05/06/2026
SEHET Jhelum
Society for Education, Health & Environment Jhelum
05/06/2026
05/06/2026
اس وزیر دفاع کی باتیں اور جزباتی بیان سن لیں ، کہتا ہے پاکستان اب کبھی بھی افغانستان پر فضائی حملہ نہیں کر سکے گا ، افغانستان روس سے ائیر ڈیفنس سسٹم خرید چکا ہے ، یہ سب ملا یعقوب نے روس سے واپسی پر کریملن ائیر پورٹ پر کی
چلیں یہ تو جزباتی لوگ ہیں ، نسوار کی مقدار تھوڑی اوپر نیچے ہو گئی ہو گی اس لیے ان کی عقل کام نہیں کر رہی میں ان کو بتا دیتا ہوں کہ انہیں ائیر ڈیفبس سسٹم نہیں بلکہ اس کا لارا ملا ہے ، روس نے انہیں کہا ہے اگر تم ہر سے عالمی پابندیاں ختم ہو گئی تو صرف ائیر ڈیفبس کیا سارے کا سارا اسلحہ روس سے خریدنا ہمیں کیسے برے لگتے ہیں کیا ؟
لیکن کیا کریں امریکہ کا ایک طرف پالتا بھی ہے تو باندھ کر مارتا بھی ہے وہ ہر مہینے چالیس ملین ڈالر کے نئے نیے نوٹ جہاز بھر بھر کر بھیجتا ہے اس کے ساتھ کڑی شرائط بھی بھیجتا ہے کہ یہ کہاں خرچ ہو گا اور کہاں نہیں ، اگر افغانستان نے ان پیسوں سے روسی ائیر ڈیفنس کی قیمت ادا کی تو امریکہ ان کو کیسے دینا بند کر دیں گے ، پھر کیا ہو گا ؟ ان کی نسوار تو بند ہو گی ہی پھر ان کے جہازوں میں تیل بھی ختم ہو جایے گا جس کو اڑا کر روس گیے تھے اور وہاں جا کر معاہدے کر کے آیے تھے ،
پھر پاکستان کے کسی بھی حملے کی کسر باقی رہے گی ہی نہیں ان کے لیے این آر ایف ہی اکیلی بہت ہو گی ۔
باقی ملا یعقوب کی باتیں سن لیں اچھی کامیڈی کرتا ہے۔۔۔
اوہو ایک بات رہ گئی ،، افغانستان کو یاد کروا دیں پاکستان کے پاس روسی ائیر ڈیفبس سسٹم تباہ کرنے کا شاندار تجربہ بھی ہے ایک دفعہ اور آزما لیا جائے تو اچھا ہو جائے گا ہمارے کچھ مزید پائلٹس کو تمغے مل جائے گے ۔۔
03/06/2026
گدھوں کے ساتھ بحث نہ کریں۔
گدھے نے شیر سے کہا:
- "گھاس نیلی ہے"۔
شیر نے جواب دیا:
- "نہیں، گھاس سبز ہے."
دونوں کے درمیان بحث لمبی ہو گئی، اور دونوں نے اسے ثالثی میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا، اور اس کے لیے وہ جنگل کے بادشاہ شیر کے سامنے پیش ہو گئے۔
جنگل کا بادشاہ شیر اپنے تخت پر بیٹھا تھا، گدھا چیخنے لگا:
- "ہائز ہائنس، کیا یہ سچ نہیں ہے کہ گھاس نیلی ہے؟"
شیر نے جواب دیا:
- "سچ ہے، گھاس نیلی ہے۔"
گدھے نے جلدی کی اور کہا:
- "شیر مجھ سے متفق نہیں ہے اور ضد کر رہا ہے اور مجھ سے الجھ رہا ہے، براہ کرم اسے سزا دیں۔"
بادشاہ نے پھر اعلان کیا:
- "شیر کو 5 سال کی خاموشی کی سزا دی جائے گی۔"
گدھا خوشی سے اچھل کر اور مطمئن ہو کر یہ دہراتا ہوا کہ گھاس نیلی ہے اپنے راستے پر چل پڑا:
شیر نے اپنی سزا قبول کر لی لیکن اس نے بادشاہ سے پوچھا:
- "مہاراج، آپ نے مجھے سزا کیوں دی؟ آخر گھاس تو ہری ہے۔"
شیر نے جواب دیا:
- "ہاں، گھاس تو ہری ہے."
شیر نے پوچھا:
"تو مجھے سزا کیوں دے رہے ہو؟"
بادشاہ نے جواب دیا:
- "اس کا اس سوال سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ گھاس نیلی ہے یا سبز۔
یہ سزا اس لیے ہے کہ تم جیسی بہادر اور ذہین مخلوق کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ گدھے سے بحث کر کے اپنا وقت ضائع کرے اور پھر مزید بیوقوفی یہ کہ آکر مجھے اس سوال سے پریشان کرے۔‘‘
وقت کا سب سے زیادہ ضیاع اس احمق اور جنونی کے ساتھ بحث کرنا ہے جس کو سچ یا حقیقت کی پرواہ نہیں ہے بلکہ اسے صرف اپنے عقائد اور سنی سنائی باتوں پر یقین ہوتا ہے۔ ان سے بحث اور دلائل پر وقت ضائع نہ کریں جن کا کوئی مطلب نہیں...
دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں آپ جو چاہیں ثبوت دیں اور ہر طرح کے دلائل ان کے سامنے پیش کر دیں، وہ سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اور انا، نفرت، ناراضگی میں اندھے ہو جاتے ہیں، اور وہ صرف یہ جانتے ہیں کہ ہر صورت میں وہ درست ہیں۔
جب جہالت چیخ اٹھتی ہے تو عقل خاموش رہتی ہے۔ آپ کا سکون اور خاموشی سب سے زیادہ قیمتی ہے۔
31/05/2026
1979 یہ وہ سال تھا جب دنیا میں بڑی بڑی تبدیلیاں ارہی تھی ایک طرف ایران میں انقلاب ایا تو دوسری جانب افغانستان کے اندر سوویت یونین اتر ایا ہدف افغانستان کے اندر اپنی کٹھپتلی حکومت بنانا اور اس سے اگلا ہدف وہ جغرافیائی لائن جو پاکستان کی شہ رگ ہے جس گوادر سے کاشگر تک چین کی سپلائی لائن بھی کہا جاتا ہے اس پر قبضہ کر کے گرم پانیوں تک رسائی اور عالمی دنیا میں اپنی معیشت کی فراوانی مقصد بڑا واضح تھا پاکستان کے لیے ہر طرح سے امتحان تھا مگر مارخور جاگا اس خطرناک لمحے کو اپنے حق میں کیسے بدلنا ہے بڑے بڑے ذہین قابل افسروں نے زبردست حکمت عملی کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا ایک طرف امریکہ جو ویٹنام کا بدلہ سوڈ یونین سے لینا چاہتا تھا اس کی مالی مدد اور انکھیں بند پاکستان کے اندر پورا ایک نیٹ ورک ایک ایسا نیٹ ورک کہ جس کی جڑیں جا کر عرب کی سرزمین سے بھی ملتی تھی عرب سے یہ ایک ڈالر کے بدلے میں ایک ریال کی مدد امریکہ کی ٹیکنالوجی ایک طرف اسلام کی سب سے بڑی طاقت سعودی عرب دوسری طرف عالم کی سب سے بڑی طاقت امریکہ دونوں پہاڑوں میں پنجاب ازمائی کر رہے تھے اور پاکستان کے جنرلز خاموشی کے ساتھ پاکستان کو ناقابل تسخیر بنا رہے تھے یہ وہ لمحہ تھا کہ جب پاکستان سب کچھ منوا سکتا تھا ڈالر ائے کے بھی پانچ ٹکڑے ہو گئے مگر پاکستان نے خود کو ناقابل تسخیر بنایا اور اس کے بعد جب پہاڑ والوں کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ یہ انہوں نے کیا ہے اسی غلط فہمی میں وہ ایک بار پھر اس سپر پاور سے ٹکرا گئے جو اس وقت کی واحد سپر پاور تھی نتیجہ یہ ہوا کہ اس سپر پاور نے ایک بار پھر پہاڑوں کے دامن میں وہ جنگ لڑی جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی لیکن ہوا کیا انجام یہ تھا کہ سپر پاور پہاڑوں میں بری طرح سے پھنس گئی معیشت تباہ ہوئی بڑی بڑی فوجی طاقتیں ٹیکنالوجی دھری کی دھری رہ گئی مگر پہاڑ والوں کو یہ لگا کہ شاید یہ انہوں نے کیا ہے یہ سب ان کا کمال ہے مگر وہ یہ بھول گئے ان سب کے پیچھے ایک ہی طاقت تھی جس کا نام تھا پاکستان نہ صرف یہ کہ پاکستان نے خود کو ناقابل تسخیر بنایا بلکہ اب پہاڑ والوں کی بھی غلط فہمی کو دور کیا جا رہا ہے کہ وہ تم نہیں وہ ہم سے ڈوبی تم ہو تو کیا تم ہو اور ہم ہی ہم ہیں تو کیا ہم ہیں یہ احساس پہاڑ والوں کو بھی ہو چکا ہے اب جو پہاڑ والوں کی مدد کرنے کے لیے میدان میں ایا ہے اس کے بھی ماتھے پر جے ایف 17 تھنڈر اور جیٹن سی سے بوسہ دے دیا گیا ہے مگر ابھی بزدل چھپ کر کاروائیاں کرنے میں مصروف ہے اس کا بھی حل تلاش کیا جا چکا ہے کیا جا رہا ہے پاکستان ایک ایسی طاقت ہے جو لیٹ بلومر کہلاتی ہے دیر سے جاگتی ہے مگر جب کام کرنے کے لیے کھڑی ہو جائے تو کام کو مکمل کر کے چھوڑتی ہے پاکستان زندہ باد پاکستان پائندہ باد پاک فوج زندہ باد
22/05/2026
کل بھی لکھا تھا کہ امارات اور پاکستان کے تعلقات ایک نئی جہت کی طرف بڑھ رہے ہیں، اور اب ابوظہبی کو یہ احساس ہو چکا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ہماری دوستی بے شک ہر وقت مثالی نا ہو، مگر دشمنی کسی صورت فائدہ مند نہیں ہو سکتی۔ خطے کی بدلتی ہوئی سیاست نے امارات کو یہ سمجھا دیا ہے کہ پاکستان کے خلاف جا کر نہ اس کے اسٹریٹجک مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں اور نہ ہی خلیج میں طاقت کا توازن اس کے حق میں رہ سکتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ امارات اپنی نئی علاقائی حکمت عملی میں بھارت کو غیر معمولی ترجیح دے رہا ہے، جبکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات نسبتاً سرد مہری کا شکار ہو گئے ہیں۔ بعض مواقع پر یہ تاثر بھی پیدا ہوا کہ ابوظہبی جنوبی ایشیا میں نئی صف بندیاں کر رہا ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ اماراتی فیصلہ سازوں کو اندازہ ہو گیا کہ پاکستان کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا ایک اسٹریٹجک غلطی ثابت ہو سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں خاموش سفارتی رابطے شروع ہوئے اور اس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ اطلاعات کے مطابق امارات نے نہ صرف پاکستان کے ساتھ دوبارہ قریبی تعلقات کی خواہش ظاہر کی بلکہ مالی معاملات میں بھی نرم رویہ اختیار کیا۔ یہاں تک کہا گیا کہ یو اے ای ابتدائی طور پر اپنے تقریباً 3 ارب ڈالر فوری واپس لینے کے بجائے مزید توسیع دینے پر بھی آمادہ تھا۔ تاہم پاکستانی قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے اس معاملے میں واضح مؤقف اپنایا اور مالی خودمختاری کا پیغام دیا۔
اسی مرحلے کے بعد امارات نے تعلقات بہتر بنانے کی رفتار مزید تیز کر دی۔ سوشل میڈیا پر اچانک دونوں ممالک کے “برادرانہ تعلقات” پر زور دیا جانے لگا، اماراتی حکام نے پاکستان میں اپنے سرمایہ کاری منصوبوں کو نمایاں کرنا شروع کیا، جبکہ مختلف سفارتی اور معاشی اشاروں کے ذریعے یہ تاثر ختم کرنے کی کوشش کی گئی کہ دونوں ممالک کے درمیان کسی قسم کی دوری موجود ہے۔
اصل میں امارات اب خطے کی نئی حقیقت کو سمجھ رہا ہے۔ پاکستان صرف ایک روایتی اتحادی نہیں رہا بلکہ خلیج، چین، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک اہم اسٹریٹجک پل بنتا جا رہا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات، گوادر کی بڑھتی اہمیت، ایران امریکہ مذاکرات میں ممکنہ کردار، اور خطے میں پاکستان کی جغرافیائی حیثیت نے اسلام آباد کی اہمیت دوبارہ بڑھا دی ہے۔
امارات کو اب یہ بھی احساس ہو چکا ہے کہ اگر مستقبل میں خلیج میں کوئی بڑا بحران پیدا ہوتا ہے تو پاکستان کو مخالف سمت میں دھکیلنا اس کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ اسی لیے اب ابوظہبی زیادہ متوازن، محتاط اور سفارتی پالیسی کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف رابطے بڑھے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے لیے بیانات کا لہجہ بھی نمایاں طور پر نرم اور مثبت ہوا ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور امارات کے تعلقات اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جہاں وقتی غلط فہمیوں کے بجائے طویل المدتی مفادات کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے
19/05/2026
اس تصویر میں موجود قدیم اسلوب کی دوربین انسانی جستجو، مہم جوئی اور وسعتِ افلاک کو مسخر کرنے کے لافانی جذبے کا ایک حسین استعارہ ہے۔
پرانے نقشوں اور قطب نما کے درمیان رکھی یہ دوربین ماضی کے ان گم گشتہ زمانوں کی یاد دلاتی ہے جب انسان ستاروں کی چال دیکھ کر سمندروں کے سینے پر راستے تراشتا تھا۔ اس کی پُرشکوہ ساخت اور نقش و نگار اس عہد کی گواہی دیتے ہیں جب سفر محض منزل تک پہنچنے کا نام نہیں تھا، بلکہ دریافت کا ایک جنون تھا جس میں یہ آلہ انسان کی آنکھ بن کر اندھیروں میں راستے دکھاتا تھا
ٹیلی سکوپ ، دوربین کی ایجاد نے کائنات کو دیکھنے اور سمجھنے کے انسانی زاویے کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ سترہویں صدی کے آغاز میں جب ہالینڈ کے عینک سازوں نے عدسوں کے جادوئی امتزاج سے دور کی اشیاء کو قریب لانے کا تجربہ کیا، تو علمِ فلکیات اور جہاز رانی کی دنیا میں ایک ایسا انقلاب برپا ہوا جس کی تپش آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ بعد ازاں، گلیلیو گلیلی نے جب اس ایجاد کا رخ آسمان کی وسعتوں کی طرف موڑ دیا، تو صدیاں پرانے توہمات اور نظریات لمحوں میں مٹ گئے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ آلہ ارتقا کی منازل طے کرتا رہا اور سادہ عدسوں سے شروع ہونے والا یہ سفر پیتل، کانسی اور چمڑے کے حسین امتزاج سے بنی ان دستی دوربینوں تک پہنچا، جو نوآبادیاتی دور میں بحری قزاقوں، مہم جوؤں اور شاہی بحریہ کے کپتانوں کا سب سے معتبر اثاثہ بنیں۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں سائنس کی تیز رفتار ترقی نے اسے مزید جلا بخشی اور آج یہ مائیکرو چپس اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے لیس ہو کر جدید ترین شکل اختیار کر چکی ہے۔
انسانی تاریخ میں اس آلے کی افادیت اور اہمیت ہمیشہ مسلمہ رہی ہے، جس نے نہ صرف جنگوں کے پانسے پلٹے بلکہ نئے جزیروں اور براعظموں کی دریافت کو بھی ممکن بنایا۔ سمندری نیویگیشن میں تو یہ دوربین ایک ایسی ناگزیر ضرورت تھی، جس کے بغیر تند و تیز لہروں اور گہرے اندھیروں میں سفر کرنا موت کے منہ میں جانے کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔ آج کی جدید نیویگیشن اگرچہ جی پی ایس، راڈار اور الیکٹرانک چارٹ ڈسپلے جیسے حساس اور خودکار نظاموں پر انحصار کرتی ہے، جہاں میلوں دور چھپے خطرات بھی اسکرین پر واضح ہو جاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود بصری مشاہدے کی اہمیت کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ ٹیکنالوجی کے اس انتہائی ترقی یافتہ دور میں بھی جب کبھی برقی نظام اور سیٹلائٹ روابط جواب دے جائیں، تو یہی روایتی اسلوب اور طریقے انسان کی بقا اور سلامتی کے ضامن بنتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کے سیلاب نے اگرچہ دستی دوربین کو جدید جنگی جہازوں کے آپریشنل روم سے بے دخل کر دیا ہے اور اب اس کا مروجہ و حتمی استعمال ختم ہو چکا ہے، لیکن بحری افواج نے اپنی صدیوں پرانی روایت، سحر اور وقار کو مرنے نہیں دیا۔ اب یہ دوربین جنگی جہازوں پر ایک نمائشی اور انتہائی معتبر علامتی حیثیت اختیار کر چکی ہے جو ماضی اور حال کے درمیان ایک مضبوط پُل کا کام دیتی ہے۔ بحری تمدن کے مروجہ آداب کے مطابق، 'افسر آف دا واچ' یا 'افسر آف دا ڈے' کسی سینئر عہدیدار یا معزز مہمان کے استقبال کے وقت اس دوربین کو اپنے بازو کے نیچے ایک مخصوص، باوقار اور روایتی انداز میں دبا کر رکھتا ہے۔ یہ اندازِ نشست و برخاست جہاں ماضی کے جلیل القدر کپتانوں کی یاد دلاتا ہے، وہاں بحری ڈسپلن اور منصب کے احترام کا غماز بھی ہے۔ اس مخصوص پوزیشن میں رہتے ہوئے جب وہ افسر معزز مہمان کو سلیوٹ پیش کرتا ہے، تو وہ منظر محض ایک رسمی فوجی سلام نہیں رہتا، بلکہ وہ سمندری تاریخ کے جاہ و جلال، روایت پسندی اور سمندروں پر حکمرانی کرنے والے اسلاف کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ایک بے مثال، پروقار اور سحر انگیز مظاہرہ بن جاتا ہے۔
اس تصویر میں موجود قدیم اسلوب کی دوربین محض پیتل کا ایک تراشا ہوا ٹکڑا نہیں، بلکہ انسانی جستجو، مہم جوئی اور وسعتِ افلاک کو مسخر کرنے کے لافانی جذبے کا ایک حسین استعارہ ہے۔ پرانے نقشوں اور قطب نما کے درمیان رکھی یہ دوربین ماضی کے ان گم گشتہ زمانوں کی یاد دلاتی ہے جب انسان ستاروں کی چال دیکھ کر سمندروں کے سینے پر راستے تراشتا تھا۔ اس کی پُرشکوہ ساخت اور نقش و نگار اس عہد کی گواہی دیتے ہیں جب سفر محض منزل تک پہنچنے کا نام نہیں تھا، بلکہ دریافت کا ایک جنون تھا جس میں یہ آلہ انسان کی آنکھ بن کر اندھیروں میں راستے دکھاتا تھا۔
17/05/2026
چین نے ایک ریڈار ڈسیپشن سسٹم تیار کیا ہے جس کا نام "گوسٹ نیوی" رکھا گیا ہے، جو دشمن کے ریڈار پر ایک جنگی جہاز کو پوری بحری بیڑے کی شکل میں ظاہر کرتا ہے۔
یہ سسٹم بیجنگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیلی میٹری نے تیار کیا ہے، جو ہم آہنگ الیکٹرانک جیمنگ اور ریڈار اسپوفنگ ڈیوائسز کا استعمال کرتے ہوئے جعلی سگنل خارج کرتا ہے۔
سیمیولیشنز میں، اس نے کامیابی سے ایک جہاز کو آٹھ جہازوں کی طرح دکھایا، جس سے دشمن کی نگرانی میں الجھن پیدا ہوئی۔
یہ حکمت عملی چین کی الیکٹرانک وارفیئر صلاحیتوں کو بڑھاتی ہے اور جنوبی چین سمندر جیسے متنازعہ علاقوں میں اسے ایک اسٹریٹیجک فائدہ دیتی ہے—بغیر اپنے اصل بحری بیڑے کے سائز میں اضافہ کیے۔
جب حکمران اپنی نااہلی، عیاشیوں اور کرپشن سے خزانہ خالی کر دیتے ہیں تو آخر میں پنشنرز اور عام عوام کو معیشت پر بوجھ قرار دینے لگتے ہیں۔ اربوں روپے پاور کمپنیوں کو Capacity Charges میں دیے جا رہے ہیں، مگر قصور پنشنرز کا نکالا جا رہا ہے۔ حقیقی مسئلہ غریب عوام نہیں، بلکہ شاہانہ اخراجات اور کرپٹ نظام ہے۔
نواز شریف صاحب خود اگے ائیں شہباز شریف اور یہ نقوی اورنگزیب لغاری ملک جیسے وزرا سے جان چھڑائے کیا مسلم لیگی کارکنوں اور غریب عوام کو ڈیفالٹ کر کے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچائیں گے
16/05/2026
یہ منشیات والی پنکی تو شاید کبھی پکڑی ہی نہ جاتی اگرموصوفہ کی فراہم کردہ گھٹیا کوالٹی کی منشیات سے ایک سینیٹر کی بیٹی اور ایک سابق وفاقی وزیر کا بیٹا اوور ڈوز ہونے سے نہ مرتے۔ اصل مسئلہ یہاں منشیات فروشی ختم کرنا نہیں بلکہ یہ ہے کہ امیروں کو “امپورٹڈ مال” کے نام پر لوکل اور گھٹیا چیز بیچ کر کروڑوں بٹورے جا رہے تھے۔ جب معاملہ بڑے لوگوں کے گھروں تک پہنچا تو سب کو یاد آیا کہ شہر میں منشیات بھی بکتی ہیں اور ڈیلر بھی موجود ہیں۔
ک ا پ ی
Click here to claim your Sponsored Listing.