دوست مایوس نہ ہو
سلسلے بنتے بگڑتے ہی رہے ہیں اکثر
تیری پلکوں پہ یہ اشکوں کے ستارے کیسے
تجھ کو غم ہے تری محبوب تجھے مل نہ سکی
اور جو زیست تراشی تھی ترے خوابوں نے
جب پڑی چوٹ حقائق کی تو وہ ٹوٹ گئی
تجھ کو معلوم ہے میں نے بھی محبت کی تھی
اور انجام محبت بھی ہے معلوم تجھے
تجھ سے پہلے بھی بجھے ہیں یہاں لاکھوں ہی چراغ
تیری ناکامی نئی بات نہیں دوست میرے
کس نے پائی ہے غم زیست کی تلخی سے نجات
چار و ناچار یہ زہراب سبھی پیتے ہیں
جاں لٹا دینے کے فرسودہ فسانوں پہ نہ جا
کون مرتا ہے محبت میں سبھی جیتے ہیں
وقت ہر زخم کو ہر غم کو مٹا دیتا ہے
وقت کے ساتھ یہ صدمہ بھی گزر جائے گا
اور یہ باتیں جو دہرائی ہیں میں نے اس وقت
تو بھی اک روز انہی باتوں کو دہرائے گا
دوست مایوس نہ ہو!
سلسلے بنتے بگڑتے ہی رہے ہیں اکثر
Notes By Waqar
Making life simple کچھ خیالات اور چند سوالات اور کچھ نہیں۔
مے خانوں کی رونق ہیں کبھی خانقہوں کی
اپنا لی ہوس والوں نے جو رسم چلی ہے
دلدارئ واعظ کو ہمیں باقی ہیں ورنہ
اب شہر میں ہر رند خرابات ولی ہے
ذرّو!
اپنے سوزِدروں سے چمکو اور خورشید بنو
قطرو!
اپنے عزمِ جواں سے پھیلو اور طوفاں بنو
ذرّو! قطرو!
ایک نئے مضمون کی اب تمہید بنو
ذرّو! قطرو!
ایک نئی محفل کا اب سامان بنو
ذرّہ — مردہ خاک نہیں ہے، اس میں اب کچھ اور بھی ہے
علم نے اب یہ فاش کیا ہے
ذرّہ قوت کا پیکر ہے
دنیا نے اب جان لیا لے
ذرٗہ طاقت کا مظہر ہے
ایک جہاں میں شور بپا ہے
برق کا ذرّے میں عنصر ہے
ذرّہ — مردہ خاک نہیں ہے، اس میں اب کچھ اور بھی ہے
محض فسردہ خاک نہیں ہے، اس میں اب کچھ اور بھی ہے
قطرہ — ظاہر میں بیرنگ ہے، باطن میں بے آب نہیں
قطرہ، جب چاہے گردوں پر
بادل بن کر چھا سکتا ہے
ننھا سا پانی کا یہ پیکر
طوفاں بن کر آسکتا ہے
ادلہ بن جائے تو اکثر
بنیادوں کو ڈھاسکتا ہے
قطرہ — ظاہر میں بیرنگ ہے، باطن میں بے آب نہیں
ہاں یہ فقط ایک قطرہ ہے، جینے کو اگر بیتاب نہیں
ناگا ساکی پر جو گرا تھا، وہ کیا تھا؟ — اک ذرّہ تھا!
آج طوفاں اک "خطرہ" ہے، کل یہ فقط اک قطرہ تھا!
بیسودوکمزور نہ جانو
اپنی ہستی کو پہچانو
ذرّہ!
اپنے سوزِدروں سے چمکو اور خورشید بنو
قطرو!
اپنے عزمِ جواں سے پھیلو اور طوفاں بنو
ذرّو! قطرو!
ایک نئے مضمون کی اب تمہید بنو
ذرّو! قطرو!
ایک نئی محفل کا اب سامان بنو
قرض نگاہ یار ادا کر چکے ہیں ہم
سب کچھ نثار راہ وفا کر چکے ہیں ہم
کچھ امتحان دست جفا کر چکے ہیں ہم
کچھ ان کی دسترس کا پتا کر چکے ہیں ہم
اب احتیاط کی کوئی صورت نہیں رہی
قاتل سے رسم و راہ سوا کر چکے ہیں ہم
دیکھیں ہے کون کون ضرورت نہیں رہی
کوئے ستم میں سب کو خفا کر چکے ہیں ہم
اب اپنا اختیار ہے چاہے جہاں چلیں
رہبر سے اپنی راہ جدا کر چکے ہیں ہم
ان کی نظر میں کیا کریں پھیکا ہے اب بھی رنگ
جتنا لہو تھا صرف قبا کر چکے ہیں ہم
کچھ اپنے دل کی خو کا بھی شکرانہ چاہیے
سو بار ان کی خو کا گلا کر چکے ہیں ہم
Let's keep life simple. The beauty and ugliest thing about life is that you have to live it.
Watch the full video on my YouTube channel. Link is in first comment.
#خواہش #زندگی
Aaj ka insaan ek khamosh daur mein jee raha hai.
Sab bhaag rahe hain… lekin aksar kisi ko khud bhi nahi pata kyun bhaag rahe hain.
More money — زیادہ پیسہ
More status — زیادہ عزت اور مقام
More followers — زیادہ لوگ
More things — زیادہ چیزیں
Humein bachpan se sikhaya jata hai ke aur pao… aur hasil karo… aur aage niklo.
Magar koi yeh nahi batata ke yeh daur kab rukni hai.
Dheere dheere yeh “more / زیادہ” ki soch insaan ko andar se bechain kar deti hai.
Nayi cheez le lo… khushi bas kuch din.
Naya goal achieve kar lo… foran agla target saamne.
Aur phir aik waqt aata hai jab insaan ke paas sab kuch hota hai…
magar sukoon nahi hota.
دل تھکا ہوا ہوتا ہے۔
دماغ ہر وقت مصروف ہوتا ہے۔
اور انسان خود سے ہی دور ہوتا جاتا ہے۔
Kabhi kabhi zindagi ki asli samajh aur zyada paane mein nahi hoti…
Balke is baat ko samajhne mein hoti hai ke:
“Kab kaafi… waqai kaafi hota hai.”
کب انسان کو رک جانا چاہیے۔
Saadi zindagi.
Meaningful kaam.
Sachay rishte.
Aur ek pur-sukoon dil.
Yahi asal daulat hai.
Shayad zindagi ka sab se gehra sawal yeh nahi:
“Main aur zyada kaise hasil karun?”
Balke yeh hai:
“Kya jo mere paas hai… woh ek achi zindagi ke liye kaafi hai?”
Kabhi is sawal par sach mein ruk kar sochiye.
#خواہش #زندگی
11/03/2026
Coming Soon
Why chasing more will destroy our peace ✌️
Life is simple, desires bring the complexity.
How to make life simple and easy!
,زندگی بہت ہلکی ہے، سادا بوجھ خواہشات کا ہوتا ہے۔
#زندگی #خواہش
You are the average of your company. You complain or grow, depending on the people you spend time with.
You are the average of your company. You complain or grow, depending on the people you spend time with.
rightperson
Click here to claim your Sponsored Listing.