اردو ورثہ

اردو ورثہ

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from اردو ورثہ, Jaranwala.

09/07/2026
05/07/2026

#اردوشاعری #غالب

01/07/2026

#اردوشاعری #شاعری #حسین #محرم

29/06/2026

ساغر صدیقی شاعر درویش گروپ

29/06/2026

#فیض #شاعری #اردوشاعری

28/06/2026

#میر انیس کا مرثیہ # حصہ سوم
**۲۴**
اماں تمہاری بیٹیاں ہوتی ہیں بے وطن
کیوں کر بچائے بھائی کو آفت سے یہ بہن
ہے ہے اجاڑ ہوتا ہے پھولا پھلا چمن
دو دن سے بے قرار ہے شاہنشہِ زمن
> کچھ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں نہ شب کو سوتے ہیں
> تربت پہ نانا جان کی جا جا کے روتے ہیں
>
**۲۵**
زینب کو روتا دیکھ کے روئے بہت امام
رخصت کا ماں کی قبر کو، جھک کر کیا سلام
شب بھر تو گھر میں روتے رہے شاہِ خاص و عام
وقتِ سحر وطن سے چلے سیدِ انام
> رستے پہ شہر کے تو سواری کا شور تھا
> اہلِ وطن کے نالہ و زاری کا شور تھا
>
**۲۶**
مایوس تھے جو فاطمہ کے نورِ عین سے
ملتے تھے آنکھیں پائے شہِ مشرقین سے
اس رات کوئی گھر میں نہ سویا تھا چین سے
غل تھا مدینہ ہوتا ہے خالی حسین سے
> رخصت حرم سے عورتیں آ آ کے ہوتی ہیں
> کوٹھوں پہ پردہ والیاں منہ ڈھانپ کے روتی ہیں
>
**۲۷**
آتی تھی جب عماریِ زینب قریبِ بام
ان عورتوں سے کہتی تھی یہ خواہرِ امام
اے بیبیو برائے خدا ہے یہ میرا کام
شہ کی سلامتی کی دعا کیجیو صبح و شام
> وہ دن خدا کرے کہ خوشی تم کو پاؤں میں
> بھائی کو لے کے خیر سے پھر گھر میں آؤں میں
>
**۲۸**
ناکے تلک تو ساتھ تھا خلقت کا ازدحام
سب کو وداع کر کے، روانہ ہوئے امام
اہلِ حرم کو ساتھ لیے باصد احترام
اس رکنِ دیں نے، کعبے میں جا کر کیا قیام
> تھا قصدِ حج حبیبِ خدا کے حبیب کو
> واں بھی ملا نہ چین حسینِ غریب کو
>
**۲۹**
صحرائے کربلا میں ہوا جب ورودِ شاہ
اس رہبرِ زمانہ کی واں آ کے روکی راہ
منظور تھا کہ ہوویں بنی فاطمہ تباہ
چاروں طرف سے قتل کو آنے لگی سپاہ
> دریا تھا گردِ موج زن افواجِ شام کا
> تھا جوں حباب، بیچ میں خیمہ امام کا
>
کرتے تھے استغاثہ امامِ فلک جناب
موجود تھے وہ سب پہ نہ دیتے تھے کچھ جواب
اس وقت بڑھ کے شمر لعیں نے کیا خطاب
بس بس سخن کو طول نہ اب دیجئے بے حساب
​تیغیں کھینچی ہوئی ہیں سرانجامِ جنگ ہے
باتوں کا ہے یہ وقت کہ ہنگامِ جنگ ہے
​۳۱
فرمایا شہ نے قتل کا میرے ہے گر خیال
مہلت طلب ہے، آج کی شب فاطمہ کا لال
مردود نے کہا، نہیں مقبول یہ سوال
اکبر بگڑ کے کہنے لگے، او زبوں خصال
​مہلت ملے مجوس و نصاریٰ کے واسطے
اور حکمِ قتل، سیدِ والا کے واسطے
​۳۲
کچھ سوچ کر یہ کہنے لگا، شمرِ روسیاہ
دی مہلت آج آپ کو یا شاہِ دیں پناہ
خیمے میں آئے روتے ہوئے دشتِ کیں سے شاہ
دیکھا کہ حالِ حضرتِ زینب کا ہے تباہ
​مل مل کے ہاتھ کہتی ہیں، ہائے ہے میں لُٹتی ہوں
پردیس میں حسینؑ سے بھائی سے چُھٹتی ہوں
​۳۳
زینب کے پاس روتے گئے اور یہ کہا
بہنا ابھی سے روتی ہو کیوں تم پہ میں فدا
مہلت ہے شب کی، آؤ گلے سے لگو ذرا
ہوں گے نہ اور چار پہر تم سے ہم جدا
​تم قیدیوں میں جاؤ گی ہم رن میں سوئیں گے
مہمان ہیں اور آج کی شب، کل نہ ہوئیں گے
​۳۴
بنتِ علیؑ یہ کہنے لگی سر پیٹ کر
دیتے ہو اپنے مرنے کی بھائی مجھے خبر
ہے ہے جہاں سے پہلے نہ میں مر گئی سفر
اعدا مجھے پھرائیں گے بلوے میں ننگے سر
​بہتر ہے موت آئے، اگر اس حیات سے
گور و کفن تو پاؤں گی، بھائی کے ہاتھ سے
​۳۵
روئے امام سُن کے بہن کا کلامِ یاس
فرمایا سچ ہے دارِ فنا ہے مقامِ یاس
پھر اور ناامیدوں کو آیا پیامِ یاس
گذرا وہ روز چھا گئی خیمے پہ شامِ یاس
​سیدانیوں کو قطعِ امیدِ حیات تھی
وہ دشتِ ہولناک تھا اور کالی رات تھی-

28/06/2026

امیر خسرو

Want your school to be the top-listed School/college in Jaranwala?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Jaranwala