03/03/2026
✍️محمدعمرعابد عفی عنہ
بعض ایّام تاریخ کے اوراق پر صرف ایک تاریخ نہیں ہوتے بلکہ اجتماعی حافظے پر ثبت ایک المیہ بن جاتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ یہ واقعات کس جذبے کے تحت رونما ہوئے؛ سوال یہ ہے کہ کیا ریاستی و عوامی املاک کو نذرِ آتش کرنا، قومی اداروں کی تذلیل کرنا اور قانون کو پامال کرنا کسی بھی مہذب معاشرے میں قابلِ قبول ہو سکتا ہے؟ احتجاج اگر اپنے ہی گھر کو راکھ کر دے تو وہ احتجاج نہیں، خودسوزی کہلاتا ہے۔
یکم مارچ کو سکردو میں پیش آنے والے سانحات—62 برگیڈ کے دفاتر و رہائش گاہوں کی تباہی، گرین گیسٹ ہاؤس (سابقہ PTDC) اور آئی ٹی پارک کا جل جانا، اقوامِ متحدہ کے دفتر و رہائشی عمارت کی مسماری، آرمی پبلک اسکول اور دیگر سرکاری و نجی تنصیبات کا خاکستر ہونا—یہ سب اس امر کی شہادت دیتے ہیں کہ جب جذبات عقل و ذمہ داری سے عاری ہو جائیں تو نتیجہ محض ویرانی ہوتا ہے۔ آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کے زونل ہیڈ آفس اور درجنوں گاڑیوں کی آتش زدگی ہو یا پولیس افسران کی رہائش گاہوں کی بربادی، یہ اعمال کسی بھی طور شہری وفاداری کی علامت نہیں ہو سکتے۔
جو اپنے ہی وطن کو نقصان پہنچائیں، وہ وطن کی خدمت نہیں کر رہے ہوتے۔ ریاست محض سرحدوں کا نام نہیں؛ یہ اعتماد، اداروں کے وقار اور آئینی نظم کا مجموعہ ہے۔ پاکستان کی سالمیت پر ضرب دراصل ہم سب کی مشترکہ بنیادوں کو متزلزل کرتی ہے۔ خصوصاً پاک فوج اور دیگر ریاستی ادارے قومی استحکام کی علامت ہیں؛ ان کی تحقیر یا تنصیبات کی تباہی کسی سیاسی اختلاف کا اظہار نہیں بلکہ اجتماعی مفاد کے منافی عمل ہے۔
بین الاقوامی تناظر میں بھی ہمیں تدبر کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔ اگر دنیا کے کسی خطے میں کشیدگی ہے، اگر کہیں طاقتوں کے مابین تصادم ہو رہا ہے—خواہ اس میں ایران ہو یا امریکہ—تو ہر بحران میں خود کو جھونک دینا دانشمندی نہیں۔ کسی اور کی جنگ کو اپنا معرکہ بنا لینا نہ سفارتی بصیرت ہے، نہ قومی مفاد۔ خارجہ تعلقات جذبات نہیں، مفاد اور توازن کے اصولوں پر استوار ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنے داخلی استحکام، معاشی ترقی اور سماجی ہم آہنگی کو ترجیح دینا ہوگی، کیونکہ کمزور گھر دوسروں کے معرکوں کا ایندھن بن جاتا ہے۔
اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر تخریب اس کا زوال۔ اگر واقعی وطن عزیز ہماری جانوں سے زیادہ عزیز ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم احتجاج کو آئینی حدود میں رکھیں، مکالمے کو فروغ دیں اور قومی یکجہتی کو مقدم جانیں۔ وطن پرستی نعروں سے نہیں، کردار سے ثابت ہوتی ہے؛ اور کردار کا پہلا اصول یہ ہے کہ اپنے ہی گھر کو آگ نہ لگائی جائے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ قانون اپنا راستہ اختیار کرے، مجرم کو سزا ملے اور بے گناہ محفوظ رہیں۔
#محمدعمرعابد
#ابومعاذمعوذ
#رشحات
#پاکــــــــــــــــــستان