Hafiz Zeeshan Online Quran Institute

Hafiz Zeeshan Online Quran Institute Zeeshan Yasin is a Hafiz-E-Quran, an Aalim and Imam, who is teaching Online Quran, Hadith and Fiqah to Kids and Adults from all around the world.
(7)

He has written several books on Islamic issues. He has a Youtube Channel where he uploads his Friday Sermons.

27/10/2023
الحمدللہ یہ امر باعث اعزاز و سعادت ہے کہ وفاق المدارس العربیہ کے رسالے "ماہنامہ وفاق المدارس" کے محرم الحرام کے شمارے می...
16/08/2023

الحمدللہ یہ امر باعث اعزاز و سعادت ہے کہ وفاق المدارس العربیہ کے رسالے "ماہنامہ وفاق المدارس" کے محرم الحرام کے شمارے میں میری دونوں کتابوں "آداب و اسباب اختلاف" اور "پانی کے مسائل وسائل اور شرعی احکام" پر تبصرے شائع ہوئے ہیں۔ تبصرے ملاحظہ فرمائیں ماہنامہ وفاق المدارس کے صفحات کا عکس نیچے موجود ہے۔

" پانی کے مسائل وسائل اور شرعی احکام"
تالیف: مولانا حافظ ذیشان یسین - صفحات ۱۹۰۔ طباعت مناسب - رابطہ نمبر : 9235118-0301
پانی بقاء حیات کے لیے اہم ترین عنصر ہے۔ یہ انسان کی وہ بنیادی ضرورت ہے جس پر خون ریز جنگوں کی گواہی تاریخ اقوام عالم دیتی ہے۔ پانی کے لیے قوموں کی حساسیت جیسے پہلے تھی آج بھی برقرار ہے۔ زندہ قومیں اس پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا کرتیں۔
ایک طرف پانی کی یہ اہمیت ہے، دوسری طرف ہمارا اجتماعی رویہ ہے جو پانی کے اتلاف و ضیاع کا حامل ہے۔ پچھلے چند برسوں سے وسائل حیات سے متعلق عالمی ادارے زمین کے مختلف خطوں میں پانی کی شدید کمی کی خبر دے رہے ہیں۔ وہ خبر دار کر رہے ہیں کہ اگر سلیقے سے اس مسئلے کو نہ دیکھا گیا اور مناسب پیش بندی نہ کی گئی تو قحط سالی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پاکستان جو کئی بڑے دریاؤں کی سرز مین تھی، ان دریاؤں کے دہانوں پر بھارت بہت سے ڈیم بنا چکا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کے اکثر دریا سال کا زیادہ تر عرصہ کسی وسیع صحرا کا منظر پیش کر رہے ہوتے ہیں ۔ جناب حافظ ذیشان یاسین صاحب نے اس موضوع پر اچھی تحقیق کی ہے ، قرآن وسنت اور فقہاء امت کی
تصریحات کو حوالہ بناتے ہوئے پانی کے حوالے سے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی تجاویز بھی مرتب کی ہیں۔ انہوں نے "پانی کی اہمیت وافادیت قرآن کی روشنی میں"، "پانی ضائع کرنے کی ممانعت"، "مختلف آبی وسائل سے پانی کے استعمال اور انتفاع کے شرعی احکام"، "پانی پر ثبوت ملک کی صورت"، "نجس پانی کے استعمال کا حکم"، "آلودگیوں سے پانی کی حفاظت"، "کیا فلٹریشن سے نجس پانی پاک ہو جاتا ہے"؟ "حکومت کی طرف سے پانی کے استعمال کی تحدید"، "پانی سے زمین کی آباد کاری"، "آبی وسائل و ذخائر کی تعمیر کی ذمہ داری"، جیسے اہم موضوعات پراچھا اور قابل قدر مطالعہ مواد فراہم کیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ عام طور پر یہ موضوع اہل تحقیق کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے، جناب حافظ ذیشان یاسین صاحب مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے آج کے بنیادی اہمیت کے حامل موضوع پر قلم اٹھایا ہے۔

"آداب و اسباب اختلاف"
تالیف: مولانا حافظ ذیشان یسین - صفحات: ۱۴۴۔ طباعت : مناسب کارڈ کور۔
یہ دنیا اختلاف اور رنگارنگی سے عبارت ہے ، آراء، مزاج ، اور عادات میں اختلاف ایک فطری امر ہے۔ حضرات فقہاء ومحدثین کرام بھی اسی دنیا کا حصہ تھے اور اسی فطری تقاضے کے سبب ان میں بھی علمی اختلاف رونما ہوئے ، انہی اختلافات کے سبب امت کو وہ راستے معلوم ہوئے جن پر چل کر اللہ تعالیٰ کی رضاء و انعام حاصل ہو سکتے ہیں۔ ان اختلافات کے سبب علماء ومحد ثین اور فقہاء امت پر طعن و تشنیع کا بازار گرم کرنا حماقت کی دلیل ہے۔ زیر نظر کتاب اس پراپیگنڈے کے جواب میں لکھی گئی ہے۔ کتاب میں فقہاء اور ائمہ مجتہدین کے فقہی اختلاف کی نوعیت/ اسباب اور وجوہ کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اختلاف کے آداب اور سلیقے کے متعلق سلف صالحین کے اسوہ اور طرز عمل کو مثالوں سے واضح کیا گیا ہے۔ یہ کتاب نو خیز فضلاء کے لیے بیش قیمت تو شہ ہے۔

05/08/2023

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :ہر دن صبح کے وقت آسمان سے دو فرشتے نازل ہوتے ہیں۔ ایک فرشتہ تو یہ کہتا ہے کہ اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ دے۔ اور دوسرا کہتا ہے کہ اے اللہ! روک کر رکھنے والے کے مال کو ہلاک فرما
(صحیح بخاری)
لوگوں پر کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب دو فرشتے نہ اترتے ہوں۔ ان میں سے ایک کہتا ہے کہ اے اللہ! جو اپنے مال کو خیر کے کاموں میں خرچ کرتا ہے جیسے طاعت وبندگی، اہل و عیال، فقراء و مساکین اور اپنے مہمانوں پر تو، تو اسے دنیا اور آخرت میں اس کا بدل عطا فرما اور دوسرا کہتا ہے: اے اللہ! بخیل کو اور اس کے مال کو ہلاک کر دے جو اپنے مال کو ان مصارف میں خرچ نہیں کرتا جن میں خرچ کرنا اللہ تعالی نے اس پر واجب کیا ہے۔

01/08/2023

معاشرے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تعویذات و عملیات وغیرہ کو روحانی علاج یا ملکوتی چیز سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ خیال غلط ہے بلکہ دیگر طرق علاج اور اسباب کی طرح تعویذ اور عملیات بھی محض ایک سبب اور طریقہ علاج کے درجہ میں ہے۔
روحانی علاج کا معنی تو اخلاق رذیلہ کو زائل کرنا اور صفات حسنہ سے متصف ہونا ہے تعویذ اور عملیات کا روحانیت سے کوئی تعلق نہیں تعویز تو محض ایک ظاہری تدبیر ہے۔
تعویذ اور عملیات کے جواز اور عدم جواز میں کچھ تفصیل ہے اگر تعویذ اورعملیات میں شرکیہ الفاظ استعمال کیے جائیں تو ایسا تعویذ اور ٹونا شرک و ناجائز ہے۔ اور اگر تعویذ اور عملیات قرآنی آیات و ادعیہ ماثورہ پر مشتمل ہوں تو اگر انہیں موثر بذات سمجھا جائے تو پھر یہ ناجائز ہے یعنی اگر یہ سمجھا جائے کہ یہ تعویذ ضرور اثر کرے گا چاہے اللہ کی مشیت ہو یا نہ ہو تو اس صورت میں یہ ناجائز اور شرک ہے۔ اسی طرح اگر ان تعویذات کو کسی ناجائز مقصد کے لیے استعمال کیا جائے تو بھی معصیت اور حرام ہے۔
اور آیات و ادعیہ پر مشتمل تعویزات کو اگر موثر بالذات نہ سمجھا جائے بلکہ علاج اور سبب کے طور پر کسی جائز مقصد کے لیے کیا جائے تو ہمارے اکثر علماء کے نزدیک ایسا تعویذ جائز ہے لیکن بعض علماء حضرات ایسے تعویذات کو بھی ناجائز قرار دیتے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ جو تعویذات اور عملیات قرآنی آیات یا ادعیہ ماثورہ پر مشتمل ہوں ان کا استعمال بطور سبب اور علاج کے جائز ہے لیکن انہیں شرطیہ اور سو فیصد موثر سمجھنا یا اس کا دعوی کرنا مناسب نہیں جس طرح دوائی کھانے سے کبھی افاقہ اور شفا ہو جاتی ہے کبھی نہیں ہوتی اسی طرح عملیات اور تعویذات کبھی اثر کر جاتے ہیں کبھی اثر نہیں کرتے پس عامل حضرات جو ان عملیات اور تعویذات کے حتمی اور شرطیہ موثر ہونے کا دعوی کرتے ہیں وہ محض لوگوں کی نفسیات سے کھیلتے ہیں ان کی باتیں حقائق سے بہت دور ہیں۔
عملیات کرنے والے حضرات کو محض عملیات و تعویذات کی وجہ سے پہنچی ہوئی شخصیات سمجھنا نادانی ہے تعویذات و عملیات کسی کی بزرگی یا ولایت کی نشانی ہرگز نہیں۔ پیشہ ور عاملین سے دور رہنے میں ہی عافیت ہے جو لوگ ان کے چکر میں پڑتے ہیں وہ عموما اپنا پیسہ وقت اور صحت برباد کرتے رہتے ہیں۔
اگر کبھی ضرورت پیش آ جائے تو کسی عالم باعمل یا متبع سنت بزرگ سے دعا اور دم کروا لینا چاہئے دعا کا نفع اور برکت تعویذات و عملیات سے بہت زیادہ ہے۔
حافظ ذیشان یاسین

26/07/2023

عناصر فطرت پر میرے علامتی افسانوں کے مجموعے "اسیرِ ماضی" کے لیے اندرون و بیرون ملک سے جن علمی و ادبی شخصیات کی تقاریظ اور تاثرات موصول ہوئے ہیں ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں:
(1) محترم جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد ذاکر عباسی صاحب (شکاگو، امریکا)
(2) محترم جناب پروفیسر ڈاکٹر سباط ایزم صاحب(ترکی) پروفیسر سباط ایزم صاحب ترک ہیں لیکن اردو زبان و ادب پر بھی خوب دسترس رکھتے ہیں نامور علمی شخصیت ہیں۔
(3) محترمہ ڈاکٹر عشرت گلناز صاحبہ۔ (کینیڈا) مصنفہ، افسانہ نگار
(4) ،محترم جناب ضیاء اللہ محسن صاحب۔ مصنف، ادیب، مدیر شاعر (اردو سرائے)
(5) محترم جناب جاوید چوہدری صاحب۔ کالم نگار، صحافی، اینکر پرسن (اسلام آباد)
(6) محترم جناب ڈاکٹر محمد یونس بٹ صاحب۔ مزاح نگار، مصنف، ڈرامہ نگار۔
ان حضرات نے میرے افسانوں اور مجھ ناچیز کے متعلق اپنے جن قیمتی تاثرات کا اظہار کیا ہے اور جس محبت اور اعتماد کا اظہار کیا ہے وہ یقینا میرے لیے باعث اعزاز ہے۔
محترم ڈاکٹر سباط ایزم صاحب نے افسانوں کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد توصیفی کلمات کہے اور میرے لیے یہ امر باعث حیرت و مسرت ہے جب انہوں نے لکھا کہ وہ یہ کہنے میں کوئی عار نہیں سمجھتے کہ حافظ ذیشان یاسین کے افسانوی مجموعے "اسیر ماضی" نے انہیں اپنا اسیر بنا لیا ہے۔ ہماری قوم ترکوں کے ڈرامہ ارطغرل کی اسیر تھی اور ترک ڈاکٹر سباط ایزم صاحب ہمارے علامتی افسانوں کے اسیر ہوئے۔
اب تقاریظ مکمل ہیں اور کتاب اشاعت کے لیے تیار ہے ان شاءاللہ جلد طباعت کے مراحل مکمل کر لے گی۔
حافظ ذیشان یاسین

25/07/2023

میری کتاب "اسیرِ ماضی" کے متعلق ترکی پاکستان امریکا اور کینیڈا کی نامور ادبی اور علمی شخصیات کی تقاریظ اور تاثرات موصول ہو گئے ہیں۔
ترک پروفیسر جناب ڈاکٹر سباط ایزم صاحب نے اپنے تاثرات میں جب اس بات کا برملا اظہار کیا کہ انہیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ وہ حافظ ذیشان یاسین کے افسانوی مجموعے "اسیر ماضی" کے اسیر ہو چکے ہیں تو میں اس امر پر حیران ہوا کہ ہماری قوم ترکوں کے ارتغرل ڈرامے کی اسیر ہوئی تھی جبکہ ترک پروفیسر جناب ڈاکٹر سباط ایزم صاحب میرے افسانوی مجموعے "اسیر ماضی" کے اسیر ہو چکے ہیں۔ بڑے لوگوں کی بات اور ظرف بھی بڑا ہوا کرتا ہے اور ترک تو واقعی عظیم اور بڑے لوگ ہیں۔
بہرحال جس طرح عناصر فطرت پر میرے یہ علامتی افسانے عجائب میں سے ہیں اسی طرح اس کتاب پر اہل علم و اہل ادب کی تقاریظ بھی عجائب میں سے ہیں۔
جن حضرات اور شخصیات کی تقاریظ اور تاثرات کتاب میں شامل ہوں گے اس کے متعلق جلد تفصیل سے بتاؤں گا۔
آئی ایس بی این نمبر بھی مل گیا ہے تقاریظ بھی موصول ہو گئی ہیں انہی تقاریظ کا انتظار تھا اب ان شاءاللہ کتاب اشاعت کے مراحل جلد عبور کر لے گی۔
حافظ ذیشان یاسین

28/06/2023

ہم جیسے شہر کے لوگ عید کے عین موقع پر جانور خرید کر ذبح کر لیتے ہیں اس لئے جانور سے انسیت نہیں ہوپاتی اور جو لوگ بڑی تعداد میں قربانی کے جانور پال کر فروخت کرتے ہیں ان کو بھی فروخت کے وقت خاص محسوس نہیں ہوتا۔
لیکن وہ لوگ جو کسی جانور کا چھوٹا بچہ شروع سے آخر تک گھر میں رکھ اس کی پرورش اور دیکھ بھال کرتے ہیں اور اپنے بچوں کی طرح اسے عزیز اور محبوب رکھتے ہیں ایسے لوگوں کو اس جانور سے بہت انسیت اور الفت پیدا ہو جاتی ہے جب چند سالوں کے بعد عید پر اسے فروخت کرنے یا ذبح کرنے وقت آتا ہے تو ان لوگوں کی کیفیت بڑی عجیب ہو جاتی ہے۔
میں نے کچھ عرصہ پہلے اس طرح کے کچھ لوگوں سے اس موضوع پر معلومات لیں حالانکہ وہ لوگ بظاہر دینی وضع قطع کے نہیں تھے لیکن جس طرح انہوں نے اپنے لاڈ اور پیار سے پالے ہوئے جانور کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے اور ذبح کے وقت کی اپنے بہتے آنسوؤں اور دلی کیفیت اور بعد میں کئی ہفتوں تک اپنی اداسی اور افسردگی کا تذکرہ کیا میرے لیے حیران کن تھا۔
لگتا ہے قربانی کا زیادہ اجروثواب انہی لوگوں کو حاصل ہوگا کیونکہ قربانی کا زیادہ بہتر اور عملی مفہوم ان ہی کے طرز عمل میں پایا جاتا ہے۔ اللہ تعالی سب کی قربانی قبول فرمائے اور سب کو اجرے عظیم عطا فرمائے۔ کسی شاعر نے ان کی اس کیفیت کی ترجمانی کی ہے:
محبت سے جو پالا تھا وہ بچھڑا بیچ آیا ہوں
جو میری گود میں کھیلا تھا وہ بکرا بیچ آیا ہوں
وہ منڈی تھی کسے فرصت وہاں رشتے سمجھ پاتا
وہ کہتے تھے کہ مہنگا ہے میں سستا بیچ آیا ہوں
ٹریفک سے اٹی گلیوں میں کہیں شہزادہ پڑا ہوگا
وہ اسماعیل تھا میرا میں بیٹا بیچ آیا ہوں
ذیشان یاسین

28/06/2023

مسافرت بھی عجیب چیز ہے اپنے آبائی شہر اور گاؤں سے دور رہنے والوں کا وجود کہیں ہوتا ہے جبکہ دل کہیں پیچھے اٹکا ہوتا ہے۔ عید کی چھٹیوں میں اپنے گھروں اور شہروں کو پلٹتے ہوئے کچھ احباب کی جذباتی پوسٹیں دیکھ کر احساس ہوا کہ جب لوگ غمِ روزگار میں اپنا گھر اور گاؤں چھوڑ کر مسافرت اختیارکرتے ہیں تو ان کے ساتھ ان کا آدھا چہرہ ہوتا ہے جبکہ آدھا چہرہ وہ پیچھے گھر والوں کے پاس چھوڑ آتے ہیں۔
گھر سے رخصت ہوتے وقت وہ اپنا سامان تو اٹھا لیتے ہیں لیکن احساسات اور یادیں وہیں پڑی رہ جاتی ہیں، عید کی تعطیلات میں گھروں کو پلٹتے ہوئے ان کے دلوں کی کیفیت کچھ اور ہوتی ہے جبکہ تعطیلات کے اختتام پر کوچ کے وقت ان کے چہرے کچھ اورطرح کے احساسات کی غمازی کرتے ہیں۔
میں اک عرصہ ہوا مسافرت سے ناآشنا ہوں چھوٹے سے شہر کے ایک چھوٹے سے بلاک تک محدود ہوں طبیعت ہمیشہ سے تنہائی اور گوشہ نشینی پر مائل ہے سفر پر آمادہ نہیں ہوتی جنگل اور صحرا وغیرہ پر علامتی افسانے ان کا مشاہدہ کئے بغیر تخیل کی بنیاد پر تحریر کئے ہیں۔
البتہ میرا چھوٹا بھائی دیرینہ مسافر اور پردیسی ہے اس وقت تائیوان کی یونیورسٹی میں پروفیسر ہے اس کی قسمت میں طویل سفر اور دیرینہ مسافرت ہے لیکن وہ بھی میری طرح گزرے ماضی اور اپنی ذات کا اسیر ہے اسی لیے میں نے اپنے افسانے "اسیر ماضی" میں اس کا ذکر کیا تھا۔ عناصرِ فطرت پر افسانوں کی سیریز مکمل ہو گئی ہے اب مسافرت پر بھی افسانہ تحریر کروں گا۔
حافظ ذیشان یاسین

24/06/2023

اپنے اعمال کردار اور اخلاق کی اصلاح کرنا، فسق و فجور و معاصی سے اجتناب کرنا اور فرائض و واجبات کو ادا کرنا، نماز زکوۃ تجارت ملازمت وغیرہ عبادات و معاملات کے شرعی احکام کا علم حاصل کرنا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اہتمام کرنا، سنت اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کرنا اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنا، علماء و صالحین کی صحبت اختیار کرنا وغیرہ یہ امور دین داری ہیں یہ دین کا مقتضی و مقصود ہیں ان میں دارین کی فلاح و سعادت ہے۔
جبکہ علماء کے علمی اختلافات میں فریق بننا، اختلافی مسائل میں شدت اختیار کرنا، مناظرے اور مباحثے سننا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باہمی مشاجرات اور تنازعات میں دلچسپی لینا ان کی ٹوہ میں لگ کر بدگمان ہونا، صفات باری تعالی کے متعلق غیر ضروری و غیر محتاط گفتگو کرنا، اپنی رائے اور عقل کو بالاتر ماننا سلف صالحین اور علماء حضرات پر تنقید کرنا وغیرہ یہ امور نہ تو دین کا مقتضی ہیں نہ یہ علمی رویہ ہے اور نہ ان میں مشغول ہونا فائدہ مند ہے۔
اول الذکر امور شریعت کا مقتضی و مقصود ہیں اور دنیا و آخرت میں مفید ہیں لیکن نفس پر شاق گزرتے ہیں جبکہ ثانی الذکر امور غیر مفید و مضر ہیں لیکن لوگوں کی طبیعتیں ان کی طرف مائل ہوتی ہیں۔
حافظ ذیشان یاسین

حدیث شریف میں گرمی کا اصل سبب کیا بیان ہوا ہے؟ گرمی کی شدت میں مسلمانوں کے لیے کونسی حکمتیں پوشیدہ ہیں؟ موسم گرما کے متع...
31/05/2023

حدیث شریف میں گرمی کا اصل سبب کیا بیان ہوا ہے؟ گرمی کی شدت میں مسلمانوں کے لیے کونسی حکمتیں پوشیدہ ہیں؟ موسم گرما کے متعلق اسلامی تعلیمات اور ہدایات کیا ہیں ؟ دنیا اور جہنم کی گرمی کا موازنہ۔
گرمیوں میں خدمت خلق کے کون سے اعمال خاص طور پر کرنے چاہئیں؟ یہ تفصیلات اس ویڈیو بیان میں جس کا لنک یہ ہے
https://youtu.be/KRfdwcJYe-w

https://youtu.be/KRfdwcJYe-w

22/05/2023

مسلمان پر جملہ معاصی و منہیات سے توبہ و اجتناب لازم ہے لیکن اگر کوئی شخص بعض معصیات میں ابتلا کے باوجود بعض دیگر منکرات سے توبہ کرے تو فقہاء حضرات نے صراحت فرمائی ہے کہ اس کی توبہ صحیح و مقبول ہے۔ مثلاً ایک شخص شرب خمر اکل ربا اخذ الرشوۃ و ارتکاب فواحش میں مبتلا ہے اور وہ ان معاصی میں سے شرائط توبہ کی رعایت کے ساتھ صرف شرب خمر سے تائب ہو جائے تو خاص اس معصیت میں اس کی توبہ صحیح و معتبر ہو گی گو دیگر معصیات کے ارتکاب میں عاصی و مواخذ ہو گا۔ لیکن اگر کوئی شخص ایک جنسِ معصیت کی بعض انواع سے تائب ہو تو اس کی توبہ غیر معتبر ہے مثلا کوئی شخص خمر کی ایک نوع سے توبہ کرے اور دوسری کے شرب پر مصر رہے تو یہ توبہ صحیح نہیں۔
حافظ ذیشان یاسین

Address

Jahanian

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hafiz Zeeshan Online Quran Institute posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Hafiz Zeeshan Online Quran Institute:

Shortcuts

Share

Category