08/05/2026
ڈاکٹر سرور ساجد
ہے اب دشمن وہی اپنا بہت تھا
اسے ہم نے کبھی چاہا بہت تھا
اندھیرا ہی اندھیرا دور تک تھا
بچھڑ کے اس سے میں رویا بہت تھا
ابھرنا چاہتے تھے اور ڈوبے
سمندر پیار کا گہرا بہت تھا
زمانے کو بھلا دینے کی خاطر
تصور میں ترا چہرہ بہت تھا
ہمارے ساتھ ساجدؔ نبھ نہ پائی
مگر وہ دوست تو اچھا بہت تھا
30/04/2026
29/04/2026
28/04/2026