نماز جمعہ سے متعلق اہم گزارش
Almissbah seerah.jbd
سیرت طیبہ کو سیکھنے میں معاون
آئیے سورہ جمعہ کی چند آیات کی تلاوت سنتے ہیں
🍂🌿🍂🌿 ﷽ 🌿🍂🌿🍂
🌺 سیرتِ طیبہ کااجمالی خاکہ 1 🌺
ولادت سے نبوت تک کے حالات
اِبتدائی حالات
نسب شریف: سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم۔
کنیت: ابو القاسم۔
وَالدہ کا نام: آمنہ بنت وہب۔
وِلادت: بروز دوشنبہ [۸ یا ۹ تاریخ] ماہِ ربیع الاوّل، عام الفیل۔
وَالد ماجد کا اِنتقال وِلادت سے قبل ہی بحالتِ سفر مدینہ منورَہ میں ہوچکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کفالت آپ کے دادا عبد المطلب نے کی اور حلیمہ سعدیہ نے دودھ پلایا۔ پھر آپ کی عمر مبارک چھ سال کی ہوئی تو آپ کی والدہ ماجدہ آپ کو مدینہ آپ کے ننہال لے گئیں، واپسی میں بمقامِ ابوا اُن کا انتقال ہوا اور آپ کی پرورش اُمّ ایمن کے سپرد ہوئی۔ آٹھ سال کے ہوئے تو دادا کا سایہ بھی سر سے اُٹھ گیا، کفالت کا ذمہ آپ کے چچا ابو طالب نے لیا۔ نو سال کی عمر میں چچا کے ساتھ شام کا سفر فرمایا اور ۲۵ سال کی عمر میں شام کا دوسرا سفر حضرت خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی تجارت کے سلسلہ میں فرمایا اور اس سفر سے واپسی کے دو ماہ بعد حضرت خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا سے عقد ہوا۔ ۳۵ سال کی عمر میں قریش کے ساتھ تعمیرِ کعبہ میں حصہ لیا اور پتھر ڈھوئے، حجرِ اسود کے بارے میں قریش کے اُلجھے ہوئے جھگڑے کا حکیمانہ فیصلہ فرمایا جس پر سبھی خوش ہوگئے۔
تعلیم و تربیت
آپ صلی اللہ علیہ وسلم یتیم پیدا ہوئے تھے اور ماحول و معاشرہ سارا بت پرست تھا؛ مگر آپ بغیر کسی ظاہری تعلیم و تربیت کے نہ صرف ان تمام آلائشوں سے پاک صاف رہے؛ بلکہ جسمانی ترقی کے ساتھ ساتھ عقل و فہم اور فضل و کمال میں بھی ترقی ہوتی گئی؛ یہاں تک کہ سب نے یکساں و یک زبان ہوکر آپ کو صادق و امین کا خطاب دیا۔
خلوت و عبادت
بچپن میں چند قیراط پر اہلِ مکہ کی بکریاں بھی چرائیں؛ مگر بعد میں آپ کو خلوت پسند آئی؛ چناں چہ غارِ حرا میں کئی کئی راتیں عبادت میں گزر جاتیں۔ نبوت سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سچے خواب دیکھنے لگے، خواب میں جو دیکھتے ہو بہو وہی ہوجاتا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دستورِ تعلیم
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کا ہر پہلو نرالا اور اُمت کے لیے مینارِ ہدایت ہے؛ اگرچہ آپ کا تشریعی دور، نبوت کے بعد شروع ہوتا ہے لیکن اس سے پہلے کا دور بھی چاہے بچپن کا دور ہو یا جوانی کا اُمت کے لیے اس میں ہدایت موجود ہے۔
بچپن سے اجتماعی کاموں میں اتنا لگاؤ اور دلچسپی ہے کہ جب بیت اللہ شریف کی تعمیر ہورہی تھی تو آپ بھی قریشِ مکہ کے ساتھ پتھر اٹھاکر لا رہے ہیں۔
اور شرم وحیاء اتنی غالب ہے کہ جب آپ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ دیکھتے ہیں کہ آپ ننگے کندھے پر پتھر اُٹھاکر لارہے ہیں تو ترس کھاتے ہوئے آپ کا تہ بند کھول کر کندھے پر رکھ دیا۔ آپ شرم کے مارے بے ہوش ہوکر گر پڑے، یہ فرماتے ہوئے کہ میری چادر مجھ پر ڈال دو۔
کسب حلال کی یہ اہمیت کہ قریش کی بکریاں چراتے اور اس کی مزدوری سے اپنی ضروریات پوری فرماتے اور جب اور بڑے ہوئے تو تجارت جیسا اہم پیشہ اختیار فرمایا اور التاجر الصدوق الأمین (امانت دار سچے تاجر) کی صورت میں سامنے آئے۔
معاملہ فہمی اور معاشرے کے اختلافات کو ختم کرنے اور اس میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کی وہ صلاحیت ہے کہ بیت اللہ کی تعمیر کے وقت حجرِ اسود کو اپنی جگہ رکھنے پر قریش کی مختلف جماعتوں میں اختلاف پیدا ہوا اور قریب تھا کہ ناحق خون کی ندیاں بہہ جاتیں؛ لیکن آپ نے ایسا فیصلہ فرمایا جس کی سب نے تحسین کی اور اس پر راضی ہوگئے۔
صداقت و امانت کے ایسے گرویدہ کہ بچپن سے آپ الصادق الأمین کے لقب سے یاد کیے جانے لگے اور دوست تو دوست دشمن بھی آپ کے اس وصف کا اقرار کرتے تھے؛ چناں چہ قبائل قریش نے ایک موقع پر بیک زبان کہا: ”ہم نے بارہا تجربہ کیا؛ مگر آپ کو ہمیشہ سچا پایا“۔ یہ سب قدرت کی جانب سے ایک غیبی تربیت تھی؛ کیوں کہ آپ کو آگے چل کر نبوت و رسالت کے عظیم مقام پر فائز کرنا تھا اور تمام عالم کے لیے مقتدیٰ بنانا تھا اور امت کے لیے آپ کی زندگی کو بہ طورِ اُسوہٴ حسنہ پیش کرنا تھا۔
”لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَکَرَاللّٰہَ کَثِیْرًا“․(الاحزاب:۲۱)
”بلاشہ اے مسلمانو! تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں عمدہ نمونہ ہے اُس شخص کے لیے جو اللہ کی ملاقات کا اور قیامت کے دن کا خوف رکھتا ہے اور اللہ کو بکثرت یاد کرتا ہے۔“
جاری ہے۔۔۔
از: مولانا ڈاکٹر عبدالرزّاق اسکندر
•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•
🍂🌿🍂🌿 ﷽ 🌿🍂🌿🍂
🌺 سیرتِ طیبہ کااجمالی خاکہ 3🌺
[ ہجرت مدینہ سے غزوۂ احزاب/بنو قریظہ تک کے حالات ]
ہجرتِ مدینہ
مدینہ میں اسلام کی روشنی گھر گھر پھیل چکی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ہجرتِ مدینہ کا حکم فرمایا، قریش کو پتہ چلا تو اُنہوں نے دار الندوة میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کا ناپاک منصوبہ بنایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کرلیا، اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ منصوبہ خاک میں ملادیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کا حکم ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کافروں کے گھیرے سے باطمینان نکلے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے، ان کو ساتھ لے کر غارِ ثور تشریف لے گئے، یہاں تین دن رہے، پھر ہجرت فرمائی اور مدینہ کی نواحی بستی قُبا پہنچے۔
۱ ھ اِسلام کا نیا دور
یہاں سے اِسلام کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے قبا میں چودہ دن قیام رہا، وہاں ایک مسجد بنائی، وہاں سے مدینہ طیبہ منتقل ہوئے۔ حضرت ابو ایوب اَنصارِی رَضی اللہ عنہ کے گھر قیام فرمایا مسجد نبوی کی تعمیر فرمائی، اذان شروع ہوئی اور جہاد کا حکم ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت و جہاد کے لیے صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعتیں بھیجنا شروع کیں۔
سرایا و غزوات
جس جہاد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود شریک ہوئے اسے غزوہ کہتے ہیں اور جس میں خود نہیں گئے، صحابہ کی جماعت کو بھیجا اسے سریہ کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرایا کی تعداد ۴۷/ ہے اور غزوات کی تعداد ۲۷/ ہے۔
۲ ھ:
اس سال تحویلِ قبلہ کا حکم ہوا، روزہ رمضان، زکوٰة و فطرة واجب ہوئے۔ اسی سال (رمضان میں) مشہور غزوہٴ بدر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ۳۱۳/ جاں نثار تھے اور قریش ایک ہزار؛ مگر شکست قریش ہی کو ہوئی، ان کے سردار مارے گئے اور ستر قید ہوئے، مسلمانوں کے چودہ آدمی شہید ہوئے۔ اسی سال غزوہٴ بنی قینقاع کا واقعہ پیش آیا جس میں جنگ نہیں ہوئی۔ [بنو قینقاع کے یہودیوں کو مدینہ سے جلا وطن کر دیا گیا] سیّدنا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا حضرت فاطمة الزہراء رضی اللہ عنہا سے نکاح ہوا اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر رُخصتی ہوئی۔
۳ ھ:
اس سال مشہور جنگ اُحد ہوئی، قریش قبائلِ عرب کو اکٹھا کر کے بدر کے مقتولوں کا بدلہ لینے جبلِ اُحد کے پاس جمع ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہزار کی جمعیت کے ساتھ مدینہ سے باہر نکلے، ۳۰۰/ منافق راستہ ہی میں پلٹ گئے، دامنِ اُحد میں دونوں فوجیں لڑیں، کفار کو شکست ہوئی، ایک درّہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر اندازوں کی ایک جماعت اس وصیت کے ساتھ مقرر فرمائی تھی کہ ہم مریں یا جئیں تمہیں بہرحال تاحکم ثانی اپنی جگہ رہنا ہوگا۔ ان میں سے بعض نے مسلمانوں کی فتح اور کافروں کی شکست دیکھ کر جگہ چھوڑ دی، دشمن کو پلٹ کر پیچھے سے حملہ کا موقع مل گیا، جنگ کا پانسہ پلٹ گیا، ستر صحابہ شہید ہوئے جن کے سردار حمزہ رضی اللہ عنہ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہٴ اَنور زخمی ہوا، سامنے کے دندانِ مبارک شہید ہوئے، اگلے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے تعاقب میں حمراء الاسد تک گئے؛ مگر دشمن بچ نکلا، مقابلہ نہیں ہوا، اسی سال شراب کی حرمت نازل ہوئی۔
۴ ھ:
اس سال غزوہٴ بنی نضیر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نضیر [یہودی قبیلے] کا محاصرہ کیا اور انھیں جلا وطن کیا، پھر غزوہٴ ذات الرقاع ہوا، مقابلہ کی نوبت نہیں آئی، اس سفر میں ”نمازِ خوف“ اور ”تیمم“ کا حکم نازل ہوا، پھر غزوہٴ اُحد صغریٰ ہوا، گزشتہ سال جنگ اُحد سے واپسی پر قریش کہہ گئے تھے کہ آئندہ سال پھر اسی مقام پر جنگ ہوگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حسبِ وعدہ اُحد کی طرف نکلے؛ لیکن قریش مقابلہ کے لیے نہیں آئے۔
۵ ھ:
اس سال غزوہٴ بنی مصطلق ہوا، مقابلہ میں اس قبیلے کے دس آدمی مارے گئے۔ باقی قید ہوئے، انہی قیدیوں میں ان کے سردار حارث کی لڑکی جویریہ تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو آزاد کر کے اُن سے نکاح کرلیا، یہ نکاح تمام قیدیوں کے آزاد کرنے اور ان کے اِسلام لانے کا ذریعہ بنا۔
پھر غزوہٴ احزاب پیش آیا، قریش نے تمام قبائلِ عرب اور یہود کو ساتھ لے کر دس ہزار کی تعداد میں مدینہ کا محاصرہ کیا، مسلمانوں نے اپنی حفاظت کے لیے ایک لمبی خندق کھودی، قریش کا محاصرہ پندرہ دِن جاری رہا بالآخر اللہ تعالیٰ نے تند ہوا اور فرشتوں کا لشکر بھیجا اور دشمن ناکام لوٹا، پھر غزوہٴ بنی قریظہ ہوا اور یہود بنی قریظہ کو عہد شکنی کی سزا میں قتل کیا گیا، اسی سال حج فرض ہوا اور پردہ کی آیات نازل ہوئیں۔
جاری ہے۔۔
از: مولانا ڈاکٹر عبدالرزّاق اسکندر
•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Jauharabad