05/06/2026
*📜 فقہیات حلال*
*🎯 مشینی ذبیحہ کی مختصر تاریخ اور اس کے شرعی اصول*
*مشینی ذبیحہ کی تاریخ* (Mechanical Slaughter)
یہ ذبح کا ایک جدید طریقہ کار ہے جس میں *جانوروں کو ذبح کرنے سے قبل مشینوں* اور *تکنیکی آلات* کے ذریعے ذبح کیا جاتا ہے، مشینی ذبیحہ کا آغاز 19 ویں صدی کے اواخر اور 20 ویں صدی کے اوائل میں ہوا، چنانچہ *امریکہ* میں *1900 کے اوائل* میں یہ شروع ہوا، جہاں *کلیئرنس کیٹل* نے *میکینکل سلاٹرنگ / ذبح* کا آغاز کیا۔
سنہ *1906* میں دی میٹ انسپکشن ایکٹ *(The Meat Inspection Act)* کے نفاذ کے بعد امریکہ میں گوشت کی پروسیسنگ کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے مشینی ذبیحہ کو مزید اپنایا گیا، اس قانون کے تحت گوشت کی پروسیسنگ کو معیاری بنایا گیا، اور اس کے بعد یورپ اور دوسرے ممالک میں بھی مشینی ذبیحہ کے طریقے اپنائے گئے۔
چنانچہ *یورپ* اور *انگلینڈ* میں بھی 20 ویں صدی کے اوائل میں یہ طریقہ ذبح رائج ہوا، 1920ء اور 1930ء کے دوران گوشت کی پروسیسنگ میں مشینی طریقے تیزی سے اپنائے گئے اور *یورپ* کے مختلف ممالک میں یہ عمل معمول بن گیا، مشینی ذبح کے عمل نے گوشت کی صنعت میں انقلاب برپا کیا، اور اس کے ذریعے بڑے پیمانے پر گوشت کی پیداوار کو ممکن بنایا گیا۔
1920ء میں *صنعتی انقلاب* اور *میکانیزیشن* کے بڑھتے ہوئے رجحان نے گوشت کی پروسیسنگ کے طریقوں میں تبدیلیاں اختیار کیں۔
*🎯 مقاصد و اہداف*
مشینی ذبح کے عمل سے مندرجہ ذیل کے مقاصد مطلوب تھے :
- *پیداوار میں اضافہ*
مشینی ذبح کے ذریعے زیادہ مقدار میں گوشت تیز رفتاری سے تیار کیا جاسکتا ہے۔
- *معیاری پروسیسنگ*
مشینی ذبح کے ذریعے گوشت کی پروسیسنگ کو معیاری اور محفوظ بنایا گیا۔
- *وقت کی بچت*
اس طریقہ نے ذبح کے عمل کو تیز اور مؤثر بنایا، جس سے وقت اور محنت کی بچت ہوئی۔
- *صفائی اور حفظان صحت*
مشینوں کے استعمال سے گوشت کی پروسیسنگ میں صفائی کے معیار کو بہتر بنانے اور انسانی ہاتھوں کے کم سے کم استعمال سے صحت کے خطرات کم کرنا بھی پیش نظر تھا۔
- *انسانی خدمت کا متبادل*
کم سے کم انسانی خدمات کے حصول کے پیش نظر اور ایک جیسی کٹنگ والا یہ کام مشین سے لیا جانے لگا جو کئی ہاتھوں کے ساتھ کرنے سے مختلف اور بے جوڑ رہتا۔
سو مندرجہ بالا مقاصد کو مشین کے ساتھ پورا کرنے کا کام شروع کیا گیا۔
*🎯 مشینی ذبیحہ کے شرعی اصول*
اس موضوع پر تفصیلی تحریریں لکھی جاچکی ہیں، یہاں چند اہم نکات پر توجہ دلوائی جارہی ہے۔
*① جانور کا شرعی طریقے سے ذبح ہونا:*
*The Animal Must Be Slaughtered According to Islamic Method*
جانور کا ذبح اسلامی طریقے سے ہونا ضروری ہے، یعنی چار رگوں (نالیوں) میں سے کم از کم کم تین نالیاں کٹ جائیں :
*حلقوم* یعنی سانس کی نالی *مری* یعنی غذا کی نالی
*ودجین* (ودجٌ ؛ اس کا مفرد ہے) یعنی دونوں طرف خون کی نالی
ان چار میں سے تین کا کٹ جانا بھی حلال ہونے کے لئے فقہ حنفی میں کافی ہے۔ (فتاوی بینات 399/4) البتہ بہتر اور افضل یہ ہے کہ چاروں نالیاں کٹ جائیں، فقہ شافعی اور حنبلی میں ان چاروں نالیوں کا کٹنا لازم ہے۔
مقصد یہ ہے کہ ان کے کٹنے سے خون کی مکمل نکاسی ہو اور جانور کا ذبح شرعی اصولوں کے مطابق ہو۔
📚 امداد الاحکام (317/4) میں یہ بھی مذکور ہے کہ موضع ذبح چار چیزیں ہیں :
(۱) حلقوم (۲) مری (۳) ودجین پس اگر ذبح فوق العقدہ میں ان چار میں سے تین کٹ جائیں تو ذبیحہ حلال ہے ورنہ حرام شمار ہوگا۔
نیز فتاوی خلیلیہ میں ہے کہ ذبح فوق العقدہ میں علماء کا اختلاف ہے، بعض حضرات عدم جواز اور بعض حضرات جواز طرف گئے ہیں اور ایسے تعارض کے وقت حلت و حرمت کے درمیان حرمت کو ترجیح ہوتی ہے، لہٰذا ایسی صورت جانور میتہ اور مردار ہونا چاہیئے، احتیاط ہر حال میں اولیٰ ہے۔
چنانچہ فتاوی محمودیہ (121/27) میں یہ لکھا ہے کہ "حق بات یہ ہے کہ اصل مسئلہ میں کوئی بڑا اختلاف نہیں ہے بلکہ رائے اور تعبیر میں فرق ہے یعنی اکثر رگوں کا قطع ذبح فوق العقدہ سے حاصل ہوجاتا ہے، یا نہیں؟ حضرت مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوری رحمہ اللہ نے اس بات کو اختیار کیا ہے کہ وہ حلال ہے، اس لئے کہ ذبح فوق العقدہ سے اکثر رگوں کا قطع حاصل ہوجاتا ہے، اور فرمایا کہ میں نے خود اس کا مشاہدہ کیا تو ایسا ہی پایا۔ (مسئلہ ہذا میں سائل نے استفتاء میں کئی کتب فقہ کے اہم حوالے پیش کئے ہیں جو قابل مطالعہ ہیں)
سو مشینی ذبیحہ میں اس کی طرف بھی دھیان ہونا چاہیئے کہ ہاتھ سے کٹنے میں پھر بھی تیّقن جلدی ہوجاتا ہے، مشینی ذبح میں بسا اوقات کوئی رگ ، نالی کٹنے سے رہ جاتی ہے۔
*② اللہ تعالی کا نام لینا:*
*Mentioning the Name of Allah*
ذبح کرنے سے پہلے *اللہ کا نام* لینا ضروری ہے، قرآن کریم میں ارشاد ہے :
﴿وَلَا تَأۡكُلُوا۟ مِمَّا لَمۡ یُذۡكَرِ ٱسۡمُ ٱللهِ عَلَیۡهِ وَإِنَّهُۥ لَفِسۡقࣱۗ﴾ [الأنعام ١٢١]
سو ذابح کو *"بِسْمِ اللهِ أَکْبَرُ"* کہنا چاہیئے اور اس کے بعد ذبح کرنا چاہیے۔
تاہم صرف *بِسْمِ الله* کہنا بھی کافی ہے، خواہ کسی زبان میں کہے اور *بِسْمِ الله اَلله اَکْبَرْ* کہنا مستحب ہے۔ (فتاوی محمودیہ 109/26)
"المستحب أن یقول بإسم اللہ اللہُ اکبر" (زیلعی ۲۸۹)
کتاب النوازل (451/14) میں یہ بھی لکھا ہے کہ ہر ذبیحہ پر الگ سے بسم اللہ پڑھنا لازم ہے، لہٰذا جن جانوروں (خاص کر چھوٹے جانور مرغیوں) پر ذبح کرتے وقت قصداً بسم اللہ پڑھنا چھوڑ دیا گیا، تو وہ شرعاً حلال نہ ہونگے، مشینی عمل کے ذریعہ بسم اللہ کا ہر جانور پر پڑھنے کے حوالے سے مسئلہ آتا ہے، سو اِس بارے میں احتیاط لازم ہے، اور ہر ذبیحہ پر خیال کرکے بسم اللہ پڑھنا ضروری ہے، نیز ایک بسم اللہ کئی ذبیحوں کے لئے کافی نہ ہوگی۔
وإذا أراد أن یذبح عددًا من الذبائح لم تجزئه التسمیة الأولیٰ عما بعدها۔ (الفتاویٰ التاتارخانیة، کتاب الذبائح / الفصل الرابع فیما یتعلق بالتسمیۃ علی الذبح ۱۷؍٤٠١ رقم: ۲۷٦٣١ زکریا)
*③ جانور کو بے ہوش کرنا:*
*Stunning the Animal*
مشینی ذبیحہ کے طریقہ میں بعض اوقات جانوروں کو ذبح سے پہلے *بے ہوش* کرنے کے لئے *الیکٹرک کرنٹ* یا *گن* کا استعمال کیا جاتا ہے، اس کو *اسٹننگ* کہتے ہیں، اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ جانور کو آسانی سے ذبح کیا جاسکے، جبکہ شریعت میں اس کی کوئی پابندی نہیں ہے کہ جانور کو ذبح کرنے سے پہلے بے ہوش کیا جائے بلکہ اصل یہی ہے کہ جانور *ذبح کرنے سے پہلے* بے ہوش نہیں کرنا چاہیئے، بلکہ جانور *ہوش* میں ہو، اب اگر کسی ملک کے قانون میں *اسٹننگ* لازم ہے تو بعض علماء نے اس کی مشروط اجازت دی ہے :
➊ اس طرح ذبح کرنے سے واقعةً جانور کو کم تکلیف ہوتی ہو، یہ بات یقین کے درجہ میں ہو۔
➋ اس عمل سے جانور کی موت کا خطرہ یا اندیشہ نہ ہو۔
ایک اور بات یہ بھی لکھی گئی ہے کہ ہر جانور کو کرنٹ دینے کا پیمانہ ایسا ہو کہ جس کا وہ تحمل کرسکے، سو بڑے چھوٹے جانور میں مختلف وولٹیج کو *معیارات* میں شامل کیا گیا ہے۔
خلاصہ یہ کہ مشینوں کے ذریعہ ذبح کرنے کے لئے اگر مختلف غیر مسلم ممالک میں مختلف طریقے رائج ہیں، اس کے لئے قاعدہ کلیہ کے طور پر اتنا سمجھ لینا ضروری ہے کہ *مشینی ذبیحہ* میں اگر اسلامی ذبیحہ کے ارکان و شرائط پورے ہوجاتے ہوں، مثلاً
➊ تیز دھار چھری کے بٹن کو دبانے والا مسلمان ذبح کرنے کی نیت سے ذبح کرتے وقت ہر جانور پر الگ الگ بسم اللہ، اللہ اکبر پڑھتا ہو۔
➋ چاروں رگیں حلقوم مری اور ودجین کٹ جاتی ہوں۔
➌ جانور کی اسٹننگ کے دوران موت واقع نہ ہوتی ہو۔
تو اس صورت میں ذبیحہ حلال ہوگا، ورنہ حرام ہوگا۔ (مستفاد : فتاوی محمودیہ 159/26)
یہ بھی واضح رہے کہ پاک و ہند کے مفتیان کرام نے مشینی ذبح کی بجائے ہاتھ سے ذبح کو ترجیح دی ہے کہ یہی اصل اور امر تعبدی ہے، مغربی ممالک کے علمائے کرام نے ملکی قوانین کے پیش نظر شرائط معتبرہ عند الشرع کے بعد اجازت دی ہے، سو اصل ہاتھ کا ذبح ہونا ہے، بوقت ضرورت دوسری طرف جانے کی گنجائش ہے۔
(مزید تفصیل کے لئے راقم کی کتاب *فقہ الحلال* اور مندرجہ ذیل کتب فتاوی دیکھیں:
📚 فتاوی محمودیہ 534/9، فتاوی بینات 434/4، فتاوی حقانیہ 598/6، فتاوی رحیمیہ 74/2، فقہی مقالات 155/4، کتاب النوازل جلد 14)
✍️ مفتی سفیان بلند
مدیر معهد الإمام سفیان الثوری
🗓️ 04 جنوری 2025ء | السبت
❤️ ✍🏻ㅤ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
*🌧️ شعارنا : کُن مِفتـَــاحاً للخَیـــــرِ*
*🤲 دُعاؤُنا : دُمتُم بهِدَايةٍ و عَافِيـةٍ*
*🌏 دارالریان اکادمی آن لائن*
(علوم نبوت کی فکری درســگاہ)