Voice of Sindh

Voice of Sindh

Share

هر خبر تي نظر ۽ عوام کي آگاهي تازه اپڊيٽ لاء فالو ڪندا ۽ شيئر ڪندا.🙏❤🙏

08/06/2026

سکھر میں 15منٹ کے مٹی کے طوفان نے سی ای او سیپکو اعجاز چنہ کی نااہلی سے پردہ اُٹھا دیا۔۔۔۔!!!

سکھر، لاڑکانہ اور شھید بے نظیر آباد ڈویژن کے متعدد علاقوں میں بجلی مکمل طور پر بحال نہ ہوسکی، جسم جھلسا دینے والی گرمی میں لوگ تڑپنے لگے اور متعدد علاقوں میں پینے کے پانی کا بُحران پیدا ہوگیا۔۔۔۔!!

وجہ چیف ایگزیکٹو افسر سیپکو اعجاز چنہ کی سنگین نااہلی ہے۔۔۔۔!!! جو دو سالوں سے دو اہم عہدوں سی ای او سیپکو اور چیف انجنیئر کمرشل ٹیکنیکل افسر (سی ٹی او) کے بڑے عہدوں پر براجمان ہے۔ دونوں اہم اور چوبیس گھنٹے کام والی پوسٹیں ہیں، سی ای او کمیشن کے چکر میں کسی ایک پوسٹ کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں، جب طوفان سے لائینوں اور کھمبوں کا نقصان ہوا تو اعجاز چنہ صاحب سی ای او کی کرسی پر بیٹھ کر سی ای او کے کام کر رہا تھا، فیلڈ میں سی ٹی او کی حیثیت سے کوئی وزٹ نہیں کی اور نتیجہ یہ نکلا کہ طوفان کو ایک ہفتہ گزر گیا لیکن بجلی مکمل بحال نہیں ہوسکی ہے، اس سے صارفین الگ پریشان ہیں تو دوسری طرف فیکٹریاں اور کارخانے بند ہونے سے “سیل آف پاور” گِر گیا ہے۔ سیپکو کمپنی کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔۔۔۔!!

محترم سیپکو چیف صاحب نے ذاتی مفاد کے لئے ایک ہی وقت میں دو تربوزے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہیں، سیپکو چیف صاحب تو امیر سے امیرترین ہوتے جا رہے ہیں لیکن کمپنی اور ملکی خزانے کا دیوالیہ نکلتا جا رہا ہے۔۔۔!!
کیوں کہ سی ای او کمپنی کی بہت بڑی اور زمہ دار پوسٹ ہے پوری کمپنی کو سنبھالنا ہوتا ہے تو دوسری بڑی پوسٹ چیف کمرشل ٹیکنیکل افسر کی ہے جس میں پانچ شعبہ جات کو سنبھالنا ہوتا ہے۔ اُن شعبہ جات میں پلاننگ اینڈ کنسریکشن، پرکریوومینٹ، پرچیزنگ، سول ورکس اور گریڈ اسٹیشن آپریشن شامل ہیں۔۔۔!!

(((((اب آپ ہی بتائیں ایک شخص اتنے بڑے کام اکیلے سِر کس طرح کر سکتا ہے۔۔۔!!!؟؟)))))

لیکن سی ای او سیپکو اعجاز چنہ دو سالوں سے یہ کارنامہ سرانجام دے رہا ہے۔۔۔!!

وزیراعظم پاکستان، وفاقی وزیر برائے توانائی، سیکریٹری توانائی، چیرمین واپڈا و دیگر حکام کو پورے پاکستان میں کوئی اہل افسر نہیں مل رہا کیا جس کو سیپکو میں دو اہم عہدوں میں سے ایک عہدہ دیا جائے یا پھر سی ای او سیپکو اعجاز چنہ اتنا کمائو پوت ہے جس کو کسی ایک عہدے سے ہٹانے سے پورے ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے۔۔۔!!؟؟

02/06/2026

کراچی
گلستانِ جوہر پولیس کی بڑی کارروائی، انتہائی مطلوب منشیات فروش شیریں عرف "شرینہ" اپنے دو بیٹوں سمیت گرفتار۔
پولیس کے مطابق ملزمہ منشیات کے متعدد مقدمات میں مطلوب تھی اور اس کے خلاف تقریباً 35 مقدمات درج ہیں۔ ملزمہ پر ہیروئن، چرس اور دیگر منشیات کی فروخت کا الزام ہے۔
گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔

02/06/2026

ھل پنھل

بريڪنگ نيوز: پير جو ڳوٺ اناج منڊي ۾ چانورن جي مبينا ملاوٽ جو انڪشاف. وڊيو ۾ ڏسڻ ۾ اچي ٿو تہ چانورن ۾ ملاوٽ ڪئي پئي وڃي. جڏھن ھڪ مزدور کان پڇيو ويو تہ "تون مسلمان ٿي اھڙي ڪم ۾ مدد ڇو ٿو ڪرين؟" تہ ھن جواب ڏنو تہ "اسان روزي ڪمائيون ٿا."

کاڌي پيتي جي شين ۾ ملاوٽ انساني صحت سان سنگين مذاق آھي، جيڪا دل جي بيمارين، پتي جي پٿرين ۽ ٻين خطرناڪ مرضن جو سبب بڻجي سگھي ٿي. وڊيو ۾ فون تي ھدايتون ڏيندڙ شخص بابت پڻ جاچ ٿيڻ گھرجي، جيڪڏھن ھو ان عمل ۾ ملوث آھي تہ قانون موجب ڪارروائي ٿيڻ گھرجي.

اسان اسسٽنٽ ڪمشنر ڪنگري کان مطالبو ڪريون ٿا تہ معاملي جو فوري نوٽيس وٺي، چانورن جا نمونا چيڪ ڪرائي، ۽ جيڪڏھن ملاوٽ ثابت ٿئي تہ ذميوارن خلاف سخت قانوني قدم کنيا وڃن. انساني جانين سان کيڏڻ ڪنھن به صورت ۾ قبول ناھي. پير جو ڳوٺ جي عوام شفاف جاچ ۽ سخت ڪارروائي جي منتظر آھي.

27/05/2026

بچی اغوا کیس کا ڈراپ سین ماں بردہ فروش نکلی
پشاور سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والی معصوم بچی حرم سعید کے کیس کا ڈراپ سین۔۔۔ بچی کو اس کی سگی ماں نے صدام نامی مبینہ ایجنٹ (ساکن باجوڑ، حال مقیم راولپنڈی) کے ذریعے ایک مقامی مولوی (جو قاری کے نام سے معروف ہے) کو 8 لاکھ روپے میں فروخت کیا۔ بعد ازاں، مذکورہ مولوی نے سندھ کے کچے کے علاقے کے ایک رہائشی سے 15 لاکھ روپے لے کر معصوم بچی کا نکاح اس کے ساتھ کروا دیا۔ سودے بازی کی پہلی ڈیل راولپنڈی (26 نمبر چنگی) کے ایک کرائے کے مکان میں ہوئی تھی جہاں بچی کی ماں خود موجود تھی اور اسے اس پورے سودے کا مکمل علم تھا۔
صحافی عبداللہ جان صابر کے مطابق، ایجنٹ صدام نے ماں کو یقین دلایا تھا کہ وہ پہلی رات ہی بچی کو وہاں سے بھگا کر پشاور پہنچا دے گا، لیکن خریدار کی ہوشیاری کے باعث وہ اس منصوبے میں ناکام رہے اور بچی وہاں پھنس گئی، جس پر بعد میں ماں پر تشدد بھی ہوا اور اس کا ایجنٹ سے جھگڑا بھی ہوا۔ جب سندھ پولیس کی طرف سے کوئی کارروائی نہ ہوئی تو پشاور آکر سوشل میڈیا پر یہ جھوٹ پھیلایا گیا کہ بچی دکان گئی تھی اور اسے کچے کے ڈاکوؤں نے اغوا کیا ہے، جبکہ مایوسی کی حالت میں والدین نے 8 اپریل 2026 کو کراچی کے ایک تھانے میں اغوا کا جھوٹا مقدمہ (ایف آئی آر) بھی درج کروایا تھا۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ صحافی کی جانب سے متعلقہ اداروں کو تمام ٹھوس ثبوت اور آڈیو میسجز فراہم کرنے اور دباؤ بڑھنے کے نتیجے میں بچی کو بالکل محفوظ حالت میں سکھر پہنچا دیا گیا ہے، اور وہ آج شام یا کل صبح تک حوالہ کر دی جائے گی۔

24/05/2026

کوئٹہ دھماکہ؛ عید منانے کیلئے گھر جانے والے 24 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد زخمیوں کی اطلاعات

24/05/2026
24/05/2026

پٺاڻن جي ھٿيارن سان لشڪر جو ڌاڙيلن نياڻي پوليس کي ڏئي ڇڏي باقي اسان جي سنڌ جي پريا ڪماري فضيلا سرڪي اجالا پروين آ صفا مغل جھڙيون لاوارثي جي ڪري نٿيون ملن

24/05/2026

سنڌ جا روڊ رستا ڏوهارين حوالي ڪوئي محفوظ ناهي..
بخشاپور ۾ انڊس هاء وي تي نامعلوم ھٿياربندن جو مسافر بس تي حملو فائرنگ، هڪ مسافر عورت قتل، ڊرائيور زخمي ٿي پيو.

Photos from Voice of Sindh's post 23/05/2026

پتہ نہیں کہاں سے ایسے ائیڈیا آتے ہیں ان کے دماغ میں اور کچھ نہیں ملا تو دنبے پر لائٹ لگا دی

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Karachi