29/03/2025
🔰 *آپ کی عیدی کا حقدار کون؟*
عیدالفطر، رحمتوں اور برکتوں کی سوغات لیے آتی ہے، مومنین کے دلوں کو سرشاری کی روشنی سے منور کرتی ہے اور سماج میں خوشیوں کے رنگ بکھیرتی ہے۔ مگر عصرِ حاضر میں یہ عظیم تہوار ایک روحانی لمحے کے بجائے محض سماجی رسوم کی نذر ہو چکا ہے۔
زکوٰۃ و فطرانے کی ادائیگی کے علاوہ ایک اضافی روایت جو ہمارے معاشرے میں رچ بس چکی ہے، وہ ہے بچوں میں عیدی تقسیم کرنے کی رسم۔ بظاہر یہ ایک مسرت بخش عمل ہے، مگر اس کا طریقہ اکثر دلوں کو زخمی کر دیتا ہے۔ اس عیدی کی کوئی واضح حدود و قیود نہیں، نہ ہی اس کے کوئی ضابطے مقرر کیے گئے ہیں۔ بس ایک روایت چلی آ رہی ہے کہ اپنے پسندیدہ یا قریبی بچوں کو نوازا جائے، باقی سب کی قسمت بے نصیب رہ جائے۔
یہ نظارہ ہمیں ہر گلی، ہر محلے میں نظر آتا ہے۔ وہ معصوم بچے، جو بلا تفریق دوستی نبھاتے ہیں، یکایک ایک غیر منصفانہ تقسیم کے ہاتھوں دل گرفتہ ہو جاتے ہیں۔ ان کے درمیان ایک لکیر کھینچ دی جاتی ہے، جس کا ادراک شاید انہیں فوری طور پر نہ ہو، مگر ان کے دل کی دنیا میں ایک افسوسناک تفاوت جنم لے لیتا ہے۔
ایک واقعہ ذہن پر نقش ہو چکا ہے۔ گزشتہ عید پر حسبِ دستور میں محلے سے گزر رہا تھا کہ ایک صاحب، جو بظاہر صاحبِ ثروت معلوم ہوتے تھے، گلی میں کھیلتے اپنے چند رشتہ دار بچوں کو عیدی دینے لگے۔ انہوں نے بیس بیس روپے بانٹے مگر وہ تین بچے، جو ان کے ساتھ کھیل رہے تھے، محض اس لیے محروم رہ گئے کہ وہ کسی رشتے یا پسندیدگی کی فہرست میں نہیں آتے تھے۔ میں نے ان بچوں کے چہروں پر وہ محرومی دیکھی جو کسی یتیمی سے کم نہ تھی۔ وہی بچے مجھ سے مخاطب ہوئے! آپ کے پاس بیس روپے کے ٹوٹے پیسے ہیں؟''
یہ معصوم سوال مجھے جھنجھوڑ گیا۔ میں نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا، چند دس دس کے نوٹس نکالے اور ان کے ہاتھ میں رکھ دیے۔ بچوں نے وہ رقم آپس میں برابر تقسیم کر لی۔ میری آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے کہ کم از کم وہ بچے، جنہیں ابھی محرومی کا مطلب بھی مکمل معلوم نہ تھا، ایک دوسرے کے دکھ بانٹنا جانتے تھے۔ میں نے وہیں مزید بیس بیس روپے نکالے اور تمام بچوں میں برابر تقسیم کر دیے۔ مگر یہ منظر میرے دل میں ایک سوال چھوڑ گیا: کیا عیدی کا حقدار صرف وہی ہے جو ہمارا قریبی ہو؟ کیا وہ بچے جو مالی لحاظ سے کمزور ہیں، اس خوشی کے حقدار نہیں؟ کیا عید کا اصل مقصد صرف اپنوں کو نوازنا ہے؟
اگر عیدی دینا ہی ہے تو اسے بانٹنے کا سلیقہ بھی سیکھیں۔ عیدی وہ ہے جو محروم چہرے پر خوشی لائے، جو کسی نادار بچے کی جھجک ختم کرے، جو کسی یتیم کے دل میں اپنائیت بھر دے۔ ورنہ اس دور میں دس اور بیس روپے کی کوٸی خاطر خواہ قدر نہیں مگر یہ چھوٹا سا رقم بچوں بالخصوص غریب بچوں کو احساس کمتری شکار بنا سکتی ہے۔ اس لیے احساس کے قاتل بننے سے بہتر ہے عیدی ہی نہ دیں یا چھپا کردے دیا جاٸیں۔
اگر عیدی دینی ہے تو اسے کسی غریب و نادار طالب علم کو دے دیں، کسی ایسے گھرانے میں پہنچا دیں جو تنگ دستی میں عید کی خوشیوں سے محروم ہو رہا ہو، کسی مسجد کے پیش امام کو دے دیں جو دین کی خدمت کر رہا ہو مگر خود عید کی سادہ مسرتوں کے لیے بھی محتاج ہو۔ یہی انسانیت کی پہچان ہے، یہی عید کا اصل پیغام ہے۔
یاد رکھیے! عیدی کا اصل حقدار وہ ہے، جس کے پاس خوشیوں کے یہ سکے کبھی پہنچتے ہی نہیں۔ اگر ہم عید کی خوشیاں سب میں یکساں تقسیم کرنے کا عزم کر لیں، تو شاید ہماری عیدی کسی کی دعاؤں میں بدل جائے اور ہمارے دلوں میں حقیقی خوشی کا ایک چراغ روشن ہو جائے۔
#عیدالفطر
#عیدی