Tib E Nabvi with Raazia Junaid

Tib E Nabvi with Raazia Junaid

Share

Tib-e-Nabwi by Raazia Junaid

02/02/2026

حضور ﷺ كا کھانے پینے کا ذوق بہت نفیس تھا، گوشت سے خاص رغبت تھی، زیادہ ترجیح دست، گردن اور پیٹھ کے گوشت کو دیتے، نیز پہلو کی ہڈی پسند تھی، ثرید (گوشت کے شوربہ میں روٹی کے ٹکڑے بھگو کر یہ مخصوص عربی کھانا تیار کیا جاتا تھا) تناول فرمانا مرغوب تھا، پسندیدہ چیزوں میں شہد، سرکہ، خربوزہ، ککڑی، لوکی، کھچڑی، مکھن وغیرہ اشیاء شامل تھیں، دودھ کے ساتھ کھجور (بہترین مکمل غذا بنتی ہے) کا استعمال بھی اچھا لگتا اور مکھن لگا کے کھجور کھانا بھی ذوق میں شامل تھا، کھرچن (تہ دیگی) سے بھی اُنس تھا، ککڑی نمک لگا کر اور خربوزہ شکر لگا کر بھی کھاتے، مریضوں کی پرہیزی غذا کے طور پر حریرا کو اچھا سمجھتے اور تجویز بھی فرماتے، میٹھا پکوان بھی مرغوب خاص تھا، اکثر جو کے ستو بھی استعمال فرماتے۔

ایک مرتبہ بادام کے ستو پیش کئے گئے تو یہ کہہ کر انکار کردیا کہ یہ امراء کی غذا ہے، گھر میں شوربہ پکتا تو کہتے کہ ہمسایہ کے لئے ذرا زیادہ بنایا جائے، پینے کی چیزوں میں نمبر ایک میٹھا پانی تھا اور بطور خاص دو روز کی مسافت سے منگوایا جاتا، دودھ، پانی ملا دودھ (جسے کچی لسی کہا جاتا ہے) اور شہد کا شربت بھی رغبت سے نوش فرماتے، غیر نشہ دار نبیذ بھی قرین ذوق تھی، افراد کا الگ الگ بیٹھ کر کھانا ناپسند تھا، اکٹھے ہوکر کھانے کی تلقین فرمائی، سونے چاندی کے برتنوں کو بالکل حرام فرما دیا تھا، کانچ، مٹی، تانبہ اور لکڑی کے برتنوں کو استعمال میں لاتے رہے، دسترخوان پر ہاتھ دھونے کے بعد جوتا اتار کر بیٹھتے، سیدھے ہاتھ سے کھانا لیتے اور اپنے سامنے کی طرف سے لیتے، برتن کے وسط میں ہاتھ نہ ڈالتے، ٹیک لگا کر کھانا پینا بھی خلاف معمول تھا، دو زانو یا اکڑوں بیٹھتے، ہرلقمہ لینے پر بسم اللہ پڑھتے، ناپسندیدہ کھانا بغیر عیب نکالے خاموشی سے چھوڑ دیتے، زیادہ گرم کھانا نہ کھاتے، کھانا ہمیشہ تین انگلیوں سے لیتے اور ان کو لتھڑنے نہ دیتے، دعوت ضرور قبول فرماتے اور اگر اتفاقاً کوئی دوسرا آدمی (بات چیت کرتے ہوئے یا کسی اور سبب سے) ساتھ ہوتا تو اسے لیتےجاتے مگر صاحب خانہ سے اس کے لئے اجازت لیتے، مہمان کو کھانا کھلاتے تو بار بار اصرار سے کہتے کہ اچھی طرح بے تکلفی سے کھاؤ، کھانے کی مجلس سے بہ تقاضائے مروّت سب سے آخر میں اٹھتے، دوسرے لوگ اگر پہلے فارغ ہوجاتے تو ان کے ساتھ آپ ﷺ بھی اٹھ جاتے، فارغ ہوکر ہاتھ ضرور دھوتے، دعا کرتے جس میں خدا کی نعمتوں کیلئے ادائے شکر کے کلمات ہوتے، نیز طلب رزق فرماتے اورصاحب خانہ کے لئے برکت چاہتے۔

کھانے کی کوئی چیز آتی تو حاضر دوستوں کو باصرار شریک کرتے اور غیر حاضر دوستوں کا حصہ رکھ دیتے، پانی غٹ غٹ کی آواز نکالے بغیر پیتے اور بالعموم تین بار پیالہ منہ سے الگ کرکے سانس لیتے اور ہر بار آغاز" بسم اللہ" اور اختتام " الحمد للہ والشکرللہ" پر کرتے، عام طریقہ بیٹھ کر پانی پینے کا تھا، پینے کی چیز مجلس میں آتی تو بالعموم داہنی جانب سے دور چلاتے اور جہاں ایک دور ختم ہوتا دوسرا وہیں سے شروع کرتے، بڑی عمر کے لوگوں کو ترجیح دیتے مگر داہنے ہاتھ والوں کے مقررہ استحقاق کی بناء پر ان سے اجازت لےکر ہی ترتیب توڑتے، کھانے پینے کی چیزوں میں پھونک مارنا یا ان کو سونگھنا نا پسندتھا، کھانے پینے کی چیزوں کو ڈھانکنے کا حکم دیا ہے، کوئی نیا کھانا سامنے آتا تو کھانے سے پہلے اس کا نام معلوم فرماتے، زہر خورانی کے واقعہ کے بعد معمول ہوگیا تھا کہ اگر کوئی اجنبی شخص کھانا کھلاتا تو پہلے ایک آدھ لقمہ خود اسے کھلاتے۔

کبھی اُکڑوں بیٹھتے، کبھی دونوں ہاتھ زانوؤں کے گرد حلقہ زن کرلیتے، کبھی ہاتھوں کے بجائے کپڑا (چادر وغیرہ) لپیٹ لیتے، بیٹھے ہوئے ٹیک لگاتے تو بالعموم الٹے ہاتھ پر، فکر یا سوچ کے وقت بیٹھے ہوئے زمین کو لکڑی سے کریدتے، سونے کے لئے سیدھی کروٹ سوتے اور دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر داہنا رخسار پر رکھ دیتے، کبھی چت بھی لیٹتے اور پاؤں پر پاؤں بھی رکھ لیتے، مگر ستر کا اہتمام رکھتے، پیٹ کے بل اور اوندھا لیٹنا سخت ناپسند تھا اور اس سے منع فرماتے تھے، ایسے تاریک گھر میں سونا پسند نہ تھا جس میں چراغ نہ جلایا گیا ہو، کھلی چھت پر جس کے پردے کی دیوار نہ ہو سونا اچھا نہ سمجھتے، وضو کرکے سونے کی عادت تھی اور سوتے وقت مختلف دعائیں پڑھنے کے علاوہ آخری تین سورتیں (سورۂ اخلاص اور معوذتین) پڑھ کر بدن پر دم کرلیتے، سوتے ہوئے ہلکی آواز سے خراٹے لیتے، رات میں قضائے حاجت کے لئے اٹھتے تو فارغ ہونے کے بعد ہاتھ منہ ضرور دھوتے، سونے کے لئے ایک تہ بند علیحدہ تھا، کرتا اتار کر ٹانگ دیتے۔“

سیرت النبی ﷺ .. مولانا شبلی نعمانی..

05/01/2026

سردیوں میں بعض لوگوں کو اس طرح پیر کی انگلیاں پھولنے کا عارضہ لاحق ہو جاتا ہے۔
تو جس شخص کو یہ کیفیت ہو تو وہ یہ ٹوٹکا اختیار کرے۔
دو کلو پانی ایک پاؤ نیم کے پتےگرم کریں ۔
اب اس پانی میں 4 چمچ بھر کےنمک ڈالدیں۔۔
پانی کو اسقدر پکائیں کہ پانی ڈیڑھ کلو رہ جائے ۔
اب پانی چولہے سے نیچے اتار دیں، پھر اسے کسی کھلے برتن میں ڈال دیں، جب نیم گرم پانی ہو جائے کہ نہ زیادہ گرم نہ زیادہ ٹھنڈا، تب متاثرہ پاؤں کو اس پانی میں 10 منٹ کے لیے ڈبوئے رکھیں ۔
بعدا ازاں ۔۔۔پاؤں کو رضائی میں رکھیں ۔
آدھے گھنٹے کے بعد پاؤں رضائی سے باہر نکالیں ۔

30/12/2025

🌿 روزمیری کے پتوں کے فوائد
🧠 دماغ اور یادداشت

یادداشت اور توجہ بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں

خوشبو دماغی تھکن کم کرتی ہے

پڑھائی کے دوران توجہ بڑھانے کے لیے مفید

🫀 دل اور خون کی گردش

خون کی روانی بہتر بنانے میں مدد

دل کی صحت کے لیے فائدہ مند

🍽️ ہاضمہ

بدہضمی، گیس اور پیٹ کے بھاری پن میں مددگار

کھانے کے بعد چائے کے طور پر استعمال مفید

🦠 جراثیم سے حفاظت

قدرتی اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خصوصیات

جسم کو انفیکشن سے بچانے میں مدد

🧘 ذہنی دباؤ اور تھکن

ذہنی تناؤ کم کرنے میں مدد

توانائی اور چستی میں اضافہ

💆 بالوں اور جلد کے لیے
بالوں کے فوائد

بالوں کی جڑیں مضبوط بنانے میں مدد

خشکی اور خارش کم کر سکتا ہے

بالوں کی چمک بہتر کرتا ہے

جلد کے فوائد

چکنی جلد کے لیے مفید

کیل مہاسوں میں مددگار (بیرونی استعمال) 🍵 روزمیری چائے بنانے کا طریقہ

فائدہ: ہاضمہ، یادداشت اور ذہنی تازگی

طریقہ:

ایک کپ پانی اُبالیں

آدھا چمچ خشک یا 1 چمچ تازہ روزمیری کے پتے ڈالیں

5–10 منٹ ڈھانپ کر رکھیں

چھان کر پی لیں

استعمال: دن میں 1 کپ کافی ہے

💆 بالوں کے لیے روزمیری پانی

فائدہ: بال مضبوط، خشکی کم

طریقہ:

2 کپ پانی میں 2 چمچ روزمیری کے پتے ڈالیں

10–15 منٹ اُبالیں

ٹھنڈا کر کے چھان لیں

شیمپو کے بعد بالوں میں ڈالیں، نہ دھوئیں

استعمال: ہفتے میں 2–3 بار

🫧 روزمیری بھاپ

فائدہ: دماغی سکون، نزلہ زکام میں مدد

طریقہ:

گرم پانی میں چند پتے ڈالیں

تولیہ سر پر رکھ کر بھاپ لیں

5 منٹ کافی ہیں

🍽️ کھانوں میں استعمال

فائدہ: ذائقہ اور صحت

سبزیوں، آلو، چکن، دال یا سوپ میں تھوڑی مقدار

زیادہ نہ ڈالیں کیونکہ ذائقہ تیز ہوتا ہے

🌿 خوشبو کے لیے

تازہ پتے ہاتھ میں مسل کر سونگھیں

پڑھائی یا کام کے وقت توجہ بڑھانے میں مدد

⚠️ احتیاط

زیادہ مقدار میں نہ لیں

روزمیری آئل پینا منع ہے

حاملہ خواتین نہ استعمال کریں

29/12/2025

مربہ گاجر
مُربہ گاجر قدیم، مقوی اور مجرب غذائی دوا ہے جو کمزور اور صحت کے متلاشی افراد کیلئے خاص طور پر مفید سمجھی جاتی ہے۔ اس کے اہم فوائد درج ذیل ہیں۔

یہ مربہ جسمانی کمزوری کو دور کرتا ہے اور بدن میں نئی طاقت پیدا کرتا ہے۔ طویل بیماری، زیادہ محنت، کم خوراک یا بڑھتی عمر کی وجہ سے پیدا ہونے والی نقاہت میں نہایت فائدہ مند ہے۔

اعصاب کو مضبوط کرتا ہے۔ دماغی تھکن، یادداشت کی کمزوری، بے چینی اور اعصابی تناؤ میں مفید ہے۔ طلبہ اور ذہنی کام کرنے والوں کیلئے خاص غذا ہے۔

دل کو قوت دیتا ہے اور خون کی روانی بہتر کرتا ہے، جس سے چہرے پر تازگی اور رنگت میں نکھار آتا ہے۔

معدہ اور جگر کو تقویت دیتا ہے۔ ہاضمہ بہتر کرتا ہے، بھوک بڑھاتا ہے اور معدے کی کمزوری، بدہضمی اور گیس کے مسائل میں فائدہ دیتا ہے۔

مردانہ طاقت کیلئے مفید ہے۔ بدن میں حرارتِ غریزی کو معتدل انداز میں بڑھاتا ہے، جس سے ضعفِ باہ، سرعتِ انزال اور عمومی جنسی کمزوری میں مدد ملتی ہے۔

خون بنانے میں مدد دیتا ہے، خاص طور پر کم خون، زردی، چکر آنا اور کمزوری میں مفید ثابت ہوتا ہے۔

بالوں کی صحت کیلئے بھی فائدہ مند ہے۔ طویل استعمال سے بال مضبوط ہوتے ہیں اور قبل از وقت کمزوری کے اثرات کم ہوتے ہیں۔

سرد مزاج اور بلغمی افراد کیلئے خاص مفید ہے، سردیوں میں جسم کو گرم اور چست رکھتا ہے۔

28/12/2025

گیس کا دماغ پر چڑھنا
حقیقت:
طبی طور پر گیس دماغ میں نہیں چڑھتی، لیکن تیزابیت (Acidity) اور معدے کی خرابی کی وجہ سے سر میں درد، چکر اور بھاری پن محسوس ہوتا ہے۔ اسے عام زبان میں 'گیس کا دماغ کو چڑھنا' کہتے ہیں۔ یہ اکثر معدے اور دماغ کے تعلق (Gut-Brain Axis) کی وجہ سے ہوتا ہے۔
وجوہات:
* وقت پر کھانا نہ کھانا یا لمبا فاقہ کرنا۔
* تیز مرچ مصالحہ، چکنائی والا کھانا یا باہر کا کھانا۔
* پانی کم پینا (Dehydration)۔
* قبض اور گیس کا رک جانا۔
* نیند کی کمی اور ذہنی تناؤ (Stress)۔
بچاؤ اور گھریلو علاج:
* دن بھر میں کم از کم 8 سے 10 گلاس پانی پئیں۔
* کھانا وقت پر کھائیں اور سکون سے چبا کر کھائیں۔
* کھانے کے بعد فوراً نہ لیٹیں، بلکہ تھوڑی چہل قدمی (Walk) کریں۔

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address

Islamabad