Rayyan Halal Guide

Rayyan Halal Guide Halal ; is the Way of Peaceful life !

05/06/2026

*📜 فقہیات حلال*

*🎯 مشینی ذبیحہ کی مختصر تاریخ اور اس کے شرعی اصول*

*مشینی ذبیحہ کی تاریخ* (Mechanical Slaughter)
یہ ذبح کا ایک جدید طریقہ کار ہے جس میں *جانوروں کو ذبح کرنے سے قبل مشینوں* اور *تکنیکی آلات* کے ذریعے ذبح کیا جاتا ہے، مشینی ذبیحہ کا آغاز 19 ویں صدی کے اواخر اور 20 ویں صدی کے اوائل میں ہوا، چنانچہ *امریکہ* میں *1900 کے اوائل* میں یہ شروع ہوا، جہاں *کلیئرنس کیٹل* نے *میکینکل سلاٹرنگ / ذبح* کا آغاز کیا۔
سنہ *1906* میں دی میٹ انسپکشن ایکٹ *(The Meat Inspection Act)* کے نفاذ کے بعد امریکہ میں گوشت کی پروسیسنگ کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے مشینی ذبیحہ کو مزید اپنایا گیا، اس قانون کے تحت گوشت کی پروسیسنگ کو معیاری بنایا گیا، اور اس کے بعد یورپ اور دوسرے ممالک میں بھی مشینی ذبیحہ کے طریقے اپنائے گئے۔
چنانچہ *یورپ* اور *انگلینڈ* میں بھی 20 ویں صدی کے اوائل میں یہ طریقہ ذبح رائج ہوا، 1920ء اور 1930ء کے دوران گوشت کی پروسیسنگ میں مشینی طریقے تیزی سے اپنائے گئے اور *یورپ* کے مختلف ممالک میں یہ عمل معمول بن گیا، مشینی ذبح کے عمل نے گوشت کی صنعت میں انقلاب برپا کیا، اور اس کے ذریعے بڑے پیمانے پر گوشت کی پیداوار کو ممکن بنایا گیا۔
1920ء میں *صنعتی انقلاب* اور *میکانیزیشن* کے بڑھتے ہوئے رجحان نے گوشت کی پروسیسنگ کے طریقوں میں تبدیلیاں اختیار کیں۔

*🎯 مقاصد و اہداف*
مشینی ذبح کے عمل سے مندرجہ ذیل کے مقاصد مطلوب تھے :

- *پیداوار میں اضافہ*
مشینی ذبح کے ذریعے زیادہ مقدار میں گوشت تیز رفتاری سے تیار کیا جاسکتا ہے۔

- *معیاری پروسیسنگ*
مشینی ذبح کے ذریعے گوشت کی پروسیسنگ کو معیاری اور محفوظ بنایا گیا۔

- *وقت کی بچت*
اس طریقہ نے ذبح کے عمل کو تیز اور مؤثر بنایا، جس سے وقت اور محنت کی بچت ہوئی۔

- *صفائی اور حفظان صحت*
مشینوں کے استعمال سے گوشت کی پروسیسنگ میں صفائی کے معیار کو بہتر بنانے اور انسانی ہاتھوں کے کم سے کم استعمال سے صحت کے خطرات کم کرنا بھی پیش نظر تھا۔

- *انسانی خدمت کا متبادل*
کم سے کم انسانی خدمات کے حصول کے پیش نظر اور ایک جیسی کٹنگ والا یہ کام مشین سے لیا جانے لگا جو کئی ہاتھوں کے ساتھ کرنے سے مختلف اور بے جوڑ رہتا۔
سو مندرجہ بالا مقاصد کو مشین کے ساتھ پورا کرنے کا کام شروع کیا گیا۔

*🎯 مشینی ذبیحہ کے شرعی اصول*
اس موضوع پر تفصیلی تحریریں لکھی جاچکی ہیں، یہاں چند اہم نکات پر توجہ دلوائی جارہی ہے۔

*① جانور کا شرعی طریقے سے ذبح ہونا:*
*The Animal Must Be Slaughtered According to Islamic Method*

جانور کا ذبح اسلامی طریقے سے ہونا ضروری ہے، یعنی چار رگوں (نالیوں) میں سے کم از کم کم تین نالیاں کٹ جائیں :
*حلقوم* یعنی سانس کی نالی *مری* یعنی غذا کی نالی
*ودجین* (ودجٌ ؛ اس کا مفرد ہے) یعنی دونوں طرف خون کی نالی
ان چار میں سے تین کا کٹ جانا بھی حلال ہونے کے لئے فقہ حنفی میں کافی ہے۔ (فتاوی بینات 399/4) البتہ بہتر اور افضل یہ ہے کہ چاروں نالیاں کٹ جائیں، فقہ شافعی اور حنبلی میں ان چاروں نالیوں کا کٹنا لازم ہے۔
مقصد یہ ہے کہ ان کے کٹنے سے خون کی مکمل نکاسی ہو اور جانور کا ذبح شرعی اصولوں کے مطابق ہو۔
📚 امداد الاحکام (317/4) میں یہ بھی مذکور ہے کہ موضع ذبح چار چیزیں ہیں :
(۱) حلقوم (۲) مری (۳) ودجین پس اگر ذبح فوق العقدہ میں ان چار میں سے تین کٹ جائیں تو ذبیحہ حلال ہے ورنہ حرام شمار ہوگا۔
نیز فتاوی خلیلیہ میں ہے کہ ذبح فوق العقدہ میں علماء کا اختلاف ہے، بعض حضرات عدم جواز اور بعض حضرات جواز طرف گئے ہیں اور ایسے تعارض کے وقت حلت و حرمت کے درمیان حرمت کو ترجیح ہوتی ہے، لہٰذا ایسی صورت جانور میتہ اور مردار ہونا چاہیئے، احتیاط ہر حال میں اولیٰ ہے۔
چنانچہ فتاوی محمودیہ (121/27) میں یہ لکھا ہے کہ "حق بات یہ ہے کہ اصل مسئلہ میں کوئی بڑا اختلاف نہیں ہے بلکہ رائے اور تعبیر میں فرق ہے یعنی اکثر رگوں کا قطع ذبح فوق العقدہ سے حاصل ہوجاتا ہے، یا نہیں؟ حضرت مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوری رحمہ اللہ نے اس بات کو اختیار کیا ہے کہ وہ حلال ہے، اس لئے کہ ذبح فوق العقدہ سے اکثر رگوں کا قطع حاصل ہوجاتا ہے، اور فرمایا کہ میں نے خود اس کا مشاہدہ کیا تو ایسا ہی پایا۔ (مسئلہ ہذا میں سائل نے استفتاء میں کئی کتب فقہ کے اہم حوالے پیش کئے ہیں جو قابل مطالعہ ہیں)
سو مشینی ذبیحہ میں اس کی طرف بھی دھیان ہونا چاہیئے کہ ہاتھ سے کٹنے میں پھر بھی تیّقن جلدی ہوجاتا ہے، مشینی ذبح میں بسا اوقات کوئی رگ ، نالی کٹنے سے رہ جاتی ہے۔

*② اللہ تعالی کا نام لینا:*
*Mentioning the Name of Allah*

ذبح کرنے سے پہلے *اللہ کا نام* لینا ضروری ہے، قرآن کریم میں ارشاد ہے :
﴿وَلَا تَأۡكُلُوا۟ مِمَّا لَمۡ یُذۡكَرِ ٱسۡمُ ٱللهِ عَلَیۡهِ وَإِنَّهُۥ لَفِسۡقࣱۗ﴾ [الأنعام ١٢١]
سو ذابح کو *"بِسْمِ اللهِ أَکْبَرُ"* کہنا چاہیئے اور اس کے بعد ذبح کرنا چاہیے۔
تاہم صرف *بِسْمِ الله* کہنا بھی کافی ہے، خواہ کسی زبان میں کہے اور *بِسْمِ الله اَلله اَکْبَرْ* کہنا مستحب ہے۔ (فتاوی محمودیہ 109/26)
"المستحب أن یقول بإسم اللہ اللہُ اکبر" (زیلعی ۲۸۹)
کتاب النوازل (451/14) میں یہ بھی لکھا ہے کہ ہر ذبیحہ پر الگ سے بسم اللہ پڑھنا لازم ہے، لہٰذا جن جانوروں (خاص کر چھوٹے جانور مرغیوں) پر ذبح کرتے وقت قصداً بسم اللہ پڑھنا چھوڑ دیا گیا، تو وہ شرعاً حلال نہ ہونگے، مشینی عمل کے ذریعہ بسم اللہ کا ہر جانور پر پڑھنے کے حوالے سے مسئلہ آتا ہے، سو اِس بارے میں احتیاط لازم ہے، اور ہر ذبیحہ پر خیال کرکے بسم اللہ پڑھنا ضروری ہے، نیز ایک بسم اللہ کئی ذبیحوں کے لئے کافی نہ ہوگی۔
وإذا أراد أن یذبح عددًا من الذبائح لم تجزئه التسمیة الأولیٰ عما بعدها۔ (الفتاویٰ التاتارخانیة، کتاب الذبائح / الفصل الرابع فیما یتعلق بالتسمیۃ علی الذبح ۱۷؍٤٠١ رقم: ۲۷٦٣١ زکریا)

*③ جانور کو بے ہوش کرنا:*
*Stunning the Animal*

مشینی ذبیحہ کے طریقہ میں بعض اوقات جانوروں کو ذبح سے پہلے *بے ہوش* کرنے کے لئے *الیکٹرک کرنٹ* یا *گن* کا استعمال کیا جاتا ہے، اس کو *اسٹننگ* کہتے ہیں، اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ جانور کو آسانی سے ذبح کیا جاسکے، جبکہ شریعت میں اس کی کوئی پابندی نہیں ہے کہ جانور کو ذبح کرنے سے پہلے بے ہوش کیا جائے بلکہ اصل یہی ہے کہ جانور *ذبح کرنے سے پہلے* بے ہوش نہیں کرنا چاہیئے، بلکہ جانور *ہوش* میں ہو، اب اگر کسی ملک کے قانون میں *اسٹننگ* لازم ہے تو بعض علماء نے اس کی مشروط اجازت دی ہے :
➊ اس طرح ذبح کرنے سے واقعةً جانور کو کم تکلیف ہوتی ہو، یہ بات یقین کے درجہ میں ہو۔
➋ اس عمل سے جانور کی موت کا خطرہ یا اندیشہ نہ ہو۔
ایک اور بات یہ بھی لکھی گئی ہے کہ ہر جانور کو کرنٹ دینے کا پیمانہ ایسا ہو کہ جس کا وہ تحمل کرسکے، سو بڑے چھوٹے جانور میں مختلف وولٹیج کو *معیارات* میں شامل کیا گیا ہے۔

خلاصہ یہ کہ مشینوں کے ذریعہ ذبح کرنے کے لئے اگر مختلف غیر مسلم ممالک میں مختلف طریقے رائج ہیں، اس کے لئے قاعدہ کلیہ کے طور پر اتنا سمجھ لینا ضروری ہے کہ *مشینی ذبیحہ* میں اگر اسلامی ذبیحہ کے ارکان و شرائط پورے ہوجاتے ہوں، مثلاً
➊ تیز دھار چھری کے بٹن کو دبانے والا مسلمان ذبح کرنے کی نیت سے ذبح کرتے وقت ہر جانور پر الگ الگ بسم اللہ، اللہ اکبر پڑھتا ہو۔
➋ چاروں رگیں حلقوم مری اور ودجین کٹ جاتی ہوں۔
➌ جانور کی اسٹننگ کے دوران موت واقع نہ ہوتی ہو۔
تو اس صورت میں ذبیحہ حلال ہوگا، ورنہ حرام ہوگا۔ (مستفاد : فتاوی محمودیہ 159/26)

یہ بھی واضح رہے کہ پاک و ہند کے مفتیان کرام نے مشینی ذبح کی بجائے ہاتھ سے ذبح کو ترجیح دی ہے کہ یہی اصل اور امر تعبدی ہے، مغربی ممالک کے علمائے کرام نے ملکی قوانین کے پیش نظر شرائط معتبرہ عند الشرع کے بعد اجازت دی ہے، سو اصل ہاتھ کا ذبح ہونا ہے، بوقت ضرورت دوسری طرف جانے کی گنجائش ہے۔
(مزید تفصیل کے لئے راقم کی کتاب *فقہ الحلال* اور مندرجہ ذیل کتب فتاوی دیکھیں:
📚 فتاوی محمودیہ 534/9، فتاوی بینات 434/4، فتاوی حقانیہ 598/6، فتاوی رحیمیہ 74/2، فقہی مقالات 155/4، کتاب النوازل جلد 14)

✍️ مفتی سفیان بلند
مدیر معهد الإمام سفیان الثوری
🗓️ 04 جنوری 2025ء | السبت

❤️ ✍🏻ㅤ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ

*🌧️ شعارنا : کُن مِفتـَــاحاً للخَیـــــرِ*
*🤲 دُعاؤُنا : دُمتُم بهِدَايةٍ و عَافِيـةٍ*

*🌏 دارالریان اکادمی آن لائن*
(علوم نبوت کی فکری درســگاہ)

*🌎 Halal and Peace together*Make the World beautiful and Peaceful with Halal.*فقہیات حلال واٹس ایپ چینل*https://whatsapp...
28/04/2026

*🌎 Halal and Peace together*

Make the World beautiful and Peaceful with Halal.

*فقہیات حلال واٹس ایپ چینل*
https://whatsapp.com/channel/0029VaDP5U5GU3BLDef28r1X
زیر نگرانی :
مفتی سفیان بلند حفظہ اللہ
رئیس دارالریان اکادمی آن لائن
دارالافتاء معهد الإمام سفیان الثوری

📺 تعارفی ڈاکومنٹری
https://youtu.be/4Cs3jXgRMqo?si=yQCyxr6-gZXqlnuT

*🎯 سوشل میڈیا لنک*

1️⃣ *YouTube 📺*
https://youtube.com/

2️⃣ *WhatsApp Channel📱*
https://whatsapp.com/channel/0029VaCiu530lwgniRHfvt0l

3️⃣ *Facebook (Official)*
https://facebook.com/Muftisufyanbuland02

4️⃣ *Darrurrayyan Page*
https://facebook.com/darrurrayyan

5️⃣ *Mahad Sufyan Saori*
https://facebook.com/mahadsufyansaori

6️⃣ *Rayyan Business Awareness*
https://www.facebook.com/rayyanbusinessawareness

7️⃣ *Rayyan Halal Guide*
https://www.facebook.com/rayyanhalalguide

*🎯 پانچ چینل | اصلاح افکار اور تعمیر معاشرہ کے لئے ممکنہ اقدامات*

*① 𝑴𝒖𝒇𝒕𝒊 𝑺𝒖𝒇𝒚𝒂𝒏 𝑩𝒖𝒍𝒂𝒏𝒅 𝑶𝒇𝒇𝒊𝒄𝒊𝒂𝒍*
حالیہ حالات، واقعات، مشاہدات اور مختلف امور پر دینی رہنمائی کے لئے
https://whatsapp.com/channel/0029VaCiu530lwgniRHfvt0l

*② 𝑩𝒖𝒍𝒂𝒏𝒅𝒊𝒂𝒕 | 𝑸𝒂𝒅𝒆𝒆𝒎 𝑻𝒂𝒉𝒓𝒊𝒓𝒆𝒆𝒏*
گذشتہ سالوں کی لکھی گئی مختلف تحریریں جو مختلف علمی، فکری، تربیتی اور دینی موضوعات پر مشتمل ہیں !
https://whatsapp.com/channel/0029Vb6a3pa8aKvPchrn4N33

*③ جواہراتِ وحی | علوم قرآنی کی مہک*
https://whatsapp.com/channel/0029Vabx0Ua2UPBLTaHLiD23

*④ جواہراتِ سنت | علوم نبوت کی مہک*
https://whatsapp.com/channel/0029Vb5dYCQAzNbn0kSqfJ2O

*⑤ جواہراتِ فقہیہ | علوم شریعت کی مہک*
https://whatsapp.com/channel/0029Vb6vB07AInPto1IR2X2s

*🎯 ادارے کے 5 بنیادی شعبے:*
• تعلیم (تعلیمی سلسلے)
• تربیت (تزکیہ و اصلاح)
• تحقیق (دارالافتاء)
• فکر و دعوت (سوشل میڈیا اور میدان عمل)
• خدمت (مصارف خیر و مواقع ضرورت)

*🌧 شعارنا: كُن مِفتاحاً للخَيرِ*
*🤲 دعاؤنا: دمتم بهداية و عافية*

*Like, Share & Subscribe Our Channel*

10/04/2026

*📝 معارف الحلال*

*📌 جیلاٹین کا استعمال*

ایک عام سوال یہ کیا جاتا ہے کہ جیلاٹین کا کیا استعمال ہے؟ اور یہ کیا چیز ہے؟ آسان اور سادہ لفظوں میں جیلاٹین کی تعریف اور مفہوم یہ ہے کہ :
جیلاٹین ایک پروٹین کا نام ہے جو جاندار کی ہڈی اور کھال سے حاصل کی گئی کولیجن سے حاصل کی جاتی ہے، اسے جیلینگ ایجنٹ (Gelling Agent) بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا کام ہڈی، کھال جوڑے رکھنا ہے، یہ دیکھنے میں جیلی نما ٹھوس مادہ ہوتا ہے، اس کا ایک ماخذ (source) مچھلی بھی ہے، اب سنا یہ ہے کہ اس کو مرغی سے بھی حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، انگریزی میں اسے دو طریقوں سے لکھا جاتا ہے :
Gelatin / Gelatine
یعنی جمنے والی چیز، اردو میں اسے جیلاٹن، جیلاٹین، جلیٹن، جیلیٹین لکھا جاتا ہے، عرف میں زیادہ جیلاٹین لکھنا معروف ہے، ہم جب پائے یا نہاری کھاتے ہیں تو ہمارے ہاتھ چکناہٹ اور چپکاہٹ محسوس کرتے ہیں، یہ بھی جیلاٹین ہی ہے۔

پھلوں سے جو جیلنگ ایجنٹ لیا جاتا ہے، وہ پیکسن (Pectin) کہلاتا ہے اور یہ جیلاٹن کا متبادل ہے، تاہم اسے جیلاٹن کہنا درست نہیں۔

*📌 غذائی مصنوعات کی تیاری میں*
مٹھائی کی اشیاء، آئس کریم
پھلوں کے جوس، دہی، پنیر اور مکھن، ملک ڈرنک، ڈیسرٹ، جام، جیلی اور ڈبل روٹی پر لگانے والی دوسری مصنوعات، مٹھائی، ٹافیاں اور چیونگم، گوشت سے بنی مصنوعات

*📌 دوا سازی کی مصنوعات*
ہارڈ شیل کیپسول
سافٹ شیل کیپسول
خون کا پلازمہ
گولیاں
کوٹڈ گولیاں
جیلاٹین سپونج
بالوں کی نگہداشت کی اشیاء
جلد کی نگہداشت کی اشیاء
خوبصورتی کے لئے اشیاء

*فوٹو گرافک جیلاٹین درج ذیل مصنوعات کے بنانے میں استعمال ہوتی ہے*
فلم رول
تصویر کا پرنٹ

*ٹیکنیکل جیلاٹین درج ذیل میں استعمال ہوتی ہے*
کاغذ کی صنعت
پرنٹ کی مصنوعات
لیبارٹری کی اشیاء
ماچس کی صنعت
دھات کی صنعت

خلاصہ یہ کہ جیلاٹین ایک اہم جزو ترکیبی ہے لیکن اس کا حکم مشبوہ (مشتبہ/ مشکوک) ہے جب تک کہ اس کی اصل / ماخذ (Source) معلوم نہ ہوجائے، کیونکہ یہ خنزیر سے بھی حاصل کیا جاتا ہے اور گائے سے بھی، کسی پروڈکٹ میں جیلاٹین ہو اور اس کے حلت کا پتہ نہ چلے تو اس کو بلا تحقیق استعمال سے گریز فرمائیں !

✍️ مفتی سفیان بلند
🗓️ 17 اپریل 2022ء

*🎯 شعارنا : کُن مِفتـَــاحاً للخَیرِ*
*🌍 معهد الإمام سـفیان الثـوری*
(اصلاحِ معاشرہ کی فکری درسگاہ)

10/04/2026

*📜 معارف الحلال*

*📌 غیر مسلم ممالک کی مصنوعات کی بابت سوال کرنے کا طریقہ اور تربیتی امور*

غیر مسلم ممالک میں رہنے والے اکثر مختلف پروڈکٹ کی تصویر بھیج کر یا چکن یا میٹ کی بابت سوال کرتے ہیں، اس پر یہ ہدایات نوٹ کرلیں :

1- دنیا کی یا کسی بھی ملک کی ساری پروڈکٹ کی حلت و حرمت کا علم کسی بھی ماہر سائنٹسٹ، فوڈ ٹیکنالوجسٹ، شریعہ ایکسپرٹ اور حلال آڈیٹر کو بھی نہیں ہوتا، اس لئے یا تو حلال کا مستند و معتمد لوگو دیکھیں یا احتیاط کریں۔

2- مفتیان کرام ، ماہرین شریعت ہیں، ماہرین فوڈ و غذائی مصنوعات نہیں ہیں، وہ پروڈکٹ کی بجائے شرعی اصولی کی روشنی میں ہی جواب دیتے ہیں، ان کو پروڈکٹ کی تصویر بھیج کر سوالات کرنے کی بجائے اس پروڈکٹ کے اجزائے ترکیبی لکھ کر بھیج کر اس کا حکم معلوم کریں !!

3- عوام الناس کو غیر مسلم ممالک کے لحوم ثلاثہ یعنی چکن یا میٹ یا بیف پر یہ اصولی جواب دیں :
ہر وہ پروڈکٹ جس میں کوئی حیوانی جزو (Animal Ingredient) شامل ہو، جب تک وہ کسی مستند مسلم حلال باڈی سے سرٹیفائڈ نہ ہو، اس کو استعمال کرنے سے گریز فرمائیں!

✍️ مفتی سفیان بلند
🗓️ 23 مارچ 2022ء

*🎯 شعارنا : کُن مِفتـَــاحاً للخَیرِ*
*🌍 معهد الإمام سـفیان الثـوری*
(اصلاحِ معاشرہ کی فکری درسگاہ)

10/04/2026

*📜معارف الحلال*

*🎯 جانور کے بعض اعضاء*

اوپر کھانے کی نالی (مری / Esophagus) اور نیچے سانس کی نالی (حلقوم / قصبة الهواء / Throat) نظر آ رہی ہے، طلبہ کتب فقہ قربانی کے جانور میں اس کا مشاہدہ ضرور کریں۔
ذبح کا بہتر اور متفق علیہ طریقہ یہ ہے کہ چار رگیں (حلقوم، مری، ودجان) کاٹی جائیں اور اگر ان میں سے کوئی بھی تین رگیں کاٹی جائیں تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ذبیحہ حلال ہو جاتا ہے۔ (فتاوی رحیمیہ)

▪︎ وعروقه الحلقوم، والمري (هو مجرى الطعام والشراب)، والودجان (مجرى الدم) وحل الذبوح بقطع أي ثلاث منها إذ للأكثر حكم الكل. (درمختار مع شامی، ص٢٥٦/٢٥٧، ج٥، کتاب الذبائح)

▪︎ والعروق التي قطع في الذكاة اربعة: الحلقوم والمري والودجان....إلى قوله وعندنا إن قطعها أي الأربع حل الأكل، وإن قطع اكثرها فكذلك، عند أبي حنيفة رحمه الله إذا قطع الثلث أي الثلاث كان يحل. (هداية اخيرين، ص٤٢١، ج٤، كتاب الذبائح)

✍️ مفتی سفیان بلند
🗓️ 18 اپریل 2022ء

💙 ✍🏻ㅤ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
*🎯 شعارنا : کُن مِفتـَــاحاً للخَیرِ*
*🌍 معهد الإمام سـفیان الثـوری*
(اصلاحِ معاشرہ کی فکری درسگاہ)

10/04/2026

*🎯 حلال جانور کی سات چیزیں کھانا منع ہے*

۱) دمِ مسفوح ، یعنی بہنے والا خون
۲) پیشاب کی جگہ (نر و مادہ کی)
۳) خصیتین (فوطے / کپورے)
٤) پاخانے کی جگہ
٥) غدود (سخت گوشت)
۶) مثانہ (پیشاب کی تھیلی)
٧) مرارہ (اردو میں پتّا کہتے ہیں، یہ کلیجی میں تلخ پانی کا ظرف ہے)

صاحبِ کنز اور علامہ طحطاوی رحمہما اللہ نے "حرام مغز" کو بھی حرام اجزاء میں شمار کیا ہے، حرام مغز سے مراد دودھ کی طرح ایک سفید ڈوری ہے جو جانور کی پیٹھ کی ہڈی کے اندر کمر سے لے کر گردن تک ہوتی ہے، لیکن بہرحال یہ مفتی بہ قول کے مطابق یہ حرام نہیں۔

بعض حضرات نے "غدود" کا ترجمہ "حرام مغز" سے کیا ہے جو کہ درست نہیں ہے، فتاوی رشیدیہ میں بھی غدود کا ترجمہ حرام مغز سے نہیں کیا گیا ہے جیسا کہ بعض کو غلط فہمی ہوئی ہے بلکہ حرام مغز کو الگ سے ایک مستقل چیز قرار دیا ہے، جو ان الفاظ سے منقول ہے کہ حرام مغز جو پشت کے مہرے میں ہوتا ہے، اور حرام مغز کو عربی میں "نخاع الصلب" کہا جاتا ہے، غدود نہیں کہا جاتا، مفتی اعظم حضرت مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ (کفایت المفتی ۸؍۲۸٧، جدید مطول ۱۱؍۶٧١؍ میں) لکھا ہے کہ "حرام مغز نہ حرام ہے اور نہ ہی مکروہ ہے، بیچارہ یونہی بد نام ہوگیا ہے"۔
جبکہ غدود ، غدہ کی جمع ہے، اِس کے معنی جمے ہوئے خون کی گٹھلی کے ہیں اور یہ حرام ہے۔ (مستفاد: فتاویٰ محمودیہ ۱٧؍۲۹٧ ڈابھیل)

جہاں تک اوجھڑی کا سوال ہے تو ماکول اللحم جانوروں کی اوجھڑی کھانا حلال اور جائز ہے اور اس کو سات حرام اجزاء میں سمجھنا ناواقفیت پر محمول ہے، فقہائے کرام نے اوجھڑی کو بمنزلہ لحم (گوشت) قرار دیا ہے۔
(مستفاد: فتاوی رشیدیہ قدیم۵۵۳، جدید زکریا ۵۳٤، امداد الفتاوی ٤؍۱۰۲و فتاوی رحیمیہ)

✍️ مفتی سفیان بلند
🗓️ 09 جولائی 2022ء

💙 ✍🏻ㅤ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
*🎯 شعارنا : کُن مِفتـَــاحاً للخَیرِ*
*🌍 معهد الإمام سـفیان الثـوری*
(اصلاحِ معاشرہ کی فکری درسگاہ)

10/04/2026

*📜 معارف الحلال*

*📌 شعبہ حلال میں چار کام کی ضرورت*

پاکستان میں حلال کے شعبہ میں چار کاموں کی ضرورت ہے :

1️⃣ تحقیق : شرعی بھی ہو، سائنسی بھی ہو، عرفی بھی ہو اور قومی زبان یعنی اردو میں بھی ہو۔
2️⃣ تکییف : شرعی بنیاد پر کام کیا جائے جس میں شرع اصل ہو اور سائنس تابع ہو۔
3️⃣ تبویب : کتب فقہ کے ابواب الحلال اور ضرورت کے بقدر سائنسی اسباق مرتب کئے جائیں !
4️⃣ تعلیم : آگہی، تربیت اور تدریب کے مختلف سلسلے جاری کئے جائیں جو ہر نوعیت کے اسٹیک ہولڈرز کی استعداد کے مطابق ہو۔

✍️ مفتی سفیان بلند
🗓️ 18 اپریل 2022ء

💙 ✍🏻ㅤ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
*🎯 شعارنا : کُن مِفتـَــاحاً للخَیرِ*
*🌍 معهد الإمام سـفیان الثـوری*
(اصلاحِ معاشرہ کی فکری درسگاہ)

11/01/2026

*🎯 فقہ الحلال: اصطلاحات، ماخذ اور فکری خاکہ*

حلال آگہی و تحقیقاتی کونسل (HARC) .... پاکستان میں حلال کی تعلیم، تربیت اور تحقیق کا اولین ادارہ ہے جس نے سنہ 2008ء سے "فقہ الحلال" کو موضوع بناکر پورے پاکستان اور بیرون پاکستان "حلال آگہی پروگرام" کو شروع کیا، الحمد پاکستان بھر کے مختلف تعلیمی درسگاہوں اور "تجارتی مراکز" میں ادارہ کی طرف سے حلال آگہی کے سیشن منعقد کئے جاتے ہیں، راقم الحروف بھی اس ادارہ سے سنہ 2010ء سے تاحال منسلک ہے، ہر تعلیمی سال کے اختتام پر دینی مدارس میں فقہ الحلال کے حوالے سے حلال آگہی پروگرام ہوتے ہیں، معهد الخلیل الاسلامی بہادر آباد کراچی میں آج سے تین روزہ ورکشاپ شروع ہوئی، سو راقم کو آج عنوان بالا پر گفتگو کرنے کا موقع ملا، اس پر جو گفتگو کرنے کا موقع ملا، اس کو ایک خاکہ کی صورت میں مرتب کیا ہے :
پاکستان میں فقہ الحلال دراصل شریعتِ اسلامیہ کا وہ اہم باب ہے جو انسان کی روزمرہ زندگی سے براہِ راست متعلق ہے، یہ علم انسان کو اس کے کھانے پینے، داخلی خارجی استعمال کرنے، معاملات اور طرزِ زندگی میں حلال و حرام کے شرعی حدود سے روشناس کراتا ہے اور اسے پاکیزہ، حلال، معاشرتی اور اخلاقی ذمہ داری کے دائرے میں رہنے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

*فقہُ الحلال کا ماخذِ اصلی*
فقہُ الحلال کا بنیادی اور اصل ماخذ وحی ہے، یعنی:
➊ قرآنِ کریم ➋ سنتِ نبویہ ﷺ
ان کے ساتھ ساتھ شریعت کے مسلمہ اصولوں کے تحت:
➌ اجماع ➍ قیاس
بھی احکام کے اثبات اور تطبیق میں معتبر مصادر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یوں فقہ الحلال محض ذوق یا عرف کا نام نہیں بلکہ وحی پر مبنی ایک منضبط فقہی نظام ہے۔

*فقہ الحلال کا دائرۂ کار*
یہ علم انسان کی زندگی کے دو بڑے دائروں میں رہنمائی کرتا ہے:
"داخلی استعمال" یعنی کیا کھایا اور پیا جائے، حدیث شریف میں "مأکل اور مشرب" سے اسی کی طرف متوجہ کیا گیا ہے اور "خارجی استعمال" یعنی کیا لگایا، کیا پہنا، کیا استعمال کیا یا برتا جائے ؟ حدیث نبوی میں "ملبس و غذی بالحرام" کے ارشاد سے اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
اس طرح فقہ الحلال صرف خورد و نوش تک محدود نہیں رہتا بلکہ انسانی زندگی کے پورے عملی نظام کو محیط ہو جاتا ہے۔

*فقہُ الحلال کی بنیادی اصطلاحات*
اس فن کو سمجھنے کے لئے چند بنیادی فقہی اصطلاحات کا ادراک ناگزیر ہے، جن کے بغیر درست فہم ممکن نہیں:
① طاہر / نجس
اشیاء کی پاکی یا ناپاکی کا شرعی معیار۔
② حلال / حرام
جواز اور عدمِ جواز کی قطعی فقہی تقسیم۔
③ طیب / خبیث
وہ اشیاء جو فطرةً و عادةً پسندیدہ اور نافع ہوں یا ناپسندیدہ و مکروہ طبع ہوں۔
④ نظیف / غیر نظیف
صفائی، نفاست اور انسانی ذوقِ سلیم سے مطابقت یا عدمِ مطابقت۔
⑤ مکروہ / مشتبہ / مشبوہ
وہ امور جن میں حرمت تو قطعی نہ ہو مگر احتیاط اور پرہیز مطلوب ہو۔

یہ اصطلاحات فقہ الحلال کی فکری بنیاد فراہم کرتی ہیں اور عملی تطبیق میں رہنمائی کا ذریعہ بنتی ہیں۔

*اسبابِ حرمت*
شریعت نے اشیاء کے حرام ہونے کے چند واضح اسباب بیان کئے ہیں، جن کی معرفت فقہ الحلال میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے، حرمت (لغیرہ) کے پانچ اسباب (مستنبطہ) ہیں:
① نجاست
② اسکار (نشہ آور ہونا)
③ ضرر (جسمانی، ذہنی یا معاشرتی نقصان)
اس میں سمیات (Poisonous) مفترات (Drugs)، مخدرات (مرقدات - Narcotics) کی بحث آتی ہے۔
④ خباثت (طبعی و فطری کراہت)
اس کی پہچان کے تین ذرائع ہیں : ¹ ماہرین شریعت، ² ماہرین غذائی امور، ³ طبیعت سلیمہ
⑤ احترامِ انسانیت (انسانی وقار، اخلاق اور کرامت کے منافی ہونا)
سبعیت (درندگی) کو بھی بعض حضرات نے الگ سے شمار کیا ہے، جبکہ بعض حضرات اس کو نص کے مطابق حرمت لعینہ کے تحت بیان کردیتے ہیں !!
یہ اسباب بتاتے ہیں کہ فقہ الحلال کو صرف ایک قانونی علم نہیں ہے بلکہ اس سے ہماری اخلاقی اور معاشرتی زندگی کا نظام بھی جڑا ہوا ہے۔

*فقہ الحلال کے اجزائے ترکیبی*
فقہُ الحلال میں اشیاء کی تحقیق کے لئے چار بنیادی اجزائے ترکیبی سے گفتگو کی جاتی ہے:
① حیوانات
اس میں اصل حرمت ہے، ہاں اگر جانور حلال ہو اور اس کا شرعی ذبیحہ پایا جائے تو وہ حلال ہے۔
② نباتات
③ معدنیات
④ مصنوعی اجزاء یعنی کیمیائی، صنعتی اور جدید مرکبات
ان تینوں میں اصل حلت ہے، ہاں اگر سکر یا ضرر پایا جائے تو پھر ان کے استعمال کی ممانعت ہے جس کی تفصیل فقہائے امت نے بیان کی ہے۔

ان چاروں اجزائے ترکیبی کی اصل، ترکیب، اثرات اور استعمال کے پہلوؤں کو سامنے رکھ کر شرعی حکم کو مرتب کیا جاتا ہے۔

*خلاصہ*
یہ تمام مباحث فقہ الحلال کا ایک اجمالی مگر جامع خاکہ پیش کرتی ہیں، اگر ان بنیادی اصولوں اور اصطلاحات کو درست طور پر سمجھ لیا جائے تو جزئیات، فروع اور جدید مسائل کا فہم خود بخود آسان ہوجاتا ہے۔
فقہ الحلال محض اشیاء کے حلال یا حرام ہونے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک متوازن فقہی و فکری نظام ہے جو انسان کو پاکیزہ، ذمہ دار اور شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کی راہ دکھاتا ہے۔

✍️ مفتی سفیان بلند
رکن حلال آگہی و تحقیقاتی کونسل پاکستان
شرعی مشیر برائے تعلیم، تجارت اور حلال فوڈ
🗓️ 11 جنوری 2026ء | الأحد

💙 ✍🏻ㅤ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
*🎯 شعارنا : کُن مِفتـَــاحاً للخَیـــــرِ*
*🤲 دُعاؤُنا : دُمتُم بهِدَايةٍ و عَافِيـةٍ*

*🌍 معهد الإمام سفیان الثوری*
(اصلاحِ معاشرہ کی فکری درسگاہ)

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rayyan Halal Guide posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share