Govt.High School Mamdal Kabirwala

Govt.High School Mamdal Kabirwala Makes your children's future bright.

Ye Group sirf aor sirf Mamdal school ka hai is mein sirf aor sirf school k barey mein post kya krein aor apne doston ko bhi is mein invite krein Shukriya

07/05/2025

نعرہ تکبیر
اللہ اکبر

07/05/2025

ملکی حالات کے پیش نظر سکول آج بند رہے گا
پاکستان زندہ باد
پاک فوج زندہ باد ❤️

11/01/2025
19/11/2024

کل سے سکول معمول کے مطابق کھلا ہے تمام والدین بچوں کی حاضری کو یقینی بنائیں

25/09/2024

مہنگائی کا حل تو ڈھونڈنا پڑے گا۔۔۔

تحریر: محمد قاسم سرویا

پاکستان میں کسی بھی باعزت روزگار کا آغاز کرنا قدرے آسان ہے۔ بس کرنے والے میں ہمت اور شوق ہو۔۔۔ اور یہ بات تو پڑھی لکھی اور مسلمہ ہے کہ نوکری سے کاروبار کئی درجے بہتر اور فائدہ مند ہوتا ہے۔ ہمیں بے روزگاری اور مہنگائی کا رونا نہیں رونا چاہیے، کوشش کر کے، کسی سے راہنمائی لے کر اور مناسب سرمائے کا انتظام کر کے، نیک نیتی سے اور اللہ کے بھروسے پر کام شروع کر دینا چاہیے۔۔۔ رزق کا وعدہ رب کریم نے کیا ہے تو وہ ضرور عطا کرے گا۔ کوشش کرنا تو ہماری ذمہ داری ہے نا۔

چاہے آپ کے پاس کسی قسم کی تعلیمی قابلیت نہ بھی ہو، پاکستان میں کام کے مواقع اتنے ہیں کہ آپ بھوکے نہیں مر سکتے۔ کسی کنسٹرکشن والے سے پوچھ کر دیکھیں، اسے محنتی اور بھروسہ مند لیبر کی کتنی ضرورت رہتی ہے، لیکن تلاش بسیار کے باوجود اسے نہیں ملتی۔
روزمرہ کے پیشہ وارانہ کام جن میں پلمبنگ، الیکٹریشننگ اور پینٹنگ وغیرہ کی ڈیمانڈ کا اندازہ لگانا ہے تو کبھی سینٹری یا الیکٹرک ورکس کی دکان پر کھڑے ہوکر جائزہ لیں کہ دن میں کتنے لوگ پلمبر یا الیکٹریشن کو ڈھونڈنے آتے ہیں، لیکن مایوس ہو کر واپس چلے جاتے ہیں۔۔۔ جی ہاں انھیں کوئی اچھا کاریگر جو نہیں ملتا۔

تھوڑا مزید مہارت والے پیشوں کی طرف چلے چائیں، جن میں آٹو مکینک، اے سی، فریج اور موٹر وائینڈنگ اینڈ ریپیئرنگ وغیرہ کی کمی کا اندازہ لگانا ہو تو کبھی اپنے گھر کی فریج یا موٹر مرمت کروانے کے لیے کسی اچھے کاریگر کو ڈھونڈنے کی کوشش کریں۔۔۔ یا تو اچھا یا کوئی بھی مکینک ہی نہیں ملے گا، اگر ملے گا تو اس کے پاس کام کی زیادتی کی وجہ سے وقت نہیں ہوگا۔ ہڈ حرام اور نخرے والے تو کئی مل جاتے ہیں۔

اگر آپ کو یہ سب کام بھی پسند نہیں یا یوں کہہ لیں کہ اتنی مہارت نہیں تو آپ فروٹ منڈی یا ڈائریکٹ کسان سے سبزیاں اور پھل خرید کر اپنے محلے میں گھر کے باہر یا گلی کی نکڑ پر ایک ریڑھی یا ٹھیلا لگا کر یا دکان میں اچھی سبزیاں مناسب منافع سے سستے داموں بیچنا شروع کردیں۔ آس پاس والے یقیناً آپ سے سبزیاں خریدنا شروع کر دیں گے۔ اگر آپ نے بہتر معیار اور مناسب دام پر یہ سبزیاں یا پھل فروخت کرنا شروع کردیے تو پھر ساتھ والے محلے سے بھی لوگ آپ کے پاس آنا شروع ہو جائیں گے۔ چند ماہ بعد آپ کا کاروبار دس گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ پھیل سکتا ہے۔ ان شاءاللہ۔

اس بارے میں ایک پلاننگ یہ بھی کی جا سکتی ہے کہ ان علاقوں سے سبزیاں (یا پھل بھی) خریدیں جن علاقوں میں یہ پیدا ہوتی ہیں۔ وہاں سے آپ کو منڈی سے بھی سستی مل جائیں گی اور وہ بالکل تازہ بھی ہوں گی۔ تھوڑی بھاگ دوڑ تو زیادہ ہو جائے گی لیکن اس میں مارجن اور منافع بھی زیادہ ہوگا۔ جب کام بڑھے تو ایک بندہ ساتھ رکھ لیں جو آپ کو سپلائی دیتا رہے اور آپ اپنے پوائنٹ پر بیٹھ کر یہ کاروبار کرتے ہیں۔

آپ کے گھر میں یا آس پاس کھلی جگہ ہے یا چھت پر آرگینک سبزیاں اور پھل اگا کر بھی محلے والوں یا اپنی سوسائٹی میں دے سکتے ہیں۔ پودوں کی نرسری بنا کر منافع کما سکتے ہیں۔ مشروم اگائیں اور لوگوں کو ہوم ڈلیوری دیں۔ مورنگا، لیمن گراس، لیونڈر ، روز میری ، چیا سیڈز اور اس طرح کے دیگر سوپر فوڈز اور مفید پودے آپ کی کمائی میں اچھا خاصا اضافہ کر سکتے ہیں۔ کچھ تو کریں۔۔۔ بہت سی راہیں کھلتی چلی جائیں گی ان شاءاللہ۔

آپ یہ ٹھیلے اور ریڑھی والا کام بھی نہیں کرنا چاہتے تو دو چار مہینے لگا کے کوئی اچھا اور باعزت کام سیکھ لیں۔ درزی، کیٹرنگ، فوڈ پیکجنگ، رکشہ یا لوڈر چلانا، موبائل، کمپیوٹر ریپیئرنگ، موبائل، کمپیوٹر کا سامان بیچنا، یا کسی فیکٹری ایریا بھی چلے جائیں، ان کو ان کی ڈیمانڈ پوچھیں، وہ سپلائی کرنا شروع کر دیں۔ اسکولوں میں کتابیں کاپیاں، اسٹیشنری، ڈائریاں، بیج، کیپ، پٹیاں اور دیگر ضرورت کا سامان فراہم کرنا شروع کردیں۔ سوچیں گے تو مزید دروازے کھلنا شروع ہو جائیں گے۔

ہمارے معاشرے میں ایسے بہت سے کام ہیں جن کی ڈیمانڈ کبھی کم نہیں ہو سکتی۔ لاہور گوالمنڈی میں چاچا پھیکا اور اس کے بیٹے 1947 سے پیڑے اور مکھن والی لسی لوگوں کو پلا رہے ہیں اور 150 کا گلاس ہوتے ہوئے بھی روزانہ ان کی سیل بڑھتی ہی ہے کبھی کم نہیں ہوتی۔ لاہور میں ہی پرانی انار کلی میں ایک بندے نے کسی سے پیسے ادھار لے کر ایک جوسر مشین لی اور ایک دکان کے سامنے پھٹا لگا کر معیاری جوس بیچنے کا کام شروع کردیا۔ اس نے ایک نیا کام یہ کیا کہ ہر بڑے گلاس کے ساتھ ایک چھوٹا گلاس (بطور چونگا یا انعام) دینا شروع کردیا۔ اس کا کام روز بڑھتے بڑھتے اب اس کی انارکلی میں اپنی دکانیں اور بہت بڑا جوس کارنر ہیں۔ لیکن چھوٹی گلاسی وہ اب بھی سب کو فری دیتا ہے۔

جب آپ یہ سوچنا اور غور و فکر کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ جائز اور حلال کمائی کیسے کرنی ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے لیے آسانیاں پیدا کرنا شروع کر دیتا ہے۔ 25 کروڑ آبادی والے ملک پاکستان میں پروفیشنل ازم اور بہترین کسٹمر سروس فراہم کرنے والوں کی بہت زیادہ کمی ہیں۔ آپ کا گاہک خوش ہے تو آپ کے کاروبار کو چار کیا آٹھ چاند لگ سکتے ہیں۔۔۔ اور اپنی فیملی اور پیاروں کے لیے آسمان سے تارے توڑ کر لانے والی بات شرمندہ تعبیر ہو سکتی ہے۔ تو پھر ہو جائیے شروع۔۔۔

آپ اپنے سکول و کالج کے زمانے میں کسی ایک مضمون میں بہت ماہر رہے ہوتے ہیں۔ اس مضمون کو اپنی طاقت بنائیں اور دوسروں کو اس کے بارے بتانا اور سمجھانا شروع کر دیں۔۔۔ ٹیوشن اکیڈمی بنا لیں، شروع میں مفت تعلیم دیں پھر مناسب فیس رکھ کر اس کام کو عروج پر لے جایا جا سکتا ہے۔ اگر آپ مارکیٹنگ کے شعبے میں ماہر ہیں تو ہول سیل مارکیٹ سے گروسری یا منیاری وغیرہ یا دیگر سامان لیں اور ڈور ٹو ڈور یا شاپ ٹو شاپ لوگوں کو فراہم کرنا شروع کر دیں۔ برکت ڈالنا تو رب کا کام ہے نا۔

ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ رزق روٹی کمانے کے لیے اچھی نیت، خلوص دل سے محنت اور لگن و شوق کا ہونا ازحد ضروری ہے۔۔۔ اور ساتھ یہ کریں کہ ہر ماہ اپنی آمدنی کا مخصوص حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا شروع کردیں۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ یہ پارٹنرشپ آپ کے کام کو دن دگنی رات چوگنی بلکہ سات گنی ترقی عطا کر دے گی۔

قرض لینا اچھا ہوتا ہے نہ دینا۔ اس لیے ہمیشہ قرض سے ہمیں بچنا چاہیے۔ اگر ہمارے وسائل کم ہوں تو ہمیں اپنی بھوک کم کر لینی چاہیے، دو کی جگہ ایک روٹی، ایک سوٹ اور ایک جوڑا جوتے پر گزارا کرلینا چاہیے اور غیر ضروری اخراجات کو بالکل ختم یا کم کر دینا چاہیے۔

کسی نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔۔۔ سرکار! میں امیر ہونا چاہتا ہوں۔ فرمایا۔۔۔ قناعت اختیار کرو۔
آج سے چودہ سو سال پہلے اشاعت دین کے عظیم کام کے لیے بھی ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بے انتہا محنت کرنا پڑی تھی، خون پسینہ بہانا پڑا تھا، بھوک اور فاقے برداشت کرنا پڑے تھے، اعزا و اقربا اور اپنے خاندان کے لوگوں کی دشمنی مول لینا پڑی تھی۔۔۔ تب جاکر انھیں کامیابی ملی تھی۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اشارے اور حکم پر زمین و آسمان پر موجودہ تمام فرشتے سب کچھ حاضر کر دیتے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محنت کر کے اپنے مقاصد کو حاصل کیا تاکہ ہم جیسے لوگوں کو بھی محنت کی عادت کا درس ملے۔

زندگی کا اصول بنا لیں۔۔۔ محنت کرنی ہے، نیت ٹھیک رکھنی ہے، کسی کا حق نہیں مارنا، ایمان داری اپنانی ہے اور خلوص دل سے اپنے سارے کام سر انجام دینے ہیں تو پھر دیکھنا اس طریقے سے کمایا ہوا ایک ایک روپیہ بھی ایک ایک لاکھ سے زیادہ برکت والا ہوگا۔ ان شاءاللہ۔
آپ کا خیر خواہ: محمد قاسم سرویا۔ شیخوپورہ

تقریب تقسیم انعامات سالانہ کے چند خوبصورت مناظر
01/04/2024

تقریب تقسیم انعامات سالانہ
کے چند خوبصورت مناظر

تقریب تقسیم انعامات گورنمنٹ ہائی اسکول ممدال
01/04/2024

تقریب تقسیم انعامات
گورنمنٹ ہائی اسکول ممدال

تقریب تقسیم انعامات کلاس دوم کے پوزیشن ہولڈر خوشگوار موڈ میں
01/04/2024

تقریب تقسیم انعامات
کلاس دوم کے پوزیشن ہولڈر خوشگوار موڈ میں

4 years back  >  1st feb...2020
01/02/2024

4 years back > 1st feb...2020

09/01/2024

کل سے اسکول موسم سرما کی تعطیلات ختم ہونے پر حسب معمول کھلے گا اسکول ٹائمنگ ساڑھے نو سے شروع ہوگی تمام بچے اپنی حاضری کو یقینی بنائیں

Address

Kabirwala

Opening Hours

Monday 07:45 - 13:30
Tuesday 07:45 - 13:30
Wednesday 07:45 - 13:30
Thursday 07:45 - 13:30
Friday 07:45 - 11:30
Saturday 07:45 - 13:30

Telephone

+923008324976

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Govt.High School Mamdal Kabirwala posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Govt.High School Mamdal Kabirwala:

Shortcuts

Share

Category