Toba Tek Singh
Muhammad Ashraf
DSP Legal
Ph: 0333-6742067
Fax: 046-920155
E-mail: [email protected]
Vehari
Muhammad Afzal Ahmad
DSP/Legal
Ph: 0300-6930824
Fax: 067-9201080
E-mail: [email protected]
Source:
AIG Legal/Public Information Officer
for Inspector General of Police, Punjab. Office: 042-99210995
Fax: 042-99213646
E-mail: [email protected]
CITY POLICE OFFICES - PIOS
Police College, Sihala
Muhammad Arif Babar
Inspector Legal
Ph: 051-4509028/128, 03005262707,
0336-5564785
Fax: 051-4485814
E-mail: [email protected]
Police Training College, Chung, Lahore
Naveed Ajmal
DSP/Special Tasks
Ph: 042-37499257-8
Fax: 042-37499259
E-mail: [email protected]
Elite Police Training School, Bedian Road, Lahore
Mst. Farhat Naseem
DSP HQ
Ph: 042-37167737
Fax: 042-37167739
E-mail: [email protected]
Police Wireless Training School, Bahawalpur
Rasheed Ahmad
DSP
Ph: 062-9250025
Fax: 062-9250025
E-mail:[email protected]
Police Training School, Farooqabad
Maqsood Ahmed
ASI
Ph: 0300-8816007
Fax: 056-3863029
Police Training Institute, Multan
Nasrullah Khan Warraich
DSP
Ph: 0300-8177766
Fax: 061-930068
E-mail: [email protected]
Police Training School, Rawat, Rawalpindi
Malik Muhammad Ameer
IP/Legal
Ph: 0333-4210676
Fax:051-9330003
E-mail: [email protected]
Police Training School, Sargodha
Tassawar Khan
DSP Legal
Ph: 048-9230118, 03347551519
Fax: 048-9230690
E-mail: [email protected]
Source:
AIG Legal/Public Information Officer
for Inspector General of Police, Punjab. Office: 042-99210995
Fax: 042-99213646
E-mail: [email protected]
30/07/2025
سرکاری تعلیمی نظام میں بہتری کے سفر کا حصہ بنیے! پنجاب ایجوکیشن، کریکولم، ٹریننگ اور اسیسمنٹ اتھارٹی (PECTAA) میں تجربہ کار اور پرعزم افراد کے لیے شاندار موقع۔ نصاب، تربیت، اسیسمنٹ اور کارکردگی کے اس یکجا ادارے کی بدولت ہم ایک مربوط اور جدید تعلیمی وژن کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
🔗 آن لائن اپلائی کریں: https://jobs.punjab.gov.pk
📄 یا فارم ڈاؤنلوڈ کریں: https://pectaa.edu.pk
🕔 آخری تاریخ: 15 اگست 2025، شام 5 بجے
27/12/2024
Termination Letter
Title;
Extortionists And Blackmailers Make Threats Among Company Employees Through Social Media And Print Media On A Very Large Scale. The Company Dismissed All These Employees From The Organization. The Company Has Issued Termination Letter And Show Notice To All These People And Their Information Has Also Been Updated On Social Media.
آپ کے بچے بھلے آپ سے پوچھیں یا نہ پوچھیں، آپ انہیں یہ ضرور بتایا کیجیئے کہ
ہم فلسطین سے اس لیئے محبت کرتے ہیں کہ
01: یہ فلسطین انبیاء علیھم السلام کا مسکن اور سر زمین رہی ہے۔
02: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فلسطین کی طرف ہجرت فرمائی۔
03: اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کو اس عذاب سے نجات دی جو ان کی قوم پر اسی جگہ نازل ہوا تھا۔
04: حضرت داؤود علیہ السلام نے اسی سرزمین پر سکونت رکھی اور یہیں اپنا ایک محراب بھی تعمیر فرمایا۔
05: حضرت سلیمان علیہ اسی ملک میں بیٹھ کر ساری دنیا پر حکومت فرمایا کرتے تھے۔
06: چیونٹی کا وہ مشہور قصہ جس میں ایک چیونٹی نے اپنی باقی ساتھیوں سے کہا تھا "اے چیونٹیو، اپنے بلوں میں گھس جاؤ" یہیں اس ملک میں واقع عسقلان شہر کی ایک وادی میں پیش آیا تھا جس کا نام بعد میں "وادی النمل – چیونٹیوں کی وادی" رکھ دیا گیا تھا۔
07: حضرت زکریا علیہ السلام کا محراب بھی اسی شہر میں ہے۔
08: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسی ملک کے بارے میں اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ اس مقدس شہر میں داخل ہو جاؤ۔ انہوں نے اس شہر کو مقدس اس شہر کے شرک سے پاک ہونے اور انبیاء علیھم السلام کا مسکن ہونے کی وجہ سے کہا تھا۔
09: اس شہر میں کئی معجزات وقوع پذیر ہوئے جن میں ایک کنواری بی بی حضرت مریم کے بطن سے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی ولادت مبارکہ بھی ہے۔
10: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جب اُن کی قوم نے قتل کرنا چاہا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں اسی شہر سے آسمان پر اُٹھا لیا تھا۔
11: ولادت کے بعد جب عورت اپنی جسمانی کمزوری کی انتہاء پر ہوتی ہے ایسی حالت میں بی بی مریم کا کھجور کے تنے کو ہلا دینا بھی ایک معجزہ الٰہی ہے۔
12: قیامت کی علامات میں سے ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمین پر واپس تشریف اسی شہر کے مقام سفید مینار کے پاس ہوگا۔
13: اسی شہر کے ہی مقام باب لُد پر حضرت عیسٰی علیہ السلام مسیح دجال کو قتل کریں گے۔
14: فلسطین ہی ارض محشر ہے۔
15: اسی شہر سے ہی یاجوج و ماجوج کا زمین میں قتال اور فساد کا کام شروع ہوگا۔
16: اس شہر میں وقوع پذیر ہونے والے قصوں میں سے ایک قصہ طالوت اور جالوت کا بھی ہے۔
17: فلسطین کو نماز کی فرضیت کے بعد مسلمانوں کا قبلہ اول ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ ہجرت کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام دوران نماز ہی حکم ربی سے آقا علیہ السلام کو مسجد اقصیٰ (فلسطین) سے بیت اللہ کعبہ مشرفہ (مکہ مکرمہ) کی طرف رخ کرا گئے تھے۔ جس مسجد میں یہ واقعہ پیش آیا وہ مسجد آج بھی مسجد قبلتین کہلاتی ہے۔
18: حضور اکرم صل اللہ علیہ وسلم معراج کی رات آسمان پر لے جانے سے پہلے مکہ مکرمہ سے یہاں بیت المقدس (فلسطین) لائے گئے۔
19: سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم کی اقتداء میں انبیاء علیھم السلام نے یہاں نماز ادا فرمائی۔ اس طرح فلسطین ایک بار پھر سارے انبیاء کا مسکن بن گیا۔
20: سیدنا ابو ذرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا کہ زمین پر سب سے پہلی مسجد کونسی بنائی گئی؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہ مسجد الحرام(یعنی خانہ کعبہ)۔ میں نے عرض کیا کہ پھر کونسی؟ (مسجد بنائی گئی تو) آپﷺ نے فرمایا کہ مسجد الاقصیٰ (یعنی بیت المقدس)۔ میں نے پھر عرض کیا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ آپﷺ نے فرمایا کہ چالیس برس کا اور تو جہاں بھی نماز کا وقت پالے ، وہیں نماز ادا کر لے پس وہ مسجد ہی ہے۔
21: وصال حبیبنا صل اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ارتداد کے فتنہ اور دیگر
کئی مشاکل سے نمٹنے کیلئے عسکری اور افرادی قوت کی اشد ضرورت کے باوجود بھی ارض شام (فلسطین) کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تیار کردہ لشکر بھیجنا بھی ایک ناقابل فراموش حقیقت ہے۔
22: اسلام کے سنہری دور فاروقی میں دنیا بھر کی فتوحات کو چھوڑ کر محض فلسطین کی فتح کیلئے خود سیدنا عمر کا چل کر جانا اور یہاں پر جا کر نماز ادا کرنا اس شہر کی عظمت کو اجاگر کرتا ہے۔
23: دوسری بار بعینہ معراج کی رات بروز جمعہ 27 رجب 583 ھجری کو صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں اس شہر کا دوبارہ فتح ہونا بھی ایک نشانی ہے۔
24: بیت المقدس کا نام قدس قران سے پہلے تک ہوا کرتا تھا، قرآن نازل ہوا تو اس کا نام مسجد اقصیٰ رکھ گیا۔ قدس اس شہر کی اس تقدیس کی وجہ سے ہے جو اسے دوسرے شہروں سے ممتاز کرتی ہے۔ اس شہر کے حصول اور اسے رومیوں کے جبر و استبداد سے بچا seeنے کیلئے 5000 سے زیادہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے جام شہادت نوش کیا۔ اور شہادت کا باب آج تک بند نہیں ہوا، سلسلہ ابھی تک چل رہا ہے۔ یہ شہر اس طرح شہیدوں کا شہر ہے۔
25: مسجد اقصیٰ اور بلاد شام کی اہمیت بالکل حرمین الشریفین جیسی ہی ہے۔ جب قران پاک کی یہ آیت (والتين والزيتون وطور سينين وهذا البلد الأمين) نازل ہوئی ّ تو ابن عباس کہتے ہیں کہ ہم نے بلاد شام کو "التین" انجیر سے، بلاد فلسطین کو "الزیتون" زیتون سے اور الطور سینین کو مصر کے پہاڑ کوہ طور جس پر جا کر حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ پاک سے کلام کیا کرتےتھے سے استدلال کیا۔
26: اور قران پاک کی یہ آیت مبارک (ولقد كتبنا في الزبور من بعد الذكر أن الأرض يرثها عبادي الصالحون) سے یہ استدلال لیا گیا کہ امت محمد حقیقت میں اس مقدس سر زمین کی وارث ہے۔
27: فلسطین کی عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے یہاں پر پڑھی جانے والی ہر نماز کا اجر 500 گنا بڑھا کر دیا جاتا ہے
24/09/2023
ہر موسم ایک سا نہ ہوتا اور ایسے ہی انسان بدلتا رہتا ہے اس کے سوچ خیال اس کے پسند انسان کا روپ بھی ایک سا نہ ہوتا ہے غور کریں بچپن کے صورت کدر گئے پھر جوانی اور پھر برہاپا مطلب روز ایک دن موت ہے ہر انسان کا غور کریں کل جو گیا وہ اب کبھی نہ ائے گا ایک ایک پل مر رہا ہےانسان
اور اس کے بے وقوفی کی حد کے وہ سمجھتا ہے میں جئے رہا ہوں مجھے یہ کرنا ہے وہ کرنا امیدوں کے لمبی قطار بنا بیٹھا ہے جب کہ اس کا ہر ایک دن اسے موت کے قریب کر رہا
اور اس دنیا کو کیش کرانے میں لگا ہے جب کہ یہ دنیا ایک حسین دوکھا کبھی کسے کے ھاتھ نہ ائے ہے اس کے طالب ھمیشہ ایک بھنور میں پھنس کر ڈوب جاتا ہے رب کریم ھمیں ھدایت عطا کرے امین 🙏🙏🙏
31/08/2023
اب آ یا نہ اونٹ پہاڑ کے نیچے"🤣🤣🤣
راولاکوٹ کے ایک گاؤں کے لوگوں نے واپڈا کو درخواست دی ہے جس مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہماری زمینوں سے بجلی کا تمام سیٹ اپ کھمبے اور تاریں ہٹائی جائیں۔
جتنا عرصہ یہ کھمبے یہاں نصب رہے اس کا کرایہ اور تاروں کا راستہ کلیئر کرنے کے لیے کاٹے گئے درختوں کا معاوضہ ادا کیا جائے۔"
کتنی شاندار خبر ہے۔
زمین دار سے اگر یہ بجلی کے میٹر کا بھی کرایہ لیتے ہیں تو ہماری زمینوں سے مفت تاریں گزارنے اور کھمبے گاڑنے کا حق انہیں کس نے دیا۔
جیسے موبائل کمپنیاں اپنے ٹاور لگانے کے پیسے دیتی ہیں یہ واپڈا بھی دے اور پرائیویٹ کمپنبیاں بھی دیں۔ یہ زمینیں واپڈا یا آئی پی پی کے باپ کی جاگیر نہیں۔
۔
انڈسٹریلسٹ بابو افسر شاہی اور اشرافیہ کو بجلی چاہیے تو کسان کو کھمبوں کا کرایہ ادا کرو۔
آئین کے آرٹیکل 25 کےُتحت کسان بھی اتنا ہی معزز شہری ہے جتنی یہ سفاک اشرافیہ۔
27/08/2023
تم لوگوں کے دکھ محسوس کیا کرو ان سے پوچھا مت کرو کہ ان کو کیا دکھ ہیں...اور جب محسوس کر لو تو ان کے لئیے اپنے رب کی بارگاہ میں دعا کیا کرو کہ " اے ربِ کائنات " اے سب کے دلوں کے بھیدوں کو جاننے والے تو اس بندے یا بندی کے سب دکھ دور کر اور ان کے دلوں کو سکون عطا کر...کوئی اپنے دکھ خود بتانا پسند نہیں کرتا...جن کو بہت مشکل سے اس نے سلایا ہو گھڑی بھر ان سے لاتعلق ہوا ہو...بھول تو وہ کبھی کبھی نہیں سکتا اپنے دکھ مگر...!!
ہاں وقتی طور پہ ان کو دفنا دیتا ہے...اور زندگی کو آگے لئیے جانے کی کوشش میں جیتا ہے...تو ایسے میں کسی کا اس کے دکھ پوچھنا اور سوال کرنا اس کے زخموں کو تازہ کر دے گا یا نہیں....؟ بس....تم لوگوں کے لئیے دعا کیا کرو..🥀
26/08/2023
اوقات سے بڑھ کر دی گٸی عزت کم ظرف کو کبھی راس نہیں آتی اور وہ کم ظرف اور گھٹیاانسان اس پے بھونکتا ہےجس نے اس پے احسان کیا ہو