آنلائن پڑھانا بے شک بہت اچھا ہے،گھر بیٹھے ٹیچر کو بھی سہولت شاگرد کو بھی سہولت لیکن میری اپنی ذاتی رائے یہی ہے جو بات آفلائن میں ہے وہ آنلائن میں نہیں
کیونکہ علم حاصل کرنے کے لیے گھر سے نکلنا،مشقت برداشت کرنا، جدو جہد کرنا اور استاذ کا بچوں سے آئ کانٹیکٹ کرنا یہ بہت ضروری ہوتا ہے جو کہ آنلائن میں بہت مشکل ہوتا ہے مدرسہ جاکر پڑھنا پڑھانا سیکھنا سکھانا اس کا اپنا مزہ ہے اور موبائل پر اگرچہ سہولت بہت ہے لیکن وہ مزہ نہیں ہے بالکل بھی جو آفلائن میں ہے۔ آفلائن میں بچوں کی حرکات و سکنات پر نظر رہتی ہے جبکہ آنلائن میں بہت سی مشکلات درپیش ہوتی ہیں جس میں الجھن بہت ہوتی ہے جو کہ آفلائن میں نہیں ہوتیں۔آفلائن تدریس بڑوں کے لیے زیادہ موضوع ہے بنسبت چھوٹے بچوں کہ۔
Al.quran
بہترین کتاب قرآن پاک کو سیکھیں, سمجھیں اور اسے دوسروں کو سکھائیں۔ حدیث مبارکہ "تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے"
What are the benefits of Learning Quran? Learning Quran is a very noble act, which every Muslim should be performing daily. It gives him/her knowledge about all aspects of life, also brings him/her near to the Creator, and will be a proof of the rewards of his/her good deeds on the Day of Judgment.
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
امید کرتی ہوں آپ سب خیرو عافیت سے ایمان و یقین کی بہترین حالت میں ہونگے، اللہ تعالیٰ آپ سب کو ہر جگہ ہر حال میں خوش رکھے ہمیشہ اور اپنی رضا والی زندگی اور رضا والی موت عطا فرمائے۔اللہ تعالی ہم سب کو شہادت کی موت نصیب فرمائیں۔آمین
چند گذارشات آپ سب والدین/لوگوں سے عرض کرنی تھیں وہ یہ کہ
سب سے پہلے تو میں یہ ذکر کرنا اور اپنا مدعا بیان کرنا چاہوں گی کہ میں خود بھی فی سبیل اللہ قرآن پاک پڑھانے کے حق میں ہوں اور دعا بھی کرتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ہمیشہ اپنے دین کے لیے چن لے، اپنے دین کا کام مجھ ناچیز سے لے لے،میں اپنے آپ کو وقف کردوں پیارے اللہ تعالی کے دین کے لیے۔اور ابھی بھی جو جو بچے خواتین، چھوٹے بچے مستحق زکوة ہیں غریب ہیں، انکے لیے اسکول نرسری سے انٹر تک اور قرآن پاک کی تعلیم تجوید کے ساتھ بالکل فری ہے۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ میرے والد صاحب کا سایہ میرے سر پر قائم رکھے اور انھیں بھی نیک ہدایت دیں کہ وہ مجھے جان سے نا ماریں جیسے میری والدہ کو مروایا۔۔۔۔۔۔اللہ رب العزت نے والدین کی دعاؤں کی برکت سے اور مخلص اساتذہ کی برکت سے بے شمار نعمتوں سے نوازا جسکا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔۔۔۔۔۔اللہ کی نعمتیں مسلسل برس رہی ہیں،اللہ تعالی نے بہت اچھے حال میں رکھا ہوا ہے،جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے اس مالک کا۔۔۔۔۔۔۔۔
فیس کا جہاں تک تعلق ہے تو وہ جو لوگ آرام سے سہولت سے دے سکتے ہیں انکے لیے لگائ گئ ہے کیونکہ یہ میرے لیے میرے استاذ محترم کا حکم ہے اور گھر میں سب لوگوں کا بھی کہ فری کی تعلیم کے کافی نقصانات ہیں جو کہ سامنے آئے ہیں کہ بچے وقت ضائع کرتے ہیں اور توجہ نہیں دیتے ان کے ذہن میں فری ہوتا ہے تو اکثر چھٹیاں بہت کرتے ہیں جسکی وجہ سے نقصان ہوتا ہے پڑھائ کا بہت اور جو معلمات یا معلم پڑھا رہے ہوتے ہیں وہ اپنے وقت کی فیس لیتے ہیں نا کہ قرآن پاک کی جو کہ بالکل جائز اور حلال پیشہ ہے۔قران پاک کا تو کوئ بھی حق ادا کرہی نہیں سکتا،میرا اور آپ سب کا ہی وقت بہت قیمتی ہوتا ہے اور جو ڈاکٹر جتنا بڑا ہوتا ہے اسکی فیس بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے مثال سمجھ آگئ ہوگی اب آپ سب کو۔
پچھلے برس یہ ہوا کہ ماہ جولائی میں چند والدات میرے گھر پر لڑنے کے لیے آئیں اور انہوں نے خوب خوب لڑائ کری کہ فیس کیوں لیتی ہیں اور بہت زیادہ بدتمیزی کری اتنی کہ میری طبیعت خراب کردی اور میں پڑھانے سے قاصر ہوگئ مجھ پر بے انتہا ذہنی تشدد کیا گیا اللہ تعالی انکے دلوں میں رحم، نرمی، الفت،محبت ڈال دیں میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ مجھ سے زکوة لے لیں اگر آپکو ضرورت ہے لیکن انہوں نے منع کردیا کہ ہم تو خود زکوة دیتے ہیں اور آپ بچوں کو جس طرح ہم کہ رہے ہیں اسی طرح پڑھائیں چونکہ انکی لڑائ کرنے سے چند ماہ قبل یعنی سنہ مارچ 2025 میں مجھے دل کا دورہ پڑ چکا تھا چند حاسد لوگ اٹھارہ برس سے میرے پیچھے پڑے ہوئے تھے نقصان پہنچانے کی غرض سے اور عملیات کے ذریعے سے دل میں سوراخ کردیا تھا اور اس سے پہلے بھی کئی بار جادو کروائے سفلی عمل تعویذ کروائے خیر۔۔۔۔۔۔۔ اور میں نے کسی کو بھی بتایا نہیں تھا کہ بتانے سے زیادہ تر حاسد لوگوں کو خوشی ہی ہونی ہے جن کے دلوں میں بھی بغض، کینہ ہے حسد ہے۔ بہت ہی تکلیف کے ساتھ پڑھا پارہی تھی اگرچہ مجھ میں بولنے کی سکت نہیں تھی اس وجہ سے کسی کے میسج کا جواب بھی نہیں سن پارہی تھیں وائس میں۔سب کو کہا کہ لکھ کر دے دیں سن نہیں سکتی لیکن سب نے آگے سے بے انتہا بدتمیزی کا مظاہرہ کیا اور بہت زیادہ تماشہ لگایا محلے میں ۔۔۔۔۔کیونکہ جادو کے ذریعے سے آنکھوں میں کیلیں گاڑھ دی گئیں تھیں اس لیے نظر نہیں آرہا تھا زبان بند کروادی تھی،اور کانوں سے سنائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ایسے میں اگر انکے بچے پڑھ کر آگے بھی بڑھ جائیں تو دل دکھانے کا تو گناہ ملے گا ہی کہ بلاوجہ ایک معلمہ کو اپنی زبان سے اپنی حرکتوں سے،اپنے انداز سے اتنی تکلیف پہنچائ کہ جو تھوڑا بہت پڑھا رہی تھی اسکے بھی قابل نا رہ سکی بہرحال ۔۔۔۔۔۔اللہ تعالی جاننے والے ہیں دلوں کے حال سے واقف ہیں کہ محض اپنا غصہ نکالنا،کینہ ظاہر کرنا، دوسروں کو ذلیل کرنا بلاوجہ یہ اسکی اسلام کہاں اجازت دیتا ہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟ پورے مہینے کی روزانہ دو تین گھنٹے شدید محنت کے باجود + والدین کے طنز طعنے سننا بار بار انکے میسجز کالز روز کہ روز اٹینڈ کرنا پھر جو وہ کہیں ویسا کرنا یا جیسے بچے چاہتے ہیں ویسا ہی پڑھانا جو بچے چاہیں ویسا ہی پڑھانا اور وہی ویسا ہی کھیل کھیلنا جو کھیل بچے کہیں پھر بھی والدین ناراض کہ بچے کو کیوں مارا یا کیوں ڈانٹا یہ بہت زیادہ مشکل ہوجاتا ہے۔بیک وقت انکو کھیل کھیل میں پڑھانا اور نا ہی انکو مارنا نا ہی انکو ڈانٹنا۔
پہلے یہ ہوتا تھا کہ جو اساتذہ نے پڑھا دیا بچوں نے خوشی خوشی پڑھ لیا والدین اساتذہ سے کہتے تھے کہ ہڈیاں ہماری، کھال آپکی تو بچے بھی سہم جاتے تھے آج الٹا ہے جو بچے کہتے ہیں جو والدین کہتے ہیں ویسے ہی کرنا پڑتا ہے۔ یہ ناانصافی ہے خدارا رحم کیا کریں پڑھانے والا بھی انسان ہوتا ہے اسکی بھی کچھ ضرورتیں ہوتی ہیں اسکو بھی آگے جواب دہی کرنی ہوتی ہے،اسکے بھی اخراجات ہوتے ہیں ٹھیک ہے آپ لوگ اگر میری شادی کے نام پر جو ڈرامہ کیا اسکا جرمانہ ادا نہیں کرنا چاہتے تو نا کریں،کھا جائیں یہ آپکا اور اللہ کا معاملہ ہے لیکن اپنی ذات سے اپنی زبان سے تکلیف تو نا دیں،والدہ کو مارنے کی دیت نہیں دینا چاہتے نا دیں یہ بھی کھا جائیں سب کھا جائیں لیکن کم سے کم روز روز بدتمیزی کرنا،مختلف قسم قسم کے الزامات لگانا تہمت لگانا، جو سنا آگے کہ دیا۔۔۔۔۔۔یہ کہاں کی انسانیت ہے ؟؟ یہی وجہ تھی کہ ڈاکٹر نے پڑھانے سے منع کردیا کہ جب طبیعت صحیح ہو جائے تب پڑھائیں مگر ابھی بھی دل میں تکلیف ہے خدا کی قسم اتنی تکلیف ہے کہ بیان سے باہر ہے اور بڑوں کی طرف سے فیس لینے کا حکم ہوتا ہے ورنہ میں خود سے شوق سے نہیں لیتی بالکل بھی نا ہی مجھے خود پسند ہے فیس مانگنا بعض جگہ انسان اتنا مجبور ہوجاتا ہے کہ لینی پڑتی ہے نا لیں تو جان سے مارنے کی دھمکیاں ملتی ہیں روز روز۔۔۔۔۔۔۔ اور اتنا تنگ کیا جاتا ہے کہ مجبورا لینی پڑتی ہے اگرچہ کوئ خود سے نہیں دیتا لیکن مانگنی پڑتی ہے پھر بھی۔۔۔۔۔۔۔والدین کو چاہیے کہ مہینہ پورا ہوتے ہی خود سےخوشی خوشی ادا کریں ناکہ بار بار مانگنا پڑے اپنا ہی حق۔۔۔۔۔۔۔۔
تو عرض کرنے کا مقصد یہ تھا کہ خدا کے لیے خود بھی سکون سے جئیں اور مجھے بھی جینے دیں بہت مختصر زندگی ہے اور یہ زندگی لڑنے کے لیے نہیں ہے بلکہ جینے کے لیے ہے اپنا غصہ،حسد،بغض،کینہ نکالنے کے لیے اپنا جرم دوسروں پر ڈالنا یہ بہت ہی زیادہ بے اکرامی کی بات ہے۔اپنا اپنا روحانی علاج کروائیے تاکہ دلوں میں نرمی آئے الفت محبت آئے اور دلوں کی بیماریاں روح کی بیماریاں مزید طویل نا ہوں۔۔۔۔۔۔اللہ تعالی آسانی والا معاملہ فرمائے ہم سب کے لیے آسانی ہو صحت ہو۔۔۔۔۔اللہ تعالی ہمیں اپنے وقت کی صحیح معنوں میں قدر نصیب فرمادیں۔۔۔۔اللہ تعالی ہمیں دوسروں کے وقت کی بھی قدر کرنا سکھائیں اللہ تعالی ہمارے دلوں میں ادب ڈال دیں۔اللہ تعالی کسی بھی انسان کو ایسا نا بنائے جو وہ محض دولت کی خاطر دوسروں کی جان لے لے یا دوسروں کو بیمار کردے محض اپنی نفسانی خواہشات کی خاطر۔۔۔۔۔۔اللہ تعالی فرماتے ہیں ان اللہ علیم بذات الصدور۔ بےشک اللہ تعالیٰ سینوں کے رازوں سے واقف ہے
با ادب با نصیب
بے ادب بے نصیب
فیس کیوں لی جاتی ہے امیروں سے اسکی ایک خاص وجہ ہے جو کہ میں یہاں پر نہیں بتا سکتی، بعض باتیں، بعض چیزیں، بعض سوالات ہر کسی کو ہر جگہ نہیں بتائے جاتے کچھ وجوہات ہوتی ہیں انکی، ہر کسی کے گھر کے معاملات الگ ہوتے ہیں اور ہر کوئ نہیں بتانا چاہتا اس لیے مخفی رکھیں تو زیادہ بہتر ہے۔لیکن بلاوجہ کسی کی عزت اچھالنا یہ برا عمل ہے۔آپ کو نہیں سمجھ آرہا آپ کہیں اور سے پڑھوالیں لیکن بلاجہ تنگ کرنا مسلسل یہ اچھی بات نہیں ہوتی۔ہر بچہ مختلف ہوتا ہے اور ہر بچے میں مختلف صلاحیتیں ہوتی ہیں اس لیے کوئ جلدی پڑھتا ہے تو کوئ دیر سے کوئ زیادہ ذہین تو کوئ کند ذہن۔۔۔۔۔اں سب چیزوں کو لے کر چلنا آسان نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ تعالی بولنے،لکھنے، سننے سے زیادہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین
کوئ بات بری لگی ہو تو بہت معذرت
اپنی اپنی کوئ بھی کسی بھی قسم کی اچھی سی رائے دینا چاہیں تو ضرور دیں آپکی رائے کا مکمل احترام کیا جائے گا۔۔۔۔۔۔چاہے وہ آنلائن پڑھانے کے ارادے سے ہو چاہے آف لائن۔
اللہ تعالی سے خصوصی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے گھر کو چوروں سے محفوظ رکھیں جان مال عزت آبرو میں ترقی عطا فرمائیں حاسدوں کے حسد اور شریروں کے شر سے ہمیشہ بچائے رکھے جو نقصان انہوں نے کردیا اگر انکے حق میں نیک ہدایت ہے تو اللہ تعالی ضرور نیک ہدایت دیں اور اگر نیک ہدایت نہیں ہے تو تباہ و برباد کرے اپنا عذاب نازل فرمائے جو لوگ بھی دوسروں پر جادو ٹونے تعویذ گنڈے کروائیں بلاوجہ حسد کریں بیمار کریں سفلی عمل کے ذریعے سے اور جنات سے کام لیں۔۔۔۔۔معصوم لوگوں پر جنات چھوڑیں۔۔۔۔۔۔۔ اللہ سب کو غرق کرے جو لوگ بھی رشوت لیں اور ناجائز حرام کام میں ملوث ہوں۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین
قرآن پاک دل کا نور اور چین سکون ہے. قرآن پاک راہ ہدایت ہے،قران پاک روح کی غذا ہے،قرآن پاک سے غموں کو تسلی ملتی ہے،قرآن میں شفا ہے۔قران پاک میں لذت ہے
خدا کی قسم، قرآن پاک پڑھنے پڑھانے میں سیکھنے سکھانے میں جو مزہ ہے وہ دنیا کے کسی کام میں نہیں ہے۔
The more you neat and clean, the more you learn,the more you hifz.
29/07/2025
القرآن اکیڈمی کی ایک طالبہ کو ہوم ورک دیا گیا تھا جو انہوں نے انتہائ خوبصورتی سے، محنت سے، لگن سے، خوشی سے اسکو کیا،اللہ تعالی طالبہ کی محنت کو قبول فرمائے انکے والدین کو خوب خوب نعمتوں سے نوازے، والدین نے بچوں کو کاپیاں، مارکرز،کلرز، اسٹیشنری ہر ہر چیز لاکر دی اللہ تعالیٰ انکے رزق میں بے شمار برکتیں عطا فرمائے۔یہ ایک ادنی سی کوشش کی تھی ہم نے کہ بچوں سے رجسٹر پر لکھواکر ان سے چارٹ بنوائیں گے ان شاءاللہ بعد میں تاکہ بچے مصروف بھی رہیں۔ اور انکی ایکٹویٹی بھی ہو جائے اور موبائل کا استعمال بھی بچوں کا کم ہو جائے۔اللہ تعالی اس چھوٹی سی کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرماکر ہم سب کو مکمل بائیکاٹ کرنے کی توفیق نصیب فرمائیں آمین
ان شاءاللہ بچوں سے اردو میں اسکا املا بھی لیا جائے گا اور انگریزی میں spelling test بھی ہوگا
ہر ہر بچے کو فر فر یاد کروایا جائے کہ کون سی چیز بائیکاٹ والی ہے اور کون سی چیز اسرائیلی پروڈکٹ ہے ۔۔۔۔۔۔
آپ بھی اپنے اپنے گھروں میں، اسکولوں میں، ایسا کرکے ثواب دارین حاصل کریں، یہ وقت کا تقاضہ ہے اور شدید تقاضہ ہے، کہ ہم اپنے مسلمان بہن بھائیوں کی اس طرح سے انکی مدد کرسکتے ہیں، اگرچہ یہ اصل مدد تو نہیں ہے لیکن ہم اس طرح یاد کرنے سے اسرائیل کو نقصان پہنچا کر فلسطینیوں کی مدد کرسکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔فل اللہ الحمد
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
مجھے آپ سب سے ایک بات عرض کرنی تھی اور وہ یہ کہ کیا ایک قرآن پڑھانے والے جو قاری صاحب یا قاریہ صاحبہ ہوتی ہیں انکے ساتھ جو والدین سلوک کرتے ہیں کیا یہ چیز انسانیت میں شمار ہوتی ہے یا نہیں مجھے ضرور اپنی اپنی
رائے سے آگاہ کیجیے گا
مطلب ایک استاذ اگر سالوں سے پڑھا رہا ہو،دینی تعلیم و تربیت پر زور دے رہا ہو ،محنتی بھی بہت ہو، چھٹی بھی نا کرتا ہو کبھی ،انتہائ خوش اخلاقی سے پڑھاتا ہو، وقت کو امانت کہ طور پر سمجھتا ہو، کبھی لیٹ بھی نا ہوا ہو،تجوید، تلفظ، ادائیگی، لہجہ، دعائیں، قرآن پاک ناظرہ حفظ ،معانی، ترجمہ، تفسیر ،واقعات، تلاوت ،فضائل اعمال کی تعلیم ،اردو لکھنا پڑھنا ،انگریزی، عربی کے الفاظ گھر داری،لکھنا پڑھنا ہر ہر چیز پر محنت کرے اور اگر بچوں کا دل نا چاہے پڑھنے کا تو اپنی محنت مزید بڑھادے،خوب پیار ومحبت سے پڑھائے نا ڈانٹے نا ہی مارے بچوں کی لڑائ جھگڑے میں انکی صلح صفائی کروائے، انکے کہنے پر بچوں کے ساتھ مختلف کھیل کھیلے ہر طرح کا جس طرح وہ چاہیں,ہر ماہ پارٹی کرے بچوں کے اصرار پر،اور انکے والدین مسلسل ذلیل کریں صرف اس بات پر کہ بچوں کے ساتھ کیوں کھیل کھیلا ؟ یا بچے جلدی ختم کیوں نہیں کررہے اگرچہ بچوں کو پہلے خود ہی بگاڑا ہو،خود ہی انکا وقت ضائع کیا ہو، خود ہی انکو بدتمیز بنایا ہو اور نام استاذ کا لگادیا یہ کتنی بے شرمی کی بات ہے کتنے افسوس کا مقام ہے،کہ مخلص اور محنتی اساتذہ کی ناقدری کرنا انکو دس لوگوں کے سامنے ذلیل کرنا انکی تحقیر کرنا اتنا کہ انکو بیمار کردینا اور مسلسل طعنے دیتے رہنا، اپنی فیس دینے کا گھمنڈ کرنا،جتاتے رہنا جیسے نعوذباللہ وہ کوئ بھوکے، ننگے، فقیر ہوں کہ فیس نا دینے سے مرجائیں گے ،نا ہی وقت پر فیس دینا بلکہ جاتا جتا کر انکو ذلیل کر کر کہ دینا جیسے کوئ بہت بڑا احسان کر رہے ہوں۔۔۔۔۔۔کیا ایسے والدین کہ بچے آگے بڑھ پاتے ہیں ؟؟ جو پڑھانے والوں کا ہی ادب نا کریں جو نا خود تمیز سے بات کریں بلکل الٹا بچوں سے بھی بدتمیزی کروائیں۔۔۔۔۔۔یا اگر پڑھ بھی لیں تو کیا ایسے بچے اپنے والدین کا نام روشن کرتے ہیں ؟؟ یا ایسے بچوں کا قرآن پاک ہمیشہ پکا رہتا ہے ؟؟ کیا ایسے بچے جن سے اساتذہ کو سخت تکلیف پہنچی ہو انکو ناگواری محسوس ہوئی ہو ترقی کر پاتے ہیں ؟؟؟
اساتذہ کی تو خدمت کی جاتی ہے انکے دل سے دعائیں لی جاتی ہیں اور دعائیں وہی بچے لیتے ہیں جو فرمانبردار ہوتے جو بات مانتے ہیں جو استاذ کے آگے سر تسلیم خم کردیتے ہیں جو اپنی نہیں چلاتے،انکی ہر ہر بات کو دل سے مانتے ہیں اور جن کے دلوں میں ادب و احترام ہوتا،جن والدین کے دل میں نفرت ہوتی ہے انکے ہی بچے نہیں پڑھ پاتے باقی جن والدین اور بچوں کے دلوں محبت، الفت، عزت، احترام ہوتا ہے وہی بچے کامیاب و بامراد ہوتے ہیں،کامیابی انکے قدم چومتی ہے،جن جن بچوں نے اپنے اساتذہ کی سختیوں کو سہا ہے تاریخ گواہ ہے دنیا انھیں مانتی ہے انکی قدر کرتی ہے انکے قدم چومتی ہے لیکن جب جب اساتذہ کو تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ بھی دیکھتا ہے پھر۔۔۔۔۔۔۔
پہلے والدین بچوں کو موبائل دے کر بگاڑتے ہیں جب وہ مکمل بگڑ جاتے ہیں تو سارا الزام استاذ کے سر آرام سے دے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔یوٹیوب دیا ہوا ہے بچوں کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب مائیں خود ہی ڈرامے دیکھیں گی تو بچے کیا کریں گے پھر ؟؟؟
اللہ تعالیٰ سب بچوں کو اپنے والدین اور اساتذہ کا قدردان بنائے والدین اور اساتذہ کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے آمین ثم آمین
کوئ ایسا واقعہ ہوا ہو جس میں ماضی میں کسی بچے نے یا انکے والدین نے اپنے معلم سے گستاخی کی ہو تو ضرور لکھے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
با ادب با نصیب
بے ادب بد نصیب
علم تو ادب سے ہی آتا ہے
کیونکہ
علم تو ابلیس کہ پاس بھی بہت تھا
مگر ادب سے وہ بھی محروم ہی تھا
علم وجۂ فضیلت انسان
فرق مابین آدم وحیوان
علم ایک نور ہے جو گناہ گار کہ دل میں داخل نہیں ہوتا
22/05/2025
بچوں کو ابھی سے سکھائیے کہ اگر آپکی کوئ بھی چیز پرانی یا خراب ہوجاتی ہے گندی، میلی کچیلی تو کس طرح صاف کیا جائے۔۔۔۔۔اور چپل پرانے ہو جاتے ہیں یا مٹی میں ہو جاتے ہیں اور گندے بدنما لگتے ہیں تو انکو کیسے صاف کیا جائے ؟؟ کیسے انکی صفائ کی جائے ؟؟
چاہے وہ بیگ ہو چاہے چپل ہو چاہے کوئ بھی چیز ہو ایک ٹب میں سرف بنائیں اور ڈال دیں چند گھنٹوں بعد پرانے برش سے اچھی طرح رگڑ رگڑ کر صاف کرلیں اس طرح وہ چیز جو پھینکنے والی ہوگئ تھی بالکل نئ اور چمکدار ہو جائے گی یا اگر واشنگ مشین کی سہولت موجود ہے تو اسمیں ڈال دیں اور ایک پرانی چیز کو نیا ہوتے دیکھیں بچے بہت خوش ہوتے ہیں
اسی طرح اپنے گھروں کو،گلیوں کو، اپنے آپ کو روزانہ صفائ کی عادت بنائیں، روز غسل کرنا ہے،روز گھر صاف کرنا ہے،روز بچوں کو نہلانا ہے،روز کچن صاف کرنا ہے۔۔۔۔جب ہر چیز کی عادت بچپن سے ہوگی تو بچے بھی صاف ستھرے رہیں گے اور انکے دماغ بھی،انکا گھر بھی اور انکا کچن بھی ،انکی گلی بھی اور انکی ہر ہر چیز دھلی دھلائی صاف ستھری ہوگی کیونکہ صفائ نصف ایمان ہے۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
محترم سرپرست والدین!!!
امید ہے آپ سب خیر و عافیت سے ہونگے اللہ تعالیٰ آپ سب کو خیر وعافیت سے ہمیشہ ایمان و صحت کی بہترین حالت میں خوش وخرم رکھے آمین۔
آپ سب ایک گزارش ہے، کہ بچوں کو جو بھی ہوم ورک دیا جاتا ہے،تو ماؤں سے خصوصا میں عرض کرنا چاہوں گی کہ، بچہ جب بھی گھر آئے آپ اسکا بیگ ضرور چیک کریں روزانہ، کہ کاپیاں، پینسل باکس، کتابیں ہر چیز پوری ہے یا نہیں؟ یہ سب بڑوں کا کام ہے، بچے چھوٹے ہوتے ہیں اسکول میں اکثر اپنی چیزیں بھول جاتے ہیں یا انکی چیزیں چوری ہوجاتی ہیں اور انکو پتا تک نہیں چلتا تو بچپن کی عادت پچپن تک جاتی ہے۔
اور دوسری بات یہ کہ بچوں کے قاعدے،سپارے ،قران پاک اور اسکول کی ہر ہر کتابیں،کاپیاں چیک کریں روزانہ۔۔۔۔۔۔۔ کوئ صفحہ پھٹا نظر آئے تو اسے فورا ٹیپ لگائیں یا بائنڈنگ کے لیے دے دیں دکان والے کا بھی بھلا ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔کتابوں، کاپیوں پر پلاسٹک کور ضرور چڑھا کر رکھیں تاکہ وہ خراب نا ہوں، زیادہ مہنگا نہیں آتا پلاسٹک کور لیکن والدین اور بچے دونوں اس چیز کو بالکل نظر انداز کردیتے ہیں جیسے یہ کوئ فالتو کام ہو،یاد رکھیں یہ بات کہ تربیت کی عمر یہی ہوتی ہے اگر ابھی نہیں تو کبھی بھی نہیں۔۔۔۔۔
جس طرح ایک گاڑی کو کور کر کے رکھا جاتا ہے اسے چادر سے ڈھانپ کر رکھا جاتا،اسی طرح عورت کو بھی چھپا کر پردے میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ خراب نا ہو غلیظ نگاہوں سے، جیسے زیورات کو بند ڈبوں میں رکھا جاتا ہے تاکہ مٹی نا لگے، خراب نا ہوں،اور جوتوں کو بھی ڈبوں میں رکھا جاتا ہے،کپڑوں کو تھیلیوں میں ہینگر لگا کر رکھا جاتا ہے،برتنوں کو شیلف میں میک اپ کو درازوں میں،اسی طرح بستر کی بھی چادر ہوتی ہے بغیر چادر کے کوئ نہیں سوتا،جب ہر ہر چیز کا کور ہے ہر ہر چیز ڈبے میں بند ہے تو کتابوں, کاپیوں اور قرآن پاک سے ایسی دشمنی کیوں کہ جیسے چاہیں انھیں رکھیں ؟؟؟؟؟ نا جزدان ہوتا ہے بچوں کے پاس کہ انھیں اس چیز کا احساس دلانا میرا اور آپ سب کا فرض ہے۔۔۔۔۔امید ہے میری بات آپ سب والدین کو اچھے سے سمجھ آگئ ہو اور آپ سب اس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔۔۔۔۔اللہ تعالی آپ سب کے دلوں کو ایمان کے نور سے منور فرمادیں اور آپکے بچوں کو نیک صالح،اور آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے آمین ثم آمین یا رب العالمین
دعا گو
معلمہ بنت کامران
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Karachi