مجمع العلوم الاسلامیہ پاکستان انفارمیشن

مجمع العلوم الاسلامیہ پاکستان انفارمیشن

Share

#مجمع_العلوم_الاسلامیہ_پاکستان#مجمع_العلوم_الاسلامیہ_پاکستان
#BOISP

19/03/2025

بریکنگ نیوز
مجمع العلوم الاسلامیہ کے سالانہ امتحان کے نتائج کا اعلان

15/02/2025

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Jamia Muhammadia Arabia, Sami Ullah Mohsen

13/06/2022

مجمع العلوم الاسلامیہ کے تحت پہلی سالانہ تقریب تقسیم انعامات 2022ء کا جامعہ بنوریہ عالمیہ میں انعقاد کیا گیا جس میں مجمع العلوم سے ملحقہ مدارس کے سالانہ امتحانات میں ملکی اور صوبائی سطح پر نمایاں کامیاب طلباء و طالبات کو انعامات و اعزازات سے نوازا گیا۔

تقریب سے صدر مجمع العلوم اور سرپرست جامعۃ الرشید مفتی عبدالرحیم, نائب صدر مجمع اور رئیس الجامعہ بنوریہ عالمیہ مولانا نعمان نعیم، ناظم امتحانات مجمع العلوم مولانا قاسم، اور استاذ الحدیث جامعہ بنوریہ عالمیہ مولانا عزیز الرحمن عظیمی نے خطاب کیا۔

اس موقع پر چاروں صوبوں سے آئے ہوئے پوزیشن ہولڈر طلباء اور طالبات کے سرپرست و دیگر مقامی علماء کرام ومدارس ذمہ داران اور اساتذہ موجود تھے اور پُر وقار تقریب کا اختتام شیخ الحدیث وناظم تعلیمات مولانا عبد الحمید خان غوری کی دعا سے ہوا۔


#مجمع





18/05/2022

نوٹ فرمالیجئے📢📢📢
اس پیج کا مجمع کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں
یہ پیج سٹوڈینٹ ایزی وے کی سروسز کا مجمع کے طلباء کو امتحانی ومجمع کے متعلقہ انفارمیشن ومعلومات دیناہے

18/05/2022

مجمع العلوم الاسلامیہ نے کیا سنگ میل عبور کیا؟

اس سوال کے جواب سے پہلے مجمع العلوم الاسلامیہ کا تعارف ضروری ہے۔ شاید بعض حضرات کو آگاہی نہ ہو کہ مجمع العلوم الاسلامیہ کیا ہے۔ یہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان (جو کہ مدارس عربیہ کا ملکی سطح پر دینی مدارس کا نمائندہ سب سے بڑا بورڈ ہے) کے متوازی ایک نئی سوچ وفکر کا حامل دینی ادروں کا ایک بورڈ بنایا گیا ہے۔ اس کے نام سے بھی ظاہر ہے کہ مختلف علوم کا مجموعہ ہے یعنی اس ادارے میں آئے ہوئے علوم کے متلاشی صرف درس نظامی نہیں بلکہ درس نظامی کے علاوہ بھی بہت کچھ ملتا ہے ملاحظہ کیجئے۔
1.قاعدہ
2. ناظرہ
3۔حفظ
4۔درس نظامی
5۔معھد اللغۃ العربیہ جس میں درس نظامی کا تمام کورس عربی میں پڑھایا جاتا ہے طلبہ کا ایک دوسرے کے ساتھ اور اساتذہ کے ساتھ تکلم بھی عربی میں ہی ہوتا ہے۔
6۔تخصص فی الافتاء
7۔تخصص فی الحدیث
8۔تخصص فی القرآن
9۔تخصص فی علوم القرآت
10۔تخصص فی اللغۃ العربیہ ایک سالہ کورس
11۔تخصص فی الدعوۃ والارشاد کہ کن اصول کو مد نظر رکھ کر علماء کرام معاشرے میں دین کی تبلیغ و اشاعت کا کام کرینگے
12۔کلیۃ الادارۃ
13قضاء
14۔اسلامک بینکنگ
15۔ تخصص فی فقہ المعاملات المالیہ تین سالہ کورس کراچی یونیورسٹی سے MBA کے ساتھ۔
16۔کلیۃ الشریعہ چار سالہ کورس ان گریجویٹس کیلئے جو یونیورسٹی سے سند یافتہ ہیں اور اسلامی علوم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
17۔حفاظ عربک اینڈ انگلش لینگویج کورس جس میں صرف اس دس سالہ بچے کو داخلہ ملتا ہے جس کو قرآن پکا یاد ہو وہ ایک سال رواں عربی اور اگلے سال انگلش سیکھتا ہے اور دونوں زبانیں فر فر لکھ اور بول سکتا ہے۔
18۔صفہ اسلامک ریسرچ سنٹر
19۔البیرونی انٹر میڈیٹ کالج
20۔ کرچی یونیورسٹی کی affiliation جس کے تحت درس نظامی کے تمام طلبہ میٹرک تا M.A امتحانات دے سکتے ہیں۔
21۔خطابت کورس
22۔کالم نگاری کورس
23۔ علماء کے لئے ایک سالہ انگلش کورس
24۔ علماء کے لئے ایک سالہ کمپیوٹر کورس
25۔ ایک سالہ عربی کورس
26۔ جغرافیہ
27۔تاریخ
28۔ایک سالہ صحافت،م کورس
29۔ ایک سالہ تدریب المعلمین کورس کہ ایک معلم و مدرس کو کس انداز سے تدریس کے فرائض سر انجام دینے چاہئیے۔30۔فلکیات کورس
31۔ ایف اے، بی اے، ایم اے
32۔ جدید معیشت و تجارت اور فقہ المعاملات المالیہ کے طلبہ کو عملی طور پر مارکیٹ کی بار بار سروے کے مواقع کی فراہمی۔
مندرجہ بالا وہ کورسز ہیں جو میرے فراغت سے پہلے جامعۃ الرشید میں پڑھائے جارہے تھے 2015 کے بعد کا مجھے علم نہیں کہ کیا کچھ نیا شامل کی ہوگا یہ ایسے علوم ہیں جن سے موجودہ زمانے میں راہ فرار نہیں ایک طرف ہم دیکھتے ہیں کہ مدارس سے جس تعداد میں فضلاء فارغ ہورہے ہیں وہ تعداد پہلے ہی ڈیمانڈ سے زیادہ ہے دوسری طرف اگر ان فضلاء کے پاس جدید علوم ہوتھ میں نہ ہوں تو اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ہم کسی کو ہاتھ پاؤں سے باندھ کر سمندر میں پھینک دیں کہ تیرنا بھی ہے اور خود کو بچانا بھی ہے اور اس کے لئے اسباب بھی منقطع ہیں۔
مندرجہ بالا علوم ملک و ملت کی واقعی ضرورت ہیں۔ دیگر دینی مدارس میں ان کا کوئی انتظام نہیں ہے یا تو مواقع نہیں ہیں اور یا اس طرف دھیان نہیں ہے ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ چنانچہ جامعۃ الرشید کے مہتمم مولانا مفتی عبد الرحیم صاحب کے الفاظ میں "جن چیزوں کو آپ مستحب نہیں مانتے ہم ان کو فرض سمجھتے ہیں" اس سے ان کا موقف خوب واضح ہوتا ہے کہ وہ دینی و عربی علوم کے ساتھ ساتھ اپنا وقت اور سرمایہ عصری اور جدید علوم پر بھی لگانا چاہتے ہیں۔اس بورڈ کے مقاصد واضح موجود ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی JTR میڈیا ہاؤس جو کہ جامعۃ الرشید کا اپنا سٹوڈیو ہے نے واضح کیا ہے اور ریکارڈ کا حصہ ہے۔

جامعۃ الرشید میں جو کورسز پچھلے دہائی سے ابھی تک بالفعل پڑھائے جا رہے ہیں وفاق المدارس بورڈ سے ان کورسز کی صرف ڈیزائننگ بھی 50 سال تک ممکن نہیں حالانکہ ان کورسز کی ضرورت سے انکار سورج کو انگلی سے چھپانے کی ناکام کوشش ہے دلیل اس کی ہے کہ اتنا زمانہ گزرنے کے بعد وفاق نے ابھی جاکر حال ہی میں تخصص فی الافتاء کا صرف کورسز ہی ڈیزائن کیا۔ اس سے اندازہ لگائیں کہ وفاق المدارس کس سپیڈ سے حالات حاضرہ پر نظر رکھے ہوئے ہے اور مطلوبہ ضروریات کی کس تیزی سے ادراک اور تدارک کر رہا ہے۔

سوات کے مایہ ناز ادارے جامعہ مظہر العلوم کے مرحوم ناظم تعلیمات صاحب حضرت مولانا مفتی قاری محمد طیب صاحب کے مبارک الفاظ مجھے ابھی تک نہیں بھولے فرمایا " وفاق سے تو صرف جامعۃ الرشید کا انفرادی ادرہ اچھا ہے کہ آپ گارنٹی کے ساتھ جامعۃ الرشید کو ایک ٹاسک حوالہ کردیں وہ مہینہ بھر میں اس کی ڈیزائننگ اور متعلقہ چیزوں کا انتظام کرکے افراد بھی مہیا کردے گا"۔

مختلف کورسز کیلئے افراد کو پاکستان سے باہر بھیجتے ہیں متعلقہ فن میں مہارت حاصل کرکے واپس آتے ہیں اور جامعۃ الرشید اچھی تنخواہوں پہ ان کی استعداد سے ملک وقوم کو مستفید کر رہا ہے۔یہ پورا پراجیکٹ صرف اسی ایک ادارے کے خرچ پہ ہوتا ہے وفاق یا کسی تنظیم کے تعاون سے نہیں، حالانکہ یہ تمام کام بحیثت بڑوں کے، وفاق کی ذمہ داری تھی کہ یا تو خود کرتے یا ان کی مدد کرتے۔

مدد تو درکنار ان کی یہ آہ وفغاں کسی نے نہ سنی بلکہ سنی ان سنی کردی لہذا جب ان کو اندازہ ہوا کہ جمعیت علماء اسلام نے ایسے بہت سے چھوٹے مدارس کو وفاق المدارس کے کلیدی عہدے دئیے ہیں اور مصنوعی طور پر سیاسی وفاقی افراد کی ممبر شپ زیادہ کی گئی تھی جو کہ جمیعت کے کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ وفاق کے بھی ممبرز ہیں تو ظاہر بات ہے اکثریت کے فیصلے کو ہی منا جائے گا لہذا محض ایک سیاسی پارٹی کے مقاصد کی خاطر وفاق المدارس بورڈ ایسے فیصلے لے رہا تھا جو شدید نقصان کا باعث تھے۔ استعداد کا استحصال کیا جارہا تھا۔ سنجیدہ اکابر کی بات کی کوئی حیثیت نہیں تھی تو انہوں نے خود اس عظیم کام کا بیڑہ اکیلے اٹھانے کا فیصلہ کیا جس کی پاداش میں معزز وفاق المدارس کے بڑوں نے انہیں اپنی طرف سے وفاق سے ہی نکال دیا حالانکہ جامعۃ الرشید کا وفاق المدارس سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہ تھا بلکہ اپنے طلبہ کے داخلے امتحان کیلئے وفاق ہی بھیجے تھے۔

بعض حضرات کو اعتراض ہے کہ مجمع العلوم الاسلامیہ کا واحد مقصد وفاق کو دھڑوں میں تقسیم کرنا تھا آؤٹ پٹ کچھ نہیں ہے یہ ایک ایسا بے بنیاد اعتراض ہے جس کا مآخذ صرف ذاتی ضد وعناد اور حقائق سے پہلو تہی ہے۔ جو حضرات یہ اعتراض فرما رہے ہیں ان کی اگلی نسلیں خود ان کا خلاف کرینگی۔

مجمع کے اصل مقاصد کی طرف اوپر اشارہ کیا جا چکا ہے کہ در اصل وفاق کا نہیں بلکہ ایک محض علمی ادرے پر ایک سیاسی پارٹی کے اجارہ داری کو ختم کرنے کی کوشش تھی یہ در اصل ایک ایسے نظام سے نکلنے کی کوشش تھی جو مکمل طور پر نہ سہی اسی فیصد ایک سیاسی پارٹی کے رحم و کرم پر تھا۔ حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی صاحب نے بھی جا بجا اعلان بھی کیا کہ وفاق پر سیاسی دباؤ برداشت نہیں کرینگے۔

اوپر جتنے کورسز ذکر کئے گئے ہیں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں آپ خود جاکر معائینہ کر سکتے ہیں وہ بخوشی آپ کو وقت دینگے اور پورے ادارے میں پروٹوکول کے ساتھ گھما پھرا کر ہر ہر کورس کا مقصد اور تعارف کرادینگے۔ لیکن کسی نظام کو بنا دیکھے بنا سمجھے بنا تحقیق کئیے کوئی رائے قائم کرنا سراسر نا انصافی ہے۔

جامعۃ الرشید کا آؤٹ پٹ:
جامعۃ الرشید کے فضلاء آپ کو مدارس کے مدرسین اور مساجد کے امام وخطیب کی شکل میں بھی ملیں گے عوام کے ساتھ ان کا رویہ مختلف ہوگا ساتھ ساتھ یونیورسٹیوں کے لیکچررز، سی ایس ایس آفیسرز، بینک منیجرز، افواج پاکستان کا حصہ، صحافت کے میدانوں کے شہسوار، مصنفین و مؤلفین، تجارتی شعبوں کے ماہرین، جدید دنیا کی ضروریات سے باخبر ہونے کے ساتھ ساتھ للہیت اور تقوی کے مظہر کا مجموعہ ملیں گے۔

بارک اللہ یوسفزئی سوات۔

18/05/2022

مجمع العلوم الاسلامیہ
نصاب برائے درجہ سابعہ

12/05/2022
11/05/2022

شکریہ 2000فالوورز

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address

جامعۃ الرشید احسن آباد
Karachi

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00