Syed Jaffer uz Zaman Naqvi سید جعفر الزمان نقوی

Syed Jaffer uz  Zaman Naqvi سید جعفر الزمان نقوی

Share

This page is dedicated to Lovers of Imam e Zamana (A.S).

24/09/2022

سب نے دیکھی بے صورت کے مظہر میں اظہار کی صورت
ملکہِ روم (ص) کی گود میں بن کے پھول♥️ کِھلا تھا صدیوں پہلے

جعفر کتنی حیرت ہے یہ جو تھا ازل سے ابد کا مالک🌎🌞🌙
کیا تھی ضرورت بن کے بچہ خود آیا تھا صدیوں پہلے 🛐

18/09/2022

ہے کون جو منبر 🕋 پہ کھڑا بول رہا ہے
کس شان سے عباس(ع) نما بول رہا ہے 🌋

18/09/2022

رس گھولتی جو طُور⛰️ کے پردے میں سدا تھی
کہنے کو وہ خالق☝️ تھا مگر اِس کی ادا تھی
وہی ہو کے یہاں جلوہ کُشا🎇 بول رہا ہے

18/09/2022

جو ہاتھ✍🏻 لکھا کرتا تھا احکام وحی کے
اس ہاتھ میں لگتے ہیں سب انداز اُسی کے 🙏🏻
شاہد یہ وہی یزداں ادا بول رہا ہے

18/09/2022

خالق کا مجھے یاد ہےوہ لہجہ گفتار 🌹
آواز وہ گھمبیر وہی معنی و اسرار🌹
اِن ہونٹوں میں چھپ کر وہ خُدا بول رہا ہے 🤲🏻

10/09/2022

جب میں جاؤں گا تو فریاد کریں گے کیا کیا🎇
اپنے بیگانے سبھی یاد کریں گے کیا کیا💫

10/09/2022

خستہ قبروں سے بھلا کون وفا کرتا ہے⚰️

عمر بھر کون کسے یاد کیا کرتا ہے⏰

10/09/2022

جب کوئی شخص کسی بزم کو گرمائے گا🎊
سب کے ہونٹوں پہ میرا نام مچل جائے گا🎉

09/09/2022

ہمارا فرض تھا مولا تمہیں ہر دم دعا دینا
تیری خوشیوں کی امیدوں میں کُل جیون بیتا دینا

تیری راہ پر یہ سرد آہیں بچھا کر جا رہا ہوں میں
انہیں اپنی کف نعلین کی زینت بنا دینا

تیری دہلیز پر ہم اپنی آنکھیں چھوڑے جاتے ہیں
مناسب ہو تو ان کو اپنی چند خوشیاں دکھا دینا

جو خوش قسمت نگاہیں دیکھیں تیرے حسن تاباں کو
میری حسرت کو لمحہ بھر ان آنکھوں میں بسا دینا

تیری خوشیوں کی حسرت قبر میں بھی سو نہ پائے گی
ملے فرصت تو اس حسرت کو خود آ کر سلا دینا

گھروندے جو توقعات کے میں نے بنائے تھے
انہیں زینت نہ دے پانا تو خود آ کر مٹا دینا

میں اپنی قبر میں نہ آنے دوں گا کوئی خوش فہمی
مجھے میری تمنا کا نہ بھی تم کچھ صلا دینا

میں اپنی ذات سے اونچی کوئی امید کیوں رکھوں
میں یہ کہتا نہیں کہ پھول تربت پر چڑھا دینا

اگر ہو آپ سے ممکن تو یہ معراج ہے میری
تم اپنے نقش پا سے میری تربت کو سجا دینا

یہ حسرت تھی کبھی ہنستا ہوا تو آپ کو دیکھیں
اگر تربت پہ آنا ہو تو آ کر مسکرا دینا

میرے اس منتظر پیکر کو مٹی کھا چکی ہو گی
تو اس مٹی کو اپنے راستوں پر تم بچھا دینا

محبت میں تو جعفر اجر اور بدلہ نہیں ہوتا
جو مجھ کو دینا چاہو اپنے آنگن میں سجا دینا

09/09/2022

اس رات کو ہونے لگا کچھ درد کم عباس(ع) کا
امید کی چمکی کرن اٹھا قدم عباس ع کا

رخ منتقم (ص) کا دیکھ کر کچھ آس سی بندھنے لگی
بدلے کی ٹھنڈک سے گھٹا تھوڑا سا غم عباس (ع) کا

صدیوں سے سُوکھی سِی مشک اُمید سے تر ہو گئی
جوشِ جوانی سے پڑا ابرو پہ خم عباس (ع) کا

اِک بار پھر عباس ع کے رُخ پر اُمنگیں کِھل گئیں
پھر ہاتھ حسرت سے بڑھا سوئے علم عباس (ع) کا

غِیض و غَضب اعصاب میں پھر کروٹیں لینے لگا
تلوار پر جمنے لگا پھر سے بھرم عباس ( ع) کا

جعفر مچلتی ہے یہی چشم دو عالم میں دعا
دشمن سبھی دیکھیں غضب اور ہم کرم عباس(ع) کا

08/09/2022

میرے محبوب تجھے تاج سجانا ہو گا
جانتا ہوں کہ تیرے گرد زمانہ ہو گا

بزمِ قدسی میں اگر کچھ بھی جگہ بچ جائے
چند رندوں کو بھی ہر حال بلانا ہو گا

بے نیازی میں نہ انداز ہو بیزاری کا
ہم پہ رحمت تیری عظمت کا بہانہ ہو گا

خوش خیالی کا تقاضا ہے کہ امید رکھوں
عاصیوں کا تیرے قدموں میں ٹھکانہ ہو گا

ٹھیک ہے ہم تیری خوشیوں میں نہ آ پائیں گے
گوشہ ءِ قبر سہی کچھ تو سجانا ہو گا

دینا پروانہ ءِ ازلی کو بھی پروانہ وصل
ساتھ بینائی کے یہ دل بھی روانہ ہو گا

جلوہ ءِ جاناں میسر ہو تو پھر کیا مانع
جان سے جانا بھی پڑ جائے تو جانا ہو گا

جب بھی تڑپایا تڑپ نے تو تڑپنے والے
تجھ کو جعفر ہی کا انداز بنانا ہو گا

Want your school to be the top-listed School/college in Jhang Sadar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Jhang Sadar