13/08/2022
14 August
IQRA ROZATUL ATFAL FATIMA ACADEMY
Iqra Rozatul Atfal Fatima Academy provide their services of teaching in q planed education center.
13/08/2022
14 August
IQRA ROZATUL ATFAL FATIMA ACADEMY
26/07/2022
26/07/2022
05/06/2022
Dear students please pay attention here and read the following carefully!
عزیز طلباء براۓ مہربانی نیچے دی گئ معلومات توجہ سے پڑھیں۔
What is OMR sheet:
۔او ایم آر شیٹ کیا ہے !
OMR Sheet (Optical Mark Reader) is a pre-printed paper security documents which contains bubbles, timing tracks sensors. Bubbles are filled circled by the candidates and timing tracks helps us to read the OMR Sheet.
Information required for OMR Sheet:
OMR Sheet for Exam contains the personal information of the candidate like Name, Date of Birth, Father's Name, Roll Number, Category, Address, Mobile Number, Email, Date of Exam, Barcode/QR code and answers to be filled by the candidate.
(Note: only specific information filled by the candidate as printed in a OMR sheet)
Application of OMR sheet:
OMR Sheets are used for conducting various types of exams from KG level to professional level exams. These types of exams also known as multiple choice exams.
Instruction to filling the OMR sheet:
Use black or blue ball point pens, and avoid gel pens and fountain pens for filling the sheets.
Darken the bubbles completely. Don't put a tick mark or a cross mark where it is specified that you fill the bubbles completely. Half-filled or over-filled bubbles will not be read by the software.
Never use pencils to mark your answers unless specified, in which case just stick to HB or 2B pencils only.
Never use whiteners to rectify filling errors as they may disrupt the scanning and evaluation process.
Writing on the OMR Sheet is permitted on the specified area only and even small mark on other than specified area may create problem during the scanning.
There are some areas on OMR sheets where candidates are instructed not to write anything. Do not do any rough work on the demarcated areas.
Do not fold the OMR Sheet.
Do not make any stray marks on the answer sheet
Multiple markings are invalid.
Ensure that the invigilator has signed your OMR Answer Sheet.
Put your Signature and Thumb impression, in the appropriate rectangular boxes, in front of the Invigilator.
If candidate has not filled his Roll Number, Paper Code, Question Booklet Series, Answer sheet not be evaluated.
(Google Research!!! Material is extracted from different videos and website)
شیطان اور سیاست
شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے، مگر شیطان اپنا وار ہمیشہ چھپ کر کرتا ہے اور اسی لیے انسانوں کو اس کی کھلی ہوئی دشمنی بھی نظر نہیں آتی۔ شیطان کا ایسا ہی ایک چھپا ہوا وار سیاسی انتہا پسندی میں لوگوں کو مبتلا کرنا ہے۔ اس مرض کا شکار لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ملک و قوم کی اصلاح کر رہے ہیں جبکہ درحقیقت وہ شیطان کے مکر کا شکار ہوچکے ہوتے ہیں۔
پچھلے ایک عشرے سے پاکستان میں سیاسی انتہا پسندی کا مرض انتہائی تیزی سے پھیل رہا ہے اور اچھے اچھے دین دار لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ ان میں سے کوئی پی ٹی آئی کا حامی ہے اور کوئی موجودہ حکومت میں شامل دیگر جماعتوں کا۔ مگر ان سب میں قدر مشترک یہ ہے کہ وہ پوری نیک نیتی سے شیطان کے دام فریب میں آچکے ہیں۔
ایسے لوگ اپنی دانست میں ملک و قوم کی اصلاح کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں، مگر عملی طور پر وہ اپنی دینی ذمہ داریوں کو فراموش کرکے سیاست کو اپنی ساری توانائیوں کا مرکز بنا چکے ہیں۔ نجی محافل ہوں، احباب کے ساتھ نشستیں ہوں، فیس بک، ٹوئٹر، وہاٹس اپ اور دیگر سوشل میڈیا ہو، ان کی دلچپسی کا بنیادی نکتہ سیاست ہوتی ہے۔ ان معصوم لوگوں کو نہیں معلوم کہ ان کے سیاسی ذوق نے ان کی دینی حس کو کچل ڈالا ہے اور اس پر اب نزاع کا عالم طاری ہوچکا ہے۔
اس سے کہیں زیادہ سنگین بات یہ ہے کہ سیاسی انتہا پسندی کے اس حملے نے ان کی نفسیات اور اخلاقی رویے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ پچھلے چند برسوں میں پہلے ن لیگ کے حامی نفسیاتی طور پر بری طرح مجروح ہوئے اور پھر یہی معاملہ پچھلے کچھ عرصے میں پی ٹی آئی کے حامیوں کے ساتھ ہوا ہے۔ ایسے سارے لوگ کبھی ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ بیٹھ کر اپنا جائزہ لیں تو انھیں معلوم ہوگا کہ وہ شدید ڈپریشن، مایوسی، غصے اور جھنجھلاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں۔ یہی چیزیں شیطان کے جال میں پھنسنے کی نشانیاں ہوتی ہیں۔
اخلاقی معاملات کا عالم یہ ہے کہ اس سیاسی انتہا پسندی کی وجہ سے لوگ قطع تعلق کے سنگین ترین جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں اور ان کو یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ دوست، احباب اور پڑوسیوں میں تعلقات خراب ہورہے ہیں۔ سیاسی مخالفین کے لیے نفرت، عداوت اور تمسخر کا رویہ عام ہوچکا ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف سخت کلمات کہے جارہے ہیں۔ نمبر بلاک ہورہے ہیں۔ فرینڈ کو ان فرینڈ کیا جارہا ہے۔
سب سے سنگین مسئلہ یہ ہے کہ لوگ اپنے تعصبات کا شکار ہوکر اپنے لیڈروں اور پارٹی کو حق بنا بیٹھے ہیں۔ اس دنیا میں یہ مقام صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے کہ ان کی طرف سے جو بات آئے وہی حق ہوتی ہے۔ اس کے سوا سب انسان ہیں اور سب سے غلطی اور کوتاہی کا ارتکاب ہوسکتا ہے۔ مگر دیندار لوگ بھی یہ حقیقت فراموش کرچکے ہیں۔
یہی وہ رویے ہیں جو شیطان کو مطلوب ہیں۔ چنانچہ سیاسی انتہا پسندی پھیلا کر شیطان اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب ہو رہا ہے۔سیاست کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالینے والے لوگ اپنی دنیا کا بھی نقصان کر رہے ہیں اور آخرت کا بھی اور ان کو اس کا کوئی احساس نہیں ہے۔
کسی کو اگر سیاست پر کوئی اصلاحی بات کہنی ہے تو اسے سب سے پہلے لیڈروں کے عشق سے باہر آکر ایک اصولی رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ ہر حال میں اپنے لیڈروں کا دفاع کرنے کے بجائے لینے اور دینے کے پیمانے ایک ہونے چاہییں۔ سب سے بڑی بات یہ سمجھنی چاہیے کہ بنیادی مسئلہ سسٹم اور لیڈروں کا ہے ہی نہیں۔ مسئلہ عوام کا غیرتربیت یافتہ ہونا ہے۔ مسئلہ ہمارا ہمہ گیر اخلاقی انحطاط ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جو لوگ اصلاح کے کام پر کھڑے ہیں، انھوں نے ایمان اور اخلاق کے قرآنی معیارات کو اپنی زندگی اور ہدف نہیں بنا رکھا۔
جب تک یہ مسئلے باقی ہیں، ہماری کوئی سیاسی جدوجہد نفع بخش نہ ہوگی۔ چنانچہ اصل مسئلے کو سمجھ کر سیاست پر اصولی اسٹینڈ لینا ہی اس شخص کے لیے واحد راستہ ہے جو سیاست پر بات کرتے ہوئے خدا کی پکڑ سے بچنا چاہتا ہے۔ باقی لوگ تو بس سیاست میں محض اپنی آخرت خراب کر رہے ہیں۔
By Abu Yahya (Dr. Rehan Ahmed Yousufi)
*ہر چیز پرچہ امتحان*
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو نصیحت کرتے هوئے فرمایا: یعنی جو تم کو ملا ہے، وه تم سے کهویا جانے والا نہ تها- اور جو کچهہ تم سے کهویا گیا، وه تم کو ملنے والا ہی نہ تها-( مشکاه المصابیح،رقم حدیث:115 )
اس حدیث رسول پر غور کرنے سے معلوم هوتا ہے کہ *موجوده دنیا* میں کسی آدمی کو جو کچهہ ملتا ہے، وه نہ *اتفاقاً ملتا ہے* اور نہ *بطور انعام*- *موجوده دنیا میں کسی آدمی کو جو کچهہ ملتا ہے، وه صرف پرچہ امتحان کے طور پر ملتا ہے*- خدا کے فیصلے کے تحت، ہر عورت اور مرد کو کچهہ چیزیں دی جاتی ہیں، *تا کہ ان چیزوں میں آزما کر دیکها جائے کہ آدمی کا رویہ کیسا تها*- خدا کبهی *کوئی چیز دے کر امتحان لیتا ہے کہ آدمی نے اس پر شکر کیا، یا گهمنڈ میں مبتلا هو گیا*- اسی طرح کوئی *چیز چهین کر خدا آدمی کا امتحان لیتا ہے کہ اس سے محروم هو کر اس نے صبر کیا، یا وه شکایت کی نفسیات میں مبتلا هو گیا*-
یہ *خدا کا تخلیقی نقشہ ہے*- ایسی حالت میں *آدمی کی نظر اس پر نہیں هونی چاہئے کہ اس نے کیا پایا اور اس سے کیا چهینا گیا*- اس کے *بجائے اس کو اپنا دهیان اس پر لگانا چاہئے کہ اس کو جن حالات میں رکهہ کر خدا نے اس کا امتحان لینا چاہا تها، اس میں اس نے مطلوب رسپانس دیا، یا وه مطلوب رسپانس دینے میں ناکام هو گیا*-
*یہ زندگی کا مثبت تصور ہے*- یہ *زندگی کا مثبت فارمولا ہے*-جس آدمی کے اندر یہ *مزاج پیدا هو جائے، وه کبهی ٹنشن میں مبتلا نہیں هو گا- وه کسی بهی حال میں مایوسی یا تلخی کا شکار نہیں هو گا*- کوئی تجربہ اس کو زندگی کی تعمیری شاهراه سے ہٹانے والا ثابت نہ هو گا- وه کبهی فکری انتشار کا شکار نہ هو گا- اس کی زندگی میں کبهی یہ حادثہ پیش نہیں آئے گا کہ اس کی زندگی حالات کے بهنور میں پهنس کر ره جائے اور وه آخری منزل تک نہ پہنچے-
الرسالہ، جنوری 2008
مولانا وحیدالدین خان
06/05/2022
Copied
| Monday | 09:00 - 17:00 |
| Tuesday | 09:00 - 17:00 |
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| Thursday | 09:00 - 17:00 |
| Friday | 09:00 - 12:00 |
| Saturday | 09:00 - 17:00 |