01/12/2025
ہیرو استاد
چھٹی کے بعد ماسٹر عبد الستار صاحب حسبِ معمول اپنی موٹر سائیکل پر گھر واپس جا رہے تھے۔ راستہ زیادہ لمبا نہ تھا مگر تقدیر نے اس دن ایک آزمائش لکھ رکھی تھی۔ اچانک موٹر سائیکل بے قابو ہوئی اور وہ زور سے زمین پر آ گرے۔ درد اس قدر شدید تھا کہ وہ وہیں نڈھال ہو گئے، چہرہ بے رنگ۔ مگر اس لمحے قدرت نے بھی اپنا کرم دکھایا۔
پیچھے سے ڈاکٹر تصور صاحب آ رہے تھے۔ حادثہ دیکھا تو فوراً رک گئے۔ فوری طبی امداد دی، ایک انجیکشن لگایا اور بڑے خلوص سے ماسٹر صاحب کو گھر پہنچایا۔ یوں لگا جیسے قدرت نے استاد کی حفاظت کے لیے خود ایک مسیحا بھیج دیا ہو۔
گھر پہنچنے کے بعد جب میڈیکل آفیسر نے معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ کندھے کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے۔ ڈاکٹر نے ہاتھ پر پلاسٹر لگایا اور سختی سے آرام کا مشورہ دیا۔ مگر آرام؟ یہ لفظ شاید ماسٹر عبد الستار صاحب کی لغت میں تھا ہی نہیں۔ ان کے دل میں ایک ہی فکر تھی—اسکول کے بچوں کی، جن کے اسکول بیسڈ اسسمنٹ کے امتحانات سر پر تھے۔
انہوں نے درد سے کراہتے ہوئے ہیڈ ماسٹر صاحب کو فون کیا اور اپنی حالت بتائی۔ موٹر سائیکل چلانا ممکن نہ تھا، لہٰذا انہوں نے درخواست کی کہ اگر ممکن ہو تو صبح انہیں اسکول لے جایا جائے۔ ہیڈ ماسٹر صاحب جب ان کی حالت دیکھنے آئے تو دل بھر آیا۔ ٹوٹا ہوا بازو، چہرے پر تکلیف اور پھر بھی آنکھوں میں ذمہ داری کی روشنی۔ انہوں نے کہا،
“عبد الستار صاحب! آپ چھٹی کریں، آپ کو آرام کی ضرورت ہے۔”
مگر استاد مسکرا دیے۔ کہنے لگے،
“بچوں کا مستقبل زیادہ قیمتی ہے، درد تو برداشت ہو جائے گا۔”
اگلی صبح ایک شخص کے سہارے ماسٹر عبد الستار صاحب اسکول پہنچ گئے۔ ہاتھ پلاسٹر میں جکڑا ہوا تھا، مگر قدم پُرعزم۔ جیسے ہی وہ عملے کے سامنے آئے، سب حیران اور پریشان ہو گئے۔ کوئی کہہ رہا تھا آرام کریں، کوئی کہہ رہا تھا کلاس نہ لیں۔ مگر استاد سب سن کر خاموشی سے اپنی کلاس کی طرف بڑھ گئے۔
ٹوٹے ہوئے کندھے کے ساتھ، درد کو دل میں دبا کر انہوں نے بچوں کو پڑھانا شروع کر دیا۔ تختہ سیاہ پر لکھنا مشکل تھا، مگر آواز میں جذبہ تھا۔ بچے بھی خاموشی سے اس استاد کو دیکھ رہے تھے جو انہیں صرف کتاب نہیں، بلکہ قربانی اور ذمہ داری کا سبق پڑھا رہا تھا۔
یہ کوئی افسانہ نہیں، یہ ایک سچی کہانی ہے۔ گورنمنٹ بوائز ایلیمنٹری سکول کاہل، مرکز بسال، تحصیل جنڈ، ضلع اٹک میں پیش آیا یہ واقعہ
ایک ایسے استاد ک