خلیفہ ھارون الرشید نے فرانس کے بادشاہ شارلمان کو ایک گھڑی تحفہ بھیج دی ۔ یہ گھڑی 4 میٹر اونچی خالص پیتل سے بنی تھی اور پانی کے زور پر چلتی تھی ۔
گھنٹہ ہونے پر گھڑی کے اندر سے 1 گیند نکلتی ، 2 گھنٹے پر 2 گیندیں اور 3 گھنٹے پر 3 گیندیں اس طرح ہر گھنٹے کے ساتھ ایک گیند کا اضافہ ہوتا تھا ، گیند کے نکلنے کے ساتھ ایک خوبصورت سریلی آواز کے ساتھ گیند کے پیچھے پیچھے ایک گھڑ سوار نکلتا وہ گھڑی کے گرد چکر کاٹ کر واپس داخل ہوتا جب 12 بج جاتے تو بارہ گھڑ سوار نکلتے چکر کاٹ کر واپس جاتے ۔
گھڑی کی یہ حرکتیں دیکھ کر بادشاہ شارلمان کافی پریشان ہوا اس نے پادریوں اور نجومیوں کو محل میں بلایا، سب نے دیکھ کر کہا اس گھڑی کے اندر ضرور شیطان ہے ۔
سب رات کے وقت گھڑی کے پاس آئے کہ اس وقت شیطان سویا ہوگا ، چنانچہ انہوں نے گھڑی کھول لی تو آلات کے سوا کچھ نہیں ملا ، لیکن گھڑی خراب ہوچکی تھی ۔ پورے فرانس میں گھڑی کو ٹھیک کرنے کے لئے کوئی کاریگر نہیں تھا ، شرمندگی کی وجہ سے ھارون الرشید سے بھی نہیں کہہ سکتے تھے کہ کوئی مسلمان کاریگر بھیج دیں ۔
مطلب کہ جب سائنس پر مسلمانوں کی اجارہ داری تھی اس وقت یورپ سائنس کو جادو سمجھتا تھا ۔
دُنیا میں سب سے پہلا "کیمرہ" ایجاد کرنے والا "ابنِ الہیثم" ہے ۔
دُنیا میں سب سے پہلا "کیلنڈر" ایجاد کرنے والا "عُمرخیام" ہے ۔
آپریشن سے قبل مریض کو "بےہوش" کرنے کا طریقہ متعارف کروانے والا "زکریاالرازی" ھے ۔۔
دُنیا میں "الجبرا" ایجاد اور متعارف کروانے والا "موسیٰ الخوارزمی" ہے ۔
سن 1957 میں "شیمپو" ایجاد کرنے والا "محمد" ہے ۔
زمیں پہ آنے والے "زلزلوں" کی سب سے پہلے سائنسی وجوہات بیان کرنے والا "ابنِ سینا" ہے ۔
کپڑا اورچمڑا رنگ کرنے اور گلاس بنانے کیلئے "میگنیز ڈائی آکسائد" کا استعمال متعارف کروانے والا "ابنِ سینا" ہے ۔
دھاتوں کی صفائی ، "سٹیل" بنانے کا طریقہ متعارف کروانے والا "ابنِ سینا" ہے ۔
مصنوعی "دانت" لگانے کا طریقہ متعارف کروانے والا "ابوالقاسم الزہروی" ہے ۔
ٹیڑھے "دانتوں" کو سیدھا کرنے اور خراب "دانت" نکالنے کا طریقہ متعارف کروانے والا "ابوالقاسم الزہروی" ہے ۔
دُنیا میں سب سے پہلے "ادویات" بنانے کے علم متعارف کروانے والا "ابنِ سینا" ہے ۔
دُنیا میں کششِ ثقل کی درست پیمائش کا طریقہ متعارف کروانے والا "عُمرخیام" ہے ۔
آنکھ ، ناک ، کان اور پتے کا "آپریشن" سے علاج متعارف کروانے والا "ابوالقاسم الزہروی" ہے ۔
دنیا میں "سرجری" کیلئے استعمال ھونے والے تین اہم ترین آلات متعارف کروانے والا "ابوالقاسم الزہروی" ہے ۔
دُنیاوی علموں میں "علمِ اعداد" اور "جدیدریاضی" کی بنیاد رکھنے والا "یعقوب الکندی" ہے ۔
مریضوں کو دی جانے والی "ادویات کی درست مقدار" کا تعین کرنے والا "یعقوب الکندی" ہے ۔
دُنیا کو "آنکھ" پہ روشنی کے مُضراثرات کا بتانے والا "زکریاالرازی" ہے ۔
روشنی کی "رفتار" کا آواز کی "رفتار" سے تیز ہونے کا انکشاف کرنے والا "البیرونی" ہے ۔
دنیا کو "زمین چاند اور سیاروں" کی حرکات اور خصوصیات سے روشناس کرنے والا "البیرونی" ہے ۔
دُنیا کو "قُطب شمالی اور قُطب جنوبی" کی سمت کا تعین کرنے کے "سات طریقے" بتانے والا "البیرونی" ہے ۔
علمِ ارضیات میں مغرب والوں کی زبان سے "بابائےارضیات" کہلائے جانے والا "ابنِ سینا" ہے ۔
دُنیا میں "ہائیڈروکلورک ایسڈ ، نائٹرک ایسڈ اور سفید سیسہ" بنانے کے طریقے بیان کرنے والا " جابر بن حیان" ہے ۔
کیمیکلز بنانے اور ایجاد کرنے میں "بابائےکیمیا" کہلائے جانے والا "ابنِ سینا" ہے ۔
دُنیا کو "روشنی کے انعکاس" اور بصارت میں "ریٹینا" کا مرکزی کردار متعارف کروانے والا "ابنِ الہیثم" ہے ۔
اور "سیاروں" کی حرکت کا درست تعین کرنے والا "نصیرالدین طوسی" ہے ۔
یہ سب مُسلمان سائنسدان ہی تھے اور تُم پوچھتے ہو کہ اِسلام نے آج تک دُنیا کو دیا ہی کیا ہے ؟؟؟؟
The FAIZ HAFEEZ's Learning Inn
We Educate Today For the Scholar of Tomorrow
آئی بی سی سی نے پاکستان میں متعارف کرائے جانے والے نئے گریڈنگ سسٹم کے مطابق “رزلٹ کارڈ” کے نام سے نئی ماڈل مارک شیٹ تیار کرلی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ملک بھر کے تعلیمی بورڈز کے سربراہوں کے آفیشل فورم آئی بی سی سی نے پاکستان میں متعارف کرائے جانے والے نئے گریڈنگ سسٹم کے سلسلے میں “رزلٹ کارڈ” کے نام سے نئی ماڈل مارک شیٹ تیار کرلی ہے جو سندھ سمیت پورے ملک میں میٹرک اور انٹر کی سطح پر مرحلے وار آئندہ 3 سال میں طلبہ کو جاری کی جاسکیں گی۔
نمائندہ ایکسپریس نیوز کا کہنا ہے کہ میٹرک اور انٹر کی سطح پر رائج مارک شیٹ اسی سال 2023 سے ختم ہونا شروع ہوجائے گی جس کا آغاز ابتدائی طور پر نویں اور گیارہویں جماعت کے نتائج سے کیا جائے گا، اس نئے رزلٹ کارڈ کی منظوری پیر کو کراچی میں منعقد ہونے والے آئی بی سی سی کے اجلاس میں متوقع ہے جس میں ملک بھر کے تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز شریک ہورہے ہیں۔
رزلٹ کارڈ کے نام سے جاری ہونے والی نئی مارک شیٹ آئی بی سی سی کی ضمنی کمیٹی کی جانب سے تیار کی گئی ہے، اس کے مطابق اب چونکہ نئے گریڈنگ سسٹم میں میٹرک اور انٹر کی سطح پر طلبہ کو امتحانی پرچوں کے مارکس جاری نہیں کیے جائیں گے، لہذا مارک شیٹ سے بھی مارکس لکھنے کا سلسلہ مرحلہ وار ختم کردیا جائے گا۔
نمائندہ ایکسپریس نیوز کو موصولہ اطلاعات کے مطابق پہلے مرحلے میں رواں سال 2023 میں مارک شیٹ پر حاصل کردہ مارکس اور گریڈ کے ساتھ ساتھ جی پی/جی پی اے /سی جی پی اے بھی لکھا جائے گا، اور پہلے مرحلے کا اطلاق نویں اور گیارہویں جماعتوں کے نتائج سے ہوگا۔
واضح رہے کہ نئی گریڈنگ پالیسی میں میٹرک اور انٹر کی سطح پر اب پاسنگ مارکس 33 کے بجائے 40 ہوں گے جب کہ مارک شیٹ/رزلٹ کارڈ میں فیل کا لفظ بھی شامل نہیں ہوگا۔
اسی طرح مارک شیٹ سے رزلٹ کارڈ کے اس سفر کے دوسرے مرحلے میں آئندہ برس 2024 میں نویں ، دسویں ، گیارہویں اور بارہویں چاروں جماعتوں میں حاصل کردہ مارکس کا کالم ختم کردیا جائے گا اور صرف گریڈ، جی پی /جی پی اے/سی جی پی اے لکھا جائے گا اور رزلٹ کارڈ کے حتمی نوٹ پر candidate has passed with GPA ….. out of 5.0 لکھا ہوگا۔
حتمی مرحلے میں سال 2025 میں جب نیا گریڈنگ سسٹم مکمل طور پر لاگو ہوجائے گا تو مذکورہ سال کے رزلٹ کارڈ میں ہر مضمون کے سامنے اس میں حاصل کردہ گریڈ، جی پی اور حتمی جی پی اے لکھی جائے گی۔
یاد رہے کہ آئی بی سی سی کے منعقدہ اجلاس میں پورے ملک میں میٹرک اور انٹر کی سطح پر “10 پوائنٹس گریڈنگ سسٹم” کے نفاذ کی منظوری دی گئی تھی
اس گریڈنگ سسٹم کے تحت اب طالب علم کے امتحانی ریمارکس کے ساتھ “ایف” یعنی فیل کی اصطلاح کی جگہ “U ” یعنی unsatisfactory لکھا جائے گا اور امتحانات کے پاسنگ مارکس 33 سے بڑھا کر 40 کردیے گئے ہیں۔
اسی طرح 95 سے 100 فیصد تک مارکس لینے والے طلبہ کا گریڈ A++ ہوگا جسے exceptional کا نام دیا گیا ہے اور 90 سے 95 فیصد تک A+ جسے outstanding کہا گیا ہے، اسی طرح 85 سے 90 تک A گریڈ جسے remarkable کہا گیا ہے اور 80 سے 85 تک B++ جسے excellent کہا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 75 سے 80 تک B+ جسے very good کہا گیا ہے اور 70 سے 75 تک B جسے good اور 60 سے 70 تک C گریڈ جسے fair کہا گیا ہے جب کہ 50 سے 60 تک D گریڈ جسے satisfactory اور 40 سے 50 تک E گریڈ جسے sufficient کا نام دیا گیا ہے۔
26/01/2023
ایک بار یہ تحریر ضرور پڑھیں 😭😭😭
ایک بار جبرائیل علیہ سلام نبی کریم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ جبرایل کچھ پریشان ہے آپ نے فرمایا جبرائیل کیا معاملہ ہے کہ آج میں آپکو غمزدہ دیکھ رہا ہوں جبرائیل نے عرض کی اے محبوب کل میں اللہ پاک کے حکم سے جہنم کا نظارہ کرکہ آیا ہوں اسکو دیکھنے سے مجھ پہ غم کے آثار نمودار ہوے ہیں نبی کریم نے فرمایا جبرائیل مجھے بھی جہنم کے حالات بتاو جبرائیل نے عرض کی جہنم کے کل سات درجے ہیں
ان میں جو سب سے نیچے والا درجہ ہے اللہ اس میں منافقوں کو رکھے گا
اس سے اوپر والے چھٹے درجے میں اللہ تعالی مشرک لوگوں کو ڈلیں گے
اس سے اوپر پانچویں درجے میں اللہ سورج اور چاند کی پرستش کرنے والوں کو ڈالیں گے
چوتھے درجے میں اللہ پاک آتش پرست لوگوں کو ڈالیں گے
تیسرے درجے میں اللہ پاک یہود کو ڈالیں گے
دوسرے درجے میں اللہ تعالی عسائیوں کو ڈالیں گئ
یہ کہہ کر جبرائیل علیہ سلام خاموش ہوگئے تو نبی کریم نے پوچھا
جبرائیل آپ خاموش کیوں ہوگئے مجھے بتاو کہ پہلے درجے میں کون ہوگا
جبرائیل علیہ سلام نے عرض کیا
اے اللہ کے رسول پہلے درجے میں اللہ پاک آپکے امت کے گنہگاروں کو ڈالے گے
جب نبی کریم نے یہ سنا کہ میری امت کو بھی جہنم میں ڈالا جاے گا تو آپ بے حد غمگین ہوے اور آپ نے اللہ کے حضور دعائیں کرنا شروع کی تین دن ایسے گزرے کہ اللہ کے محبوب مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لاتے نماز پڑھ کر حجرے میں تشریف لے جاتے اور دروازہ بند کرکہ اللہ کے حضور رو رو کر فریاد کرتے صحابہ حیران تھے کہ نبی کریم پہ یہ کیسی کیفیت طاری ہوئی ہے مسجد سے حجرے جاتے ہیں
گھر بھی تشریف لیکر نہیں جا رہے۔ جب تیسرا دن ہوا تو سیدنا ابو بکر سے رہا نہیں گیا وہ دروازے پہ آے دستک دی اور سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہیں آیا ۔ آپ روتے ہوے سیدنا عمر کے پاس آے اور فرمایا کہ میں نے سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہ پایا لہذا آپ جائیں آپ کو ہوسکتا ہے سلام کا جواب مل جاے آپ گئے تو آپ نے تین بار سلام کیا لیکن جواب نہ آیا حضرت عمر نے سلمان فارسی کو بھیجا لیکن پھر بھی سلام کا جواب نہ آیا حضرت سلمان فارسی نے واقعے کا تذکرہ علی رضی اللہ تعالی سے کیا انہوں نے سوچا کہ جب اتنے اعظیم شحصیات کو سلام کا جواب نہ ملا تو مجھے بھی خود نھی جانا نھی چاھیئے
بلکہ مجھے انکی نور نظر بیٹی فاطمہ اندر بھیجنی چاھیئے۔ لہذا آپ نے فاطمہ رضی اللہ تعالی کو سب احوال بتا دیا آپ حجرے کے دروازے پہ آئی
" ابا جان اسلام وعلیکم"
بیٹی کی آواز سن کر محبوب کائینات اٹھے دروازہ کھولا اور سلام کا جواب دیا
ابا جان آپ پر کیا کیفیت ھے کہ تین دن سے آپ یہاں تشریف فرما ہے
نبی کریم نے فرمایا کہ جبرائیل نے مجھے آگاہ کیا ہے کہ میری امت بھی جہنم میں جاے گی فاطمہ بیٹی مجھے اپنے امت کے
گنہگاروں کا غم کھاے جا رہا ہے اور میں اپنے مالک سے دعائیں کررہا ہوں کہ اللہ انکو معا ف کر اور جہنم سے بری کر یہ کہہ کر آپ پھر سجدے میں چلے گئے اور رونا شروع کیا یا اللہ میری امت یا اللہ میری امت کے گناہگاروں پہ رحم کر انکو جہنم سے آزاد کر
کہ اتنے میں حکم آگیا "وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى
اے میرے محبوب غم نہ کر میں تم کو اتنا عطا کردوں گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے..
آپ خوشی سے کھل اٹھے اور فرمایا لوگوں اللہ نے مجھ سے وعدہ کرلیا ہے کہ وہ روز قیامت مجھے میری امت کے معاملے میں خوب راضی کریں گا اور میں نے اس وقت تک راضی نہیں ہونا جب تک میرا آخری امتی بھی جنت میں نہ چلا جاے
لکھتے ہوے آنکھوں سے آنسو آگئے کہ ہمارا نبی اتنا شفیق اور غم محسوس کرنے والا ہے اور بدلے میں ہم نے انکو کیا دیا..؟؟
آپکا ایک سیکنڈ اس تحریر کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کا زریعہ ہے میری آپ سے عاجزانہ اپیل ہے کہ لاحاصل اور بے مقصد پوسٹس ہم سب شیئر کرتے ہیں . آج اپنے نبی کی رحمت کا یہ پہلو کیوں نہ شیئر کریں. آئیں ایک ایک شیئر کرکہ اپنا حصہ ڈالیں .
ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﻨﮓِ ﻋﻈﯿﻢ ﮐﮯ ﺍﺧﺘﺘﺎﻡ ﭘﺮ ﺟﺮﻣﻦ ﻓﻮﺝ ﮐﻮ ﻓﺮﺍﻧﺲ ﺧﺎﻟﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﻣﻼ ﺗﻮ ﺟﺮﻣﻦ ﮐﻤﺎﻧﮉﻧﭧ ﻧﮯ ﺍﻓﺴﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺟﻤﻊ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ :
" ﮨﻢ ﻧﺎﺯﯼ ﺟﻨﮓ ﮨﺎﺭ ﭼُﮑﮯ ﮨﯿﮟ، ﻓﺮﺍﻧﺲ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺳﭻ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺳﭻ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﮔﻠﮯ 50 ﺑﺮﺳﻮﮞ ﺗﮏ ﮨﻢ ﮐﻮ ﺩﻭﺑﺎﺭﺍ ﻓﺮﺍﻧﺲ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻠﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﻣﻠﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺣﮑﻢ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﯿﺮﺱ ﮐﮯ ﻋﺠﺎﺋﺐ ﮔﮭﺮﻭﮞ، ﻧﻮﺍﺩﺭﺍﺕ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﮮ ﻧﻤﺎﺋﺶ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺛﻘﺎﻓﺖ ﺳﮯ ﻣﺎﻻ ﻣﺎﻝ ﮨﻨﺮ ﮐﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﺳﻤﯿﭧ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ ﺳﻤﯿﭧ ﻟﻮ۔ ﺟﺐ ﻓﺮﺍﻧﺴﯿﺴﯽ ﺍﺱ ﺷﮩﺮ ﮐﺎ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺟﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﯿﺮﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﮦ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﻣﻠﮯ ... "
ﺟﻨﺮﻝ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺗﮭﺎ ﺳﺐ ﺍﻓﺴﺮ ﻋﺠﺎﺋﺐ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﭨﻮﭦ ﭘﮍﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﺭﺑﻮﮞ ﮈﺍﻟﺮﺯ ﮐﮯ ﻧﻮﺍﺩﺭﺍﺕ ﺍُﭨﮭﺎ ﻻﺋﮯ۔ ﺍُﻥ ﻣﯿﮟ ﮈﻭﺋﭽﯽ ﮐﯽ ﻣﻮﻧﺎ ﻟﯿﺰﺍ ﺗﮭﯽ، ﻭﯾﻦ ﮔﻮﮦ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮﯾﮟ، ﻭﯾﻨﺲ ﮈﯼ ﻣﻠﻮ ﮐﺎ ﻣﺮﻣﺮﯾﮟ ﻣﺠﺴﻤﮧ ﻏﺮﺽ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌﺍ۔ ﺟﺐ ﻋﺠﺎﺋﺐ ﮔﮭﺮ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺟﻨﺮﻝ ﻧﮯ ﺳﺐ ﻧﻮﺍﺩﺭﺍﺕ ﺍﯾﮏ ﭨﺮﯾﻦ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﭨﺮﯾﻦ ﮐﻮ ﺟﺮﻣﻨﯽ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ۔ ﭨﺮﯾﮟ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﺗﻮ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﺠﻦ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮ ﺁﺋﮯ ﺍﻧﺠﻦ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭨﺮﯾﻦ ﭘﮭﺮ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﻟﯿﮑﻦ 10 ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﻃﮯ ﮐﺮﻧﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﮩﯿﮯ ﺟﺎﻡ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮ ﺁﺋﮯ، ﻣﺴﺌﻠﮧ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭨﺮﯾﻦ ﭘﮭﺮ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ، ﻟﯿﮑﻦ ﭼﻨﺪ ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﺑﻌﺪ ﺑﻮﺍﺋﻠﺮ ﭘﮭﭧ ﮔﯿﺎ، ﺍﻧﺠﺌﻨﯿﺮ ﺁﺋﮯ ﺑﻮﺍﺋﻠﺮ ﻣﺮﻣﺖ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﭨﺮﯾﻦ ﭘﮭﺮ ﭼﻞ ﭘﮍﯼ۔ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﻭﺭ ﮨﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﭘﺮﯾﺸﺮ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭘﺴﭩﻦ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﮮ ﮔﺌﮯ۔ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮ ﺁﺋﮯ ﭘﺴﭩﻦ ﻣﺮﻣﺖ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﭨﺮﯾﻦ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ...
ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺎﺭﻭ ! ﭨﺮﯾﻦ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮﺗﯽ ﺭﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺮﻣﻦ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮ ﺍﺳﮯ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﻓﺮﺍﻧﺲ ﮐﺎ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﻓﺮﺍﻧﺴﯿﺴﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭨﺮﯾﻦ ﺍﺑﮭﯽ ﻓﺮﺍﻧﺲ ﮐﯽ ﺣﺪ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺭﮨﯽ۔ ﭨﺮﯾﻦ ﮐﮯ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﮐﻮ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﻣﻼ ﮐﮧ :
ﻣﻮﺳﯿﻮ _ ﺑﮩﺖ _ ﺷﮑﺮﯾﮧ _ ﻟﯿﮑﻦ _ ﺍﺏ _ ﭨﺮﯾﻦ _ ﺝﺭﻣﻨﯽ _ ﻧﮩﯿﮟ _ ﻭﺍﭘﺲ _
ﭘﯿﺮﺱ _ ﺁﺋﮯ _ ﮔﯽ ...
ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﻧﮯ ﻣﮑﮯ ﮨﻮﺍ ﻣﯿﮟ ﻟﮩﺮﺍﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﯿﺮﺱ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﻝ ﺟﺐ ﻭﮦ ﭘﯿﺮﺱ ﭘﮩﯿﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﻓﺮﺍﻧﺲ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﻟﯿﮉﺭﺷﭗ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﻘﺒﺎﻝ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﮭﮍﯼ ﺗﮭﯽ، ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﭘﺮ ﮔُﻞ ﭘﺎﺷﯽ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﺋﯿﮏ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﺑﻮﻻ :
" ﺟﺮﻣﻦ ﮔﺪﮬﻮﮞ ﻧﮯ ﻧﻮﺍﺩﺭﺍﺕ ﺗﻮ ﭨﺮﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺮ ﺩﯾﺌﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﻓﺮﺍﻧﺴﯿﺴﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﻧﮧ ﭼﺎﮨﮯ ﺗﻮ ﮔﺎﮌﯼ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﮐﺮﺗﯽ ... "
ﻋﺰﯾﺰ ﺩﻭﺳﺘﻮ ! ﻋﺮﺻﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﺎﻟﯽ ﻭﮈ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﭘﺮ ﺩﯼ ﭨﺮﯾﻦ ﻓﻠﻢ ﺑﻨﺎﺋﯽ ...
ﻗﺎﺭﺋﯿﻦ ﮐﺮﺍﻡ ﺍﻟﻤﺨﺘﺼﺮ ﻭ ﻣﻘﺼﻮﺩ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻠﮏ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﮈﺍﻟﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺩﯼ _ ﭨﺮﯾﻦ ﮐﯽ ﺳﭩﻮﺭﯼ ﺳﮯ ﮐﻢ ﻧﮩﯿﮟ، ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺠﻦ ﻓﯿﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﭘﮩﯿﮧ ﺟﺎﻡ، ﮐﺒﮭﯽ ﭘﺴﭩﻦ ﭘﮭﭧ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﻮﺍﺋﻠﺮ۔ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﻥ ﺳﮯ ﺍﺏ ﺗﮏ ﺑﺤﺮﺍﻥ ﮨﯽ ﺑﺤﺮﺍﻥ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﭨﺮﯾﻦ ﮐﺎ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﻨﺰﻝ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ۔ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﻮ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﮐﻮ ﮈﻫﻮﻧﮉﻧﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﻟﺌﮯ ﭘﺸﺘﻮﻥ، ﺑﻠﻮﭼﯽ، ﺳﻨﺪﻫﯽ، ﭘﻨﺠﺎﺑﯽ، ﻣﺴﻠﻢ ﻟﯿﮕﯽ، ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺍﻧﺼﺎﻓﯽ، ﺑﮭﭩﻮﺋﯽ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺑﻨﻨﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﺧﺪﺍﺭﺍ ! ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮧ ﺑﮩﺖ ﺩﯾﺮ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺱ ﺍﺭﺽ ﭘﺎﮎ ﮐﻮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺁﺑﺎﺩ ﻭ ﺧﻮﺷﺤﺎﻝ ﺭﮐﮭﮯ..
ایک اچھی تحریر
پاکستان میں اردو کی ایک کتاب KG میں بچوں کو پڑھائی جاتی ہے، جس میں "ڈ" سے ڈاکٹر بتایا گیا ہے
حیرت ہے کہ نصاب تیار کرنے والوں کو حرف "ڈ" سے اردو کا کوئی لفظ ہی نہ مل سکا اور "ڈ" سے ڈاکٹر (جو کہ اردو زبان کا لفظ ہی نہیں ہے) پر گزارہ کر لیا گیا
اب سوشل میڈیا پر "ڈھول" پیٹ کراس بات کا "ڈھنڈورا" کرنا پڑ رہا ہے کے "ڈ" کے الفاظ "ڈالنا" کوئی اتنا مشکل امر بھی نہیں ہے
اگر آپ کی ناراضی کا "ڈر" نہ ہوتو "ڈ" کو ذرا "ڈھونڈنا" شروع کریں
*"ڈانٹ ڈپٹ" سے کام نہ چلے تو "ڈنڈا" بھی قدرت کا ایک تحفہ ہے۔ "ڈ" سے "ڈھول" نہ پیٹیں، "ڈگڈگی" نہ بجائیں، الفاظ کا "ڈھیر"
اکھٹا نہ کریں تو بھی اردو کے کنویں سے ایک آدھ "ڈول" ہی کافی ہوگا۔
"ڈبا" سے "ڈبیا" تک، "ڈراؤنے" قوانین سے لے کر تعلیم کے "ڈاکوؤں" تک، امیروں کے "ڈیروں" سے لے کر غریب کی "ڈیوڑھی" تک اور پھولوں کی "ڈالی" سے لے کر سانپ کے "ڈسنے" تک "ڈ" ہر جگہ دستیاب ہے
سوچا "ڈبڈباتی" آنکھوں سے یہ "ڈاک"، بغیر کسی "ڈاکیا" اور "ڈاک خانے" کے آپ تک پہنچادوں کہ لفظوں کی مالا شاید نصاب کی کوتاہیوں کی "ڈھال" ثابت ہو"
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ 7 ﭘﺸﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺰﺭﺍ ﺗﮭﺎ، ﺍٓﭖ ﺑﮭﯿﮍ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻧﭧ ﭼﺮﺍﺗﮯ ﭼﺮﺍﺗﮯ ﺑﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺑﺎﺯﯼ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍﻧﺪﺍﺯﯼ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﺍﮐﯿﮉﻣﯽ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﯿﮑﮭﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﺍٓﺭﮔﻨﺎﺋﺰﮈ ﺍٓﺭﻣﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ 10 ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ 17 ﻻﮐﮫ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ 10 ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺭﮔﻨﺎﺋﺰﮈ ﺍٓﺭﻣﯽ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ 22 ﻻﮐﮫ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﯽ ﺩﻭ ﺳﭙﺮ ﭘﺎﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﯿﮟ۔
ﺍٓﺝ ﮐﮯ ﺳﯿﭩﻼﺋﭧ، ﻣﯿﺰﺍﺋﻞ ﺍﻭﺭ ﺍٓﺑﺪﻭﺯﻭﮞ
ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮍﯼ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﮔﮭﻮﮌﻭﮞ ﮐﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﻓﺘﺢ ﮐﺮﺍﺋﯽ
ﺗﮭﯽ، ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻭ ﺍﻧﺼﺮﺍﻡ ﺑﮭﯽ ﭼﻼﯾﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﻧﮯ ﻓﺘﻮﺣﺎﺕ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺟﺮﻧﯿﻞ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺍﺋﮯ، ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺟﺮﻧﯿﻠﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ
ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﮭﻮﮌﺍ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺑﻐﺎﻭﺗﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻓﻮﺝ ﻧﮯ ﺍٓﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺩﯾﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﺳﺮﺗﺎﺑﯽ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ.
ﻭﮦ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﻋﯿﻦ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺳﭙﮧ ﺳﺎﻻﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻭﻟﯿﺪ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﻣﻌﺰﻭﻝ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺣﮑﻢ ﭨﺎﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻌﺪ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻭﻗﺎﺹ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﮐﻮﻓﮯ ﮐﯽ ﮔﻮﺭﻧﺮﯼ ﺳﮯ ﮨﭩﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺎﺭﺙ ﺑﻦ ﮐﻌﺐ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ
ﮔﻮﺭﻧﺮﯼ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﮯ ﻟﯽ۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺍﻟﻌﺎﺹ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﻣﺎﻝ ﺿﺒﻂ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻤﺺ ﮐﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﻼ ﮐﺮ ﺍﻭﻧﭧ ﭼﺮﺍﻧﮯ ﭘﺮ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﻋﺪﻭﻟﯽ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ۔
ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭﻧﮯ 17 ﻻﮐﮫ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﻈﺎﻡ ، ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺴﭩﻢ ﻧﮧ ﺩﮮ ﺳﮑﺎ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﺴﭩﻢ ﺩﯾﮯ ﺟﻮ ﺍٓﺝ ﺗﮏ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺋﺞ ﮨﯿﮟ،
✅ ﺳﻦ ﮨﺠﺮﯼ ﮐﺎ ﺍﺟﺮﺍ ﮐﯿﺎ۔
✅ ﺟﯿﻞ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﺩﯾﺎ۔
✅ ﻣﻮٔﺫﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻨﺨﻮﺍﮨﯿﮟ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯿﮟ
✅ ﻣﺴﺠﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﺎ ﺑﻨﺪ ﻭ ﺑﺴﺖ ﮐﺮﺍﯾﺎ.
✅ﭘﻮﻟﺲ ﮐﺎ ﻣﺤﮑﻤﮧ ﺑﻨﺎﯾﺎ۔
✅ ﺍﯾﮏ ﻣﮑﻤﻞ ﻋﺪﺍﻟﺘﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺭﮐﮭﯽ۔
✅ ﺍٓﺏ ﭘﺎﺷﯽ ﮐﺎ ﻧﻈﺎﻡ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﺍﯾﺎ۔
✅ ﻓﻮﺟﯽ ﭼﮭﺎﻭٔﻧﯿﺎﮞ ﺑﻨﻮﺍﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺝ ﮐﺎ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﻣﺤﮑﻤﮧ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﯿﺎ۔
✅ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﯿﺘﮯ ﺑﭽﻮﮞ، ﻣﻌﺬﻭﺭﻭﮞ، ﺑﯿﻮﺍﻭٔﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺍٓﺳﺮﺍﻭٔﮞ ﮐﮯ ﻭﻇﺎﺋﻒ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯿﮯ۔
✅ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ، ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻋﮩﺪﯾﺪﺍﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﻟﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺛﺎﺛﮯ ﮈﮐﻠﯿﺌﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎﺗﺼﻮﺭ ﺩﯾﺎ۔
✅ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺑﮯ ﺍﻧﺼﺎﻓﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﺠﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﺰﺍ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻭﻉ
ﮐﯿﺎ
✅ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﮐﻼﺱ ﮐﯽ ﺍﮐﺎﻭٔﻧﭩﺒﻠﭩﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ۔
✅ ﺍٓﭖ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﺠﺎﺭﺗﯽ ﻗﺎﻓﻠﻮﮞ
ﮐﯽ ﭼﻮﮐﯿﺪﺍﺭﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺍٓﭖ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﻋﺪﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﻭﮦ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺧﻮﻑ ﺳﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺗﮭﺎ ’’ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ﺳﭽﺎ ﺧﺎﺩﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔‘‘
ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﻣﮩﺮ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ
’’ﻋﻤﺮ ! ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻮﺕ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﮯ‘‘۔
ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺩﺳﺘﺮﺧﻮﺍﻥ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻭ ﺳﺎﻟﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮔﺌﮯ۔
ﺍٓﭖ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺳﺮ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺍﯾﻨﭧ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺳﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺍٓﭖ ﺳﻔﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺟﮩﺎﮞ ﻧﯿﻨﺪ ﺍٓﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍٓﭖ ﮐﺴﯽ ﺩﺭﺧﺖ ﭘﺮ ﭼﺎﺩﺭ ﺗﺎﻥ ﮐﺮ ﺳﺎﯾﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﻮ ﺟﺎﺗﮯ
ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﻧﻨﮕﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺩﺭﺍﺯ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﭘﺮ 14ﭘﯿﻮﻧﺪ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﯿﻮﻧﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺳﺮﺥ ﭼﻤﮍﮮ ﮐﺎ ﭘﯿﻮﻧﺪ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ۔ ﺍٓﭖ ﻣﻮﭨﺎ ﮐﮭﺮﺩﺭﺍ ﮐﭙﮍﺍ ﭘﮩﻨﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﻧﺮﻡ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﮐﭙﮍﮮ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﺗﮭﯽ۔
ﺍٓﭖ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺟﺐ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻋﮩﺪﮮ ﭘﺮ ﻓﺎﺋﺰ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺛﺎﺛﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﺨﻤﯿﻨﮧ ﻟﮕﻮﺍ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮫ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻋﮩﺪﮮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺛﺎﺛﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﮐﺎﻭٔﻧﭩﺒﻠﭩﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺍٓﭖ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺑﻨﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﮐﺒﮭﯽ ﺗﺮﮐﯽ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﭘﺮ ﻧﮧ ﺑﯿﭩﮭﻨﺎ، ﺑﺎﺭﯾﮏ ﮐﭙﮍﮮ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﻨﺎ، ﭼﮭﻨﺎ ﮨﻮﺍ ﺍٓﭨﺎ ﻧﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ، ﺩﺭﺑﺎﻥ ﻧﮧ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﻓﺮﯾﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ۔
ﺍٓﭖ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﻇﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﺩﯾﻨﺎ ﻣﻈﻠﻮﻣﻮﮞ ﭘﺮ ﻇﻠﻢ ﮨﮯ.
ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻓﻘﺮﮦ ﺍٓﺝ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺣﻘﻮﻕ ﮐﮯ ﭼﺎﺭﭨﺮ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔ "ﻣﺎﺋﯿﮟ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺍٓﺯﺍﺩ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺐ ﺳﮯ ﻏﻼﻡ ﺑﻨﺎﻟﯿﺎ۔"
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ "ﻋﻤﺮ ﺑﺪﻝ ﮐﯿﺴﮯ ﮔﯿﺎ۔‘‘
ﺍٓﭖ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺗﮭﮯ، ﺟﻨﮩﯿﮟ ’’ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ‘‘ ﮐﺎ ﺧﻄﺎﺏ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔
ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺬﺍﮨﺐ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﮨﮯ ، *ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﻋﺪﻝ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻭﮦ ﺷﺨﺼﯿﺖ
ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﭘﺮ ﭘﻮﺭﺍ ﺍﺗﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﻋﺪﻝ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻋﺪﻝ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻋﺪﻝِ ﻓﺎﺭﻭﻗﯽ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔
ﺍٓﭖ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﻘﺮﻭﺽ ﺗﮭﮯ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﻭﺻﯿﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﻭﺍﺣﺪ ﻣﮑﺎﻥ ﺑﯿﭻ ﮐﺮ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﻗﺮﺽ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻭﺍﺣﺪ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﻓﺮﺍﺕ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﺑﮭﻮﮎ ﺳﮯ ﻣﺮﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﻋﻤﺮ( ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ )
ﮐﻮ ﺑﮭﮕﺘﻨﺎ ﮨﻮﮔﯽ۔
ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﻋﺪﻝ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﺗﮭﯽ۔ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﭼﺮﻭﺍﮨﺎ ﺑﮭﺎﮔﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺍٓﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﺦ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ ’’ ﻟﻮﮔﻮ! ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔‘‘
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’’ﺗﻢ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﺳﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﻞ ﺩﻭﺭ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﺎﻧﺤﮯ ﮐﯽ ﺍﻃﻼﻉ
ﮐﺲ ﻧﮯ ﺩﯼ۔‘‘
ﭼﺮﻭﺍﮨﺎ ﺑﻮﻻ ’’ﺟﺐ ﺗﮏ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ
ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺯﻧﺪﮦ ﺗﮭﮯ، ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﯿﮍﯾﮟ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺧﻮﻑ ﭘﮭﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺭﻧﺪﮦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍٓﻧﮑﮫ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮞﺪﯾﮑﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍٓﺝ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ
ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯿﮍﯾﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﯿﮍ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯿﮍﯾﮯ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﺍٓﺝ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔‘‘
ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﻣﻮﺭﺧﯿﻦ ﮐﻮ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﻭﮦ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ
ﻓﺎﺭﻭﻕ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﭘﮩﺎﮌ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﻨﮑﺮ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﮔﺎ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮐﮯ 5ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﮔﺌﯽ*، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﺟﺲ ﺧﻄﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﮭﻨﮉﺍ ﺑﮭﺠﻮﺍﯾﺎ، ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﯽ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﺍٓﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﻭﮨﺎﮞ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮒ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﺠﺪﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺻﺮﻑ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﭧ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﻧﻈﺎﻡ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ 245 ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ۔
ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﮈﺍﮎ ﺧﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻂ ﻧﮑﻠﺘﺎ ﮨﮯ، ﭘﻮﻟﺲ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻭﺭﺩﯼ ﭘﮩﻨﺘﺎ ﮨﮯ، ﮐﻮﺋﯽ ﻓﻮﺟﯽ ﺟﻮﺍﻥ 6 ﻣﺎﮦ ﺑﻌﺪ ﭼﮭﭩﯽ ﭘﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﺴﯽ ﺑﭽﮯ، ﻣﻌﺬﻭﺭ، ﺑﯿﻮﮦ ﯾﺎ ﺑﮯ ﺍٓﺳﺮﺍ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﻭﻇﯿﻔﮧ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ، ﻭﮦ ﺳﻮﺳﺎﺋﭩﯽ، ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﻋﻈﯿﻢ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﻣﺎﻥ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ، ﻣﺎﺳﻮﺍﺋﮯ ﺍﻥ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻮ ﺍٓﺝ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮐﻤﺘﺮﯼ ﮐﮯ ﺷﺪﯾﺪ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﻠﻤﮧ ﺗﮏ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
*ﻻﮨﻮﺭ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ
ﺳﺮﮐﺎﺭ ﮐﻮ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ’’ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﭘﮍﮮ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭼﻨﮕﯿﺰ ﺧﺎﻥ ﯾﺎﺩ ﺍٓﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔‘‘
ﺍﺱ ﭘﺮ ﺟﻮﺍﮨﺮ ﻻﻝ ﻧﮩﺮﻭ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ’’ﺍﻓﺴﻮﺱ ﺍٓﺝ ﭼﻨﮕﯿﺰ ﺧﺎﻥ ﮐﯽ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﯾﮧ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﮯ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ( ﺣﻀﺮﺕ ) ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ) ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ۔‘‘
جن کے بارے میں مستشرقین اعتراف کرتے ہیں کہ "اسلام میں اگر ایک عمر اور ہوتا تو آج دنیا میں صرف اسلام ہی دین ہوتا."
ﮨﻢ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺑﮭﻮﻟﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﮯ، ﺟﻦ
ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ،
’’ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺒﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺧﻄﺎﺏ ﮨﻮﺗﮯ.
قربان آپ پر امیرالمومنین.
😢
سندھ میں آئندہ سال 2023ء میٹرک کے امتحانات 8 مئی اور انٹر کے 22 مئی سے ہوں گے جبکہ امتحانی پیٹرن بھی تبدیل کردیا گیا ہے۔
آج بروز پیر کو سیکریٹری اسکولز کی زیرِصدارت اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں تعلیمی بورڈز کے چیئرمین نے بھی شرکت کی۔
سب کمیٹی کے اجلاس کے دوران آئندہ سال امتحانی پیٹرن کی تبدیلی کی بھی منظوری دی گئی ہے جس کے مطابق 20 فیصد ایم سی کیوز، 40 فیصد مختصر جوابات اور 40 فیصد لمبے جوابات ہوں گے۔
14/12/2022
اساتذہ سے سرزد ہونے والی غلطیاں
اساتذہ کرام ان کو ایک مرتبہ ضرور پڑھیں
درس وتدریس سے بہتر کوئی مشغلہ نہیں اور استاد سے بہتر کسی کا مرتبہ نہیں ہے، لیکن ضروری ہے کہ استاد مخلص ہو، باعمل ہو، بااخلاق اور باکردار ہو، معصوم تو نہیں لیکن غلطیوں اور گناہوں سے دور رہنے والا ہو، اس لیے کہ اگر استاد میں خامی اور غلطی ہوگی تو بچوں کی تربیت پر اس کا بڑا گہرا اثر پڑے گا، آئیے آج دیکھتے ہیں کہ بعض اساتذہ سے کیا کیا غلطیاں سرزد ہوتی ہیں-
1) بغیر مطالعہ کے پڑھانا-
2) کلاس میں لیٹ جانا، اور وقت سے پہلے نکل آنا-
3) تعلیم اور تدریس چھوڑ کر کلاس میں موبائل استعمال کرنا، مطالعہ کرنا، اخبار چاٹنا، سونا، مضمون لکھنا وغیرہ-
4) طلبہ کے سوالات کا جواب نہ دینا، یا سوال کرنے پر ناراض ہونا-
5) انصاف نہ کرنا، کسی طالب کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا-
6) طلبہ کی حاضری نہ لینا-
7) امتحان کے سوالات بہت مشکل بنانا-
8) مارنے میں اعتدال نہ برتنا، جانوروں کی طرح پیٹنا-
9) اسباق صحیح سے نہ سننا-
10) طلبہ کو گالی دینا-
11) غريب، یتیم کمزور سمجھ کر ظلم ڈھانا، کسی کو حقیر سمجھنا-
12) نام بگاڑنا-
13) کلاس روم میں داخل ہوتے وقت سلام نہ کرنا الٹا بچوں کو بطور استقبال کھڑے کرانا-
14) امتحان کا پیپر بتا دینا-
15) کورس اور نصاب مکمل نہ کرنا-
16) طلبہ سے مشکل کام کرانا-
17) مدرسے کے اصول و ضوابط کی پابندی نہ کرنا-
18) مدرسے سے غائب رہنا،
19) بچوں میں برائی دیکھنے کے باوجود خاموش رہنا-
20) جس فن میں مہارت نہ ہو پھر بھی زبردستی تدریس کے لیے اس کتاب کو طلب کرنا-
21) بچوں کی تعلیم پر زیادہ توجہ نہ دینا اور باہر ٹیوشن خوب پڑھانا-
22) اچانک بیچ سال میں موٹی تنخواہ کے واسطے مستعفی ہوجانا-
23) نمازوں میں سستی کرنا-
24) طلبہ پر اپنا رعب جمانا، طلبہ کے سامنے ہمیشہ اپنی بڑائی بیان کرنا-
25) مدرسے کے خادموں اور عاملوں کے ساتھ بدسلوکی کرنا-
26) اپنی گھنٹی ختم ہو جانے کے باوجود بھی کلاس سے نہ نکلنا اور دوسرے کا وقت چاٹ جانا-
27) امتحان ہال میں ہنگامہ کرنا، شور مچانا، چیخنا چلانا-
28) صفائی کا خیال نہ رکھنا، گندے خراب کپڑے پہن کر کلاس میں پڑھانے آنا-
29) بچوں سے محبت کرنے میں غلو کرنا-
30) ناجائز طریقے سے بچوں سے پیسے کھانا-
31) بچوں کے سامنے منشیات کا استعمال کرنا-
32) داڑھی چھیلنا کترنا یا کاٹنا-
یہ چھوٹی بڑی کچھ غلطیاں ہیں جو عام طور پر مدارس کے اساتذہ سے سرزد ہوتی ہیں، اساتذہ کو چاہیے کہ ان غلطیوں سے اور تمام غلطیوں سے بچیں، اساتذہ مثالی بنیں، طلبہ کے لیے آئیڈیل اور نمونہ بنیں، خوش اخلاق بنیں، اس لیے کہ طلبہ اپنے اساتذہ کو دیکھ کر بہت کچھ سیکھتے ہیں اور اپنے اساتذہ کی نقالی کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر قسم کے گناہ سے بچائے اور ہم سب کو معاف فرمائے اور اساتذہ کی خدمات کو قبول فرمائے آمین-
27/11/2022
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Karachi