10/07/2026
اولاد کے حقوق قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک مفصل مضمون
تعارف
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ جس طرح اسلام نے اولاد پر والدین کے حقوق لازم کیے ہیں، اسی طرح والدین پر بھی اولاد کے بہت سے حقوق عائد کیے ہیں۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ نبوی ﷺ میں اولاد کی بہترین پرورش، تعلیم و تربیت، محبت، عدل اور حسنِ سلوک کی بڑی تاکید کی گئی ہے۔ اگر والدین ان حقوق کو ادا کریں تو اولاد نیک، صالح اور معاشرے کے لیے مفید فرد بن سکتی ہے۔
اولاد کے بنیادی حقوق
1۔ نیک اور صالح شریکِ حیات کا انتخاب
اولاد کا پہلا حق اس کی پیدائش سے پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے کہ والدین نیک، دیندار اور بااخلاق شریکِ حیات کا انتخاب کریں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"عورت سے چار چیزوں کی بنا پر نکاح کیا جاتا ہے… تم دیندار عورت کو اختیار کرو، کامیاب رہو گے۔"
(صحیح بخاری، حدیث: 5090، صحیح مسلم، حدیث: 1466)
اسی طرح مرد کے انتخاب میں بھی دین و اخلاق کو ترجیح دینے کی تعلیم دی گئی ہے۔
2۔ پیدائش پر خوشی کا اظہار
اسلام نے بیٹے اور بیٹی دونوں کی پیدائش کو اللہ تعالیٰ کی نعمت قرار دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جسے چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔"
(سورۃ الشوریٰ: 49)
لہٰذا بیٹی کی پیدائش پر غم یا ناراضی کا اظہار اسلام میں سخت ناپسندیدہ ہے۔
3۔ اچھا نام رکھنا
اولاد کا ایک اہم حق یہ ہے کہ اس کا اچھا اور با معنی نام رکھا جائے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"قیامت کے دن تمہیں تمہارے اور تمہارے باپوں کے ناموں سے پکارا جائے گا، لہٰذا اپنے اچھے نام رکھو۔"
(سنن ابوداؤد، حدیث: 4948)
4۔ عقیقہ کرنا
پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کرنا سنت ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"ہر بچہ اپنے عقیقہ کے بدلے گروی ہوتا ہے، ساتویں دن اس کی طرف سے جانور ذبح کیا جائے، اس کا نام رکھا جائے اور اس کے بال منڈوائے جائیں۔"
(جامع ترمذی، حدیث: 1522)
5۔ محبت اور شفقت
اولاد سے محبت کرنا سنتِ نبوی ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسنؓ کو بوسہ دیا تو ایک شخص نے کہا کہ میں اپنے بچوں کو کبھی بوسہ نہیں دیتا۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
"جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔"
(صحیح بخاری، حدیث: 5997)
6۔ عدل و مساوات
والدین پر لازم ہے کہ تمام بچوں کے ساتھ برابر کا سلوک کریں۔
حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔"
(صحیح بخاری، حدیث: 2587، صحیح مسلم، حدیث: 1623)
7۔ بہترین تعلیم و تربیت
والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری اولاد کی دینی اور دنیاوی تعلیم ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔"
(سورۃ التحریم: 6)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔"
(صحیح بخاری، حدیث: 893، صحیح مسلم، حدیث: 1829)
8۔ نماز کی تعلیم دینا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو اور دس سال کی عمر میں نماز نہ پڑھنے پر (تادیباً) تنبیہ کرو۔"
(سنن ابوداؤد، حدیث: 495)
9۔ حلال رزق کھلانا
والدین کی ذمہ داری ہے کہ اولاد کی پرورش حلال کمائی سے کریں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ پاک ہے اور صرف پاک چیز ہی قبول کرتا ہے۔"
(صحیح مسلم، حدیث: 1015)
10۔ اچھے اخلاق سکھانا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"باپ اپنی اولاد کو اچھے ادب سے بہتر کوئی تحفہ نہیں دے سکتا۔"
(جامع ترمذی، حدیث: 1952)
11۔ جسمانی ضروریات پوری کرنا
اولاد کے کھانے، لباس، علاج اور رہائش کا انتظام کرنا والدین کی شرعی ذمہ داری ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"یہی گناہ کافی ہے کہ آدمی ان لوگوں کو ضائع کر دے جن کا خرچ اس کے ذمہ ہے۔"
(سنن ابوداؤد، حدیث: 1692)
12۔ دینی ماحول فراہم کرنا
والدین کو چاہیے کہ گھر میں قرآن کریم کی تلاوت، نماز، ذکر اور اسلامی اخلاق کا ماحول قائم کریں تاکہ اولاد دین سے وابستہ رہے۔
13۔ دعا کرنا
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا:
"اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد میں سے بھی۔"
(سورۃ ابراہیم: 40)
اولاد کے حقوق کی اہمیت
اولاد اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔
ان کی صحیح تربیت صدقۂ جاریہ ہے۔
نیک اولاد والدین کے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔
اچھی تربیت سے معاشرہ امن، عدل اور اخلاق کا گہوارہ بنتا ہے۔
نتیجہ
اسلام نے والدین کو اولاد کے حقوق ادا کرنے کی سخت تاکید کی ہے۔ نیک نام رکھنا، محبت کرنا، عدل کرنا، حلال رزق کھلانا، بہترین تعلیم و تربیت دینا، نماز اور اخلاق کی تعلیم دینا، اور ان کی جسمانی و روحانی ضروریات پوری کرنا والدین کی بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔ جو والدین ان حقوق کو ادا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں عزت، نیک اولاد کی صورت میں خوشی اور آخرت میں عظیم اجر عطا فرماتا ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان والدین کو چاہیے کہ وہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق اپنی اولاد کی تربیت کریں تاکہ وہ دین و دنیا دونوں میں کامیاب ہو سکیں۔