Online Quran Teaching آن لائن قرآن

Online Quran Teaching آن لائن قرآن

Share

Online Quran Teaching for male female and your kids
Any Time for you with Tajveed
+92322-2984599 You will memorize the Holy Quran at your own pace online.

We Offer:

Online Quran Memorization Course:

Memorizing Quran simply means learning it by heart. At the time of Prophet (peace be upon him), writing was an uncommon style of storing matters; thus, memorization and oral transmission were the most effective modes of preserving information. This course is designed for those who want to memorize the Holy Quran online . Your class will be assigned to

06/09/2025

زندگی میں پہلی بار تمام گروپ ممبرز سے التجا کرتا ہوں یہ داستان فرض العین سمجھ کر پڑھ لیں

ایک دوست فرماتے ہیں میں اور میری بیوی سنار کی دوکان پر گئے سونے کی انگوٹھی خریدنے کیلئے ۔کچھ انگوٹھیاں دیکھنے کے بعد میری بیوی کو ایک انگوٹھی پسند آگئی ۔قیمت ادا کر کے جیسے ھی میں باہر نکلنے کیلئے مڑا تو ایک بارعب شخص سے ملاقات ھوئی جو کہ مجھے جانتے تھے لیکن میں انکو بھول چکاتھا بس اتنا یاد تھا کہ ماضی میں کبھی ان سے ملاقات ھوئی تھی ۔۔
یہ صاحب بڑی گرم جوشی سے میرے گلے ملے اور سوالیہ نظروں سے پوچھنے لگے "بیٹا لگتا ھے پہچاننے کی کوشش کر رھے ھیں آپ "
میں نے کہا معزرت کیساتھ آپ کا چہرہ جانا پہچانا لگ رہا ھے لیکن یاد نہی آرہا کہ آپ سے کب ملاقات ھوئی تھی ۔۔
وہ تھوڑا سا مسکراے اور کہنے لگے میرا نام اقبال ھے ویسے لوگ مجھے بڑا بھائی کہتے ھیں ۔آج سے چند سال قبل آپ اپنی فیملی کیساتھ ھمارے گھر آے تھے گلبرگ میں ھمارا گھر ھے شاید آپ کو یاد آگیا ھو ۔۔

انکی بات سن کر میرا تو سر ھی چکڑا گیا ۔اور میرا رویہ بالکل مودبانہ ھو گیا اور میں بے اختیار بول پڑا سب یاد آگیا بڑے بھائی سب یاد آگیا ۔۔۔
میں نے سوال کیا آپ اکیلے ھی ھیں یا آنٹی بھی آئیں ھے ۔
بڑے بھائی نے جواب دیا جی آنٹی بھی آئیں ھیں اور دوسرے بھائی بھی آئیں ھیں وہ بیٹھے ھیں آپ ان سے مل سکتے ھیں ۔۔۔
ایک سائید پر دیکھا تو آنٹی برقعہ پہنے بیٹھی تھی اور ساتھ میں ھی دوسرے بھائی بھی کھڑے چہرے پر مسکراہٹ سجاے میری طرف دیکھ رھے تھے ۔۔
میں نے اپنی بیگم کو کہا کہ انٹی کو سلام کرو اور بعد میں انکا تعارف کرواتا ھوں ۔۔
میری بیگم گئی آنٹی کو سلام کیا آنٹی نے بہت ھی اچھے طریقے سے میری بیوی کے سر پر ہاتھ پھیرا اور پھر بہت ھی پیارے انداز میں میری بیوی کو دعائیں دیں ۔
میں نے آنٹی کو بتلایا کہ یہ میری بیوی ھے اور یہ میرا 3سال کا بیٹا ھے ۔آنٹی بہت خوش ھوئیں اور اپنے بیٹے کیطرف آنکھوں ھی آنکھوں میں اشارہ کیا جس نے میری بیٹے کی جیب میں 1000 کا نوٹ ڈال دیا ۔میں نے بہت اسرار کیا کہ یہ غلط ھے لیکن آنٹی نہ مانیں ۔
کچھ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد میں آنٹی سے آنے کا مقصد پوچھا تو آنٹی کہنے لگیں کہ اللہ نے میری بیٹی کو بیٹے کی نعمت سے نوازا ھے اسلئے بیٹی کیلئے اور انکے اہل خانہ کیلئے کچھ تحائف خریدنے آئیں ھیں ۔۔
میں نے پوچھا آنٹی کونسی بیٹی آپکی تو تمام بیٹیاں شادی شدہ تھیں صرف ایک۔کنواری تھی جسکے رشتہ کیلئے ھم لوگ آے تھے اور آپ لوگوں نے کہا تھا کہ ابھی 5 یا 10 سال تک شادی کا کوئی پروگرام نہی ھے ۔۔حالانکہ مجھے حیرانگی ھوئی تھی کہ گھر پر رشتے کیلئے بلوا کر پھر کہہ دینا کہ 5 یا 10 سال تک شادی کا کوئی پروگرام نہی کتنی غلط بات ھے ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔آنٹی کو جیسے ایک جھٹکا لگا ۔۔لیکن وہ ایک سمجھدار خاتون تھیں فورا ھی سمجھ گئیں کہ بات کچھ اور ھے پوچھنے لگی کہ یہ بات آپکو کس نے کہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے کہا والد صاحب نے کہا تھا ۔۔تو وہ کہنے لگی نہی ۔۔بات دراصل کچھ اور تھی لیکن آپ کے والد صاحب نے آپ کا پردہ رکھا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔میرے اندر ایک تجسس پیدا ھو گیا کہ میرے والد صاحب ھم سے کیسے غلط بیانی کر سکتے ھیں اور میرے والد صاحب نے کبھی بھی جھوٹ نہی بولا تھا ۔۔
آنٹی نے اپنے بیٹوں کو کہا کہ مجھے میرے بیٹے کیساتھ اکیلا چھوڑ دیں اور میں نے بھی اپنی بیگم کو کہا کہ تم تھوڑا سا وقت مجھے دو بچے کو کچھ کھلاو پلاو۔۔
آنٹی کہنے لگی بیٹا جس دن تم اور تمہارے اہل خانہ ھمارے گھر ھماری بیٹی کا رشتہ لینے آے تھے میں نے اسی دن تمھارے رشتہ سے انکار کر دیا تھا جو کہ شاید تمھارے والدین نے تمہیں نہی بتلایا ۔۔۔
تم ایک پڑھے لکھے اور معاشرے میں ایک کامیاب شخص ثابت ھو سکتے ھو مجھے پہلے ھی علم تھا ۔۔
اور مجھے مکمل یقین تھا کہ میری بیٹی کو بھی تم خوش رکھو گے ۔۔
لیکن نئے لوگوں سے رشتہ جوڑنے کیلئے صرف لڑکے کو ھی نہی دیکھا جاتا بلکہ۔اسکے مکمل خاندان کو دیکھا جاتا ھے ۔کیونکہ ھم نے مستقبل میں آپس میں میل جول رکھنا ھوتا ھے اسلئے لڑکے یا لڑکی کے گھرانے والوں کو دیکھ کر مستبقل کا تعین کیا جاتا ھے کہ یہ گھرانہ مستقبل میں کتنا کامیاب رشتہ نبھا سکتا ھے کیونکہ۔زندگی میں اتار چڑھاو آتے رھتے ھیں اور ان حالات میں ھمکو کسی اپنے کی ضرورت ھوتی ھے اسلئے ھم کسی ایسے سے رشتہ نہی جوڑتے جو خوشیوں میں ھمارے ساتھ ھو لیکن حالات کے خراب ھوتے ھی وہ ھم سے جدا ھو جاے ۔۔
اسلئے میں نے اس دن آپکے والد صاحب اور والدہ صاحبہ کو صاف صاف انکار کر دیا تھا ۔۔ھو سکتا ھے کہ انہوں نے آپ کو درست بات نہ بتلائی ھو۔۔
۔۔۔۔۔آنٹی کی باتیں سن کر میں مزید پریشان ھو گیا اور میں نے کہا کہ آنٹی ھم بہن بھائی آپس میں ایک دوسرے پر جان چھڑکتیں ھیں خوشی اور غم میں برابر کے شریک ھوتے ھیں کبھی ایسا نہی ھوا کہ ھم میں سے کسی کو ایک۔دوسرے سے کوئی۔شکایت ھو ۔۔۔اگر آپ برا محسوس نہ کریں تو میں 100فیصد درست ھوں کہ آپکو ھمارے خاندان کو پرکھنے میں غلطی ھوئی ھے ۔۔
آنٹی نے ایک سرد آہ لی اور کہا بیٹے ابھی تم بہت چھوٹے ھو جو چیزیں میں دیکھ سکتی ھوں تم انکیطرف کبھی سوچ بھی نہی سکتے ۔۔۔
میرے استفسار پر آنٹی نے کہا کہ میرا اندازہ کبھی غلط نہی ھوتا ۔۔
چلو میں تمکو بتلاتی ھوں ۔۔۔
میں نے اپنی بیٹی کیلئے جتنے بھی رشتے دیکھے ھیں ان سے کچھ شرائط رکھی ھیں جو بھی میری بیٹی کو دیکھنے آے ۔
وہ اپنے تمام بیٹوں اور انکی بیگمات کو ساتھ لائیں ۔۔
جو سب سے اچھے کپڑے ھوں وہ زیب تن کر کے آئیں ۔
گھر کی عورتیں اپنے مکمل زیورات سے سج کر آئیں ۔
اگر گھر میں ھر فرد کی اپنی اپنی گاڑی ھے تو وہ اپنی اپنی گاڑی میں آئیں ۔۔۔
یہ شرائط بہت عجیب تھیں ۔۔لیکن بعض لوگوں نے اسکا یہ۔مطلب لیا کہ شاید ھم لڑکے والوں کی مالی حالت دیکھنا چاھتے ھیں ۔۔لیکن ایسی بات نہی ھے ۔۔۔
اب جب آپ کے اہل خانہ ھمارے گھر تشریف لاے تھے تو میں نے سب سے پہلے تمھارے دونوں بھائیوں کی گاڑیاں دیکھیں جو کہ قدر مہنگی تھی جبکہ تمھارے والد صاحب کی گاڑی کی مالیت اتنی نہی تھی جتنی تمھارے دونوں بھائیوں کی گاڑیوں کی قیمت تھی ۔۔
اسیطرح پھر میں نے تمھارے والد صاحب کے کپڑوں کا جائزہ لیا تو مجھے محسوس ھوا کہ تمھارے بھائیوں کے جسموں پر سجے ھوے کپڑے زیادہ مہنگے ھیں اور یہی حال تمھارے والد صاحب کے جوتوں کا تھا ۔۔
جب میں نے تمھاری ماں کے زیورات دیکھے تو انکی مقدار بہت ھی کم۔تھی جبکہ تمھاری دونوں بھابھیوں کے ہاتھ بازو اور گلے زیورات سے سجے ھوے تھے ۔۔۔
پھر میں نے جب تمھاری بھابھیوں سے پوچھا کہ گھر کا کھانا کون پکاتا ھے تو تمھاری بھابھئوں نے کہا کہ ھم سب علیحیدہ علیحیدہ پکاتے ھیں اور تمھارے والدین کا کھانا تمھاری بہن پکاتی ھے ۔۔
اسی طرح میں نے جب پوچھا کہ بچوں کو سکول کون چھوڑتا ھے تو مجھے پتہ چلا کہ تمھارے دونوں بھائی اپنے بچوں کو خود چھوڑتے ھیں جبکہ تمھاری بہن کو تمھارے والد صاحب کالج لے کر جاتے ھیں۔
جب میں نے یہ حالات دیکھے اور سنے تو مجھے افسوس ھوا ان بیٹوں پر جنکو پڑھانے کیلئے باپ نے اپنی ساری زندگی گنوا دی اور اس اولاد کو معاشرے کا کامیاب فرد بنایا لیکن جب اولاد کی باری آئی تو اولاد والد کا سہارا ببنے کی بجاے اپنی زندگی گزارنے پر رضامند ھو گئی ۔۔
تمھارے باپ نے تمھارے لئے بھوک افلاس بھی دیکھا ھو گا ۔
پیدل سفر بھی کیا ھو گا ۔
تمھارے منہ میں نوالہ ڈالنے کیلئے بھوک بھی برداشت کی ھو گی۔
تمہیں اچھا پہنانے کیلئے خود دو تین سال ایک ھی جوڑے میں بھی گزارے ھو نگیں ۔۔
لیکن جب اولاد کی باری آئی تو اولاد باپ کو بھول گئی اور اپنی دنیا کی رنگ رلیوں میں مگن ھو گئی ۔۔
تمھارے بھائیوں نے خود تو نئی گاڑی لے لی لیکن انکو خیال نہ آیا کہ ھمارا باپ آج بھی اسی پرانی گاڑی میں سفر کیوں کرتا ھے کیونکہ اس پر ابھی بھی تمھاری بہن کی اور تمھاری زمہ داری ھے ۔۔
اسکا بھی دل کرتا ھو گا نئے جوتے اور نئے کپڑے پہننے کو لیکن ھو سکتا ھے اسکی جیب اس چیز کی اجازت نہ دیتی ھو ۔۔لیکن تمھارے بھائیوں کی جیب تو اجازت دیتی تھی کہ اپنے باپ کیلئے اچھا لباس اچھا جوتا پہلے خریدتے اور اپنے لئے بعد میں کیونکہ یہ رویہ تمھارے باپ کا تھا جب بھی اس نے کوئی چیز خریدنا چاھی پہلے اپنی اولاد کا خیال کیا بعد میں اپنا سوچا ۔۔
اسی لئے میں نے یہ ساری باتیں اسی دن تمھارے والد سے کر دیں تھیں ۔ھمیں دنیا کی مال و دولت نہی چاھئیے ھمیں تو ایسے رشتہ۔دار چاھئیں جو اپنے سے بڑھ کر اپنے رشتہ داروں کو ترجیح دیں تاکہ کل کو جب ھم نیچے گریں تو ھمکو مزید نیچے دبانے کی بجاے اوپر کو اٹھائیں تاکہ کل کو جب وہ نیچے گریں تو ھم انکو بھی سہارا دیں سکیں ۔۔۔
مال و دولت اعلی عہدہ یا مرتبہ تو ھمیشہ نہی رھتا ۔۔
ھمیشہ جو ساتھ چلتے ھیں وہ سچے رشتے چلتے ھیں اور اگر رشتے بنانے میں ھم سے تھوڑی سی بھی غلطی ھو جاے تو ساری زندگی بھی تباہ ھو سکتی ھے اور نسلیں بھی تباہ ھو جایا کرتی ھیں ۔۔۔
مجھے فخر ھے آپ کے والد صاحب پر کہ انھوں نے آپ کو حقیقت سے آگاہ نہی کیا اور پھر بھی آپ لوگوں کی غلطیوں پر پردہ ڈالتے رھے لیکن دیکھنا یہ ھے کہ اولاد اپنے والدین کا کتنا خیال رکھتی ھے والدین تو ھمیشہ سے ھی اولاد کیلئے قربانیاں دیتے آئے ھیں ۔۔
ابھی اولاد کی باری ھے اور مجھے فخر ھے اپنی اولاد پر کہ آج کچھ بھی ھو جاے میری اولاد مجھے ھمیشہ ترجیح دیتی ھے میرے لئے پہلے خریدتی ھے بعد میں اپنے بیوی بچوں کیلئے کچھ خریدا جاتا ھے اور مجھے فخر ھے اپنی اولاد کی اولاد پر کہ وہ بھی اپنے والدین کو اپنی زندگیوں سے زیادہ ترجیح دیتی ھے اور ھمارا پورا خاندان ایک جان کی مانند ھے اگر کسی کو کسی بھی چیز کی۔ضرورت پڑ جاے تو پیٹھ دیکھا کر نہی بھاگتے بلکہ ضرورت سے زیادہ لے کر آتا ھے ۔۔۔۔
اس لئے میرے بیٹے رشتے بنانا بہت آسان ھے لیکن کامیاب رشتے چننا اور انکو نبھانا بہت مشکل ھے ۔۔کہیں ایک نا اہل رشتہ آپ کو اتنا بڑا نقصان دے سکتا ھے کہ ساری عمر کی۔خوشیاں غموں میں تبدیل ھو سکتی ھیں اور کامیاب رشتہ آپکو ایسا سہارا دے سکتا ھے کہ تمام زندگی کے غم خوشیوں میں تبدیل ھو سکتے ھیں۔۔۔
اتنی بات کرنے کے بعد آنٹی اٹھ کر چلی گئیں ۔۔اور میری آنکھوں کے سامنے میرے والدین کا چہرہ گھومنے لگا ۔میری گاڑی میرے والد کی گاڑی سے بہتر تھی ۔میرا لباس میرے والد کے لباس سے بہتر تھا ۔میرے گھر کی زیب و زینت کا سامان میرے والد کے گھر سے بہتر تھا ۔میری بیوی ہاتھ میں سونے کی چوڑیاں اور کنگن تھے جو میں نے خرید کر دئیے تھے لیکن میری ماں کا سارا زیور بک چکا تھا میں آج بھی گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر لیکن میرا باپ آج بھی اولاد کی زمہ داریاں نبھا رہا تھا ۔۔
میں نے آج بھی اپنی بیوی کیلئے سونے کی انگھوٹھی خریدی لیکن میرے ذھن میں میری ماں کا خیال کیوں نہ آیا جس نے میری شادی کیلئے اپنا زیور بیچ دیا ۔۔
مجھے افسوس ھوا اپنے آپ پر کہ میں نے اپنے والدین سے زیادہ اپنی ذات کو ترجیح دی ھے میرے والدین جنہوں نے مجھے سب کچھ دیا اور میں نے ان سے سب کچھ لے کر انکو خالی کر دیا لیکن کبھی انہوں نے مجھ سے کوئی گلہ یا شکوہ نہی کیا ۔۔۔
میرے والدین کل بھی عظیم تھے اور آج بھی عظیم ھیں اور
میں کل بھی ناکام تھا اور آج بھی ناکام ھوں۔

06/09/2025
04/09/2025

پڑھ کر ایمان تازہ ھوگا
نواسۂ رسول،جگرگوشۂ بتول سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل ومناقب

قرآن مجید میں حضرت موسیٰ اورحضرت خضر علیہما السلام کے مبارک سفر کے تذکرے میں ایک قصہ ایک بستی کے یتیموں کی دیوار کے متعلق بھی ہے، جس کو درست کرنے کی وجہ حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ بیان کی کہ ’’وَکَانَ اَبُوْھُمَا صَالِحًا‘‘ کہ ان کے ماں باپ نیک تھے اور اس دیوار کے نیچے خزانہ تھا، اگر دیوار درست نہ کی جاتی تو وہ بستی کے ان لوگوں کے ہاتھ لگ جاتا جو مہمان نوازی کے نام سے بھی نابلد اور آداب سے ناآشنا تھے۔ شیخ الاسلام علامہ شبیراحمد عثمانیؒ اپنی مختصر مگر جامع تفسیر عثمانی میں نقل فرماتے ہیں کہ یہ ساتویں پشت تھی، جن کے آباء واجداد کی نیکی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے خزانے کی حفاظت اور ان تک پہنچانے کے لیے حضرت خضر علیہ السلام کے ذریعہ انتظام کروایا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے اس واقعہ کی حقیقت کو لسانِ خضر سے واضح کیا اور پھر اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن مجید نازل کر کے اس کی تفصیل کو بیان فرمایا، تاکہ محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب اُمت جان سکے کہ نیک اعمال اور پاکیزہ زندگی کی کتنی برکات ہوتی ہیں اور اس کے کتنے ثمرات ہوتے ہیں کہ نسلاً بعدنسلٍ بھی ان کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس واقعہ سے جہاں بہت سے اسرار وحِکم سمجھ میں آتے ہیں، جن کو مفسرین نے تفصیل کے ساتھ تفاسیر میں نقل کیا ہے، وہیں ایک ایمان افروز نکتہ بھی ایمان والوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے کہ اگر بنی اسرائیل کے اولیاء کی اولاد کو اُن کے نیک اعمال کی وجہ سے اتنا شرف حاصل ہو سکتا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام کے ذریعے تکوینی طور پر خزانے کی حفاظت کا کام لیا جائے تو امام الانبیاء، خاتم النبیین والمعصومین حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم جو سب کے سردار ہیں، وجہِ تخلیقِ کائنات ہیں، جن کا دامن اتنا پاک ہے کہ اگر نچوڑا جائے تو فرشتے وضو کریں، ان کی اولاد جو اُن کی لاڈلی بیٹی سیدۃ النساء اہل الجنۃ حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا سے چلی، اُن کا کیا مقام ہوگا؟!
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تین بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں، سب سے چھوٹی مگر مرتبے میں اولاد میں سب سے بڑی حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا تھیں، ابن عبد البرؒ کے مطابق آپؓ بعثت کے پہلے سال پیدا ہوئیں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےآپ کا نام فاطمہ رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نانیوں اور دادیوں میں فاطمہ نام کی کثرت پائی جاتی ہے، اسی نسبت کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی رکھا، فاطمہ کا لفظ ’’فطم‘‘ سے ہے، جس کا معنی ہے قطع کرنا، چھڑانا یعنی وہ دنیا سے الگ کر دی گئی تھیں، اُن کی تخلیق آخرت کے لیے ہوئی، آپ کے دو لقب تھے: بتول اور زہراء بتول کا معنی جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے یکسو ہوجائے اور زہراء کا معنی ’’وہ جن کا ظاہر وباطن مجلّٰی ومصفّٰی ہو۔‘‘ (سیرت المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم )
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت وتربیت نے آپ کو کمالات کی انتہا پر پہنچادیا، آپ اخلاق وعادات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل شبیہ تھیں ، آپؓ کا نکاح ساڑھے پندرہ سال کی عمر میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ہوا۔ معجم طبرانی میں ہے کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ فاطمہ کا نکاح علی سے کردوں۔‘‘
زرقانی ؒ نے لکھا ہے کہ اس حدیث کے سب راوی ثقہ ہیں۔ وہ زرہ جو بدر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ملی تھی، مہر قرار پائی، عقدِ نکاح کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ زرہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دی کہ بیچ کر لاؤ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وہ ۴۸۰ دراہم میں خریدی اور پھر قیمت دے کر زرہ بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہدیہ کردی اور بدلے میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے گھرانے کی دعائیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے دامن میں سمیٹ لیں، نکاح کے موقع پر خلفاء ثلاثہؓ اور دیگر کبار صحابہ کرامؓ موجود تھے۔ حضرت حارثہ بن نعمانؓ نے تھوڑے عرصے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرۂ مبارک کے قریب ہی ایک مکان حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کے رہنے کے لیے ہدیہ کردیا اور اس کے بدلے جنت میں مکان خرید لیا، اللہ تعالیٰ نے حضرت فاطمہؓ وحضرت علیؓ کو تین لڑکے حضرت حسنؓ، حضرت حسینؓ، حضرت محسنؓ اور دو لڑکیاں حضرت زینبؓ، حضرت امِ کلثومؓ( رضی اللہ عنہم ) عطا فرمائے۔
حضرت حسین رضی اللہ عنہ ۵شعبان المعظم ۴ھ کو پیدا ہوئے۔ آپ کی پیدائش مبارکہ سے پہلے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چچی ام الفضلؓ زوجہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے ایک خواب دیکھا کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک سے گوشت کا ایک ٹکڑا جدا ہو کر اُن کی جھولی میں گرا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غم نہ کریں، خواب مبارک ہے، عنقریب میری بیٹی سیدہ فاطمۃ الزہراءؓ کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوگی، جس کی پرورش آپ کے ذمہ ہوگی، چنانچہ اس خواب کے کچھ عرصہ بعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے اور یوں جنت کےشہزادوں حسنؓ وحسینؓ کی خوبصورت جوڑی مکمل ہوگئی، خبر ملتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور برکت کے لیے اپنی زبان مبارک نومولود کے منہ میں ڈالی، دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی۔ یہ خوش قسمت شہزادہ جس کے وجود میں سب سے پہلے مبارک لعاب پہنچی اور کانوں میں اعلیٰ و ارفع آواز گونجی، اس کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسینؓ رکھا۔
حضرت حسین رضی اللہ عنہ اپنے نام کی مانند حسین و جمیل، شکل و صورت میں کائنات کے سب سے خوبصورت انسان محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ کی آنکھ کا تارہ تھے۔ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے متعلق زبانِ نبوت سے کیا خوبصورت الفاظ ادا ہوئے: ’’الٰہ العالمین! جس طرح میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں، تو بھی ان سے محبت رکھ، اور جو اِن دونوں کو محبوب رکھے، تو بھی اسے محبوب بنا لے۔‘‘(جامع الترمذی)
اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کا ایک آسان نسخہ ان شہزادوں سے قلبی محبت بھی ہے، کیونکہ یہ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی مقبول دعا ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ان شہزادوں سے بے حد محبت تھی، ایک بار حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے رونے کی آواز سن کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ’’کیا تو نہیں جانتی اس کے رونے سے مجھے تکلیف ہوتی ہے؟‘‘
ایک دفعہ تو اس محبت کی حد ہوگئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حسینؓ مجھ سے ہے، میں حسینؓ سے ہوں۔‘‘ اسی طرح ایک جگہ ارشاد ہے: ’’حسنؓ وحسینؓ توجنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ۔‘‘
کبھی ان کی اُلفت میں ممبر سے اتر آئے، کبھی سجدے طویل ہوگئے، کیونکہ پشت پر جنت کے نوجوانوں کے سردار سوار ہیں ، کبھی ارکانِ نماز یوں ادا کیے جا رہے ہیں کہ شہزادۂ رسول وجودِ اطہر کے ساتھ چمٹے ہیں۔ کبھی ان بچوں کے ساتھ دوڑ رہے ہیں ، اور کبھی کندھوں پر سواری کرائی جا رہی ہے۔ دیکھنے والوں نے کہا: سواری کتنی اعلیٰ ہے؟ تو فوراً زبانِ نبوت سے نکلا: سوار بھی تو کتنا اعلیٰ ہے۔
ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں کئی لڑکوں کو کشتی میں پچھاڑتے دیکھا، تو فرمایا: ’’یہ شجاع ابن شجاع ہے۔‘‘ اپنے والد سے قرآن پاک پڑھتے ہوئے آیاتِ جہاد پر جنگ کے طریقے اور گُر پوچھتے، اور صرف زبانی نہیں، عملی تربیت کی درخواست کرتے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ انہیں مشقیں کراتے، حتیٰ کہ اس فن میں کامل ہوگئے اور آگے جا کر نواسۂ رسول نے بہت سی جنگوں اور میدانِ کربلا میں اپنی بہادری کے جوہر دکھائے۔ حضرات صحابہ کرامؓ بھی خاندانِ نبوت کے ان شہزادوں پر جان چھڑکتے اور ان کا پورا خیال رکھتے۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم ! اپنے اقرباء سے صلہ رحمی کی نسبت مجھے یہ بات کہیں زیادہ عزیز ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقرباء سے صلہ رحمی کروں۔‘‘(صحیح البخاری)
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں حیرہ علاقہ فتح ہوا تو ایک بہت خوبصورت اور قیمتی چادر مالِ غنیمت میں آئی، آپ نے وہ چادر حضرت حسینؓ کو دی کہ شہزادے کے ساتھ اچھی لگتی ہے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بدری اصحاب کے برابر دونوں بھائیوں کے وظائف مقرر کیے، دین نے جس چیز سے نہیں روکا اور اجازت دی، خلفاءثلاثہؓ نے اس مقدس گھرانے کے ایک ایک فرد بالخصوص ان شہزادوں کے ساتھ محبت ومودت ،جود وسخاوت میں انتہا کردی اور جس سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمادیا تو پھر اس مقدس گھرانے کے تقدُّس کو دھبہ لگنا بھی گوارا نہ کیا ۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں یمن سے کپڑے آئے تو کوئی حسنین کریمینؓ کے ناپ کے مطابق پورا نہیں آیا، آپ غمگین ہوگئے اور فوراً ناپ یمن بھجوا کر نئے جوڑے تیار کروائے، اور جب انہوں نے پہنے تو فرمایا: ’’شکر ہے اس اللہ کا جس نے میرا دل ٹھنڈا کیا ہے۔‘‘ (سیر اعلام النبلاء)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ایک روز خطبہ دے رہے تھے تو حدیث پڑھ کر آپ نے دونوں صاحبزادوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہے، اس کا فرض ہے کہ وہ ان سے بھی محبت رکھے اور ان کے درجات پہچانے۔‘‘ (سیرۃ الخلفاءؓ)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے محبت کا حق بھی حسنؓ و حسینؓ نے ادا کیا، باغیوں نے جب خلیفۂ رسول کے گھر کا محاصرہ کیا تو دروازے پر پہرہ دیا، حضرت حسن رضی اللہ عنہ ایک تیر سے زخمی بھی ہوئے، پر باغیوں کوسامنے سے اندر نہ جانے دیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ‘ حضرت حسنین رضی اللہ عنہما کے گھوڑے کی رکاب پکڑتے تھے، کسی نے کہا: آپ علم و عمل میں زیادہ اور بزرگ ہیں؟ کہا: میرے لیے تو یہ سعادت کی بات ہے۔حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی خاطر لڑنے مرنے پر تیار ہوجاتے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے صرف حسنین کریمینؓ کی فرمائش پر ہی بعد از وصالِ نبوی اذان دی۔
اپنے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں حکومتی معاملات میں ہاتھ بٹایا کرتے اور اُن کے ساتھ جنگوں میں بھی حصہ لیتے، ان کے بعد اپنے چہیتے بھائی حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی معاون رہے اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی عنایات سے نوازے جاتے رہے۔ الغرض ہمیشہ سب کے منظورِ نظر رہے اور اپنے اختیارات کو استعمال کرتے رہے۔ ایک دفعہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو کسی امیرِ سلطنت کی طرف سے بھیجا جانے والا سامان مدینے کے پاس سے گزرا تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے دس اونٹوں سے سامان اُتروا کر پاس رکھ لیا اور پیغام بھجوایا کہ اپنا حق وصول کرلیا ، البتہ کچھ باقی ہے۔
مال کے حاصل کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ جمع کرتے تھے، بلکہ مدینے کے سب سے زیادہ سخی کا پوچھا جاتا تو لوگ آپ کا ہی نام لیتے، اللہ کی راہ میں اتنا خرچ کرتے کہ اکثر مقروض ہو جاتے۔حسنِ سلوک ایسا کہ بے مثال ! ایک دفعہ ایک خادمہ سے کچھ خطا ہوگئی تو اس نے گھبرا کر یہ آیت پڑھی کہ غصہ کو پینے والے اللہ کو پسند ہیں، آپؓ نے فوراً معاف کر دیا، اس نے درگزر اور حسنِ سلوک کا آگے ذکر کیا تو اُسے آزاد کردیا۔
یتیموں اور بیواؤں کا اتنا خیال رکھتے کہ بوقتِ شہادت آپ کی پشت مبارک پر بہت زیادہ نشان تھے، حضرت زین العابدینؒ سے پوچھا گیا تو فرمایا کہ: یہ اس سامان کو اُٹھانے کے نشان ہیں جو آپ اپنی پشت پر لاد کر بیوہ، یتیم بچوں اور فقراء و مساکین کو پہنچاتے تھے۔
عبادت گزار اتنے کہ بعض اوقات سینکڑوں نوافل ادا کرتے، یہ اُس اذانِ محمدی کا اثر تھا جو پیدائش کے وقت آپ کے کانوں میں دی گئی ۔ تلاوتِ قرآن مجید کا یہ حال کہ چلتے پھرتے زبان پر تلاوت جاری رہتی، یہ لسانِ نبوت چوسنے کی برکت تھی، اسی وجہ سے خوش الحان تھے ۔ جو آپ کی تلاوت سنتا تو پھر ’’ھل من مزید‘‘ کی تمنا کرتا، عاشقانہ عبادتِ حج کا یہ عالم کہ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تک پیدل چل کے پینتیس حج کیے۔ سخاوت کا یہ حال تھا کہ اپنے تو اپنے دروازے سے دشمن بھی خالی نہیں گئے، قرض لے لیا، پر کسی سائل کو مایوس نہ کیا۔ نماز سے اتنی محبت کہ اللہ کے دین کی سربلندی کی خاطر نکلے اور اسی راستے میں سجدہ کی حالت میں میدانِ کربلا میں ۱۰ محرم ۶۱ھ کو ۵۷ برس کی عمر میں شہید کردئیے گئے۔
ہمارا ایک المیہ ہے کہ ہم صرف دس محرم الحرام کو ہی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہیں، جبکہ چاہیے تو یہ کہ محراب ومنبر ہو یا صحافت کی دنیا‘ تسلسل کے ساتھ اِن مقدس ہستیوں کا ذکرِ خیر ہونا چاہیے۔ شہادت کے ساتھ آپ کی روشن زندگی کے مثالی کارناموں کو بھی قوی حوالہ جات کے ساتھ بیان کیا جائے، تاکہ اُمتِ مسلمہ اپنے بڑوں کی زندگی سے بخوبی آگاہ ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ ان حضرات کو -جن کی وجہ سے دین ہم تک پہنچا- بہترین
جزا سے نوازے اور کل ہمارا حشر اُن کے قدموں میں فرمائے، آمین
***ضرور شیئر کریں محبت اہل بیت میں ****

03/09/2025

‏ایک بھٹے والا ٹھیلا چلاتا تھا۔ روز اس کے پاس ایک بچہ آتا تھا، جو اس سے بھٹہ لیا کرتا تھا، “چاچا ایک بھٹہ تو دے دو”۔ وہ دے دیا کرتا تھا۔

‏ایک دن ایک لمبی سی گاڑی اس بھٹے والے کے پاس آئی اور اسے 20 بھٹوں کا آڈر دیا. بھٹے والا بہت خوش ہوا، اس نے اسے اچھا اچھا سا بنا کر دے دیا۔ اگلے دن پھر وہی گاڑی دوبارہ آئی اور پھر 20 بھٹوں کا آڑد دیا۔ ایسے وہ گاڑی والا روز اپنے بچوں اور گھر والوں کے لئے 20 بھٹے لے جانے لگا۔ بھٹے والے کا کاروبار بھی اسی طرح اچھا ہونے لگا۔

‏ایک دن بھٹے والا بڑا مصروف تھا اسی لمبی گاڑی والے کے بھٹے تیار کرنے میں، اتنے میں وہی بچہ آیا جو روز اتا تھا اور کہا؛ ”چاچا ایک بھٹہ تو دے دو”. تو بھٹے والے نے کہا “ابھی جاؤ یہاں سے، میرے پاس وقت نہیں، میں مصروف ہوں. بار بار آ جاتے ہیں بھٹہ مانگنے”! بچہ چلا گیا.

‏بھٹے والا بھٹے تیار کر کے انتظار کرتا رہا، وہ لمبی سی گاڑی اس دن نہ آئی ، بھٹے والے نے قدرت کے ماجرے کا نوٹس نہ لیا۔ اگلے دن پھر وہ انتظار کرتے رہا، وہ لمبی گاڑی پھر نہیں آئی. اس کے اگلے روز دوبارہ انتظار کے باوجود گاڑی نہ آئی۔ ایسے ایک ہفتہ گزر گیا، اب تک بھٹے والے کو سمجھ نہ ایا کہ قدرت کا ماجرا ہے کیا؟ پھر وہ بچہ آیا بھٹے والے کے پاس “چاچا ایک بھٹہ تو دے دو۔” بھٹے والے نے بچے کی طرف دیکھا اور پھر بھی نہ سمجھا کہ قدرت کا ماجرا کیا ہے. بہرحال اس کو ایک بھٹہ دے ہی دیا. یہاں اس نے بھٹہ دیا گھنٹے دو گھنٹے کے بعد وہ لمبی گاڑی آ گئی کہ “بھائی 20 بھٹے دے دو۔” اس نے جلدی جلدی بھٹے بنائے اور گاڑی والے کو دے دیا۔ گاڑی کے مالک سے پوچھا “سرکار آپ ایک ہفتے سے کہاں تھے؟ “ تو مالک نے کہا “یہ میرے دفتر سے گھر جانے کا رستہ ہے، یہاں رستے میں ایک پٹرول پمپ ہے، اس پمپ سے میں گاڑی میں تیل بھرواتا ہوں۔ ایک بار اس کے پٹرول میں کچرا آ گیا تو میں نے وہاں سے اپنا رستہ بدل لیا۔ اب میں دوسرے رستے سے جاتا ہوں اور دوسرے پمپ سے تیل بھرواتا ہوں۔ لیکن اس پمپ کے مالک نے مجھے رابطہ کیا اور کہا میرے ملازمین کی غلطی ہے۔ اگلی بار سے ایسا نہیں ہو گا. تو میں نے اسے معاف کر دیا۔ اور اپنا یہ رستہ واپس اختیار کر لیا”.

‏بھٹے والا گھر گیا رات بھر سوچتآ رہا۔ پھر اسے سمجھ آیا کہ جب اس نے بچے کو بھٹہ دینا بند کیا تو اللہ نے اس لمبی گاڑی والے کے پٹرول میں بھی کچرا ڈال دیا اور جب اس نے بچے کو بھٹہ دینا شروع کیا تو اللہ نے اس گاڑی والے کا معافی نامہ اس پمپ والے سے کروا دی۔ گویا اس کا اپنا رزق اس بچے کے پیٹ سے جڑا ہوا تھا جو نہ تو اس کا ملازم تھا، نہ ہی اولاد تھی، نہ ہی جاننے والا تھا۔ بس اللہ کا ایک بندہ تھا، پھر وہ یہ سمجھ گیا کہ کسی کو رزق پہنچانے کے لئے اللە کسی کو رزق دیتا ہے اور جب ہم وہ رزق نہیں پہنچاتے تو اللہ ہمارا رزق بھی روک دیتا ہے اور وہ بندہ کون ہوتا ہے یہ ہم کبھی نہیں جان سکتے...

03/09/2025

*استغفار: بیماری اور مشکلات کا علاج*

اکثر انسان بیماری اور مشکلات سے تھک کر ایسے جملے کہنے لگتا ہے:
"اچھا ہوتا موت آ جاتی!"
"اچھا ہوتا یہ نعمت ملی نہ ہوتی!"
"اچھا ہوتا بچے نہ ہوتے، یہ تو عذاب بن گئے ہیں!"

یاد رکھیے! آپ اکیلے نہیں۔ یہ شیطان ہے جو آپ کو تھکا دیتا ہے اور برائی کو بھلائی پر ترجیح دینے پر اکساتا ہے۔ لیکن اصل حل اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف پلٹنے میں ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
*لَوْلَا تَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ* (النمل: 46)
"تم اللہ سے بخشش کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے؟"

یہ آیت سوالیہ انداز میں ہماری توجہ استغفار کی طرف مبذول کراتی ہے۔ گویا پیغام یہ ہے کہ *اگر رحم چاہتے ہو تو استغفار کرو۔* اسی طرح فرمایا:
*أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ* (المائدہ: 74)
"تو کیا یہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے اور اس سے مغفرت نہیں مانگتے؟ حالانکہ اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔"

استغفار کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی پردہ پوشی اور ان کے شر سے حفاظت طلب کرنا، نہ صرف دنیا کے لیے بلکہ آخرت کے لیے بھی۔ اگر اللہ تعالیٰ توبہ قبول کر لے تو انسان کو عذاب سے بچا لیتا ہے۔

*استغفار کے فوائد*

- *روحانی و جسمانی قوت*: جسمانی و ذہنی طاقت میں اضافہ۔

- *رزق میں کشادگی:* مال و رزق میں برکت۔

- *دل کا سکون:* گھٹن، بے چینی اور تنگی سے نجات۔

- *نامۂ اعمال کی خوبصورتی:* اعمال کا حسن بڑھتا ہے۔

- *آخرت کی کامیابی*: جنت کا راستہ اور جہنم سے بچاؤ۔

*قبولیتِ توبہ:* اللہ تعالیٰ دن رات بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے۔

- *بند دروازے کھلنا* سحری کے وقت استغفار مصائب اور بند دروازے کھول دیتا ہے۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے رسول ﷺ اور تمام انبیاء کو بھی استغفار کا حکم دیا۔ لہٰذا ہمیں بھی اپنی زندگی میں کثرتِ استغفار کو شامل کرنا ہے، کم از کم روزانہ 100 مرتبہ۔

اے اللہ! ہمیں کثرت سے توبہ کرنے والا اور استغفار کرنے والا بنا، اور اپنی رحمت سے دنیا و آخرت میں نواز دے۔

02/09/2025

انسان کے رخ
شہنشاہ جہانگیر نے خفیہ دستہ بھیجا اور نورجہاں کے شوہر شیر افگن کو قتل کروا دیا۔ یہ وہی جہانگیر تھا جس کے محل کے باہر سونے کی زنجیرِ عدل لٹکی رہتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی مظلوم وہ زنجیر ہلاتا تو بادشاہ خود دربار سے نکل کر انصاف کرتا۔ ایک طرف عدل و انصاف کی یہ عظیم نشانی اور دوسری طرف اپنی محبوبہ کی خاطر ایک بے گناہ شوہر کا خون—آپ فیصلہ کیجیے، جہانگیر فرشتہ تھا یا قاتل؟

تاریخ کے اوراق ایسے ہی تضادات سے بھرے ہیں۔ شاہجہان کو دیکھ لیں۔ محبت کا تاج محل بنایا، وہ سنگ مرمر کا خواب جو دنیا آج تک حیرت سے دیکھتی ہے۔ لیکن یہی شاہجہان تخت پر بیٹھتے ہی اپنے بھائیوں اور تمام ممکنہ وارثوں کو قتل کرا گیا تاکہ اقتدار پر کوئی سایہ نہ رہے۔ ایک طرف محبت کی یادگار، دوسری طرف خون سے رنگی ہوئی سیاست۔ تو سوال یہ ہے کہ ہم شاہجہان کو کس خانہ میں رکھیں؟ عشق کے خانے میں یا سنگدلی کے؟

اورنگزیب کی کہانی اور بھی ہولناک ہے۔ وہ اپنی روزی ٹوپیاں سینے اور چٹائیاں بُننے سے کمانے والا زاہد بادشاہ تھا۔ وصیت میں لکھا کہ میرا کفن میری سی ہوئی ٹوپیوں کے پیسوں سے خریدا جائے۔یہاں تک کے بادشاہی مسجد لاہور کی بنیاد رکھتے وقت اورنگزیب نے کہا کے بنیاد کوئی ایسا شخص رکھے، جس نے ہوش سمبھالنے کے بعد فرض نماز تو درکنار، تہجد بھی نہ چھوڑی ہو۔ جب کوئی سامنے نہ آیا تو اورنگ زیب عالمگیر نے کہا الحمد للہ میں نے تہجد کبھی نہیں چھوڑی۔

میری دلی دعا ہے کہ رب کریم اورنگ زیب عالمگیر کو ان نیکیوں کا اجر دے۔

لیکن یہی اورنگزیب اپنے بھائی دارا شکوہ کو گرفتار کرتا ہے، اُس کے جلوس کو ہاتھی پر ذلت آمیز انداز میں نکالتا ہے اور پھر اُس کی آنکھوں میں دہکتے ہوئے سرخ لوہے کی سلاخیں گھسوا دیتا ہے۔ آخر کار اُسے قتل کرا کے سر دہلی بھیجتا ہے۔

یہی نہیں، اورنگزیب نے اپنے والد شاہجہان کو بھی قید کر دیا۔ وہ باپ جس نے تاج محل بنایا، اپنی زندگی کے آخری آٹھ سال قلعہ آگرہ کے ایک کمرے میں قیدی بن کر گزارے۔ کبھی بیٹے کے رحم کی جھلک نہ ملی، اور وہ بادشاہ اپنی ہی بنائی ہوئی عمارت تاج محل کو دریچے سے دیکھتے دیکھتے دنیا سے رخصت ہوا۔ کیا یہ بادشاہ صوفی تھا یا جابر؟ درویش تھا یا سنگ دل؟

انسان دراصل ایک الماری ہے۔ ایک خانے میں روشنی، دوسرے میں اندھیرا۔ ایک دروازے میں سخاوت، دوسرے میں ظلم۔ لیکن ہماری عادت ہے کہ ہم صرف ایک دروازہ کھولتے ہیں اور پورے انسان کو اسی میں قید کر دیتے ہیں۔ نتیجہ؟ کبھی ہم ہیرو کی اندھی عقیدت میں پڑ جاتے ہیں اور کبھی دشمن کی اندھی نفرت میں۔

سوچ کر دیکھیے۔ وہ نمازی جو ہر وقت پہلی صف میں کھڑا رہتا ہے، کاروبار میں لوگوں کو لوٹ بھی سکتا ہے۔ اور وہ آدمی جو زبان سے سخت اور تلخ ہے، شاید وہی ہے جو یتیم کے بچوں کی فیس چپکے سے ادا کرتا ہے۔ تو اب اصل اچھا کون اور برا کون؟

یہی اصول بڑے بڑے ناموں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ہٹلر لاکھوں یہودیوں کا قاتل تھا، مگر جرمنی کی معیشت کھڑی کر دی، سڑکیں بنائیں اور فیکٹریاں چلائیں۔ چرچل دوسری جنگِ عظیم کا ہیرو بنا، لیکن اسی کے فیصلے سے بنگال میں قحط پڑا اور تین ملین انسان بھوک سے مر گئے۔ گاندھی جی آزادی کے استعارہ ہیں، مگر ان کی ذاتی زندگی میں برہمچریہ کے تجربات ہمیشہ متنازعہ رہے۔ قائداعظمؒ مغربی عادات کے قائل تھے، لیکن وہی ہمیں پاکستان دے گئے۔ اب بتائیے، یہ سب لوگ مکمل اچھے تھے یا مکمل برے؟

انسان کو سمجھنا شطرنج کھیلنے جیسا ہے۔ کچھ خانے سفید ہیں، کچھ کالے۔ کھیل انہی دونوں سے بنتا ہے۔ اگر صرف سفید ہوں تو کھیل ختم، اگر صرف کالے ہوں تو بھی کھیل ختم۔ انسان کی زندگی بھی ایسے ہی ہے—روشنی اور سائے، دونوں ساتھ ساتھ۔

اصل حکمت یہ ہے کہ انسان کو compartments میں پرکھا جائے۔ سیاست دان کو سیاست میں دیکھیں، مگر گھر کی زندگی کو الگ خانہ مانیں۔ استاد کو علم میں پرکھیں، مگر اخلاق میں بھی جانچیں۔ گلوکار کے فن کو سراہیں، لیکن اس کی نجی زندگی کے سائے بھی نوٹ کریں۔ یہی انصاف ہے اور یہی بصیرت۔

یاد رکھیے، جو لوگ آج بھی کسی کو مکمل اچھا یا مکمل برا سمجھتے ہیں وہ حقیقت میں عقل کی پہلی سیڑھی پر ہیں۔ اصل عقل یہ ہے کہ ہم الماری کے تمام دروازے کھولیں اور ہر خانے کو الگ الگ دیکھیں۔ تبھی پورا انسان سامنے آتا ہے۔

اور ایک راز اور سن لیجیے۔ اگر آپ کسی انسان کی نیکی کو اس کی برائی پر ترجیح دینا سیکھ لیں تو یہ دنیا اچانک حسین ہو جائے گی۔ جیسے باغ میں کانٹے بھی ہوتے ہیں، مگر اگر آپ پھول پر توجہ دیں تو خوشبو ہی یاد رہتی ہے۔ اسی طرح جب آپ خوبی پر نظر رکھیں گے تو محسوس ہوگا کہ دنیا میں زیادہ تر لوگ برے نہیں بلکہ اپنی اچھائی میں پچاس فیصد سے اوپر ہی ہیں۔

آخر میں عرض ہے کہ انسان کبھی مکمل اچھا نہیں اور کبھی مکمل برا نہیں۔ اصل حکمت یہ ہے کہ ہم ہر شخص کو compartments میں پرکھیں اور اس کی نیکی کو اس کی برائی پر ترجیح دیں۔ جب آپ یہ زاویہ اپنائیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ دنیا میں تقریباً ہر شخص اچھا ہے۔
کاپی
شہزاد احمد مرزا
نیکسٹ ایج سلوشنز

06/11/2024

اپنی زندگی میں ہر شخص کو ایک خاص کرسی دیں ،، ایک اچھی جگہ پہ بٹھائیں ، جھکیں ، اہمیت دیں ، عزت کریں ،،


پھر اطمینان سے مشاہدہ کریں کہ کیا وہ شخص اپنا توازن کھونے لگا ھے ؟!؟! اگر ایسا ھے تو اس سے اس کی جگہ نہ چھینیں ، اسے وہیں پہ بیٹھا رہنے دیں ، مگر خود خاموشی سے وہاں سے ہجرت کر جائیں ۔۔۔

یاد رکھیں! اگر کسی کو آپ کی دی ہوئی عزت ، محبت اور آپ کا دیا ہوا مقام راس نہیں آرہا تو آپ اپنا وقار و ظرف مت کھوئیں ، بس خاموشی سے منظر نامے سے ہٹ جائیں ، کہانی سے خود کو الگ کر لیجئے ، یہی زندگی ھے ۔۔۔

06/11/2024

اصلاحی اقوال
ہر انسان ایک چلتی پھرتی کتاب ہوتا ہے، بس ہم پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے، کیونکہ ہم سمجھتے ہیں
کہ علم صرف کتابوں سے حاصل کیا جاتا ہے..! حالانکہ زندگی گزارنے کے اصل اسباق تو ہمیں انسانوں اور اُن کے رویوں سے ہی ملتے ہیں، اور بعض سبق تو ایسے ملتے ہیں کہ ساری ڈگریاں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں...!!
اور بعض دفعہ اپنے قریب ترین لوگوں سے آپ کو ایسی ٹھوکر ملتی اور اس کے نتیجے میں میں جو سبق آپ کو حاصل ہوتا ہے وہ بڑی بڑی درسگاہوں سے اور بڑی کتب کے مطالعہ سےبھی نہیں حاصل ہوتا جسے آپ زندگی میں اگر بھلانا بھی چاہیں وہ رویہ اور وہ سبق نہیں بھولتا۔
ایسی تمام کتب کو بس بند کر کے رکھ اور قرآن ازکار اور تعلق مع اللہ کو مظبوط کرلیں اور کنارہ اختیار کر لیں پھر زندگی کا سکون دیکھیں ۔

06/11/2024

Assalamu a alaikum wa rahmatullah!!
I am a online Quran teacher. I teach Quran and Islam in different countries.
Indeed, the best among you is the one who learns the Holy Qur'an and teaches it to others. So in this regard we conduct different courses

مدنی قاعدہ ۔
Madni Qaida.
ناظرہ قرآن۔
Nazra Quran
حفظ القرآن۔
Memorizing the Qur'an
بنیادی ضروری مسائل۔
Basic essential issues
چھے کلمے۔
Six words
مسنون دعائیں۔

Masnoon prayers
نماز کا مسنون طریقہ۔
Masnoon method of prayer
روز مرہ کے دینی مساٸل
Whichever country you are in, come and be a part of our academy. If you or your children want to study the Holy Quran, please contact us.
May Allah be our supporter and supporter for all .
My.Whatsapp number .
+92 322 2984599

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Islamabad
44000