MB Urdu Quiz

MB Urdu Quiz

Share

Test your knowledge / challenge about is Urdu & Islamic Quiz and Dilchasp Paheliyan on this page.

17/03/2026

ایران کا نیا سپریم لیڈر۔۔ ایک جنگجو جس نے خاموشی سے پوری دنیا کو ہلا دیا
ایک ایسا شخص جسے پچھلے کئی سالوں سے نہ کبھی کسی نے دیکھا ہو اور نہ ہی اس کی آواز سنی ہو۔ ایک ایسا پراسرار چہرہ جو میڈیا کی نظروں سے بالکل غائب ہو، لیکن جیسے ہی اس کا نام ملک کے سب سے بڑے عہدے، یعنی سپریم لیڈر کے لیے سامنے آتا ہے، تو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس نام کو سنتے ہی فوراً حواس کھودیتے ہیں۔

آخر یہ شخص ہے کون؟

عام لوگ تو شاید اس مجتبیٰ کو نہیں جانتے، لیکن امریکہ کی سی آئی اے اور اسرائیل کی موساد کو اچھی طرح پتہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای آخر بلا کیا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ اس سے پہلے مجتبیٰ کا باپ، علی خامنہ ای، ایک بہت ہی سادہ اور نرم مزاج انسان تھا، لیکن یہ نیا سپریم لیڈر اپنے باپ کے بالکل الٹ ہے۔ یہ بچپن سے ہی ایران کی فوج میں ایک سپاہی کی طرح لڑتا رہا ہے۔ آج ایران کی پوری فوج اسی کو اپنا اصل لیڈر مانتی ہے۔ تاریخ میں پہلی بار ایران میں ایک ایسا سپریم لیڈر آیا ہے جو ایک عالم اور سکالر سے زیادہ ایک جنگجوہے۔

کہانی شروع ہوتی ہے آج سے لگ بھگ 50 سال پہلے۔ ایران میں ایک انتہائی کرپٹ بادشاہ رضا شاہ کا راج تھا۔ اسی کرپٹ نظام کو چیلنج کرنے کے لیے ایک نیا لیڈر ابھرا نام ہےآیت اللہ خمینی۔ خمینی کی طاقت اتنی بڑھی کہ بادشاہ کو مجبوراً ایران چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے بھاگنا پڑا، اور خمینی ایران کے پہلے سپریم لیڈر بن گئے۔ لیکن جیسے ہی وہ مسندِ اقتدار پر بیٹھے، دنیا کی کوئی بھی سپر پاور انہیں پسند نہیں کرتی تھی۔ کیونکہ وہ باقی روایتی لیڈروں کی طرح امریکہ کے جوتے پالش کرنے کے بجائے، سیدھا امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے دھمکیاں دیا کرتے تھے۔

امریکہ اور اسرائیل پہلے دن سے خمینی سے جان چھڑانا چاہتے تھے۔ انہیں یہ موقع پڑوسی ملک عراق کے نئے لیڈر صدام حسین کی شکل میں مل گیا۔ صدام حسین نے سپر پاورز کی شہ پر ایران پر حملہ کر دیا اور یوں مسلمانوں کی آپس میں ایک خوفناک جنگ شروع ہو گئی۔

جیسے ہی جنگ شروع ہوئی، اچانک ایران کے اس وقت کے صدر کو ایک دھماکے میں مار دیا گیا، جس کے بعد علی خامنہ ای نئے صدر بنے۔ جب علی خامنہ ای جنگ کی قیادت میں مصروف تھے، ان کے گھر میں ان کا 12 سال کا بیٹا مجتبیٰ بالکل عام بچوں کی طرح سکول جایا کرتا تھا۔ مجتبیٰ نے اپنا سارا بچپن اس ہولناک جنگ کے سائے میں گزارا۔

جیسے ہی مجتبیٰ کی عمر 17 سال ہوئی، وہ بھی ایک عام سپاہی کی طرح ایران کی فوج میں شامل ہو گیا اور محاذ پر چلا گیا۔ وہ صدرِ ایران کا بیٹا تھا، لیکن کہا جاتا ہے کہ تب بھی وہ بالکل ایک عام سپاہی کی طرح فرنٹ لائنز پر جا کر لڑا کرتا تھا۔ وہ اپنی بٹالین کے ساتھ عراق کے اندر گھسا اور عراق کے پہاڑوں پر ایران کا جھنڈا لہرایا۔

8 سال بعد جب یہ جنگ ختم ہوئی تو اس کے ٹھیک ایک سال بعد آیت اللہ خمینی اس دنیا سے چلے گئے۔ اب سوال تھا کہ نیا سپریم لیڈر کون ہوگا؟ ایران کے 86 سب سے بڑے سکالرز جمع ہوئے اور ان میں سے 70 فیصد کی بھاری اکثریت نے علی خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر چن لیا۔

مجتبیٰ اب صرف صدر کا نہیں، بلکہ سپریم لیڈر کا بیٹا تھا۔ لیکن حیرت انگیز طور پر، وہ اپنے باپ کے ساتھ محلات میں رہنے کے بجائے اگلے 10 سال تک ایران کی فوج کے ساتھ ہی رہا۔ فوج اور مجتبیٰ کے درمیان ایک بہت گہرا تعلق بن گیا۔ وہ ایک سکالر کی طرح نہیں، بلکہ ہمیشہ ایک فوجی یونیفارم میں نظر آتا تھا۔ 10 سال فوج میں گزارنے کے بعد، مجتبیٰ نے بالآخر ایک سکالر بننے کی تیاری شروع کی اور ایران کے بڑے بڑے سکالرز کا سٹوڈنٹ بن گیا۔

اسی دور میں امریکہ اور صدام حسین کی دشمنی شروع ہو گئی۔ امریکہ اور اسرائیل نے جھوٹے الزامات لگائے کہ عراق ایٹم بم بنا رہا ہے، اور اسی بہانے پورے عراق کو تباہ کر دیا۔ لاکھوں لوگ مارے گئے لیکن کوئی ایٹم بم نہیں ملا۔

عراق کے بعد انہوں نے ایران پر بھی یہی الزام لگانا شروع کر دیا۔ اس وقت ایران کے اندر ایک بہت بڑی بحث چھڑ گئی کہ کیا ہمیں ایٹم بم بنانا چاہیے یا نہیں؟ کچھ کا خیال تھا کہ ہم بنائیں یا نہ بنائیں، امریکہ ہم پر حملہ ضرور کرے گا، اس لیے ہمیں اپنی بقا کے لیے ایٹم بم بنانا چاہیے۔ لیکن سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے یہ بحث ختم کر دی اور فتویٰ دیا کہ ایٹم بم بنانا اسلام میں حرام ہے۔

لیکن اس فتوے سے ہر کوئی خوش نہیں تھا۔ کئی بڑے سکالرز، اور کہا جاتا ہے کہ خود ان کا بیٹا مجتبیٰ خامنہ ای بھی، یہ چاہتا تھا کہ ایران ایٹم بم بنائے۔ یہ وہ دور تھا جب مجتبیٰ دنیا کی نظروں سے بالکل غائب تھا۔ لیکن آج سے 20 سال پہلے، خفیہ تنظیم وکی لیکس نے کچھ دستاویزات جاری کیں۔ ان میں انکشاف ہوا کہ مجتبیٰ بھلے ہی میڈیا پر نظر نہیں آتا، لیکن وہ ایران کے سب سے طاقتور لوگوں میں سے ایک ہے۔ اسے فوج ایک انتہائی قابل اور طاقتور لیڈر مانتی ہے۔ ان دستاویزات میں 20 سال پہلے ہی لکھ دیا گیا تھا کہ آگے جا کر یہی مجتبیٰ پورے ایران کا سپریم لیڈر بنے گا، کیونکہ اس کا فوج اور انٹیلیجنس پر بے پناہ اثر و رسوخ ہے۔ وکی لیکس نے یہ بھی بتایا کہ مجتبیٰ کا ایران کے نیوکلیئر پروگرام یعنی ایٹم بم کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای۔

اسرائیل نے اعلان کر دیا کہ جو بھی نیا لیڈر بنے گا، ہم اسے بھی مار دیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکیاں دیں کہ اگر مجتبیٰ بنا تو امریکہ اس فیصلے کو نہیں مانے گا۔

لیکن مجتبیٰ،

یہیں سے امریکہ اور اسرائیل چوکنے ہو گئے اور مجتبیٰ پر کڑی نظر رکھنے لگے۔ امریکہ نے اس پر بھاری پابندیاں بھی لگا دیں۔

اب حال ہی میں جب اسرائیل نے بار بار ایران پر حملے کی دھمکیاں دیں اور امریکہ پر دباؤ ڈالا، تو ایران کے انٹیلیجنس چیف اور مشیروں نے واضح کر دیا کہ اگر ہمیں ایک کارنر ٹائیگر کی طرح دیوار سے لگایا گیا اور سارے راستے بند کیے گئے، تو ہم اپنا ایٹمی پروگرام دوبارہ شروع کر دیں گے۔

لیکن امریکہ اور اسرائیل باز نہیں آئے اور انہوں نے ایران پر حملہ کر دیا۔ اس حملے کے پہلے ہی دن، مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنا باپ کھو دیا۔ اس کی ماں، اس کی بیوی اور اس کا بیٹا بھی ان حملوں میں شہید ہو گئے۔ سوچیں صرف چند ہی دنوں میں اس کی فیملی کی تین نسلیں ختم کر دی گئیں۔

علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد، ایران کا کوئی سپریم لیڈر نہیں تھا۔ سڑکوں اور بازاروں میں عوام صرف ایک ہی نام پکار رہے تھے جو اس جنگ میں ایران کا جھنڈا اٹھا کر کھڑا ہو سکے
جو اپنی پوری فیملی کھو چکا تھا، اب پیچھے ہٹنے والا نہیں تھا۔ ایران کے 88 سکالرز نے امریکی دھمکیوں کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے بالآخر ووٹ دیا اور اعلان کر دیا کہ آج کے بعد ایران کا نیا سپریم لیڈر کوئی اور نہیں، بلکہ سید مجتبیٰ علی خامنہ ای ہوگا۔

ایک ایسا شخص جس نے اپنا بچپن میدانِ جنگ میں گزارا، جس کی جڑیں فوج اور انٹیلیجنس میں گہری ہیں، اور جس نے اپنا سب کچھ کھو دیا ہے... اب وہ ایران کی کمان سنبھال چکا ہے۔ آگے کیا ہوگا؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن ایک بات طے ہے کہ مشرق وسطیٰ کی بساط پر اب کھیل بہت خطرناک ہونے والا ہے۔

اسٹرائیکر راجپوت

17/03/2026

I got over 250 reactions on my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

17/03/2026

اللہ نے نئی زندگی دی بندے کو ۔۔

Photos from MB Urdu Quiz 's post 16/03/2026

🚨 ٹرمپ کا بچھایا گیا سب سے خطرناک جال: چین کو ہرمز میں جنگی جہاز بھیجنے کی دعوت اور کرنسی کی آخری جنگ! 🚢🇺🇸🇨🇳
دوستو! ڈونلڈ ٹرمپ نے کل اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم (Truth Social) پر ایک ایسی پوسٹ کی ہے جو اس پوری جنگ کا سب سے گہرا اور سٹریٹجک جملہ ہے۔

ٹرمپ نے لکھا:
"امید ہے کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر ممالک جو اس مصنوعی رکاوٹ سے متاثر ہیں، وہ اس علاقے میں اپنے جنگی جہاز بھیجیں گے تاکہ آبنائے ہرمز اس ملک کے لیے مزید خطرہ نہ بنے جس کا سر مکمل طور پر قلم کیا جا چکا ہے۔"

بظاہر یہ ایک عالمی اتحاد کی دعوت لگتی ہے، لیکن درحقیقت یہ چین کے لیے بچھایا گیا ایک مہلک جال ہے! آئیے اس کا ڈیپ انالیسس کرتے ہیں:

🪤 چین کی موت کا کنواں:
مکار ٹرمپ نے چین کو اسی سمندری راستے کی حفاظت کے لیے بلایا ہے جسے چین امریکی ڈالر کو ختم کرنے (Yuan سے بدلنے) کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ اب بیجنگ کے پاس دو ہی راستے ہیں، اور دونوں بظاھر اس کے خلاف جاتے ہیں:

1. اگر چین جنگی جہاز بھیجتا ہے:
تو وہ عملی طور پر امریکی قیادت والے اتحاد کو تسلیم کر لے گا اور اپنی نیوی کو امریکی کمانڈ کے ماتحت کر دے گا۔ اس سے ایران کے ساتھ اس کی سفارتی غیر جانبداری ختم ہو جائے گی، اور وہ "صرف یوآن (Yuan)" والی وہ شاندار آفر اور سستا تیل کھو دے گا جو اس وقت صرف چین کے 'شیڈو فلیٹ' کو مل رہا ہے۔

2. اگر چین انکار کرتا ہے:
تو وہ پوری دنیا کے سامنے ولن (Free-rider) بن جائے گا۔ ٹرمپ مکار دنیا کو دکھائے گا کہ جب پوری دنیا 96 ڈالر فی بیرل کا مہنگا تیل خرید رہی ہے اور عالمی معیشت جل رہی ہے، تو دیکھو چین خود غرضی سے صرف اپنا سستا تیل نکال رہا ہے اور عالمی سلامتی میں کوئی حصہ نہیں ڈال رہا۔ اس بیانیے سے مردود امریکہ کو ڈالر کی بالادستی کا اگلا باب لکھنے کا جواز مل جائے گا۔

🤫 ٹرمپ کا وہ اعتراف جو کوئی بریفنگ نہیں بتاتی!
اسی پوسٹ میں ٹرمپ نے ایک ایسا سچ بھی بول دیا جو امریکی ملٹری بریفنگز چھپا رہی تھیں۔ اس نے لکھا:
"ہم ایران کی 100 فیصد فوجی صلاحیت تباہ کر چکے ہیں، لیکن ان کے لیے اس سمندری راستے میں ایک دو ڈرونز، بارودی سرنگ یا قریبی فاصلے کا میزائل فائر کرنا بہت آسان ہے، چاہے وہ کتنی ہی بری طرح ہار چکے ہوں۔"

امریکی صدر نے باضابطہ تسلیم کر لیا ہے کہ "مکمل فوجی فتح کا مطلب سمندری راستے کی مکمل سیکیورٹی نہیں ہے!"
ٹرمپ مکار جتلانا چاہتا ہے کہ ایران کی روایتی فوج تباہ ہو چکی ہے، چہ جائیکہ ان کی 33 کلومیٹر لمبی ساحلی پٹی تباہ نہیں ہوئی۔ ایک ہارا ہوا ملک بھی 500 ڈالر کی مائنز اور 20,000 ڈالر کے ڈرونز سے دنیا کے سب سے اہم چوک پوائنٹ کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر سکتا ہے، کیونکہ راستہ روکنے والے ہتھیار راستہ کھولنے والے ہتھیاروں سے ہزار گنا سستے ہیں!

🗳️ جنگی جہاز نہیں، یہ ایک "ووٹ" ہے!
یہ عالمی اتحاد بنانے کی کال ایران کے خلاف نہیں ہے (بقول صہیونیوں کہ ایران کی فوج تو وہ خود تباہ کر چکے ہیں)۔ یہ کال اس "نئی دنیا" کے لیے ہے جو ایران کے بعد بنے گی۔

● اگر امریکہ اکیلا جہازوں کو سیکیورٹی دے کر راستہ کھولتا ہے، تو ہرمز پر امریکی کنٹرول اور 'ڈالر' کی بالادستی برقرار رہے گی۔

● اگر بین الاقوامی اتحاد راستہ کھولتا ہے، تو ایران کی 'صرف یوآن' والی آفر اپنی موت آپ مر جائے گی۔

● اگر کوئی سیکیورٹی نہیں دیتا اور ہرمز مغرب کے لیے بند رہتا ہے، تو صرف چین کا شیڈو فلیٹ وہاں سے گزرے گا اور 'یوآن' جیت جائے گا۔

ٹرمپ مکار دنیا سے مدد نہیں مانگ رہا... وہ دنیا کے ہر ملک سے یہ پوچھ رہا ہے کہ جنگ کے بعد وہ ہرمز کو کس "مالیاتی نظام" کے تحت چلتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

یہ جنگی جہاز دراصل ایک "بیلٹ پیپر" (Ballot) ہیں۔ آبنائے ہرمز ایک "پولنگ سٹیشن" ہے۔ اور دنیا کی کرنسی اس کا "ووٹ" ہے!

کیا آپ کو لگتا ہے کہ چین اس جال میں پھنس کر اپنے جنگی جہاز امریکہ کے ساتھ کھڑے کرے گا، یا پھر خاموشی سے اس آفر کو ٹھکرا کر دنیا کے سامنے ولن بننا قبول کر لے گا؟ 👇

Photos from MB Urdu Quiz 's post 15/03/2026

وہ تار جس پر دنیا لٹکی ہے
آج سے چند سال پہلے اگر کوئی کہتا کہ ایران سمندر کی تہہ میں بچھی کچھ تاروں کو کاٹ کر پوری دنیا کی معیشت ہلا سکتا ہے تو شاید لوگ اسے سازشی نظریہ کہتے لیکن آج یہ سازشی نظریہ نہیں بلکہ یہ تاریں دنیا کے لیے یہ زندہ خطرہ ہیں دنیا کا 97 فیصد انٹرنیٹ اور روزانہ 10 کھرب ڈالر کے مالی لین دین سمندروں کی تہہ میں بچھی فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے ہوتے ہیں سیٹلائٹ انٹرنیٹ ابھی اس بوجھ کا ایک فیصد بھی نہیں اٹھا سکتا یعنی Elon Musk کا Starlink OneWeb، اور باقی سب مل کر بھی اس خلا کو پُر نہیں کر سکتے دنیا چاہے کتنی بھی وائرلیس ہونے کا دعویٰ کرے اس کی اصل رگیں سمندر کی تہہ میں دھنسی ہوئی ہیں جغرافیہ پڑھنے والے جانتے ہیں کہ دنیا کے کچھ مقامات ایسے ہیں جہاں سے گزرے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ آبنائے ہرمز اور بحرہ احمر یہ دو ایسی ہی جگہیں ہیں۔جہاں سے تیل کی ترسیل کا بڑا حصہ سے گزرتا ہے یہ تو دنیا کو پہلے سے معلوم تھا مگر جو بات کم لوگ جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ یورپ، ایشیا، افریقہ اور مشرق وسطیٰ کو جوڑنے والی 17 سے زائد انٹرنیٹ کیبلز بھی انہی پانیوں سے گزرتی ہیں۔ یعنی ایک ہی مقام پر تیل کی رگ بھی ہے اور ڈیجیٹل دنیا کی رگ بھی۔اگر یہ کیبلز کٹ جاہیں تو کویت، قطر، بحرین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور عراق کا انٹرنیٹ عملاً بند۔ یہ وہ ممالک ہیں جن کی پوری حکومتی اور تجارتی مشینری آج ڈیجیٹل ہے۔ دبئی جو آج عالمی بینکنگ کا ایک بڑا مرکز ہے کے مالیاتی نظام میں فالج۔ SWIFT لین دین، بین الاقوامی ترسیلات، اسٹاک ایکسچینج، ہر چیز بلکل زیرو دوسری طرف جنوبی ایشیا یعنی پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش کا انٹرنیٹ بری طرح سست یا جزوی طور پر بند بھی ہو سکتا ہے اور افریقہ اور یورپ کے درمیان ڈیٹا ٹریفک متاثر ہو سکتی ہے عالمی سطح پر ای کامرس، کلاؤڈ سروسز، بینکنگ API سب ہچکیاں لینے لگیں گے
آئی ٹی برآمدات، فری لانسنگ، بینکنگ، موبائل والٹس سب انہی کیبلز پر منحصر ہیں جو بحرہ احمر اور خلیج فارس سے گزرتی ہیں اب دنیا کو یہ سوچنا چاہیے کہ جب کوئی ریاست اس یقین پر پہنچ جائے کہ اسے بہرحال تباہ کیا جانا ہے تو وہ عقلمندی کے حسابات چھوڑ دیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ گھرے ہوئے فریق نے ہمیشہ وہ کیا جو ناقابلِ یقین سمجھا جاتا تھا اگر ایران کو لگا کہ میں کمزور ہو رہا ہوں تو ایران ساری دنیا کا گلا گھونٹ دے گا اور دنیا پھتر کے دور میں واپس چلی جاۓ گی ایک بات اور بھی ہے دنیا نے سوچا تھا کہ باہمی انحصار جنگ کو روکتا ہے گلوبلائزیشن امن کی ضمانت ہے مگر آج یہی باہمی انحصار آج سب سے بڑا ہتھیار بن گیا ہے۔جب تار ایک ہو اور قینچی کسی اور کے ہاتھ میں تو طاقت کا توازن بدل جاتا ہے
مطلب ایران دنیا کا گلا دبا سکتا ہے🚩✊
سردار خیام کشمیری


11/03/2026

دنیا میں پانچ ممالک ایسے ہیں جو اپنی میزائل ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا کے کسی بھی ملک کو اپنی جگہ پہ بیٹھے نشانہ بنا سکتے ہیں ، یعنی ان ممالک کے میزائل کی رینج اتنی زیادہ ہے کہ دنیا کے کسی خطے میں وہ میزائل اٹیک کرسکتے ہیں .

(1) امریکہ
(2) چین
(3) روس
(4) فرانس
(5) برطانیہ

ان کے بعد نارتھ کوریا کا نمبر آتا ہے ، صرف چند ممالک کے سوا نارتھ کوریا کسی بھی ملک کو میزائل سے نشانہ بنا سکتا ہے ،، ان کے علاؤہ بقیہ جتنے بھی ممالک ہیں ان کی رینج محدود ہے۔۔۔۔۔

10/03/2026

آبنائے ہرمز: دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہ
آبنائے ہرمز دنیا کی ایک انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے جو ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے۔ یہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ دنیا کے کئی بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کا تیل اسی راستے کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔
ماہرین کے مطابق دنیا کے تقریباً %20 تیل اور بڑی مقدار میں مائع قدرتی گیس اسی آبنائے سے گزر کر مختلف ممالک تک پہنچتی ہے۔ سعودی عرب، عراق، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے خلیجی ممالک اپنی زیادہ تر توانائی کی برآمدات اسی راستے سے کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز کو عالمی معیشت کی "شہ رگ" بھی کہا جاتا ہے۔
ان دنوں مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اس خطے کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ اگر اس کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے یا آبنائے ہرمز میں رکاوٹ برقرار رہتی ہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اچانک مزید اضافہ، عالمی تجارت میں رکاوٹ اور توانائی کے بحران جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
اسی لیے عالمی طاقتیں اس سمندری راستے کو ہر صورت کھلا رکھنے کی کوشش کرتی ہیں، کیونکہ اس کا براہِ راست تعلق دنیا کی توانائی کی فراہمی اور عالمی معاشی استحکام سے ہے۔
مختصر یہ کہ آبنائے ہرمز صرف ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور توانائی کی سپلائی کا ایک انتہائی حساس اور اہم مرکز ہے۔
゚viralシviralシfypシ゚viralシalシ



06/03/2026

یہ تو بٹن بھی ہاتھ لیکر گھوم رہا ہے
لیکن غلطی سے کوئ میزائل بھی اس کی طرف نہیں جارہا"🥱

06/03/2026

برطانوی خاتون کا ایران کیلئے پیغام!!

چلو ایران انھیں مارتے رہو ، اگر تمہارے پاس مزائیلوں کیلئے ناکافی رقم ہے ٹو تھوڑا حصہ میں بھی ڈالتی ہوں، میرے پاس جو کچھ ہے وہ مدد میں دینے کیلئے تیار ہوں، انھیں ہموار کردو جیسے انھوں نے فلسطین کو ہموار کیا،

04/03/2026

روسی میڈیا نے بنکروں میں چھپے بزدل یہودیوں کی ویڈیوز جاری کر دی

04/03/2026

پاکستان نے NOTAM جاری کر دیا

پاکستانی فضائیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھارت کی فضائی سرگرمیوں کے جواب میں بڑے پیمانے پر ایک مشق کرے گی۔

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address

Islamabad
47040