17/03/2026
ایران کا نیا سپریم لیڈر۔۔ ایک جنگجو جس نے خاموشی سے پوری دنیا کو ہلا دیا
ایک ایسا شخص جسے پچھلے کئی سالوں سے نہ کبھی کسی نے دیکھا ہو اور نہ ہی اس کی آواز سنی ہو۔ ایک ایسا پراسرار چہرہ جو میڈیا کی نظروں سے بالکل غائب ہو، لیکن جیسے ہی اس کا نام ملک کے سب سے بڑے عہدے، یعنی سپریم لیڈر کے لیے سامنے آتا ہے، تو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس نام کو سنتے ہی فوراً حواس کھودیتے ہیں۔
آخر یہ شخص ہے کون؟
عام لوگ تو شاید اس مجتبیٰ کو نہیں جانتے، لیکن امریکہ کی سی آئی اے اور اسرائیل کی موساد کو اچھی طرح پتہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای آخر بلا کیا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ اس سے پہلے مجتبیٰ کا باپ، علی خامنہ ای، ایک بہت ہی سادہ اور نرم مزاج انسان تھا، لیکن یہ نیا سپریم لیڈر اپنے باپ کے بالکل الٹ ہے۔ یہ بچپن سے ہی ایران کی فوج میں ایک سپاہی کی طرح لڑتا رہا ہے۔ آج ایران کی پوری فوج اسی کو اپنا اصل لیڈر مانتی ہے۔ تاریخ میں پہلی بار ایران میں ایک ایسا سپریم لیڈر آیا ہے جو ایک عالم اور سکالر سے زیادہ ایک جنگجوہے۔
کہانی شروع ہوتی ہے آج سے لگ بھگ 50 سال پہلے۔ ایران میں ایک انتہائی کرپٹ بادشاہ رضا شاہ کا راج تھا۔ اسی کرپٹ نظام کو چیلنج کرنے کے لیے ایک نیا لیڈر ابھرا نام ہےآیت اللہ خمینی۔ خمینی کی طاقت اتنی بڑھی کہ بادشاہ کو مجبوراً ایران چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے بھاگنا پڑا، اور خمینی ایران کے پہلے سپریم لیڈر بن گئے۔ لیکن جیسے ہی وہ مسندِ اقتدار پر بیٹھے، دنیا کی کوئی بھی سپر پاور انہیں پسند نہیں کرتی تھی۔ کیونکہ وہ باقی روایتی لیڈروں کی طرح امریکہ کے جوتے پالش کرنے کے بجائے، سیدھا امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے دھمکیاں دیا کرتے تھے۔
امریکہ اور اسرائیل پہلے دن سے خمینی سے جان چھڑانا چاہتے تھے۔ انہیں یہ موقع پڑوسی ملک عراق کے نئے لیڈر صدام حسین کی شکل میں مل گیا۔ صدام حسین نے سپر پاورز کی شہ پر ایران پر حملہ کر دیا اور یوں مسلمانوں کی آپس میں ایک خوفناک جنگ شروع ہو گئی۔
جیسے ہی جنگ شروع ہوئی، اچانک ایران کے اس وقت کے صدر کو ایک دھماکے میں مار دیا گیا، جس کے بعد علی خامنہ ای نئے صدر بنے۔ جب علی خامنہ ای جنگ کی قیادت میں مصروف تھے، ان کے گھر میں ان کا 12 سال کا بیٹا مجتبیٰ بالکل عام بچوں کی طرح سکول جایا کرتا تھا۔ مجتبیٰ نے اپنا سارا بچپن اس ہولناک جنگ کے سائے میں گزارا۔
جیسے ہی مجتبیٰ کی عمر 17 سال ہوئی، وہ بھی ایک عام سپاہی کی طرح ایران کی فوج میں شامل ہو گیا اور محاذ پر چلا گیا۔ وہ صدرِ ایران کا بیٹا تھا، لیکن کہا جاتا ہے کہ تب بھی وہ بالکل ایک عام سپاہی کی طرح فرنٹ لائنز پر جا کر لڑا کرتا تھا۔ وہ اپنی بٹالین کے ساتھ عراق کے اندر گھسا اور عراق کے پہاڑوں پر ایران کا جھنڈا لہرایا۔
8 سال بعد جب یہ جنگ ختم ہوئی تو اس کے ٹھیک ایک سال بعد آیت اللہ خمینی اس دنیا سے چلے گئے۔ اب سوال تھا کہ نیا سپریم لیڈر کون ہوگا؟ ایران کے 86 سب سے بڑے سکالرز جمع ہوئے اور ان میں سے 70 فیصد کی بھاری اکثریت نے علی خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر چن لیا۔
مجتبیٰ اب صرف صدر کا نہیں، بلکہ سپریم لیڈر کا بیٹا تھا۔ لیکن حیرت انگیز طور پر، وہ اپنے باپ کے ساتھ محلات میں رہنے کے بجائے اگلے 10 سال تک ایران کی فوج کے ساتھ ہی رہا۔ فوج اور مجتبیٰ کے درمیان ایک بہت گہرا تعلق بن گیا۔ وہ ایک سکالر کی طرح نہیں، بلکہ ہمیشہ ایک فوجی یونیفارم میں نظر آتا تھا۔ 10 سال فوج میں گزارنے کے بعد، مجتبیٰ نے بالآخر ایک سکالر بننے کی تیاری شروع کی اور ایران کے بڑے بڑے سکالرز کا سٹوڈنٹ بن گیا۔
اسی دور میں امریکہ اور صدام حسین کی دشمنی شروع ہو گئی۔ امریکہ اور اسرائیل نے جھوٹے الزامات لگائے کہ عراق ایٹم بم بنا رہا ہے، اور اسی بہانے پورے عراق کو تباہ کر دیا۔ لاکھوں لوگ مارے گئے لیکن کوئی ایٹم بم نہیں ملا۔
عراق کے بعد انہوں نے ایران پر بھی یہی الزام لگانا شروع کر دیا۔ اس وقت ایران کے اندر ایک بہت بڑی بحث چھڑ گئی کہ کیا ہمیں ایٹم بم بنانا چاہیے یا نہیں؟ کچھ کا خیال تھا کہ ہم بنائیں یا نہ بنائیں، امریکہ ہم پر حملہ ضرور کرے گا، اس لیے ہمیں اپنی بقا کے لیے ایٹم بم بنانا چاہیے۔ لیکن سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے یہ بحث ختم کر دی اور فتویٰ دیا کہ ایٹم بم بنانا اسلام میں حرام ہے۔
لیکن اس فتوے سے ہر کوئی خوش نہیں تھا۔ کئی بڑے سکالرز، اور کہا جاتا ہے کہ خود ان کا بیٹا مجتبیٰ خامنہ ای بھی، یہ چاہتا تھا کہ ایران ایٹم بم بنائے۔ یہ وہ دور تھا جب مجتبیٰ دنیا کی نظروں سے بالکل غائب تھا۔ لیکن آج سے 20 سال پہلے، خفیہ تنظیم وکی لیکس نے کچھ دستاویزات جاری کیں۔ ان میں انکشاف ہوا کہ مجتبیٰ بھلے ہی میڈیا پر نظر نہیں آتا، لیکن وہ ایران کے سب سے طاقتور لوگوں میں سے ایک ہے۔ اسے فوج ایک انتہائی قابل اور طاقتور لیڈر مانتی ہے۔ ان دستاویزات میں 20 سال پہلے ہی لکھ دیا گیا تھا کہ آگے جا کر یہی مجتبیٰ پورے ایران کا سپریم لیڈر بنے گا، کیونکہ اس کا فوج اور انٹیلیجنس پر بے پناہ اثر و رسوخ ہے۔ وکی لیکس نے یہ بھی بتایا کہ مجتبیٰ کا ایران کے نیوکلیئر پروگرام یعنی ایٹم بم کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای۔
اسرائیل نے اعلان کر دیا کہ جو بھی نیا لیڈر بنے گا، ہم اسے بھی مار دیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکیاں دیں کہ اگر مجتبیٰ بنا تو امریکہ اس فیصلے کو نہیں مانے گا۔
لیکن مجتبیٰ،
یہیں سے امریکہ اور اسرائیل چوکنے ہو گئے اور مجتبیٰ پر کڑی نظر رکھنے لگے۔ امریکہ نے اس پر بھاری پابندیاں بھی لگا دیں۔
اب حال ہی میں جب اسرائیل نے بار بار ایران پر حملے کی دھمکیاں دیں اور امریکہ پر دباؤ ڈالا، تو ایران کے انٹیلیجنس چیف اور مشیروں نے واضح کر دیا کہ اگر ہمیں ایک کارنر ٹائیگر کی طرح دیوار سے لگایا گیا اور سارے راستے بند کیے گئے، تو ہم اپنا ایٹمی پروگرام دوبارہ شروع کر دیں گے۔
لیکن امریکہ اور اسرائیل باز نہیں آئے اور انہوں نے ایران پر حملہ کر دیا۔ اس حملے کے پہلے ہی دن، مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنا باپ کھو دیا۔ اس کی ماں، اس کی بیوی اور اس کا بیٹا بھی ان حملوں میں شہید ہو گئے۔ سوچیں صرف چند ہی دنوں میں اس کی فیملی کی تین نسلیں ختم کر دی گئیں۔
علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد، ایران کا کوئی سپریم لیڈر نہیں تھا۔ سڑکوں اور بازاروں میں عوام صرف ایک ہی نام پکار رہے تھے جو اس جنگ میں ایران کا جھنڈا اٹھا کر کھڑا ہو سکے
جو اپنی پوری فیملی کھو چکا تھا، اب پیچھے ہٹنے والا نہیں تھا۔ ایران کے 88 سکالرز نے امریکی دھمکیوں کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے بالآخر ووٹ دیا اور اعلان کر دیا کہ آج کے بعد ایران کا نیا سپریم لیڈر کوئی اور نہیں، بلکہ سید مجتبیٰ علی خامنہ ای ہوگا۔
ایک ایسا شخص جس نے اپنا بچپن میدانِ جنگ میں گزارا، جس کی جڑیں فوج اور انٹیلیجنس میں گہری ہیں، اور جس نے اپنا سب کچھ کھو دیا ہے... اب وہ ایران کی کمان سنبھال چکا ہے۔ آگے کیا ہوگا؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن ایک بات طے ہے کہ مشرق وسطیٰ کی بساط پر اب کھیل بہت خطرناک ہونے والا ہے۔
اسٹرائیکر راجپوت