20/09/2026
زندگی میں ہر انسان کو کوئی بڑا نام، کوئی بڑا مقام، کوئ بڑا منصب چاہیے ۔۔۔۔!!!
مگر ایک اور طرح کا “بننا “بھی ہے ، جس کا کوئی اعلان نہیں ہوتا، مگر جس کا اثر دیرپا ہوتا ہے۔ وہ ہے کسی کے لیے وسیلہ بن جانا۔ کسی دروازے کی مانند، جس سے خیر گزر کر کسی اور تک پہنچے۔
دروازہ بننے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کسی کی زندگی میں آسانی کا ذریعہ بنیں۔ کوئی مدد، کوئی نصیحت، کوئی حوصلہ
جو آپ کے ذریعے کسی محتاج تک پہنچے۔ دروازہ خود کچھ نہیں کہتا، وہ بس راستہ دیتا ہے۔ اسی طرح انسان کا اصل کمال یہ نہیں کہ وہ خود روشن ہو، بلکہ یہ ہے کہ وہ روشنی کے گزرنے کا سبب بنے۔
مگر ہر وقت دروازہ بننا ممکن نہیں ،کبھی حالات ساتھ نہیں دیتے، کبھی وسائل کم پڑ جاتے ہیں، کبھی اختیار محدود ہوتا ہے۔ ایسے میں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔
اگر دروازہ نہ بن سکیں تو کھڑکی بن جائیں چھوٹی سی، مگر ایسی کہ جس سے روشنی کی ایک کرن اندر اتر آئے۔ ایک اچھا لفظ، ایک مسکراہٹ، ایک دعا ، یہ بھی کسی اندھیرے دل میں امید کی کرن بن سکتے ہیں۔ کبھی کبھار بڑے کام کی بجائے چھوٹا سا اشارہ ہی کسی کی رات کو سحر میں بدل دیتا ہے۔
اور اگر کھڑکی بننا بھی ممکن نہ ہو، تو مایوس ہونے کے بجائے دیوار بن جائیں ۔
ایسی دیوار جو کسی تھکے ہوئے وجود کو سہارا دے سکے۔ سہارا دینا بھی ایک نعمت ہے۔ ہر انسان روشنی نہیں دے سکتا، ہر انسان راستہ نہیں بنا سکتا، مگر ہر انسان اتنا ضرور کر سکتا ہے کہ کسی کے گرنے سے پہلے اس کے پیچھے مضبوطی سے کھڑا ہو جائے۔
یہی درجہ بندی دراصل زندگی کا ایک سبق ہے کہ نیکی کے کئی روپ ہوتے ہیں، اور ہر روپ اپنی جگہ قیمتی ہے۔ ضروری نہیں کہ آپ سب سے بڑا کردار ادا کریں۔ بس اتنا کافی ہے کہ جو بھی کردار آپ کے حصے میں آئے، اسے خلوصِ دل سے نبھائیں ، چاہے وہ دروازہ ہو، کھڑکی ہو، یا دیوار۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ خیر کسی بھی صورت میں آ سکتی ہے، اگر ہم اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ نہ ہر کوئی سورج بن سکتا ہے، نہ ہر کوئی چراغ مگر ہر کوئی اتنا ضرور بن سکتا ہے کہ کسی کی تاریکی میں تھوڑی سی روشنی کا سبب بن جائے۔