04/04/2025
[ لعلکم تشکرون ]
شکر کے معانی میں سے ایک معنی "ثبات اور استقامت" کا بھی ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے:
{ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولࣱ قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِهِ ٱلرُّسُلُۚ أَفَإِی۟ن مَّاتَ أَوۡ قُتِلَ ٱنقَلَبۡتُمۡ عَلَىٰۤ أَعۡقَـٰبِكُمۡۚ وَمَن یَنقَلِبۡ عَلَىٰ عَقِبَیۡهِ فَلَن یَضُرَّ ٱللَّهَ شَیۡـࣰٔاۗ وَسَیَجۡزِی ٱللَّهُ ٱلشَّـٰكِرِینَ }
[Surah Āli-ʿImrān: 144]
اس آیت میں ہر حال میں دین پر قائم رہنے والوں کو اللہ رب العزت نے شاکرین کے وصف سے ذکر فرمایا ہے، کہ جو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے دین پر جمے رہیں چاہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی طبعی وفات پا جائیں یا میدان معرکہ میں شہادت کا رتبہ پا جائیں۔ معلوم ہوا کہ دین اور اطاعت پر ثابت قدم رہنا، بھی شکر ہی میں سے ہے۔
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں:
{ شَهۡرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِیۤ أُنزِلَ فِیهِ ٱلۡقُرۡءَانُ هُدࣰى لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَـٰتࣲ مِّنَ ٱلۡهُدَىٰ وَٱلۡفُرۡقَانِۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ ٱلشَّهۡرَ فَلۡیَصُمۡهُۖ وَمَن كَانَ مَرِیضًا أَوۡ عَلَىٰ سَفَرࣲ فَعِدَّةࣱ مِّنۡ أَیَّامٍ أُخَرَۗ یُرِیدُ ٱللَّهُ بِكُمُ ٱلۡیُسۡرَ وَلَا یُرِیدُ بِكُمُ ٱلۡعُسۡرَ وَلِتُكۡمِلُوا۟ ٱلۡعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا۟ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمۡ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ }
[Surah Al-Baqarah: 185]
رمضان کے دنوں کی گنتی پوری کر لینے یعنی ( ولتكملوا العدة ) کے بعد اور عید کے موقعے پر اللہ تعالیٰ کی کبرائی اور بڑائی کو تکبیرات کے ذریعے بلند کرنے یعنی ( ولتكبروا الله ) کے بعد ( لعلكم تشكرون ) میں شکر کا یہ معنی خاص طور پر ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے تاکہ رمضان کے گذرنے کے بعد انسان دین سے بھی نہ گذر جائے!!
- سيد عبدالله طارق