑ کو وہ برداشت نہیں کر پاتا اور تمام تر تھکن اور طعنوں کو پسِ پشت ڈال کر اس نفرت کی دیوار کو گرا دیتا ہے۔ اس کا مقصد اپنے عزیزوں کو جوڑنا ہوتا ہے۔
"پردیس سے آئے نوجوان نے جب ٹریکٹر سیدھا حویلی کی دیوار پر چڑھا دیا، تو گاؤں والے سمجھے آج خونی جنگ ہوگی... لیکن پھر جو ہوا اس نے سب کو رلا دیا!"
پنجاب کے ایک گاؤں کا نوجوان 7 سال پردیس کی خاک چھاننے کے بعد جب واپس اپنی آبائی حویلی پہنچا، تو ایک منظر دیکھ کر اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ حویلی کے بیچوں بیچ ایک اونچی دیوار کھڑی تھی جس نے اس کے غریب چاچو کا گھر الگ کر دیا تھا۔
نوجوان نے کھوج لگائی تو پتہ چلا کہ اس کی غیر ملکی کمائی اور دولت کے غرور میں آ کر اس کی اپنی والدہ نے ضد کر کے یہ دیوار بنوائی تھی۔
اس دن دوپہر کو پورا محلہ اس وقت لرز اٹھا جب اس نوجوان نے اپنا نیا ٹریکٹر سٹارٹ کیا اور فل سپیڈ میں سیدھا اس دیوار پر دے مارا۔ دھول اڑی، اینٹیں گریں اور چند منٹوں میں رشتوں کو بانٹنے والی وہ دیوار زمین بوس ہو گئی۔ گاؤں والے سمجھے کہ شاید نیا نیا امیر ہونے والا بھتیجا آج غریب چاچے کو گھر سے نکالنے لگا ہے۔
لیکن دیوار گرانے کے بعد نوجوان نے ٹریکٹر اسی ملبے پر کھڑا کیا اور آنکھوں میں آنسو لیے اپنے چاچو سے بولا:
"چاچو! یہ ٹریکٹر آج سے ہمارا سانجھا ہے۔ میری غیرت گوارا نہیں کرتی کہ میرے اور اس چاچے کے درمیان کوئی دیوار ہو، جو بچپن میں مجھے کندھوں پر بٹھا کر کھیتوں میں لے جاتا تھا! دیوار تب بنانا جب آپ کا بیٹا میرے ساتھ پردیس جا کر کمانے لگے۔"
اس نے سب گھر والوں کو وارننگ دی: "اگر یہ دیوار دوبارہ بنی، تو میں پردیس سے کبھی واپس نہیں آؤں گا۔ جہاں رشتوں کی قدر نہ ہو وہ گھر نہیں، صرف اینٹوں کا مکان ہوتا ہے، اور مکان پردیس میں بھی بہت مل جاتے ہیں!"

Address

Gulsha-e-Iqbal
Karachi
75800

Telephone

+923332189985

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Vision Developers posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to The Vision Developers:

Shortcuts

Share