Deputy District Education Officer M-EE Tehsil 18-Hazari, Jhang

Deputy District Education Officer M-EE Tehsil 18-Hazari, Jhang

Share

"� Dy District Education Officer
� Official Education Updates
� Notifications | Orders | School In

Photos from Deputy District Education Officer M-EE Tehsil 18-Hazari, Jhang 's post 14/04/2026

چیف ایگزیکٹو آفیسر ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی جھنگ جناب تنویر احمد غزالی کی زیر صدارت ڈیجیٹل سسٹم E-FOAS کے حوالے سے تمام فوکل پرسنز کیلئے اہم تربیتی سیشن کا انعقاد
دفتری امور مںں E-FOAS سسٹم کو عملی طور پر بروئے کار لانے اور مکمل نفاذ یقینی بنانے کی ہدایات تاکہ شفافیت ، بہتری اور وسائل کی بچت کیلئے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں

Photos from Deputy District Education Officer M-EE Tehsil 18-Hazari, Jhang 's post 10/04/2026

Tree Plantation with Worthy DC_Jhang & Worthy Chief Executive Officer District Education Authority Jhang at Roran wali Jhang
Rana Sikandar Hayat

Photos from Deputy District Education Officer M-EE Tehsil 18-Hazari, Jhang 's post 09/04/2026

گورنمنٹ پرائمری سکول تروڑ مرکز روڈوسلطان تحصیل اٹھارہ ہزاری ضلع جھنگ

Photos from Deputy District Education Officer M-EE Tehsil 18-Hazari, Jhang 's post 08/04/2026

گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول کوٹلی باقر شاہ مرکز ماچھیوال تحصیل اٹھارہ ہزاری ضلع جھنگ

Photos from Deputy District Education Officer M-EE Tehsil 18-Hazari, Jhang 's post 07/04/2026

گورنمنٹ پرائمری سکول ملکانہ تحصیل اٹھارہ ہزاری ضلع جھنگ

07/04/2026

قلم ناک
از قلم ۔ طاہر رسول
ایران کا سستا تیل… حقیقت کیا ہے؟
پاکستان میں جب بھی مہنگائی بڑھتی ہے تو ایک سوال فوراً زبان پر آ جاتا ہے کہ ایران سستا تیل دے رہا ہے تو ہم وہاں سے کیوں نہیں خرید لیتے۔ بظاہر یہ بات بہت سادہ لگتی ہے، جیسے بازار میں دو دکانیں ہوں اور آدمی سستی چیز والی دکان سے خریداری کر لے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ تیل کی عالمی تجارت صرف قیمت کا کھیل نہیں بلکہ سیاست، معیشت اور بین الاقوامی نظام کا مجموعہ ہوتی ہے۔
سب سے بڑی رکاوٹ ایران پر عائد عالمی پابندیاں ہیں۔ امریکہ اور یورپی ممالک نے ایران کے تیل، بینکنگ اور شپنگ کے نظام پر سخت پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ اگر پاکستان ایران سے تیل خریدتا ہے تو اسے صرف تیل نہیں بلکہ پورے مالی نظام کو خطرے میں ڈالنا پڑے گا۔ بینک پیسے منتقل نہیں کر سکیں گے، جہازوں کو انشورنس نہیں ملے گی اور پاکستان خود بھی عالمی پابندیوں کی زد میں آ سکتا ہے۔ ایک کمزور معیشت کے لیے یہ خطرہ اٹھانا آسان نہیں ہوتا۔
عام آدمی کی ایک بڑی غلط فہمی یہ بھی ہے کہ ہم سیدھا ایران سے پٹرول یا ڈیزل خرید سکتے ہیں۔ حالانکہ دنیا میں زیادہ تر تجارت خام تیل کی ہوتی ہے، تیار شدہ تیل کی نہیں۔ ہر ملک خام تیل خرید کر اپنی ریفائنریوں میں اسے صاف کرتا ہے تاکہ اپنی ضروریات کے مطابق پٹرول، ڈیزل اور دیگر مصنوعات تیار کر سکے۔ اس لیے مسئلہ صرف خریدنے کا نہیں بلکہ اسے قابلِ استعمال بنانے کا بھی ہوتا ہے۔
یہاں ایک اور اہم نکتہ سامنے آتا ہے کہ ہر قسم کا خام تیل ایک جیسا نہیں ہوتا۔ ایرانی خام تیل عام طور پر بھاری اور زیادہ سلفر والا ہوتا ہے، جسے صاف کرنا نسبتاً مشکل اور مہنگا ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں سعودی عرب اور خلیجی ممالک کا تیل پاکستان کی ریفائنریوں کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ پاکستان کی زیادہ تر ریفائنریاں اسی قسم کے تیل کو مدنظر رکھ کر بنائی گئی ہیں، اس لیے ایرانی تیل کو پروسیس کرنا نہ صرف مشکل بلکہ کم فائدہ مند بھی ہو سکتا ہے۔
ماضی میں پاکستان کی ایک ریفائنری ایرانی تیل کو صاف کرتی تھی، مگر تکنیکی مسائل اور پابندیوں کی وجہ سے وہ سلسلہ بھی جاری نہ رہ سکا۔ آج کی صورتحال میں اگر ایران سے خام تیل آ بھی جائے تو ہماری ریفائنریاں اسے مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کی مکمل صلاحیت نہیں رکھتیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ سستا تیل بھی آخرکار مہنگا پڑ سکتا ہے۔
کچھ لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ اگر خام تیل مشکل ہے تو ایران سے تیار شدہ پٹرول ہی خرید لیا جائے۔ لیکن یہاں بھی وہی مسائل سامنے آتے ہیں۔ پابندیاں اپنی جگہ موجود ہیں، جبکہ ایرانی تیار شدہ تیل ہمیشہ بین الاقوامی معیار، جیسے یورو فائیو، پر پورا نہیں اترتا۔ اس کے علاوہ سپلائی کا تسلسل بھی غیر یقینی رہتا ہے، جو کسی بھی ملک کے لیے بڑا خطرہ ہوتا ہے۔
اکثر یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ چین اور کچھ دوسرے ممالک ایران سے تیل خرید لیتے ہیں تو پاکستان کیوں نہیں۔ اس کا جواب بھی معیشت کی طاقت میں چھپا ہے۔ بڑے ممالک پابندیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ان کے پاس متبادل مالی نظام اور مضبوط معیشت ہوتی ہے، جبکہ پاکستان کے لیے ایسا کرنا آسان نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ تیل کی خریداری صرف سستی قیمت دیکھ کر نہیں کی جاتی بلکہ اس میں بین الاقوامی تعلقات، مالی نظام، تکنیکی صلاحیت اور مستقبل کے خطرات سب کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ عام آدمی کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ معاملہ اتنا سیدھا نہیں جتنا نظر آتا ہے۔
آخر میں بات صرف اتنی سی ہے کہ ایران کا تیل بظاہر سستا ضرور لگتا ہے، مگر پاکستان کے لیے وہ سستا نہیں بلکہ ایک بڑا معاشی اور سفارتی خطرہ بن سکتا ہے۔ دنیا کے اس پیچیدہ نظام میں ہر فیصلہ قیمت سے زیادہ حالات کو دیکھ کر کیا جاتا ہے، اور یہی حقیقت ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

Photos from Deputy District Education Officer M-EE Tehsil 18-Hazari, Jhang 's post 06/04/2026

گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول چاندنہ مرکز کوٹ شاکر تحصیل اٹھارہ ہزاری ضلع جھنگ

Photos from Deputy District Education Officer M-EE Tehsil 18-Hazari, Jhang 's post 05/04/2026

گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول وساواہ مرکز اٹھارہ ہزاری تحصیل اٹھارہ ہزاری ضلع جھنگ

05/04/2026

نام کے سکندر سے تعلیم کے سکندر تک ۔
۔
پنجاب کے وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات صاحب نے تعلیمی نظام میں ایک نئی تازگی اور عملی توانائی پیدا کی ہے۔ وہ محض دفتری احکامات تک محدود رہنے والے وزیر نہیں، بلکہ خود میدان میں اتر کر سکولوں کا دورہ کرتے ہیں، زمینی حقائق کا جائزہ لیتے ہیں اور موقع پر فیصلے کرتے ہیں۔ یہی عملی انداز ان کی قیادت کو منفرد بناتا ہے اور اساتذہ و افسران دونوں میں ایک نئی روح پھونک دیتا ہے۔
اگر ماضی کے وزراء تعلیم پر نظر ڈالی جائے تو زیادہ تر توجہ پالیسی سازی اور کاغذی کارروائی تک محدود رہی۔ اصلاحات کے اعلانات ضرور ہوتے تھے، مگر ان کا عملی اثر تعلیمی اداروں میں کم ہی محسوس ہوتا تھا۔ سکولوں کی سطح پر نہ وہ واضح تبدیلی آتی تھی اور نہ ہی اساتذہ اور افسران کے درمیان فاصلے کم ہو پاتے تھے، جس سے نظام کی رفتار سست روی کا شکار رہتی تھی۔
اس کے برعکس، موجودہ دور میں عملی اقدامات نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ میٹرک امتحانات میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا آغاز ایک اہم سنگِ میل ہے، جس نے امتحانی نظام میں شفافیت کو بڑھایا اور نقل جیسے دیرینہ مسئلے پر قابو پانے میں مدد دی۔ یہ وہ قدم ہے جس کی ضرورت برسوں سے محسوس کی جا رہی تھی مگر اسے عملی شکل کم ہی دی گئی۔
رانا سکندر حیات صاحب کا ایک اور نمایاں پہلو ان کا انسانی اور شائستہ رویہ ہے۔ وہ اساتذہ سے ایک عام فرد کی طرح ملتے ہیں، ان کی بات سنتے ہیں اور عزت و احترام کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ یہی طرزِ عمل اساتذہ میں اعتماد، ذمہ داری اور جذبہ پیدا کرتا ہے، جو کسی بھی تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
تاہم، حالیہ دنوں میں کچھ اساتذہ کی جانب سے سکول آؤٹ سورسنگ کے معاملے پر اعتراضات سامنے آئے ہیں اور اس کا براہِ راست ذمہ دار رانا سکندر حیات صاحب کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔ یہاں ضروری ہے کہ معاملے کو جذبات کے بجائے حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ آؤٹ سورسنگ جیسے فیصلے کسی ایک فرد کی سوچ کا نتیجہ نہیں ہوتے، بلکہ یہ ایک وسیع حکومتی پالیسی، بیوروکریسی کی تجاویز اور ماضی کی منصوبہ بندیوں کا تسلسل ہوتے ہیں۔ کئی منصوبے ایسے ہوتے ہیں جو موجودہ قیادت کے آنے سے پہلے ہی زیرِ غور ہوتے ہیں اور بعد میں ان پر عملدرآمد کیا جاتا ہے۔
مزید یہ کہ آؤٹ سورسنگ کا مقصد عمومی طور پر ان تعلیمی اداروں کی بہتری ہوتا ہے جہاں کارکردگی مسلسل کمزور رہی ہو۔ یہ فیصلہ بظاہر سخت ضرور محسوس ہوتا ہے، مگر اسے ایک انتظامی حکمتِ عملی کے طور پر سمجھنا چاہیے، نہ کہ کسی طبقے کے خلاف اقدام کے طور پر۔
تنقید ہر دور میں رہی ہے اور رہنی بھی چاہیے، مگر اس میں فرق ضروری ہے۔ اگر تنقید کارکردگی کی بنیاد پر ہو تو وہ قابلِ ستائش اور اصلاح کا ذریعہ بنتی ہے، لیکن اگر محض سیاسی مخالفت یا ذاتی تعصب کی بنیاد پر ہو تو وہ اپنی افادیت کھو دیتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو موجودہ قیادت کو دیگر ادوار سے ممتاز کرتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تعلیم کے میدان میں تبدیلی ایک مشکل اور تدریجی عمل ہے۔ ماضی کے وزراء نے اپنی جگہ بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا، مگر اس کے اثرات محدود رہے۔ موجودہ قیادت نے عملی اقدامات، جدید ٹیکنالوجی اور انسانی رویوں کے امتزاج سے ایک نئی سمت متعین کی ہے۔ اگر یہی تسلسل برقرار رہا، اور تنقید کو تعمیری انداز میں لیا گیا، تو پنجاب کا تعلیمی نظام ایک روشن، مضبوط اور قابلِ تقلید مثال بن سکتا ہے۔
بقلم ۔ طاہر رسول

Rana Sikandar Hayat

Photos from Deputy District Education Officer M-EE Tehsil 18-Hazari, Jhang 's post 04/04/2026

Annual Result day 2026
Govt. Primary school Zafar Abad
Markaz Rodu Sultan Tehsil 18-Hazari Jhang

Want your school to be the top-listed School/college in Jhang Sadar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

18-Hazari, Jhang
Jhang Sadar
35180