19/09/2025
ویکسین کی پروپیگنڈے کی وجہ سے بچوں اور والدین میں خوف پیدا ہوا ہے جس کی وجہ سے سکولوں کی حاضری بہت کم ہے اور والدین میں تشویش ہے۔ روزانہ کٸی والدین سکول تشریف لاتے ہیں اور کہتے ہیں ہماری اجازت کے بغیر ہمارے بچوں کو ویکسین نہ لگاٸی جاٸے۔
اول تو سکولوں میں ایسی کوئی بات ابھی تک نہیں آئی اور اگر حکومت کا پروگرام ہو بھی تو ہم درخواست کرتے ہیں کہ یہ پروگرام گھروں پر کی جائے سکولوں میں اس قسم کے مہم چلانا تعلیمی ماحول پر برے اثرات مرتب کررہا ہے۔ حکومت اور انتظامیہ فوری طور اس کی وضاحت کریں تاکہ بچوں کی تعلیمی ماحول پر اثر نہ پڑے۔۔
19/09/2025
کلاس ششم تا نہم کی طالبات اور معلمات نے مرحوم محمد سدیس کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی و دعا میں شرکت کی۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
آمین
12/09/2025
إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون
20/08/2025
اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ استاد سارے سٹوڈنٹس کو ایک جیسے پڑھاتا ہے۔ پھر کچھ بچے اچھی اور کچھ خراب پوزیشن کیوں حاصل کرتے ہیں؟
جواب: ہر بچے کا ذہنی سٹرکچر (قدرتی تخلیق) مختلف ہوتا ہے۔اس میں نیورانز مختلف انداز میں ترتیب دئیے گئے ہوتے ہیں۔جیسے کچھ کے ذہن کا سٹرکچر ایسا ہوتا ہے کہ وہ میتھس یا لاجیکل تھنکنگ میں ذیادہ ذہین ہوتے ہیں،کچھ تخلیقی ذہن کے حامل ہوتے ہیں،کچھ میں زبانیں سیکھنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے،کچھ میں visuals کو سمجھنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔اور بعض بچے ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں یہ سب کام کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔
اب جو ایک شعبے میں ذہین ہے، ہو سکتا ہے باقیوں میں کند ذہن ہو۔ لیکن ہمارے تعلیمی نظام میں اچھی یادداشت کا ہونا ذہانت کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔ اس لئے باقی سٹرکچرز والے بچے عموماً کند ذہن سمجھے جاتے ہیں۔
اسی طرح ذہنی گروتھ بھی سب کی مختلف ہوتی ہے۔ہو سکتا ہے ایک بچہ پانچ سال کی عمر میں جو چیز سمجھ سکتا ہے وہ دوسرا بچہ سات سال کی عمر میں سیکھ سکیں۔
اساتذہ تمام سٹوڈنٹس کو ایک جیسے پڑھاتے ہیں- یہ ٹھیک ہے۔ لیکن بعض بچے خود اعتماد ہوتے ہیں، سوال کرنے سے نہیں کتراتے، جبکہ بعض بچے سوال کرنے سے جھجھکتے ہیں، ان میں خود اعتمادی کی کمی ہوتی ہے وہ ٹیچر کے ساتھ کوئی انٹر ایکشن نہیں رکھتے۔
ان میں بعض بچے محنت اور لگن میں دوسروں سے آگے ہوتے ہیں۔ اساتذہ اور والدین کے کاونسلنگ سے بچے محنت کے جذبے سے سرشار ہوسکتےہیں۔
اچھے اساتذہ کی یہ علامت ہونی چاہیے کہ بچے کا زون اف انٹرسٹ اور زون اف ویکنس معلوم کریں۔ اسکے انٹرسٹ زون کے ذریعے انٹر ایکشن کو بڑھائے۔
دوسرا بچہ جتنا برڈن افورڈ کر سکتا ہے اس سے زیادہ نہ ڈالے، کیونکہ تمام بچوں سے ایک جیسا وزن اٹھانے کی توقع رکھنا بڑی غلط فہمی ہے۔ اگر کسی بچے میں دو کلو وزن اٹھانے کی استعداد ہے اور اپ ان سے پانچ کلو اٹھوانا چاہتے ہے تو یقیناً اس سے جسمانی بگاڑ پیدا ہوگی۔ جو بچے کو ساری عمر متاثر کرسکتا ہے۔
لیکن پڑھانا صرف اساتذہ کی ہی ذمہ داری نہیں ہوتی، سٹوڈنٹس کے والدین اور گھر والوں کی ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔
یورپین کنٹریز میں بچے یس سر/نو سر کی زبان سمجھتے ہے۔ کیونکہ گھر میں جتنے بھی مسائل ہوتے ہیں ، گھریلو تنازعات ہوتے ہیں بچے کو ان سے الگ رکھا جاتا ہے ۔لیکن یہاں ایسا نہیں اپنے مسائل اور تنازعات میں بچے کو سرفہرست رکھے جاتے ہیں۔
اسکے برعکس بعض بچوں کو اتنا لاڈ اور پیار سے بگاڑ دیتے ہیں کہ انکا واپس ہونا ممکن نہیں ہوتا۔ لیپ ٹاپ، کمپیوٹر، سمارٹ موبائل فون، ویڈیو گیمز وغیرہ انکے ترجیحات میں سے ہوتے ہیں۔ تاکہ بچے کو سوسائٹی کے ساتھ لے کر چلے۔
اس قسم کے والدین بچوں کے فیس بک اور انسٹا پر لائیکس اور کمنٹس ، ٹک ٹاک پر بیک گراؤنڈ جذباتی میوزک لگا دنیا کو دیکھا کر، پب جی گیم میں چیمپئن بن کر فخر محسوس کرتے ہیں۔ اور انکے لیے جھنڈے گاڑنے کے مترادف سمجھے جاتے ہیں۔
یہ ایک ٹرائیکا ہے
استاد+ والدین+بچہ
جب تک اس ٹرائیکا میں سب اپنا کردار ادا نہیں کرینگے، تب تک بچہ یونہی تنزلی کا شکار ہوتا رہے گا۔
#وقارـمحبوب
24/07/2025
کم نمبر آنے پر بچوں کو مایوس نہ کریں بلکہ ان کا حوصلہ بڑھائیں۔ ان سے پیار سے بات کریں، ان کی بات سنیں اور انہیں سمجھائیں کہ کامیابی وقت مانگتی ہے۔ والدین کی شفقت بچوں کے اعتماد کو پروان چڑھاتی ہے
21/06/2025
13 جولائی سے ساون کا مہینہ شروع ہو رہا ہے۔
بزرگوں کا کہنا ہے کہ ساون اتنا زرخیز ہوتا ہے کہ اگر سوکھی لکڑی بھی زمین میں گاڑ دی جائے تو وہ سبز ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مہینہ پودے اور درخت لگانے کے لیے سب سے موزوں وقت سمجھا جاتا ہے۔
آئیے! اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور درخت لگانے کی تیاری کریں تاکہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت پر قابو پایا جا سکے اور ماحول کو بہتر بنایا جا سکے۔
درختوں میں نیم ایک خاص درخت ہے جو 55 ڈگری تک گرمی اور 10 ڈگری تک سردی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک 12 فٹ اونچا درخت اتنی ٹھنڈک پیدا کرتا ہے جتنے تین ایئر کنڈیشنر مل کر کرتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ نیم کا درخت رات کے وقت بھی آکسیجن خارج کرتا ہے۔
درخت زندگی ہیں — درخت قیمتی سرمایہ ہیں۔
نیم کے پودے کی قیمت تقریباً 50 سے 100 روپے تک ہوتی ہے، جو ہر کسی کی دسترس میں ہے۔
اس کے علاوہ، بکائن، جامن، شیشم، کچنار، پیپل، پاپولر، پلکن، آم، امرود وغیرہ بھی ایسے درخت ہیں جو ماحول دوست ہیں اور ٹھنڈک پیدا کرتے ہیں۔
🌱 درخت لگائیں — زندگیاں بچائیں!
اب وقت ہے عملی قدم اٹھانے کا، تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک صاف، سرسبز اور صحت مند ماحول دیا جا سکے۔
07/06/2025
السلام علیکم ورحمۃاللہ.
اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد.
عالم اسلام اور خصوصاً سارے پاکستان کو عید الاضحٰی مبارک.
اللہ پاک تمام مسلمانوں کی عبادات و قربانیوں کو اپنی بارگاہ اقدس میں قبول فرمائے آمین.
05/06/2025
Dear Parents, Students and teachers!
Please be informed that the school will be closed for summer break from June 5th, 2025 to August 17th, 2025,
School will reopen on Monday, August 18th 2025.
Assembly Time: 7:00 AM
School Closing Time: 12:30 PM
Important Reminder:
Your child’s Summer Pack must be submitted on August 15th and 16th for evaluation and teachers checking.
Students must come to school in neat and clean school uniforms on these days.
We wish you and your children a safe and enjoyable summer break!
School Administration