08/06/2026
سکھر میں 15منٹ کے مٹی کے طوفان نے سی ای او سیپکو اعجاز چنہ کی نااہلی سے پردہ اُٹھا دیا۔۔۔۔!!!
سکھر، لاڑکانہ اور شھید بے نظیر آباد ڈویژن کے متعدد علاقوں میں بجلی مکمل طور پر بحال نہ ہوسکی، جسم جھلسا دینے والی گرمی میں لوگ تڑپنے لگے اور متعدد علاقوں میں پینے کے پانی کا بُحران پیدا ہوگیا۔۔۔۔!!
وجہ چیف ایگزیکٹو افسر سیپکو اعجاز چنہ کی سنگین نااہلی ہے۔۔۔۔!!! جو دو سالوں سے دو اہم عہدوں سی ای او سیپکو اور چیف انجنیئر کمرشل ٹیکنیکل افسر (سی ٹی او) کے بڑے عہدوں پر براجمان ہے۔ دونوں اہم اور چوبیس گھنٹے کام والی پوسٹیں ہیں، سی ای او کمیشن کے چکر میں کسی ایک پوسٹ کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں، جب طوفان سے لائینوں اور کھمبوں کا نقصان ہوا تو اعجاز چنہ صاحب سی ای او کی کرسی پر بیٹھ کر سی ای او کے کام کر رہا تھا، فیلڈ میں سی ٹی او کی حیثیت سے کوئی وزٹ نہیں کی اور نتیجہ یہ نکلا کہ طوفان کو ایک ہفتہ گزر گیا لیکن بجلی مکمل بحال نہیں ہوسکی ہے، اس سے صارفین الگ پریشان ہیں تو دوسری طرف فیکٹریاں اور کارخانے بند ہونے سے “سیل آف پاور” گِر گیا ہے۔ سیپکو کمپنی کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔۔۔۔!!
محترم سیپکو چیف صاحب نے ذاتی مفاد کے لئے ایک ہی وقت میں دو تربوزے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہیں، سیپکو چیف صاحب تو امیر سے امیرترین ہوتے جا رہے ہیں لیکن کمپنی اور ملکی خزانے کا دیوالیہ نکلتا جا رہا ہے۔۔۔!!
کیوں کہ سی ای او کمپنی کی بہت بڑی اور زمہ دار پوسٹ ہے پوری کمپنی کو سنبھالنا ہوتا ہے تو دوسری بڑی پوسٹ چیف کمرشل ٹیکنیکل افسر کی ہے جس میں پانچ شعبہ جات کو سنبھالنا ہوتا ہے۔ اُن شعبہ جات میں پلاننگ اینڈ کنسریکشن، پرکریوومینٹ، پرچیزنگ، سول ورکس اور گریڈ اسٹیشن آپریشن شامل ہیں۔۔۔!!
(((((اب آپ ہی بتائیں ایک شخص اتنے بڑے کام اکیلے سِر کس طرح کر سکتا ہے۔۔۔!!!؟؟)))))
لیکن سی ای او سیپکو اعجاز چنہ دو سالوں سے یہ کارنامہ سرانجام دے رہا ہے۔۔۔!!
وزیراعظم پاکستان، وفاقی وزیر برائے توانائی، سیکریٹری توانائی، چیرمین واپڈا و دیگر حکام کو پورے پاکستان میں کوئی اہل افسر نہیں مل رہا کیا جس کو سیپکو میں دو اہم عہدوں میں سے ایک عہدہ دیا جائے یا پھر سی ای او سیپکو اعجاز چنہ اتنا کمائو پوت ہے جس کو کسی ایک عہدے سے ہٹانے سے پورے ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے۔۔۔!!؟؟
24/05/2026
24/05/2026
24/05/2026
23/05/2026