25/10/2025
لعنت بھیج کر آگے شیر کریں
فکری اسرائیلیت کیا ہے؟
حرف حق
تحریر علی مرتضیٰ حیدری
فکری اسرائیلیت ایک اصطلاح ہے جو اس طرزِ فکر کو ظاہر کرتی ہے جو
اپنے آپ کو خدا کا نمائندہ سمجھتی ہے
دوسروں کو ناپاک اور باطل ٹھہراتی ہے
اور اقتدار، تشدد اور نسل پرستی کو الٰہی فریضہ بنا دیتی ہے یہی فکر آج نتن یاہو کے اسرائیل میں بھی کار فرما ہےجو فلسطینیوں کے خون کو دفاع کہتا ہے
اور یہی فکر ان مسلم معاشروں میں بھی دکھائی دیتی ہے جہاں مذہب کو طاقت نفرت اور قتل کا جواز بنا دیا گیا ہے۔
دونوں ایک ہی زبان بولتے ہیں،
دونوں عدلِ الٰہی کے دشمن ہیں،
اور دلچسپ (بلکہ الم ناک) بات یہ ہے کہ
دونوں ایران جیسے مظلوموں کے حامی ملک کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔
یہاں نام اور لباس الگ ہیں ایک کا نام نتن یاہو ہےتو دوسرے کا اورنگزیب فاروقی
مگر فکر ایک ہی ہے۔
فکرِ ابلیس آپ جانتے ہیں جو حق کو باطل کے لباس میں چھپاتی ہے
اور ظلم کو مذہبی فریضہ بنا دیتی ہے۔
یہ ان کی فکر ہے
جب فکر ایک ہو تو ناموں کا فرق معنی نہیں رکھتا ہے
اگر کوئی غور کرے تو واضح ہوجاے گا کہ الفاظ، زبانیں قومیں مختلف ہو سکتی ہیں، مگر فکر ایک ہی ہو تو انجام بھی ایک جیسا ہوتا ہے۔
آج جب اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو فلسطینیوں کے خون کو جائز ٹھہراتا ہے،
اور جب کوئی مسلمان کہلانے والا، مثلاً اورنگزیب فاروقی، اپنے ہم مذہبوں کے خلاف نفرت، تکفیر اور خون ریزی کی ترغیب دیتا ہے،
تو سوال یہ نہیں کہ ان دونوں کے نام مختلف ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ ان کی روحِ فکر کہاں سے جنم لیتی ہے؟
دین کا ظاہر اور باطن
دین صرف کلمہ پڑھ لینے یا مذہبی شناخت رکھنے کا نام نہیں۔
قرآنِ کریم نے بارہا فرمایا ہے
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ
مؤمن تو بس بھائی بھائی ہیں (الحجرات: ۱۰l) لیکن جو شخص اپنے ہی بھائی کا خون بہائے
جو مسجدوں کو جنگ کے اڈے بنائے جو نفرت کو ایمان سمجھے
وہ دراصل دین کے ظاہر سے چمٹا ہوا ضرور ہے مگر باطن سے ابلیسی فکر کا پروردہ ہے
ایسے لوگ چاہے تل ابیب میں ہوں یا کراچی میں دراصل ایک ہی باطن کے نمائندہ ہیں
وہ باطن جو حق سے دشمنی، عدالت سے نفرت اور ظلم کی حمایت پر قائم ہےقرآن کی زبان میں ان کا تعارف کچھ اس طرح سے کرتا ہے
يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ
یہ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے گھروں کو تباہ کرتے ہیں (الحشر: ۲)
یہ آیت یہودِ بنی نضیر کے بارے میں نازل ہوئی تھی، مگر مفہوم ہر اُس قوم پر صادق آتا ہے جو اپنی جڑیں خود کاٹتی ہے۔
آج وہی کردار بعض مسلم معاشروں میں دہرایا جا رہا ہے اور ہم مشاہدہ بھی کررہیں ہیں ۔
کبھی مذہب کے نام پر، کبھی عقیدے کے تحفظ کے بہانے، مگر نتیجہ وہی امت کا شیرازہ بکھر رہا ہے دشمن خوش ہو رہا ہے۔
یہی فکر آج نتن یاہو کے اسرائیل میں بھی کار فرما ہے
اور یہی فکر ان مسلم معاشروں میں بھی دکھائی دیتی ہے جہاں مذہب کو طاقت، نفرت اور قتل کا جواز بنا دیا گیا ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ ایک نے یہودیت کے لبادے میں اسے اپنایا ہے،
اور دوسرا اسلام کے نام پرحقیقی اسلام کا موقف اسلام جیسا کہ قرآن اور اہل بیتؑ نے سکھایا ظلم کے ہر چہرے کے خلاف ہے
چاہے وہ یہودی مظالم کے نام پر ہو یا مسلم تکفیر کے نام پرامام علیؑ نے فرمایا
الظُّلمُ مِن شِيمِ النُّفوسِ، فَإِن تَجَاوَزتْهُ فَهُوَ مِن كَرَمِ الطَّبعِ
ظلم نفوس کی خصلت ہے، مگر جو اس سے بلند ہو جائے وہ شرافتِ طبع کا مظہر ہے۔
لہٰذا وہ مسلمان جو عدل، عقل، اور رحمت محمدیؐ سے منہ موڑ لے
وہ عملاً اسی صف میں جا کھڑا ہوتا ہے جہاں اسرائیلی صیہونی کھڑا ہے۔
اصل اور حقیقت میں دیکھا جائے تو
نہ نتن یاہو کا مسئلہ یہودیت ہے،
اور نہ اورنگزیب فاروقی کا مسئلہ اسلام ہےان دونوں کا مسئلہ باطن کی اسرائیلیت ہے
وہ ذہن جو دین کو ظلم کا جواز بناتا ہے
اور نفرت کو ایمان کا متبادل سمجھتا ہےیہ دونوں ایک ہی فکری مکتب کے شاگرد ہیں وہ مکتب جو شیطان نے کھولا تھا، جس کا پہلا سبق یہی تھا
أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ
میں اس سے بہتر ہوں۔
05/09/2025
اتحاد امت؛ وقت کی سب سے بڑی ضرورت!
حوزہ/ہفتۂ وحدت اسلام کے مختلف فرقوں کے درمیان اتحاد اور اتفاق کے فروغ کے لیے منایا جانے والا ایک خاص ہفتہ ہے؛ اس ہفتے کا مقصد مسلمانوں کو اپنے اختلافات کو بھلا کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانا اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہے۔
✒️تحریر: مولانا علی مرتضیٰ حیدری
مکمل مضمون یہاں پڑھیں👇
https://ur.hawzahnews.com/xdZ6g
جوائن واٹس ایپ گروپ👇
https://chat.whatsapp.com/JABoANox7Hy7WFyeuRBTzP
*اتحاد امت وقت کی سب سے بڑی ضرورت*
*تحریر علی مرتضیٰ حیدری*
ہفتہ وحدت اسلام کے مختلف فرقوں کے درمیان اتحاد اور اتفاق کے فروغ کے لیے منایا جانے والا ایک خاص ہفتہ ہے۔ اس ہفتے کا مقصد مسلمانوں کو اپنے اختلافات کو بھلا کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانا اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہے۔
امام خمینیؒ نے اس ہفتے کو وحدت کے طور پر مقرر کیا تاکہ اختلافات کو کم کیا جاسکے اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا جا سکے۔ یہ ہفتہ مسلمانوں کے اتحاداور
محبت کا ایک خوبصورت پیغام ہےہفتہ وحدت کی شروعات امام خمینیؒ نے 1978 میں کی تاکہ 12 تا 17 ربیع الاول، جو کہ نبی کریم ﷺ کی ولادت کا مہینہ ہے، کو مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد کا پیغام دیں اور فرقہ واریت کے خاتمے کی کوشش کریں۔
یاد رہے اسلام ایک ایسا دین ہے جو اتحاد، بھائی چارے اور امن کا درس دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے"وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَلَا تَفَرَّقُوا"(آل عمران:103)
یعنی "اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔
آج جب امت مسلمہ اندرونی اختلافات، فرقہ واریت، اور بیرونی سازشوں کا شکار ہے، تو وحدت کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس ہفتے کو صرف تقریبات تک محدود نہ رکھیں بلکہ عملی طور پر اپنے دلوں کو جوڑیں، برداشت اور رواداری کو فروغ دیں، اور اپنے مشترکہ دشمنوں کے خلاف ایک صف میں کھڑے ہوں۔
موجودہ دور میں وحدت کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اسی وحدت کے ذریعے سے ہی فرقہ واریت کے نقصانات سے بچا جاسکتا ہے جان لو مسلمانوں یہ فرقہ واریت امت کی طاقت کو کمزور کر دیتی ہے، داخلی خلفشار اور بیرونی حملوں کا سامنا بڑھا دیتی ہے۔ اس سے مسلمانوں کی سیاسی، سماجی، اور اقتصادی ترقی متاثر ہوتی ہے۔
امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز
آج دنیا میں مسلمانوں کو دہشت گردی، انتہا پسندی، غربت، اور ناانصافی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ان چیلنجز کا مقابلہ صرف اتحاد کے ذریعے ہی ممکن ہے
ہفتہ وحدت ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب مسلمانوں کے لیے رحمت بن کر آئے تھے، لہٰذا ہمیں بھی ان کے اسوہ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے محبت، احترام، اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
مسلمانوں کے درمیان اتحاد نہ صرف دینی تقاضا ہے بلکہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت بھی۔ اگر ہم ایک امت بن جائیں تو کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔ آئیے! ہفتہ وحدت کے موقع پر عہد کریں کہ ہم نفرتوں کو دفن کریں گے، اور محبت، بھائی چارے، اور یگانگت کو فروغ دیں گے جان لو!
اتحاد امت ہی مسلمانوں کی کامیابی کی کنجی ہےہمیں نفرت نہیں، محبت پھیلانی چاہیے۔
اس پورے موضوع کا خلاصہ کرنا چاہیے تو ہمیں علامہ محمد اقبالؒ نے وحدت امت کی اہمیت اور مسلمانوں کی یکجہتی کو بہت خوبصورت الفاظ میں بیان کیا ہے۔
منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرمِ پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کیا بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک!
یہی پیغام ہمیں فرقہ واریت کے سائے سے نکل کر محبت، اتحاد، اور اخوت کی روشنی میں جینے کی ترغیب دیتا ہے۔ اگر ہم اس پیغام کو دل سے اپنائیں تو امت مسلمہ کی کامیابی یقینی ہے۔
📧 Email: [email protected]
📱 Contact: 0343-5330201
13/08/2025
Al-Mehdi Online Quran Academy
قرآن، عقائد، اخلاق و دعاؤں کا مکمل نصاب، ہر عمر کے لیے!
Al-Mehdi Online Quran Academy ایک مستند، قابلِ اعتماد اور تربیت یافتہ آن لائن ادارہ ہے، جہاں:
بچوں، خواتین اور مردوں کے لیے الگ الگ اساتذہ کی سہولت
خواتین کے لیے خانم ٹیچر
مردوں کے لیے مرد اساتذہ
تدریس کے مراحل:
قرآن کریم کی تعلیم تجوید و قراءت کے ساتھ
صحیح تلفظ و لہجے میں تقریب کے ساتھ قرآن پڑھنا
ابتدائی و متوسطہ سطح کے شرعی مسائل
دعائیں اور ان کے معانی
اخلاقی تربیت اور اسلامی آداب
فیس صرف: 4000 روپے ماہانہ
📱 رابطہ:
0343-5330201
آن لائن کلاسز کا آغاز آج ہی کری*!
دین سیکھیں، اپنے آپ کو اور اپنی نسلوں کو قرآن سے جوڑیں
02/07/2025
جنگ بندی یا چال؟
اسرائیل کے پیچھے چھپی سازشیں
تحریر: علی مرتضیٰ حیدری
جب اسرائیل جیسا غاصب، جارح اور خونخوار ریاست اچانک جنگ بندی کی بات کرے تو یہ سوال لازماً پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ واقعی امن کی طرف پیش قدمی ہے یا ایک نئی سازش کا آغاز؟
اس وقت جب اسلامی مزاحمت نے ایک بڑی سطح پر اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا ہے، جنگ بندی کا اعلان ایک سادہ فیصلہ نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ایک گہری چال پوشیدہ ہے۔
پہلی چال اسٹریٹجک وقفہ وقتی سانس لینے کی چال
اسرائیل کے فوجی اور اسلحہ خانے اس وقت شدید دباؤ میں ہیں۔ حزب اللہ، حماس، اور ایران کے جوابی حملوں نے اس کی فوجی قوت کو زخم دیے ہیں۔ جنگ بندی اس وقت ایک اسٹریٹجک وقفہ ہے تاکہ
زخمی فوجیوں کو پیچھے ہٹایا جا سکے
بکھری ہوئی صفوں کو منظم کیا جا سکے
اسلحہ اور لاجسٹک نظام دوبارہ مضبوط کیا جائے یہ کوئی امن پسندی نہیں، بلکہ میدان سے وقتی فرار ہے۔
دوسری چال یہ بھی ممکن ہے کہ عالمی فریب کاری اور پروپیگنڈہ
اسرائیل کی مہارت صرف اسلحے میں نہیں، میڈیا وار میں بھی ہے۔
جنگ بندی کا اعلان
دنیا کو یہ باور کرانے کے لیے ہے کہ اسرائیل تو امن چاہتا ہے
اسلامی مزاحمت کو دہشتگرد ثابت کرنے کی کوشش امریکہ و یورپ کو مطمئن کرنا کہ وہ کشیدگی کم کر رہا ہےیہ جنگ نہیں، میڈیا کے ذریعے ذہنوں پر قبضہ ہے۔
تیسری چال مزاحمت کی صفوں میں تزلزل پیدا کرنااس وقت مزاحمتی بلاک متحد ہے۔ جنگ بندی کا اعلان ایران، حزب اللہ اور فلسطینی گروہوں کے درمیان بدگمانی پیدا کر سکتا ہے
بعض کمزور دل افراد اسے اسرائیل کی جیت سمجھ سکتے ہیں سیاسی محاذ پر اختلافات کو جنم دے سکتا ہے مقصد دشمن کے اندرونی توازن کو توڑنا، بیرونی حملے سے زیادہ خطرناک سازش۔
چوتھی چال خفیہ معلومات اکٹھی کرنا – ایک خاموش حملہ اسرائیل کی انٹیلیجنس ایجنسی موساد اپنی مہارت کے لیے مشہور ہے جنگ بندی کی آڑ میں جاسوسی کارروائیاں بڑھائی جا سکتی ہیں مزاحمتی مراکز، نقل و حرکت، و کمانڈ سسٹمز کو شناخت کیا جا سکتاہےبظاہرخاموشی، درحقیقت معلوماتی حملہ پانچواں زاویہ: بڑا حملہ تیار کرنا – دھوکے کا سکوت تاریخی طور پر اسرائیل ہمیشہ جنگ بندی کے فوراً بعداچانک بڑے حملے کرتا ہےنئی ٹیکنالوجی، یا بین الاقوامی مدد کا انتظار کرتا ہےدشمن کو غافل کرکے آخری وار کرتا ہے سکوت سکون نہیں، بلکہ طوفان سے پہلے کا سکوت۔
چھٹی چال سیاسی فائدے کا حصول جنگ بندی اسرائیل کے اندرونی سیاسی فائدے کے لیے بھی ہو سکتی ہےحکومت کی مقبولیت میں اضافہ
معاہدوں کے لیے وقت حاصل کرنا اندرونی احتجاجوں کو وقتی طور پر دبانا۔
نتیجہ جنگ بندی کا مطلب جنگ کا خاتمہ نہیں یہ صرف ایک سسپنس ہے، جنگ کی نئی قسط سے پہلے کا فاصلہ۔ اگر اسلامی دنیا نے اس دھوکہ کو نہ پہچانا تو دشمن ایک بار پھر ہمیں بے خبری میں مارے گا۔
قرآن مجید ہمیں اس بارے میں یہ پیغام دیتا ہے
وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی مائل ہو جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو، بیشک وہ خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے
(سورہ انفال، آیت 61)
مگر ساتھ ہی امام علیؑ کا قول ہمیں یاد دلاتا ہے:
الحرب خدعة
جنگ چالاکی کا نام ہے
ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم دشمن کی ہر چال، ہر سازش کو سمجھیں، اپنے اتحاد کو محفوظ رکھیں اور بصیرت کے ساتھ ہر قدم اٹھائیں
یہ صرف جنگوں کا زمانہ نہیں، یہ حق و باطل کی شناخت کا زمانہ ہے۔