24/02/2022
ہماری دسترس میں کیا ہے کیا نہیں
زمیں نہیں
خلا نہیں
کہ آسماں نہیں
ہمیں تو صرف سوچنا یہ چاہیے
کہ مٹھیاں کھلی رہیں
ہتھیلیوں سے انگلیاں جڑی رہیں
زمیں سے پاؤں
پاؤں سے قدم
قدم سے راستوں کا سلسلہ بنا رہے
ہمیں تو صرف دیکھنا یہ چاہیے
کہ جس کو لوگ رد کریں
اور اپنی دید کی غلیظ چادروں سے ڈھانپ کر شکایتوں سے باندھ دیں
ہمارے جسم ماورا ہوں اس غلاف سے
ہماری دسترس میں کیا ہے کیا نہیں
بس یہی تو شرط ہے
ہمارے جسم ان گنت رہیں
مگر ہمارے سر جڑے رہیں
رگوں میں پیار کا لہو رواں رہے بدن بدن جواں رہے
زمیں رہے خلا رہے نہ آسماں رہے
مگر ہمیں یہی گماں رہے
ہماری دسترس میں کیا نہیں
-ظفر زیدی