26/02/2026
Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Muhammad Imran, Sheikh Mehmood, Wasi Shah, Javed Iqbal
The purpose of this page is the provision of information of teachers training motivational speaches
26/02/2026
Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Muhammad Imran, Sheikh Mehmood, Wasi Shah, Javed Iqbal
I got over 350 reactions on my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉
سات سو سال قبل لکھی گئی ابن خلدون کی ایک تحریر!
“محکوم معاشرہ اخلاقی اقدار سے دستبردار ہو جاتا ہے ، ظلمت کا دورانیہ جتنا طویل ہوتا ہے، ذہنی و جسمانی طور پر محکوم سماج کا انسان اتنا ہی جانوروں سے بھی بدتر ہوجاتا ہے، ایک وقت آتا ہے کہ محکوم صرف روٹی کے لقمے اور جنسی جبلت کے لیے زندہ رہتا ہے۔
جب ریاستیں ناکام اور قومیں زوال پذیر ہوتی ہیں تو ان میں نجومی، بھکاری، منافق، ڈھونگ رچانے والے، چغل خور، کھجور کی گٹھلیوں کے قاری، درہم و دینار کے عوض فتویٰ فروش فقہیہ، جھوٹے راوی، ناگوار آواز والے متکبر گلوکار، بھد اڑانے والے شاعر، غنڈے، ڈھول بجانے والے، خود ساختہ حق سچ کے دعویدار، زائچے بنانے والے، خوشامدی، طنز اور ہجو کرنے والے، موقع پرست سیاست دانوں اور افواہیں پھیلانے والے مسافروں کی بہتات ہوجاتی ہے ۔
ہر روز جھوٹے روپ کے نقاب آشکار ہوتے ہیں مگر یقین کوئی نہیں کرتا ، جس میں جو وصف سرے سے نہیں ہوتا وہ اس فن کا ماہر مانا جاتا ہے، اہل ہنر اپنی قدر کھو دیتے ہیں، نظم و نسق ناقص ہو جاتا ہے، گفتار سے معنویت کا عنصر غائب ہوجاتا ہے ، ایمانداری کو جھوٹ کے ساتھ، اور جہاد کو دہشت گردی کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے۔
جب ریاستیں برباد ہوتی ہیں، تو ہر سو دہشت پھیلتی ہے اور لوگ گروہوں میں پناہ ڈھونڈنے لگتے ہیں، عجائبات ظاہر ہوتے ہیں اور افواہیں پھیلتی ہیں، بانجھ بحثیں طول پکڑتی ہیں، دوست دشمن اور دشمن دوست میں بدل جاتا ہے، باطل کی آواز بلند ہوتی ہے اور حق کی آواز دب جاتی ہے، مشکوک چہرے زیادہ نظر آتے ہیں اور ملنسار چہرے سطح سے غائب ہو جاتے ہیں، حوصلہ افزا خواب نایاب ہو جاتے ہیں اور امیدیں دم توڑ جاتی ہیں، عقلمند کی بیگانگی بڑھ جاتی ہے، لوگوں کی ذاتی شناخت ختم ہوجاتی ہے اور جماعت، گروہ یا فرقہ ان کی پہچان بن جاتے ہیں۔
مبلغین کے شور شرابے میں دانشوروں کی آواز گم ہو جاتی ہے۔
بازاروں میں ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے اور وابستگی کی بولیاں لگ جاتی ہیں، قوم پرستی، حب الوطنی، عقیدہ اور مذہب کی بنیادی باتیں ختم ہو جاتی ہیں اور ایک ہی خاندان کے لوگ خونی رشتہ داروں پر غداری کے الزامات لگاتے ہیں۔
بالآخر حالات اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں کہ لوگوں کے پاس نجات کا ایک ہی منصوبہ رہ جاتا ہے اور وہ ہے "ہجرت"، ہر کوئی ان حالات سے فرار اختیار کرنے کی باتیں کرتا ہے، تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہونے لگتا ہے، وطن ایک سرائے میں بدل جاتا ہے، لوگوں کا کل سازو سامان سفری تھیلوں تک سمٹ آتا ہے، چراگاہیں ویران ہونے لگتی ہیں، وطن یادوں میں، اور یادیں کہانیوں میں بدل جاتی ہیں۔
(ابن خلدون)
رحم کرنے والا انسان کو پہلا سبق امید کا دیتا ہے اپنی امید دیکھیں کہاں پر ہے امید کا یقین چھیننے والا شیطان ہے جو اور کچھ نہیں کرتا صرف آپ کی امید سے کھیلتا ہے آپ دنیا کی سب سے قیمتی چیز کسی انسان کو دے دیں لیکن اس کے ساتھ نا امیدی بھی دے دیں تو وہ سب چیزیں اس کے کام کی نہیں ہیں شیطان آپ سے رب کے ہونے کا یقین چھینتا ہے جب کسی سے یہ یقین چھن جائے اس کے بعد اس کی ذہنی حالت نا امیدی والی ہوگی اور نا امیدی میں آئندہ زندگی پر یقین ختم ہو جائے گا حالات کے بدترین ہونے کے باوجود مستقبل کے بہتر ہونے کی امید ترک نہیں کرنی چاہئے دنیا میں کوئی رات ایسی نہیں جس کے بعد سحر نہ ہو رات کتنی ہی تاریک اور سیاہ کیوں نہ ہو اس کے بعد اجالا ضرور پھیلتا ہے۔
*"مہنگائی ھونے سے کچھ نہیں ھوتا."*
بس، کچھ باپ اپنے بچوں سے اور زیادہ دور ھو جاتے ھیں اور بچے شفقت پدری سے محروم ھو جاتے ھیں۔ کچھ سرکاری ملازمین پارٹ ٹائم کام کرنے کا سوچنے لگتے ھیں۔
کچھ بیٹیاں مجبوراً پردے سے الگ ھو کر گھر سے باہر روزگار کی تلاش میں نکل پڑتیں ھیں اور وومن empowerment. اور سیکولرلائزیشن کا ایجنڈا اور زیادہ فطری فطری لگنے لگتا ھے.
کچھ ماؤں کے گھٹیا مگر سستا دودھ اور خوراک خریدنے کی وجہ سے ملاوٹ کرنے والوں کے کاروبار میں اضافہ ھو جاتا ھے اور خالص مگر مہنگی خوراک بیچنے والوں کے حوصلے پست ھو جاتے ھیں۔
کچھ اور رشتہ داروں اور ھمسایوں سے لاتعلقی بڑھ جاتی ھے اور مہمان بوجھ لگنے لگتے ھیں، خوشی غمی کے موقع پر شرکت سے پہلے لوگ سو سو بار سوچنے لگتے ھیں.
کچھ بچے اپنا بچپن انجوائے کرنے سے محروم ھو جاتے ھیں اور وقت سے پہلے سنجیدہ ھو جاتے ھیں،
کچھ اور لوگ نیا کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ موخر کر دیتے ھیں جس سے روپے کی گردش رک جاتی ھے اور روزگار کے مواقع محدود ھو جاتے ھیں۔
کچھ ادویات مثلاً بلڈ پریشر اور سکون آور ادویات کی سیل بڑھ جاتی ھے اور ادویات ساز کمپنیاں اپنی سیل متعین کرنے کے لیے اور زیادہ منضبط اصولوں کے ساتھ ڈاکٹروں کو گھیرنے کی کوشش کرتیں ھیں.
سستے علاج کی تلاش میں دیسی ٹوٹکوں کا کاروبار بھی بڑھ جاتا ھے ،اور کچھ توھم پرستی بھی.
کچھ لوگ مذھب سے دور ہ ھو جاتے ھیں لیکن پیسوں کی ھوس رکھنے والے مجاوروں کے قریب ھو جاتے ھیں.
بس تھوڑی سی چوری چکاری، تھوڑا سا جھوٹ، تھوڑا سا اوور ٹائم اور بہت ساری ناامیدی اور کچھ بھی نہیں،
پس مہنگائی ھونے سے کچھ بھی نہیں ھوتا۔
16/02/2026
۱۲ سال کی اذیت، گردن ۹۰ ڈگری جھکی ہوئی، اور ایک پاکستانی بچی کی زندگی کیسے بدلی؟
ایک چھوٹی سی غلطی نے اس کی زندگی کو جہنم بنا دیا۔ صرف ۱۰ ماہ کی عمر میں، سندھ کے شہر مٹھی کی رہائشی افشین گل اپنی بہن کی گود سے گر گئی۔ اس حادثے نے اس کی گردن کی ہڈی کو شدید نقصان پہنچایا—ایٹلانٹو ایکسئل روٹیٹری ڈسلوکیشن، ایک نایاب بیماری جس نے اس کی گردن کو ۹۰ ڈگری کے زاویے پر جھکا دیا۔ وہ نہ سیدھی بیٹھ سکتی، نہ چل سکتی، نہ خود کھا سکتی۔ دماغی فالج جیسی علامات کے ساتھ وہ بڑی ہوئی، اور پاکستان میں دستیاب علاج سے کوئی فائدہ نہ ہوا۔ ڈاکٹروں نے کہا: "یہ کیس بہت پیچیدہ ہے، ہمارے پاس سہولیات نہیں۔"
امید ختم ہو رہی تھی۔ خاندان غریب تھا، علاج کا خرچہ اٹھانا ناممکن۔ لیکن قسمت نے ایک موڑ لیا جب ۲۰۱۹ میں برطانوی صحافی اویس توحید نے افشین کی کہانی سنی اور اسے دہلی کے اندراپرستھا اپولو ہسپتال کے مشہور اسپائن سرجن ڈاکٹر راجاگوپالن کرشنن سے ملوایا۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان سیاسی تناؤ کے باوجود، ڈاکٹر کرشنن نے پیشکش کی: "میں یہ سرجری مفت کروں گا۔" کیونکہ ایک بچی کی زندگی سرحدوں سے بڑھ کر ہے!
ویزے کی جدوجہد، واگہ بارڈر عبور کرنا—سب کچھ طے ہوا۔ ۲۰۲۲ میں افشین کی چار پیچیدہ سرجریاں ہوئیں۔ پہلے ہیلو گریویٹی ٹریکشن سے گردن کو آہستہ آہستہ سیدھا کیا گیا، پھر چھ گھنٹے کی خطرناک سرجری میں ٹائٹینیم راڈز اور پیچ لگائے گئے۔ خطرات بہت تھے—سانس رک سکتی تھی، جان جا سکتی تھی۔ لیکن ڈاکٹر کرشنن اور ان کی ٹیم نے معجزہ کر دکھایا!
آج افشین خود چلتی ہے، بولتی ہے، کھاتی ہے۔ پہلی بار اس کی گردن سیدھی ہے، اور وہ دنیا کو براہ راست دیکھ سکتی ہے۔ اس کے بھائی نے ڈاکٹر کو "فرشتہ" کہا۔ یہ صرف ایک سرجری کی کہانی نہیں—یہ انسانیت کی فتح ہے، جہاں سائنس اور ہمدردی نے سیاست کو شکست دی!
جب ایک بچی کی مسکراہٹ کی بات ہو، تو کوئی سرحد رکاوٹ نہیں بنتی۔ یہ ہے حقیقی معجزہ۔۔
07/02/2026
ایک صاحب سے کامیابی کا راز پوچھا گیا۔ مسکرا کر بولے۔ کامیابی تب شروع ہوئی جب میں نے چھوٹے جھگڑوں کو چھوٹے لوگوں کے لئے چھوڑ دیا۔ ان سے جھگڑنا چھوڑا جو میری چغلی کرتے تھے. محلے والوں, دوستوں اورسسرال والوں سے بھی توجہ کے لئے جھگڑنا چھوڑ دیا. دوسروں کی توقعات پر پورا اترنے کے لئے لڑنا چھوڑ دیا. میں نے بے وقوفوں سے اپنے حقوق کے لئے جھگڑنا چھوڑ دیا. ایسے جھگڑے ان کے لئے چھوڑ دیے جن کے پاس اور کوئی مقصد نہیں تھا۔ اور میں نے لڑنا شروع کیا: اپنے وژن، اپنے خوابوں کے لئے، اپنے خیالات اور اپنی قسمت کے لئے جس دن میں نے چھوٹے جھگڑوں کو چھوڑا، اسی دن سے میں کامیاب ہونے لگا۔
کچھ جھگڑے آپ کے ووقت کے قابل نہیں ہوتے۔ عقل مندی سے فیصلہ کریں کہ آپ کن چیزوں کے لیے لڑنا چاہتے ہیں ـ
حکم ہے غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرو نشے کی حالت میں نماز کے قریب بھی مت جاؤ مارفین کا نشہ 1930 کے بعد دریافت ہوا اس سے پہلے یہ عام نہیں تھا اور نہ ہی انجکشن کے طور پر لیا جاتا تھا علامہ اقبال کی زندگی کے آخری ایام میں جب ان کی حالت بہت خراب ہو گئی اور تکلیف شدت اختیار کر گئی تو ڈاکٹروں نے ان کو مارفین کا انجکشن تجویز کیا مگر انہوں نے صاف انکار کیا علامہ اقبال کا کہنا تھا کہ موت کا تجربہ میں پورے ہوش و حواس کے ساتھ کرنا چاہتا ہوں اور وہ شعور جس کے ساتھ میں نے عشق کیا وہ کلمہ جس پر میں ساری زندگی کاربند رہا ایسا نہ ہو کہیں نشے کی حالت میں میں اس کو چھوڑ دوں انہوں نے درد قبول کر لیا لیکن اپنے کلمے اور شعور کو ختم کرنے پر راضی نہ ہوئے..
I got over 40 reactions on one of my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉
کسی گاؤں میں ایک ہی غیر مسلم گھرانہ آباد تھا۔
اس گھر کی ایک ادھیڑ عمر عورت کا موت کا وقت قریب آ گیا تو گاؤں کے ایک معزز اور دیندار بزرگ چند نمازیوں کے ساتھ مسجد سے ہی اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔
وہاں پہنچ کر خیریت دریافت کرنے کے بعد بزرگ نے کہا:
"بی بی! آپ نے ایک لمبی عمر گزاری ہے۔ کیا آپ نہیں سمجھتیں کہ اسلام ہی واحد دینِ حق ہے، جس میں دنیا اور آخرت دونوں کی فلاح ہے؟"
وہ بولی:
"آپ کا مطلب ہے کہ میں آپ کا کلمہ پڑھ لوں؟"
بزرگ نے کہا:
"جی ہاں! ہم چاہتے ہیں کہ آپ کی آخرت سنور جائے۔ اللہ پاک اس کی برکت سے پورے گاؤں پر رحمت نازل فرمائیں گے۔"
عورت کہنے لگی:
"کلمہ تو پڑھ لوں، مگر مجھے بتائیے کہ آپ مجھے کس نبی کا کلمہ پڑھائیں گے؟
نوری نبی کا یا بشر نبی کا؟
میں نے ہوش سنبھالنے سے لے کر آج تک یہی دیکھا ہے کہ آپ لوگوں نے اپنے نبی ﷺ کو اختلافات کا مرکز بنا رکھا ہے۔
نور یا بشر کا اختلاف،
زندہ یا وفات کا اختلاف،
غیب جاننے یا نہ جاننے کا اختلاف،
میلاد اور جشنِ عیدِ میلاد کا اختلاف۔
جب آپ لوگ کسی ایک بات پر متفق ہو جائیں گے، تب میں کلمہ پڑھ لوں گی۔"
پھر وہ دوبارہ بولی:
"لیکن اس کے بعد بھی ایک مسئلہ رہے گا۔ کلمہ پڑھنے کے بعد کوئی کہے گا بریلوی بنو، کوئی کہے گا اہلِ حدیث بنو، کوئی کہے گا دیوبندی بنو، کوئی کہے گا شیعہ بنو،
تو میں کہاں جاؤں گی؟
آپ لوگوں نے تو دین کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے ہیں۔ جس کے پاس جتنا ٹکڑا آیا، وہ اسی پر قائم ہو گیا۔
وہ 73 فرقوں میں سے کون سا ایک فرقہ ہے جسے جنت والا کہا جائے؟
پہلے انسان کو باپ دادا کا فرقہ ملتا ہے، پھر اسے انا کا مسئلہ بنا کر اسی محدود دائرے میں دین کی عبادت شروع کر دیتا ہے۔
پہلے آپ خود اپنے باپ دادا کے فرقے کے بجائے اپنے نبی ﷺ کے دین پر آجائیں، پھر میں بھی آپ کا دین قبول کر لوں گی۔"
یہ سن کر بزرگ خاموش رہ گئے۔ اگر کوئی سامنے مخالف فرقے کا ہوتا تو اسے تو منہ توڑ جواب دے لیتے مگر اس غیر مسلم عورت کو اب کیا کہہ سکتے تھے۔
یہ کہانی محض ایک تمثیل ہے، مگر افسوس کہ اس میں بیان کی گئی باتیں سو فیصد سے بھی زیادہ حقیقت پر مبنی ہیں۔
بدقسمتی سے آج ہم اپنے دین کا دفاع کم اور اپنے اپنے فرقے کا دفاع زیادہ کر رہے ہیں۔
محرم آتا ہے تو بحث شروع ہو جاتی ہے،
ربیع الاول آتا ہے تو ہم جاگ جاتے ہیں،
رجب آتی ہے تو آوازیں بلند ہونے لگتی ہیں۔
مگر ان تین مہینوں کے علاوہ باقی نو مہینوں میں کیا ہم نے کبھی مل بیٹھ کر ان اختلافات کو ختم کرنے کی کوشش کی؟
کیا کبھی سوچا کہ ہم ایک امت بن کر کیسے جمع ہو سکتے ہیں، تاکہ دیکھنے والا کہے،
"ہاں، یہ ہیں مسلمان اور یہ ہیں سنتوں پر عمل کرنے والے۔"
مگر نہیں... ہمیں تو بس ایک دوسرے کی لنگوٹ کھینچنی ہے، کبھی کسی پر کفر کا فتویٰ، کبھی کسی پر گستاخی کا فتویٰ، کسی پر شرک کا فتویٰ، کسی پر منکر کا فتویٰ، کسی پر بدعت کا فتویٰ
فتویٰ تو ایسے لگا دیتے ہیں جیسے دینِ اسلام بس ان کی ہی میراث ہیں۔
الیکٹرانک سگریٹ: میٹھا دھواں اور کڑوا انجام
17 سالہ نوجوان کے ڈیمیج پھیپھڑے، والدین اور نوجوانوں کے لیے وارننگ۔ الیکٹرانک سگریٹ یا ویپنگ کو عام طور پر عام سگریٹ سے کم نقصان دہ سمجھا جاتا ہے، لیکن کینیڈا کے 17 سالہ نوجوان کی کہانی نے اس غلط فہمی کو خطرناک حد تک بے نقاب کر دیا ہے۔
لی رائے کنگ نامی یہ نوجوان صرف 14 برس کی عمر میں خفیہ طور پر الیکٹرانک سگریٹ پینے لگا۔ ابتدا محض تجسس اور شوق کی تھی، پھر آہستہ آہستہ یہ عادت بن گئی اور آخرکار شدید نشے میں تبدیل۔ وہ یہ سمجھتا رہا کہ ویپنگ عام سگریٹ کے مقابلے میں محفوظ ہے، اس لیے اس نے کبھی خطرے کا اندازہ ہی نہیں لگایا۔
کچھ ہی عرصے میں اس کی حالت یہ ہو گئی کہ وہ ہر ہفتے چار مکمل الیکٹرانک سگریٹ استعمال کرنے لگا اور تقریباً پورا دن دھواں پیتا رہتا تھا۔
ایک رات اچانک اس کے سینے کے بائیں حصے میں شدید درد اٹھا، سانس لینے میں شدید دشواری ہوئی اور حالت بگڑنے لگی۔ والدہ فوراً اسے اسپتال لے گئی، جہاں ڈاکٹروں نے تشویشناک انکشاف کیا کہ اس کا بایاں پھیپھڑا ڈیمیج ہو چکا ہے۔
آخرکار ڈاکٹروں کو ہنگامی آپریشن کرنا پڑا اور پھیپھڑوں کے خراب حصے نکالنے پڑے۔ ڈاکٹروں نے واضح طور پر بتایا کہ اس خطرناک بیماری کی بنیادی وجہ الیکٹرانک سگریٹ کا مسلسل استعمال ہے۔
اس نوجوان کے لیے سب سے ہولناک لمحہ وہ تھا جب اسے ایک پلاسٹک کے تھیلے میں اپنے ہی پھیپھڑوں کے نکالے گئے حصے دکھائے گئے۔ وہ حصے سیاہ ہو چکے تھے، جیسے جل کر راکھ بن گئے ہوں۔
یہ تمام نوجوانوں اور والدین کے لیے سخت تنبیہ ہے۔ الیکٹرانک سگریٹ چاہے ذائقے دار ہوں یا خوشبو دار، یہ پھیپھڑوں کو شدید اور ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتی ہیں، خاص طور پر کم عمر بچوں میں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ویپنگ نہ صرف نکوٹین کی شدید لت پیدا کرتی ہے بلکہ سانس کے خطرناک امراض، پھیپھڑوں کے بیٹھ جانے اور وقت سے پہلے موت تک کا سبب بن سکتی ہے۔
والدین کو چاہئے کہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور نوجوان اس غلط فہمی سے باہر آئیں کہ الیکٹرانک سگریٹ محفوظ ہے۔ میٹھا دھواں، حقیقت میں جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سب کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔
18/01/2026
نیویارک (ویب ڈیسک) امریکا میں زیرِ تعلیم پاکستانی نوجوان اور سیریل انٹرپرینیور تیمور حسن نے ایک اور بڑا کارنامہ انجام دے دیا۔ انہوں نے اپنے دو ساتھیوں جواد احمد اور محمد اویس کے ساتھ مل کر پاکستان کا اپنا اردو چیٹ جی پی ٹی "قلب" تیار کر لیا ہے جو دنیا کا سب سے بڑا اردو لینگویج ماڈل قرار دیا جا رہا ہے۔
"قلب" کو تقریباً ایک ارب ستانوے کروڑ الفاظ پر تربیت دی گئی ہے اور اسے سات سے زائد عالمی معیار کے ٹیسٹس پر جانچا گیا ہے، جہاں اس نے موجودہ اردو اے آئی ماڈلز کو واضح طور پر پیچھے چھوڑ دیا۔ ماہرین کے مطابق یہ ماڈل اردو زبان کو نہ صرف بہتر انداز میں سمجھتا ہے بلکہ عام صارف کے لیے عملی سطح پر زیادہ مفید ثابت ہو رہا ہے۔
اس منصوبے کا مقصد دنیا بھر میں موجود 23 کروڑ سے زائد اردو بولنے والوں کو ان کی اپنی زبان میں جدید مصنوعی ذہانت کی سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ تعلیم، کاروبار، کسٹمر سروس، ڈیجیٹل ایپس اور وائس بیسڈ سسٹمز جیسے شعبوں میں انقلاب برپا کیا جا سکے۔
تیمور حسن اس سے قبل 13 اسٹارٹ اپس کامیابی سے لانچ کر کے ایگزٹ کر چکے ہیں، وہ مائیکروسافٹ کپ کے فاتح رہ چکے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے بی ایس کمپیوٹر سائنس فاسٹ یونیورسٹی سے مکمل کی جبکہ اس وقت امریکا میں اعلیٰ تعلیم کے ساتھ جدید اے آئی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔
تیمور حسن کا کہنا ہے کہ اب ٹیکنالوجی صرف بڑی کمپنیوں یا اربوں ڈالر کے بجٹ تک محدود نہیں رہی، بلکہ چند نوجوان بھی مل کر ایسے منصوبے تیار کر سکتے ہیں جو لاکھوں لوگوں کی زندگی بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
ماہرین کے مطابق "قلب" کی تیاری پاکستان کے لیے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک تاریخی سنگِ میل ہے جو ملک کو عالمی ٹیکنالوجی نقشے پر نمایاں مقام دلانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔