Government High School Chak No. 374 GB, Jaranwala, Faisalabad
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Government High School Chak No. 374 GB, Jaranwala, Faisalabad, School, Chak 374 GB Arkana, Jaranwala.
14/05/2026
طلباء آپ کی عزت کیوں کریں؟
🔟 طاقتور اصول جو آپ کی عزت کا باعث بن سکتے ہیں ۔
کلاس روم کا دروازہ کھلتا ہے، ایک استاد داخل ہوتا ہے اور پوری کلاس میں ایک دم خاموشی چھا جاتی ہے۔ کیا یہ خاموشی اس 'خوف' کی وجہ سے ہے جو استاد کے ہاتھ میں موجود چھڑی یا اس کے سخت لہجے سے پیدا ہوا؟ یا یہ اس استاد کے احترام کا نتیجہ ہے؟
بطور استاد، میں نے برسوں کے مشاہدے کے بعد یہ سیکھا ہے کہ کلاس روم میں عزت کبھی بھی چلانے، دھمکیاں دینے یا ڈر پیدا کرنے سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔ یہ کوئی ایسی شے نہیں جسے آپ طلباء سے زبردستی حاصل کرلیں۔ سچی عزت تو وہ ہے جو آپ کے روزمرہ کے رویے، آپ کے الفاظ کے چناؤ اور آپ کے منفرد انداز سے طلباء کو آپ کی طرف مائل کرتی یے۔
آئیے آج ان نفسیاتی اور اخلاقی پہلوؤں کا تجزیہ کرتے ہیں جو کسی استاد کو طلباء کی نظر میں "پسندیدہ" بنا دیتے ہیں اور کیوں کچھ اساتذہ تمام تر علمی قابلیت کے باوجود نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔
1️⃣سب کے لیے ایک جیسے اصول
ایک طالب علم کے لیے سب سے زیادہ ناپسندیدگی کا باعث وہ استاد ہوتا ہے جس کا موڈ موسم کی طرح بدلتا ہو۔ طلباء ان اساتذہ کی دل سے عزت کرتے ہیں جن کے اصول مزاج، ذاتی پسند ناپسند یا وقتی جذبات کے تابع نہیں ہوتے۔ اگر آپ نے ایک اصول طے کر دیا ہے کہ کلاس میں غیر ضروری گفتگو نظم و ضبط کے خلاف ہے، تو یہ اصول ہر طالب علم کے لیے اور ہر دن کے لیے ایک جیسا ہونا چاہیے۔ جب طلباء کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا استاد 'اصول پسند' ہے اور اس کے ہاں کوئی استثناء (Exception) نہیں ہے، تو وہ نہ صرف نظم و ضبط کی پابندی کرتے ہیں بلکہ استاد کو پسند کرنا شروع کردیتے ہیں۔
2️⃣مضمون پر عبور: اعتماد کی بنیاد
تعلیمی میدان میں عزت کو سب سے جلدی جو چیز دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے، وہ ہے استاد کی اپنی الجھن اور بے یقینی۔ ایک کنفیوزڈ استاد کبھی بھی عزت حاصل نہیں کر سکتا ۔اگر استاد خود اپنے موضوع پر پراعتماد نہیں، تو وہ طلباء کا اعتماد کبھی نہیں جیت سکتا۔ جب آپ کلاس میں کھڑے ہو کر کسی پیچیدہ نکتے کو سادہ زبان میں سمجھاتے ہیں، سوالوں کے پراعتماد جواب دیتے ہیں اور اپنی غلطی کو بھی مہارت سے تسلیم کر کے درست کرتے ہیں، تو طلباء کے دل میں آپ کی قدر بڑھ جاتی ہے
وہ جان جاتے ہیں کہ یہ وہ شخص ہے جس کے پاس علم کا نور ہے، اور علم بذاتِ خود ایک بہت بڑی طاقت ہے جو احترام پیدا کرتی ہے۔
3️⃣تذلیل نہیں، تربیت:
یہ میرا فیورٹ اور سب سے اہم پوائنٹ ہے۔
عزت دینے سے ہی عزت ملتی ہے ۔کلاس روم میں سب سے بڑا جرم کسی طالب علم کی سب کے سامنے تذلیل کرنا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کے ڈانٹنے یا شرمندہ کرنے سے وہ لمحاتی طور پر خاموش ہو جائے، لیکن اس لمحے اس کے دل میں آپ کے لیے موجود عزت ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتی ہے۔ ایک مثالی استاد وہ ہے جو پختگی کا ثبوت دیتا ہے؛ وہ غلطی پر ٹوکتا ضرور ہے، لیکن تنہائی میں یا نہایت نرمی کے ساتھ۔ وہ تنقید بھی کرتا ہے تو اصلاح کے لیے نہ کہ شرمندہ کرنے کے لیے ۔جب آپ کسی کی عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہیں، تو وہ طالب علم آپ کا 'وفادار' بن جاتا ہے اور یہی رویہ دیرپا محبت اور احترام کی بنیاد بنتا ہے۔
یاد رکھیں! عزت نفس بہت بڑی چیز ہے۔اسے مجروح مت کیا کریں۔
4️⃣جو کہیں اس پہ ہر صورت عمل کریں
اگر آپ نے کہا ہے کہ "کل ٹیسٹ ہوگا" یا "میں کل تمہارا ہوم ورک دیکھوں گا"، تو اسے ہر صورت پورا کریں۔ وہ اساتذہ جو صرف زبانی جمع خرچ کرتے ہیں اور عمل کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں، وہ اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔ طلباء بہت باریک بین ہوتے ہیں؛ وہ دیکھتے ہیں کہ کیا ان کا استاد اپنی بات کا پکا ہے؟ جب آپ کے قول اور فعل میں تضاد ختم ہو جاتا ہے، تو آپ کی شخصیت کا رعب خود بخود قائم ہو جاتا ہے۔
5️⃣عدل و انصاف: لاڈلوں اور سلیکٹونس سے پاک کلاس
عزت اس وقت بڑھتی ہے جب آپ 'سخت گیر مگر منصف مزاج' ہوں۔ سختی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ظالم ہوں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے معیار (Standards) بنا رکھے ہیں۔ اور انصاف کا مطلب یہ ہے کہ وہ بلند معیار سب کے لیے برابر ہیں؛ نہ کلاس میں آپ کا کوئی 'لاڈلا' ہو اور نہ ہی کوئی ایسا جسے آپ جان بوجھ کر نشانہ بنائیں۔ جب پوری کلاس کو یقین ہوتا ہے کہ یہاں فیصلہ میرٹ پر ہوگا، تو وہ آپ کے فیصلوں کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیتے ہیں۔
6️⃣طلباء کو سننا ضروری ہے۔
احترام ایک دو طرفہ سڑک ہے۔ جب آپ طلباء کی بات توجہ سے سنتے ہیں، تو ان کے دل میں آپ کے لیے جگہ بنتی ہے۔ چاہے طالب علم غلط ہی کیوں نہ ہو، اسے اپنی صفائی پیش کرنے یا اپنی بات کہنے کا پورا موقع دیں۔ جب کسی انسان کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ اسے 'سنا' جا رہا ہے اور اسے 'اہمیت' دی جا رہی ہے، تو وہ سامنے والے کی عزت کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہی باہمی احترام ایک صحت مند تعلیمی ماحول کی بنیاد ہے۔
7️⃣عملی نمونہ: تقریر نہیں، تصویر بنیں
بچے وہ نہیں کرتے جو ہم انہیں 'کہتے' ہیں، بلکہ وہ وہ کرتے ہیں جو ہمیں 'کرتے' دیکھتے ہیں۔ اگر آپ وقت کی پابندی کا درس دے رہے ہیں لیکن خود کلاس میں دیر سے آتے ہیں، تو آپ کی تقریر کا اثر صفر ہو جائے گا۔
اگر آپ صفائی چاہتے ہیں، تو خود کو صاف ستھرا اور منظم رکھیں۔ ایک بہترین استاد کتابوں سے زیادہ اپنے کردار سے پڑھاتا ہے۔
8️⃣ہمدردی: کتابوں سے آگے کا رشتہ
جو استاد صرف نصاب تک محدود رہتا ہے، وہ صرف ایک 'انسٹرکٹر' بن کر رہ جاتا ہے۔ لیکن جو استاد طالب علم کی خیریت پوچھتا ہے، اس کی پریشانیوں کو سمجھتا ہے اور اس کی ترقی پر سچی خوشی کا اظہار کرتا ہے، وہ ایک 'رہنما' کا درجہ پا لیتا ہے۔ جس طالب علم کو یہ احساس ہو جائے کہ اس کے استاد کے دل میں اس کے لیے ہمدردی اور فکر موجود ہے، وہ اس استاد کی عزت اپنے والدین کی طرح کرنے لگتا ہے۔
9️⃣عزت اور دوستی کا توازن
کچھ اساتذہ مقبول ہونے کے چکر میں طلباء کے ساتھ اتنے فری ہو جاتے ہیں کہ احترام کی لکیر دھندلا جاتی ہے۔ یاد رکھیں، دوستانہ ہونا بہت اچھی بات ہے، لیکن بے ادبی کی اجازت دینا خود استاد کے وقار کے خلاف ہے۔ طلباء ایسے اساتذہ کو پسند کرتے ہیں جو مسکراتے بھی ہوں، خوش اخلاق بھی ہوں، لیکن اپنی حدود اور رعب برقرار رکھنا بھی جانتے ہوں۔
🔟خاموشی کی طاقت: چلانا کمزوری کی علامت ہے
اس کو میں نے ہمیشہ اپنی کلاس میں پریکٹس کیا ہے۔
بہت سے اساتذہ سمجھتے ہیں کہ جتنا زیادہ وہ چلائیں گے، کلاس اتنی ہی خاموش ہوگی۔ حقیقت اس کے برعکس ہے؛ چیخنا اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کا اپنے اعصاب اور کلاس پر کنٹرول ختم ہو چکا ہے۔ اصل طاقت 'پرسکون اختیار' (Calm Authority) میں ہے۔ جو استاد اپنی آواز بلند کیے بغیر، صرف اپنی شخصیت کے سحر اور پر اعتماد لہجے سے پوری کلاس کو سنبھال لے، طلباء اسی کے گرویدہ ہوتے ہیں۔
📢حاصلِ کلام
مختصراً یہ کہ طلباء اساتذہ کی عزت کسی ڈر یا خوف کی وجہ سے نہیں کرتے۔ وہ عزت کرتے ہیں کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کا استاد اپنے کام میں ماہر ہے، اپنے رویے میں مستقل مزاج ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ان کا مخلص ہے۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے جانے کے برسوں بعد بھی آپ کے طلباء آپ کا نام احترام سے لیں، تو آج سے ان اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ یاد رکھیے، آپ صرف ایک مضمون نہیں پڑھا رہے، آپ ایک نسل کی تعمیر کر رہے ہیں۔
کیا آپ نے کبھی اپنی زندگی میں کسی ایسے استاد کا سامنا کیا ہے جس کی شخصیت میں یہ خوبیاں موجود تھیں؟ کمنٹس میں ان کا نام لکھ کر انہیں خراجِ تحسین پیش کریں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Jaranwala
37201