Pakistan Grammar School Dina

Pakistan Grammar School Dina

Share

Pakistan Grammar School is one of the best english medium school in dina district jhelum

Pakistan grammar School is one of the best english medium school in dina district jhelum which provides the quality education from play group to metric and also focuses on the children's physical and mental fitness and health.

Photos from Pakistan Grammar School Dina's post 05/08/2025

"چمکتا ہوا ستارہ"

📚 سبق: والدین کی بات ماننے والا ہی کامیاب ہوتا ہے۔

📖 کہانی:

ایک گاؤں میں علی نامی ایک بچہ رہتا تھا جو بہت ذہین مگر ضدی تھا۔ اُس کی ماں ہر وقت اُسے اچھی باتیں سکھاتی، مگر علی ہمیشہ اپنی مرضی کرتا۔

ایک دن علی جنگل میں جانے کی ضد کرنے لگا۔ ماں نے منع کیا کہ "بیٹا، جنگل میں جانا خطرناک ہے، سانپ، بھیڑیے، اور گہرے گڑھے ہوتے ہیں۔"
مگر علی نے ماں کی بات نہ مانی اور چپکے سے جنگل چلا گیا۔

جنگل میں شروع میں سب اچھا لگا، پر کچھ دیر بعد وہ راستہ بھول گیا۔ اندھیرا ہو گیا، اور خوفناک آوازیں آنے لگیں۔ علی رونے لگا اور ماں کو یاد کرنے لگا۔

تبھی ایک چمکتا ہوا ستارہ آسمان سے نیچے آیا اور بولا:
"علی، اگر تم اپنی ماں کی بات مان لیتے تو آج یہاں نہ ہوتے۔"
ستارے نے اُسے واپس گاؤں پہنچایا اور جاتے جاتے کہا:
"جو ماں باپ کی بات مانتا ہے، وہی دنیا میں چمکتا ہے۔"

اس دن کے بعد علی نے کبھی ماں کی نافرمانی نہ کی، اور بڑا ہو کر ایک کامیاب انسان بنا۔

#فرمانبرداری #اردوکہانی
#اردوکہانیاں













#

15/06/2024
10/06/2024

بچوں کو سُست بنانے میں والدین کا کردار

اسٹیوارٹ کا انتقال 103 سال کی عمر میں کیلیفورنیا میں ہوا‘ یہ اور ان کی بیگم دونوں پچاس سال راولپنڈی میں پڑھاتے رہے‘

پروفیسر اسٹیوارٹ نے 1960میں اپنی الوداعی تقریر میں اس خطے کے بارے میں بڑی خوب صورت بات کی ‘ اس کا کہنا تھا ’’پاکستانی ایک ناکارہ اور مفلوج قوم ہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’اس قوم کو پہلے اس کی مائیں نکما بناتی ہیں‘ یہ اپنے بچوں کا ہر کام خود کرتی ہیں‘ ان کے کپڑے دھوتی ہیں‘ استری کرتی ہیں‘ بچوں کو جوتے پالش کر کے دیتی ہیں‘ لنچ باکس تیار کرکے بچوں کے بستوں میں رکھتی ہیں اور واپسی پر باکسز کو نکال کر دھو کر خشک بھی خود کرتی ہیں۔

بچوں کی کتابیں اور بستے بھی مائیں صاف کرتی ہیں اور ان کے بستر بھی خود لگاتی ہیں چناں چہ بچے ناکارہ اور سست ہو جاتے ہیں اور یہ پانی کے گلاس کے لیے بھی اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو آواز لگادیتے ہیں یا ماں کو اونچی آواز میں کہتے ہیں امی پانی تو دے دو‘ پاکستانی بچے اس کلچر کے ساتھ جوان ہوتے ہیں‘ اس کے بعد ان کی بیویاں آ جاتی ہیں‘ یہ انھیں اپنا مجازی خدا سمجھتی ہیں اور غلاموں کی طرح ان کی خدمت کرتی ہیں‘ یہ بھی ان کا کھانا بناتی ہیں‘ کپڑے دھو کر استری کرتی ہیں۔

ان کے واش رومز صاف کرتی ہیں‘ ان کے بستر لگاتی ہیں اور پھر ان کی نفرت‘ حقارت اور غصہ برداشت کرتی ہیں چناں چہ میں اگر یہ کہوں پاکستانیوں کی مائیں بچوں کی نرسیں‘ بیویاں ملازمائیں اور چھوٹے بہن بھائی غلام ہوتے ہیں تو یہ غلط نہیں ہوگا لہٰذا سوال یہ ہے جو لوگ اس ماحول میں پل بڑھ کر جوان ہوتے ہیں کیا وہ ناکارہ اور مفلوج نہیں ہوں گے؟‘‘ پروفیسر اسٹیوارٹ کا کہنا تھا ’’اگر تم لوگوں نے واقعی قوم بننا ہے تو پھر تمہیں اپنے بچوں کو شروع سے اپنا کام خود کرنے اور دوسروں بالخصوص والدین کی مدد کی عادت ڈالنا ہو گی تاکہ یہ بچے جوانی تک پہنچ کر خود مختار بھی ہو سکیں اور ذمے دار بھی‘ تم خود فیصلہ کرو جو بچہ خود اٹھ کر پانی کا گلاس نہیں لے سکتا وہ کل قوم کی ذمے داری کیسے اٹھائے گا“؟

Want your school to be the top-listed School/college in Jhelum?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Near Lucky Petroleum, Mangla Road Dina (Jhelum)
Jhelum

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00