سب نے دیکھی بے صورت کے مظہر میں اظہار کی صورت
ملکہِ روم (ص) کی گود میں بن کے پھول♥️ کِھلا تھا صدیوں پہلے
جعفر کتنی حیرت ہے یہ جو تھا ازل سے ابد کا مالک🌎🌞🌙
کیا تھی ضرورت بن کے بچہ خود آیا تھا صدیوں پہلے 🛐
Syed Jaffer uz Zaman Naqvi سید جعفر الزمان نقوی
This page is dedicated to Lovers of Imam e Zamana (A.S).
ہے کون جو منبر 🕋 پہ کھڑا بول رہا ہے
کس شان سے عباس(ع) نما بول رہا ہے 🌋
رس گھولتی جو طُور⛰️ کے پردے میں سدا تھی
کہنے کو وہ خالق☝️ تھا مگر اِس کی ادا تھی
وہی ہو کے یہاں جلوہ کُشا🎇 بول رہا ہے
جو ہاتھ✍🏻 لکھا کرتا تھا احکام وحی کے
اس ہاتھ میں لگتے ہیں سب انداز اُسی کے 🙏🏻
شاہد یہ وہی یزداں ادا بول رہا ہے
خالق کا مجھے یاد ہےوہ لہجہ گفتار 🌹
آواز وہ گھمبیر وہی معنی و اسرار🌹
اِن ہونٹوں میں چھپ کر وہ خُدا بول رہا ہے 🤲🏻
جب میں جاؤں گا تو فریاد کریں گے کیا کیا🎇
اپنے بیگانے سبھی یاد کریں گے کیا کیا💫
خستہ قبروں سے بھلا کون وفا کرتا ہے⚰️
عمر بھر کون کسے یاد کیا کرتا ہے⏰
جب کوئی شخص کسی بزم کو گرمائے گا🎊
سب کے ہونٹوں پہ میرا نام مچل جائے گا🎉
ہمارا فرض تھا مولا تمہیں ہر دم دعا دینا
تیری خوشیوں کی امیدوں میں کُل جیون بیتا دینا
تیری راہ پر یہ سرد آہیں بچھا کر جا رہا ہوں میں
انہیں اپنی کف نعلین کی زینت بنا دینا
تیری دہلیز پر ہم اپنی آنکھیں چھوڑے جاتے ہیں
مناسب ہو تو ان کو اپنی چند خوشیاں دکھا دینا
جو خوش قسمت نگاہیں دیکھیں تیرے حسن تاباں کو
میری حسرت کو لمحہ بھر ان آنکھوں میں بسا دینا
تیری خوشیوں کی حسرت قبر میں بھی سو نہ پائے گی
ملے فرصت تو اس حسرت کو خود آ کر سلا دینا
گھروندے جو توقعات کے میں نے بنائے تھے
انہیں زینت نہ دے پانا تو خود آ کر مٹا دینا
میں اپنی قبر میں نہ آنے دوں گا کوئی خوش فہمی
مجھے میری تمنا کا نہ بھی تم کچھ صلا دینا
میں اپنی ذات سے اونچی کوئی امید کیوں رکھوں
میں یہ کہتا نہیں کہ پھول تربت پر چڑھا دینا
اگر ہو آپ سے ممکن تو یہ معراج ہے میری
تم اپنے نقش پا سے میری تربت کو سجا دینا
یہ حسرت تھی کبھی ہنستا ہوا تو آپ کو دیکھیں
اگر تربت پہ آنا ہو تو آ کر مسکرا دینا
میرے اس منتظر پیکر کو مٹی کھا چکی ہو گی
تو اس مٹی کو اپنے راستوں پر تم بچھا دینا
محبت میں تو جعفر اجر اور بدلہ نہیں ہوتا
جو مجھ کو دینا چاہو اپنے آنگن میں سجا دینا
اس رات کو ہونے لگا کچھ درد کم عباس(ع) کا
امید کی چمکی کرن اٹھا قدم عباس ع کا
رخ منتقم (ص) کا دیکھ کر کچھ آس سی بندھنے لگی
بدلے کی ٹھنڈک سے گھٹا تھوڑا سا غم عباس (ع) کا
صدیوں سے سُوکھی سِی مشک اُمید سے تر ہو گئی
جوشِ جوانی سے پڑا ابرو پہ خم عباس (ع) کا
اِک بار پھر عباس ع کے رُخ پر اُمنگیں کِھل گئیں
پھر ہاتھ حسرت سے بڑھا سوئے علم عباس (ع) کا
غِیض و غَضب اعصاب میں پھر کروٹیں لینے لگا
تلوار پر جمنے لگا پھر سے بھرم عباس ( ع) کا
جعفر مچلتی ہے یہی چشم دو عالم میں دعا
دشمن سبھی دیکھیں غضب اور ہم کرم عباس(ع) کا
میرے محبوب تجھے تاج سجانا ہو گا
جانتا ہوں کہ تیرے گرد زمانہ ہو گا
بزمِ قدسی میں اگر کچھ بھی جگہ بچ جائے
چند رندوں کو بھی ہر حال بلانا ہو گا
بے نیازی میں نہ انداز ہو بیزاری کا
ہم پہ رحمت تیری عظمت کا بہانہ ہو گا
خوش خیالی کا تقاضا ہے کہ امید رکھوں
عاصیوں کا تیرے قدموں میں ٹھکانہ ہو گا
ٹھیک ہے ہم تیری خوشیوں میں نہ آ پائیں گے
گوشہ ءِ قبر سہی کچھ تو سجانا ہو گا
دینا پروانہ ءِ ازلی کو بھی پروانہ وصل
ساتھ بینائی کے یہ دل بھی روانہ ہو گا
جلوہ ءِ جاناں میسر ہو تو پھر کیا مانع
جان سے جانا بھی پڑ جائے تو جانا ہو گا
جب بھی تڑپایا تڑپ نے تو تڑپنے والے
تجھ کو جعفر ہی کا انداز بنانا ہو گا
Click here to claim your Sponsored Listing.