12/09/2022
یہ 1998 کی بات ھے، مصر میں مشہور ڈانسر فیفی عبدو کا طوطی بولتا تھا، حکومتی ایوانوں سے بزنس کلاس تک سب فیفی کے فین تھے
قاہرہ کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں ڈانس کے بعد فیفی نے شراب پینے کیلئے بار کا رخ کیا
شراب زیادہ پینے کی وجہ سے وہ اپنے ہوش کھو بیٹھی اور بار میں ہنگامہ کھڑا کر دیا
ہوٹل میں وی آئی پیز کی سکیورٹی پر مامور پولیس آفیسر فورا وہاں پہنچ گیا اور مودبانہ انداز میں فیفی سے کہا کہ آپ ایک مشہور شخصیت ہیں اس طرح کی حرکتیں آپ کو زیب نہیں دیتی
یہ آفیسر خوش مزاجی اور خوش اخلاقی کیلئے مشہور تھا
وہ ایک فرض شناس آفیسر تھا
فیفی کو پولیس آفیسر کی مداخلت پسند نہ آئی اس نے نشے کی حالت میں ھی اعلیٰ ایوانوں کا نمبر گھمایا اور پولیس آفیسر کا کہیں دور تبادلہ کروا دیا
اگلی شام جب فیفی کا نشہ اترا اس نے ہوٹل انتظامیہ سے پولیس آفیسر کے متعلق پوچھا اسے بتایا گیا کہ آپ نے اس کا تبادلہ کروا دیا ھے فیفی نے فون گھمایا سرکار نے پولیس آفیسر کو واپس ہوٹل رپورٹ کرنے کا حکم دیا
پولیس آفیسر نے پولیس سے متعلقہ وزیر وجدی صالح کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا
وزیر نے حیرت سے پولیس آفیسر سے پوچھا کہ اس ہوٹل میں ڈیوٹی کرنے کیلئے پولیس آفیسر بڑی بڑی سفارشیں کرواتے ہیں آپ کو دوسرا موقع ملا لیکن آپ استعفیٰ پیش کر رھے ہیں؟
پولیس آفیسر نے تاریخی جواب دیا
"جس ملک میں ایک شرابی عورت کے اشارے پر ٹرانسفر اور ایک رقاصہ کے حکم پر واپسی ھو اس ملک میں کسی غیرت مند کا رہنا عار اور عیب ھے"
چند ماہ بعد اس آفیسر نے مصر ھی چھوڑ دیا