Thevillageschool

Thevillageschool

Share

“Learning with Creativity”

06/03/2026
29/04/2023

بچوں کو۔ گھر میں پڑھائیں

ہمارے دور میں پانچ سال کا بچہ سکول داخل کروایا جاتا تھا اور یہی اس کی سیکھنے کی سب سے بہترین عمر ہوتی تھی ۔ چار یا ساڑھے تین سال کے بچے کو سکول میں داخلہ نہیں ملتا تھا ۔ پھر زمانہ پلٹا ، ہر محلے اور گلی میں پرائیویٹ سکول کھلنا شروع ہوگئے ۔ جہاں تعلیم کے ابتدائی مدارج کو پلے گروپ ، پری نرسری ، کے جی یا پریپ کا نام دے دیا گیا ۔ اب گھر بیٹھی ماوں کو تین سال کی عمر میں بچوں سے جان چھڑانے کا موقع مل گیا ، جیسے ہی بچہ بولنا شروع کرتا ان کو لگتا سکول داخل کرانے کا وقت شروع ہوچکا ہے ۔نجی سکولوں کو اور کیا چاہیے تھا ، وہ اڑھائی سال کا بچہ داخل کرنے پر بھی تیار ہوگئے اور دھڑا دھڑ ایڈمیشن ہونے لگے ۔
وہ بچہ جسے ماں کی نرم آغوش چاہیے تھی ، کھیلنے اور جی بھر کے سونے کی عمر میں سکول یونیفارم پہن کر پلا سٹک اور لکڑی کی کرسیوں پر نیند سے جھولتا رہتا ۔ جس بچے نے ابھی پیشاب پر کنٹرول نہیں سیکھا وہ صبح سات سے دو بجے تک ایک ایسی بھیڑ میں بھیج دیا گیا جہاں آنے کا مقصد اسے خود نہیں معلوم نہیں۔ گیٹ پر چیختے چلاتے اور بلکتے بچے گارڈ کے حوالے کرکے ماں باپ فخر سے گھر کو چل دیتے ۔
پچھلے پانچ سال کے سروے کے مطابق نجی سکولوں میں سوا دو لاکھ ایسے بچے داخل ہوئے جن کی عمریں بمشکل تین برس ہیں ۔ جو رکشوں ، ویگنوں ، موٹر سائیکلوں پر دھکے کھاتے سکول پہنچتے ہیں اور سارا دن روتے دھوتے اور اونگھتے گھر واپس چلے جاتے ہیں ۔
2015 میں ایک معروف ادارے میں مجھے پری جونئیر سیکشن کا ہیڈ بنایا گیا ۔ جو بچے دوسرے سکول سے پلے گروپ اور نرسری پاس کرکے آتے وہ ہنوز صفر تھے ۔ دو سال خوار ہونے کے باوجود نصف بچوں کو الفاظ کی شناخت یا حروف کو جوڑنا نہیں آتا تھا، ان بچوں میں علم کا شوق بھی کم تھا، ان کی طبیعت میں سکول سے بیزاری بھی عیاں ہوتی تھی ، ان کے چہرے تھکے ہوئے اور آنکھوں کے نیچے حلقے ہوتے تھے ۔ یہ ایک آدھ بچے کی بات نہیں ، میں پوری پوری کلاس کا مشاہدہ کرتی تھی اور ہر بچے کو سامنے بٹھا کر انٹرویو کرتی تھی ۔
اس کے برعکس ہر وہ بچہ جو پانچ سال کی عمر میں سکول داخل ہوا تھا اس کے اندر سکول سے واضح محبت ، سیکھنے کے عمل میں تیزی اور صحت زیادہ بہتر تھی، اس قد کاٹھ اور اعتماد ان بچوں سے بہتر تھا جو تین سال کی عمر میں پی ایچ ڈی کرنے پہنچے تھے ۔ بات یہ نہیں کہ نجی سکول محنت نہیں کرتے ، اصل میں بچہ اتنا کم عمر ہے کہ اس میں اتنا کچھ جذب کرنے اور چھ گھنٹے بیٹھنے کی سکت و صلاحیت ہی نہیں نتیجہ صفر نکلتا ہے ۔
اگرچہ ٹیچر ہونے کی وجہ سے میرے بچوں کی سکول فیس نصف تھی لیکن میرے دونوں بچوں نے پانچ سال کی عمر میں داخلہ لیا اور وہ بنیادی سلیبس گھر میں ہی پڑھتے رہے یہی وجہ ہے وہ آج اپنی اپنی جماعتوں میں نمایاں پوزیشنز پر ہیں ۔
اگر کوئی مجبوری نہیں ہے تو پانچ سال سے پہلے بچوں کو ہر گز سکول داخل مت کروائیں ، بنیادی حروف کی پہچان اور ریڈنگ گھر میں کروائیں ، پیار سے گود میں بٹھا کر ان کو پینسل پکڑنے کا طریقہ سکھائیں ۔ نجی سکول سال بھر میں ان کو اتنا نہیں سکھا پاتے جتنا ماں ایک مہینے میں سکھا سکتی ہے۔
بطور استاد اگر میں ماوں کو مشورہ دوں تو خدا کے لیے ہوم سکولنگ کی طرف آئیں نہ صرف اضافی خرچے کی بچت ہوگی بلکہ مستبقل میں ایک صحت مند اور ذہین ترین بچہ آپ کی نسل میں پروان چڑھے گا ۔
یہ شمعیں چھوٹی چھوٹی سی
کل ممکن ہے___ خورشید بنیں

Photos from Thevillageschool's post 24/04/2023

Pre Schooling Drawing Practice

12/04/2023

تحریر: روبینہ یاسمین

کسی کو اپنا مذاق اڑانے کی اجازت نہ دیں۔ یہ وہ چیز ہے جسے بالکل بھی برداشت نہیں کرنا چاہیے۔ آپ جتنا برداشت کرتے ہی دوسرے اتنا ہی آپکی حدود میں مداخلت کرتے ہیں۔

جن لوگوں کو مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے ان میں تعلیمی، سماجی، جذباتی، جسمانی اور ذہنی صحت کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔

آپ کے اندر کوئی بھی جسمانی یا ذہنی کمزوری ہے ، پھر بھی کسی کو حق نہیں کہ اس کی بنیاد پر آپ کو کمتر محسوس کروائے۔ اس معاملے کو سنجیدگی سے ہینڈل کرنا چاہیے تا کہ ایک بار کے بعد دوسری بار کوئی یہ مذاق دہرانے کی جرات نہ کرے۔ ڈرتے کو ڈرایا جاتا ہے۔ بلی بھی کتے کے سامنے ڈٹ کر غرانے لگے تو کتا دم دبا کر بھاگ جاتا ہے۔

اگر خود میں ہمت کی کمی ہے تو اپنے دوستوں سے بات کریں اور انکی مدد سے مذاق اڑانے والے کو منہ توڑ جواب دیں۔ یہ وہ چیز ہے جسے آپ نے بالکل برداشت نہیں کرنا۔

ہنسی مذاق وہی ہوتا ہے جس پر سب خوش ہوں۔ مذاق کرنے اور مذاق اڑانے میں فرق ہے۔ ایک انسان کی شخصیت آپکے مذاق سے مجروح ہو رہی ہے تو آپ کو اصلاح کی ضرورت ہے۔

Photos from Thevillageschool's post 04/04/2021

The Village School is trying best to educate the children with logic

25/11/2020

‏سب سے پہلے تو طلبا کو یہ تعلیم دینے کی ضرورت ہے کہ "تعلیم بوجھ نہیں"
اگر طلبا تعلیم کو بوجھ محسوس کرتے ہوں تو سمجھ جاو اساتذہ کو پڑھانے کے طریقے بہتر کرنے کی اشد ضرورت ہے!

01/11/2020

*🌸✨سبق آموز تحریر✨🌸*
* ...*

اسٹوڈنٹس نے ٹیچر سے کہا سر آپ ہمارے ساتھ کرکٹ کھیلیں 5 گیندوں پر ٹیچر نے 2 رن بنائے چھٹی گیند پر کلین بولڈ ہو گئے...

اسٹوڈنٹس نے شور مچا کر بھرپور خوشی ظاہر کی..

کلاس میں ٹیچر نے پوچھا کون کون چاہتا تھا کہ میں اسکی گیند پر آوٹ ہو جاٶں..؟

سب باٶلرز نے ہاتھ کھڑے کر دیئے..

ٹیچر ہنس دیئے پوچھا میں کرکٹر کیسا ہوں..؟

سب نے کہا بہت برے..

پوچھا میں ٹیچر کیسا ہوں جواب ملا بہت اچھے..

ٹیچر پھر ہنس دیئے..

صرف آپ نہیں دنیا بھر میں پھیلے ہوئے میرے ہزارہا اسٹوڈنٹس جن میں کئی میرے نظریاتی مخالف ہیں گواہی دیتے ہیں کہ میں اچھا ٹیچر ہوں راز کی بات بتاؤں میں جتنا اچھا ٹیچر ہوں اتنا اچھا اسٹوڈنٹ نہیں تھا مجھے ہمیشہ سبق یاد کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور بات سمجھنے میں وقت لگا لیکن کیا آپ بتا سکتے ہیں اسکے باوجود مجھے اچھا ٹیچر کیوں مانا جاتا ہے..؟

سب نے کہا سر آپ بتائیں کیوں..؟

ٹیچر نے کہا ادب...

مجھے اچھی طرح یاد ہے اپنے ٹیچر کے ہاں دعوت کی تیاری میں انکی مدد کر رہا تھا فریزر سے برف نکالی جسے توڑنے کیلئے کمرے میں کوئی شے نہیں تھی استاد کام کیلئے کمرے سے نکلے تو میں نے مکا مار کر برف توڑ دی اور استاد کے آنے سے پہلے جلدی سے ٹوٹی ہوئی برف دیوار پر بھی دے ماری...☺

استاد کمرے میں آئے تو دیکھا کہ میں نے برف دیوار پر مار کر توڑی ہے انہوں نے مجھے ڈانٹا کہ تمہیں عقل کب آئیگی یوں برف توڑی جاتی ہے میں نے انکی ڈانٹ خاموشی سے سنی بعد میں انہوں نے اس بیوقوفی کا ذکر کئی جگہ کیا میں ہمیشہ بیوقوفوں کی طرح سر ہلا کر انکی ڈانٹ سنتا..

انہیں آج بھی نہیں معلوم کہ برف میں نے مکا مار کر توڑی تھی...☺

یہ بات میں نے انہیں اسلئے نہیں بتائی کہ وہ ایک ہاتھ سے معذور تھے انکی غیر موجودگی میں میں نے جوانی کے جوش میں مکا مار کر برف توڑ دی لیکن جب انکی معذوری کا خیال آیا تو سوچا کہ میرے طاقت کے مظاہرے سے انہیں احساس کمتری نہ ہو اس لیئے میں نے برف دیوار پر مارنے کی احمقانہ حرکت کی اور لمبے عرصے تک انکی ڈانٹ سنتا رہا...😕

اور ایک آپ لوگ ہیں کہ ایک دوسرے کو چیخ چیخ کر ہدایات دے رہے تھے کہ سر کو یارکر مار کر آوٹ کرو..

جیتنا سب کچھ نہیں ہوتا کبھی ہارنے سے زندگی میں جیت کے رستے کھلتے ہیں آپ طاقت میں اپنے ٹیچرز اور والدین سے بے شک بڑھ جاتے ہیں لیکن زندگی میں سب سے جیتنا چاہتے ہیں تو اپنے ٹیچرز اور والدین سے جیتنے کی کوشش نہ کریں آپ کبھی نہیں ہاریں گے...☺

اللہ پاک آپکو ہر میدان میں سرخرو کرے گا....☺

*نوٹ*
*اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے*

20/10/2020

اتنا ہوم ورک جسے کرتے ہوئے بچے رونے لگ جائیں ، تھک جائیں ، کس مقصد کے لئے؟؟

میں کبھی بھی ہوم ورک کے خلاف نہیں۔ لیکن جب اس سے حاصل کچھ نہیں ہو رہا تو فائدہ کیا؟ اگر بچہ صرف صفحات کالے ہی کر رہا کہ کل اسکول میں ٹیچر غصہ نہ ہوں، سب کے سامنے ڈانٹ نہ پڑ جائے یا پھر اس لیے کہ ماما میرے سب فرینڈز کام کر کے آئے گے، تو میں بھی پورا کر کے جاؤں۔
آپی پلیز کلرز آپ کر دو،
ماما ہاتھ پکڑ کر لکھوا دیں تھوڑا سا۔
یا بچہ رونے لگ جائے؟
یا ضد میں آ کر انکار ہی کر دے کام کرنے سے؟؟

ہر سکول میں ایسا یقینا نہیں ہوتا۔ لیکن سب والدین تو سکول نہیں بدل سکتے کہ یہاں ہوم ورک زیادہ ملتا۔ سکول کا انتخاب کرتے وقت بہت سی باتیں سوچی جاتی ہیں جن میں فیس سر فہرست ہوتی ہے ۔

سوال یہ ہے کہ نظام کب بدلے گا؟
کیوں یکساں نظام تعلیم ممکن نہیں ہمارے ملک میں؟
سو فیصد نہ سہی مگر کچھ تو کیا ہی جا سکتا ہو گا، کوئی پالیسی، کوئی ترمیم، کوئی چیک اینڈ بیلنس؟
ایک نہیں تو دو یا تین سسٹم کر دیں۔ یہ کیا کہ ہر سکول اپنی مرضی کرتا، جو مرضی پڑھاتا۔ کسی سکول میں عربی پڑھائی جاتی، کسی میں تاریخ جغرافیہ ( چھٹی سے آٹھویں)
کسی سکول کے بچے اردو سے ہی نا بلد، کسی کے سپوکن انگلش میں فیل۔ کہیں پہلی سے باقاعدہ امتحان، کہیں چوتھی سے۔ ہر جگہ پری سکول کا سلیبس الگ۔ پری سکول میں بھی کہیں دو سال تو کہیں تین۔

ایسے میں لکھتی جاؤں گی، مسائل کی لسٹ مکمل نہیں ہو سکے گی۔

قریبا چھ ماہ تمام ملک کے سکول بند رہے، بہترین موقع تھا کہ کچھ مثبت اقدام لیے جاتے۔ خیر جب مرضی ہو تو بیچ سال میں بھی یونیفارم اور سلیبس بدل دیتے ہیں۔

مگر یہاں کوئی چاہتا ہی نہیں کہ ہمارا نظام تعلیم بہتر ہو۔

Photos from Thevillageschool's post 14/10/2020

اپنے چھوٹے بچوں کو نئے اور بالکل آسان طریقے سے پڑھائیں۔

27/06/2020

*ذہنی صلاحیتیں بڑھانے والی عادتیں*
۔
*طالب علموں کو ذہنی صلاحیتیں اُبھارنے کے لیے روایتی نصابی تعلیم کے ساتھ ان چیزوں پر توجہ دینی چاہیے،*

*اخبارات اور رسالے پڑھنا*

*اخبارات اور رسالے پڑھنے سے آپ کو دنیا بھر کے اہم معاملات سے آگاہ رہنے میں مدد ملے گی۔*

*اس سے آپ کو اپنی رائے تشکیل دینے اور ایسی چیزوں سے جُڑنے کا موقع ملے گا،جو بظاہر غیر متعلقہ محسوس ہوتی ہیں، مگر اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ مختلف تقاریب یا دوستوں میں ہر موضوع پر پُراعتماد انداز میں بات کرسکیں گے۔*

*کتاب، آپ کی بہترین دوست*
*ہفتے میں ایک کتاب پڑھنے کا عزم کریں، مطالعے کے لیے وقت نکالنا کوئی مشکل کام نہیں۔*
*آپ نصاب میں مدد دینے والی غیر نصابی کتابیں بھی پڑھ سکتے ہیں۔*
*اچھا مطالعہ ذہن کو تیز رکھنے کے ساتھ ساتھ اس مشغلے کو اپنانے والے ہم خیال اور ہم مزاج لوگوں کو تلاش کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔*
*کتابیں مختلف شخصیات کو سمجھنے کے لیے زبردست ہوتی ہیں،*
*آپ کو زندگی کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے*
*جبکہ نان فکشن کتابیں نئے موضوعات جیسے سیاست یا نفسیات وغیرہ سے تعارف حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔*

*ترجیحی فہرست بنائیں*

*اپنے کام سے متعلقہ* *صلاحیتوں کی ایک ’ٹو ڈو لسٹ‘بنائیں، جو آپ سیکھنا چاہتے ہیں۔*

*دوسری فہرست ان اشیاءکی بنائیں، جو آپ مستقبل میں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔*

*اس طرح آپ کے لیے اپنے مقاصد کا تعین کرنا اور اس کے لیے اپنی توانائیاں صرف کرنا آسان ہوجاتا ہے۔*

*کامیابیوں کا جائزہ لیں*

*ہر دن کے اختتام پر آپ تحریر کریں کہ آج آپ نے کیا کام کیا اور اسے کس حد تک مکمل کیا۔*

*اس سے آپ کو چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر بھی خوش ہونے میں مدد ملے گی، خاص طور پر ان لمحات میں جب آپ خود کو افسردہ یا پست حوصلہ محسوس کریں۔*

*دماغی صحت اہم ہے*

*روزانہ دوڑنا، دماغی روانی کا بہترین ذریعہ ہے اور اس سے ذہنی صحت بھی اچھی رہتی ہے۔*

*اسی طرح مختلف فیصلوں یا نئی معلومات کا تجزیہ کرنا بھی ذہن کو تحریک دینے کیلئے بہترین مشق ثابت ہوتی ہے۔*

*بہتری کی تلاش*

*زیادہ سے زیادہ وقت ذہین یا اپنے سے زیادہ اسمارٹ افراد کے ساتھ گزاریں روزانہ ایسے لوگوں کے ساتھ چہل قدمی آپ کی شخصیت میں نمایاں بہتری لاسکتی ہے۔*

*ہمیشہ عاجزانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے سیکھنے کا شوق ظاہر کریں۔*

*سوالات کریں اور اگر آپ کے ارگرد آپ سے زیادہ علم رکھنے والے لوگ موجود ہیں تو آپ کے پاس زیادہ سے زیادہ سیکھنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہوگا۔*

*فطرت کے قریب رہنا*

*قدرتی مناظر کو دیکھنا مسائل حل کرنے کی ذہنی صلاحیت کو 50فیصد تک بہتر بناتا ہے۔*

*ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ قدرتی مناظر کو دیکھنا تخلیقی سوچ اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے، یہ ذہن کے اس حصے کے لیے فائدہ مند ہے جو کہ فیصلہ سازی، منصوبہ بندی اور اضطراب کو کنٹرول رکھنے میں مدد دیتا ہے۔*

*مخصوص دائرے سے باہر آئیں*

*اپنے مخصوص دائرے سے باہر نکلنا ہمیشہ ہی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے، روزانہ اپنے آپ کو کچھ آگے بڑھانا، لوگوں کے سامنے بولنا، اپنے دفتر میں تجاویز پیش کرنا یا کوئی ایسا فرد جس سے آپ متاثر ہوں، کو ایک خط یا ای میل بھیجنا، سب ذہنی صلاحیتوں کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔*

*دماغی کھیل کھیلنا*

*کچھ کھیل، جیسے شطرنج، آپ کے ذہن کو تیز کرتے ہیں، آپ خود اپنے آپ سے کھیل کر بھی خود کو چیلنج دے سکتے ہیں.*

*اسی طرح آپ پزلز کو حل کرکے بھی یہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں.*

*اسکریبل جیسے گیمز بھی اس حوالے سے فائدہ مند ہیں خاص طور پر جب آپ بغیر لغت کے اسے کھیلنے کی کوشش کریں۔*

*بُری عادات پر نظر رکھیں*

*اپنے ذہنی انتشار کو ختم کرنے کے لیے وقت کا بہتر استعمال کریں، بُری عادتوں کو ترک کرکے اچھی عادتوں کو اپنالیں۔*

*ایک کامیاب شخص اور بہت زیادہ کامیاب شخص کے درمیان فرق یہی ہے کہ وہ ہر بُری چیز کو انکار کرتا ہے۔*

*اپنے لیے وقت نکالیں*

*اکثر خاموشی سے بیٹھنا بھی آپ کو کچھ سیکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے اور آپ کو اپنے مسائل و عزائم پر غور کرنے کا موقع ملتا ہے، جبکہ پورے دن میں اپنی خامیوں کو جانچ کر ان پر قابو پانے میں بھی مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔*

*پوری نیند لیں*

*نیند ذہن کی صفائی میں مدد دیتی ہے۔*

*ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا ہے کہ نیند کے دوران دماغی خلیات زہریلے مواد کو خارج کرتے ہیں، جو دن بھر بیداری کے دوران دماغ میں جمع ہوجاتے ہیں۔*

*نیند لینا ذہنی چوکنا پن، توجہ مرکوز کرنےاور مسائل حل کرنے کی صلاحیت، سوچنے کی رفتار، منطقی سوچ اور یادداشت کو بہتر بناتی ہے۔*copied

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Block H, Jinnah Avenue, Blue Area
Islamabad
46000