Mishal Malik

Mishal Malik

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Mishal Malik, College & University, Islamabad.

30/07/2026

ایک مرتبہ ملِکہ ترنم نور جہاں نے
فیض احمد فیض سے کہا، کہ آپ نے مجھے جو تحفہ
(مجھ سے پہلی محبت کی صورت میں) دیا ہے
اِس کے بدلے میں آپ مُجھ سے جو بھی چاہیں مانگ
سکتے ہیں۔
فیض احمد فیض نے جواب دیا کہ میں آپ سے
کیا مانگ سکتا ہوں؟ سوائے اِس کے کہ جو ایک مرد
ایک خوبرو عورت سے مانگ سکتا ہے۔
میڈم نے کہا کہ فیض صاحب آپ نے مجھ سے
بہت بڑی چیز مانگ لی ہے
فیض صاحب بولے کہ اگر وہ واقعی اتنی بڑی ہے
تو رہنے ہی دیں

06/07/2026

اولاد کو اکیلے میں مارلو، لیکن دنیا کے سامنے غلط الفاظ میں مت مخاطب کرو۔
کیونکہ بچے کا مان تم سے ہے، اور تمہارا مان بچے سے۔
محفل میں ڈانٹ اس کی خودی توڑ دیتی ہے۔
تنہائی کی نصیحت تربیت ہے، اور سب کے سامنے ذلت صرف بغاوت ہے۔
ماں باپ کا لہجہ ہی بچے کا حوصلہ ہوتا ہے، اسے لوگوں کے سامنے مت گراؤ۔
تمہاری گود اس کی پہلی پناہ گاہ ہے، اسے تماشہ مت بناؤ۔



02/07/2026

بیوی کو میکے بھیجیں...!

ہمارے اک جگری یار کا بہنوئی تھا، خواجہ کہہ لیتے ہیں۔ خواجہ ساب ہم سے کچھ سال بڑے تھے مگر یار باش آدمی تھے۔ باجی کی شادی کے بعد وہ ہفتے میں دو تین بار باجی کو انکے والدین کے گھر لے کر آتے تو ہم گپ شپ مارتے۔ ہولے ہولے ان سے بہت دوستی ہو گئی۔

نوے کی دہائی میں ابھی اک تو سوشل میڈیا نہیں تھا تو شامیں کیا راتیں بھی دوستوں سے مل کر گزرتی تھیں نا کہ صوفے پہ لیتے فیس بک پہ لائک دبا کر۔ دوسرا ابھی “انڈرسٹینڈنگ “ کہنے کا اتنا رواج نہیں ہوا تھا اور بندہ رن مرید ہی کہلاتا تھا۔ اچھا اک تو ہماری وہ باجی ڈاھڈی تھی اور دوسرا خواجہ بھائی زیادہ پڑھے لکھے، تو جب فرینکنس بڑھ گئی بلکہ دوستی ہو گئی تو ہم چھیڑ چھاڑ بھی کر لیتے تھے۔

اک دن کہنے لگے یار آج دال چاول کھائے ہیں پر مزہ نہیں آیا۔ میں نے انکو چھیڑتے ہوے کہا کہ خواجہ بھائی یہ آپ ہر دوسرے دن باجی کو لے کر میکے آ جاتے ہیں کھانا کھانے، جوائیاں نو سورے اینا نہی انا چاہی دا، آپکو اب دال چاول ای ملا کرنے ہیں۔

خواجہ نے سگریٹ کا لمبا کش کھینچا اور پھر کہنے لگے یار تینو اک گل دساں، ہماری ایک ہی بہن ہے۔ باپ کی اتنی لاڈلی تھی کہ باپ اسکو ساتھ بٹھائے بنا روٹی نہیں کھاتا تھا۔ اسکی شادی ہوئی تو اسکے سسرال والے بہت سخت تھے۔ مہینے دو مہینے بعد اسکو ماں باپ کے گھر آنے کی اجازت دیتے تھے۔ میں نے جیسے اپنے باپ کو تڑپتے اور آنسووں سے روتے دیکھا ہے میں بتا نہیں سکتا۔ وہ آخری دنوں میں بھی ہمارے ترلے کیا کرتا تھا کہ جاو اپنی بہن کو ہی لے آؤ ،کچھ گھنٹوں کو ہی۔ ہم بھائی جاتے تھے، کئی دیر بیٹھ کر کبھی اسکا شوہر اجازت دے دیتا تھا اور کبھی نہیں دیتا تھا اور ہم جب اکیلے واپس آتے تو باپ صافہ منہ پہ رکھ کر ہچکیاں لے کر روتا تھا۔ تو رانا جی، میری بیوی نہیں کہتی، میں روز اس سے کہتا ہوں تم کو تمھاری امی سے ملوا لاؤں؟

دوستو گو زمانہ کافی بدل چکا ہے، شہروں کا کلچر تو کافی بدلا ہے۔ لیکن اگر آپ کسی کی بیٹی لے ہی آئے ہیں تو یاد رکھئیے کسی کے جگر کا ٹکڑا کاٹ کر لائے ہیں۔ آپکی “حاکمیت” یا “شوہریت” کی بنیاد بیوی کو اس کے میکے سے کاٹنے پر منحصر نہیں ہونی چاہیے۔ کوشش کیجئیے آپکی بیوی کو خود نا کہنا پڑے، اسے بار بار پوچھتے رہیے کہ اگر وہ اپنے ماں باپ کو مس کر رہی ہے تو آپ اسے اسکے گھر والوں سے ملا لائیں یا بھیج دیں۔ شادی میں باہمی محبت کا یہ پہلا زینہ ہے۔ اور پھر یاد رکھئیے کہ کل آپ کی بیٹی نے بھی تو سسرال جانا ہے، اور یہ تڑپ بہت ظالم ہوتی ہے۔

کاپیڈ

22/06/2026

‏لاہور سے دبئی تک لڑکیوں کی سپ لائئ کا مکروہ دھندا

یہ کوئی فلمی کہانی نہیں۔ یہ ان لڑکیوں کی کہانی ہے جو روزانہ ہمارے گردوپیش سے غائب ہوتی ہیں اور ہم جانتے بھی نہیں۔

سابق سی آئی آفیسر ظہیرالدین بابر اعوان نے جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والا ہے۔

وہ ماں جس نے اپنی بیٹی بیچی

پانچ بچوں کی پرورش کے لیے چھٹی بچی کو ایک برادل ہاؤس کے حوالے کر دیا۔ ایڈوانس پیسے لیے اور بیٹی سے کہا کہ یہ تیری ذمہ داری ہے۔ اس بیٹی کی اجرت سے اس کے نام نہاد شوہر کو موٹرسائیکل ملی سونے کی زنجیر ملی اور ماں نے باقی بچوں کا گھر چلایا۔ چند ہزار روپے ماہانہ میں ایک زندگی خرید لی گئی۔

ظہیر بابر اعوان جب ایک برادل ہاؤس پر چھاپہ مارنے گئے تو ایک بائیس سالہ لڑکی نے انہیں پکڑ کر کہا کہ مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جاؤ۔ اس کا بخار 104 ڈگری تھا۔ وہ اسی حال میں وہاں کام پر لگی ہوئی تھی۔ اعوان صاحب نے اپنے ضمیر کی بات مانی اور اسے سرکاری ہسپتال بھجوایا۔ قانوناً یہ غلط تھا لیکن انسانیت کے اعتبار سے یہ واحد درست کام تھا۔

لاہور سے دبئی تک ۔ ایک سپلائی چین

پہلے ہیرا منڈی تھی پھر گھروں میں شفٹ ہوئی پھر گیسٹ ہاؤسز بنے اور پھر آیا دبئی کا لالچ۔

لڑکی کو کہا جاتا تھا کہ دبئی میں بیوٹی پارلر کا کام ہے یا کسی دکان میں ملازمت ہے۔ وہاں پہنچتے ہی پاسپورٹ اور ویزہ کلب اونر کے پاس چلا جاتا۔ اب نہ واپسی ممکن تھی نہ مزاحمت۔

یہاں سے گئی بیوٹی پارلر کی لڑکی وہاں پہنچ کر اسٹیج پر ناچ رہی تھی۔

پروموٹر یہاں پاکستان میں بیٹھے ہوتے تھے۔ کلب اونر وہاں دبئی میں۔ لڑکی کو سات لاکھ میں خریدا جاتا اور اس کی کمائی کا صرف چوتھا حصہ اسے ملتا باقی سب اوپر چلا جاتا۔

اور جب دبئی کا معاملہ سخت ہوا تو یہ سلسلہ تھائی لینڈ منتقل ہو گیا۔

لاہور کی 200 پارٹیاں وہ بھی روزانہ

پانچ سال پہلے تک لاہور میں روزانہ دو سو سے زیادہ ایسی پارٹیاں ہوتی تھیں جن میں ناچ گانا نشہ اور خواتین سب کچھ موجود ہوتا تھا۔ کچھ میں سات آٹھ لوگ کچھ میں سو سو افراد۔ دبئی کا سارا کاروبار لاہور منتقل ہونے لگا تھا۔ پھر پولیس نے کریک ڈاؤن کیا اور وہ طوفان روک لیا گیا۔

نشہ ۔ آخری زنجیر

جب لڑکی پھنس جاتی تو اسے پہلے شراب کی عادت ڈالی جاتی پھر چرس پھر مہنگا نشہ جسے آج آئس کہتے ہیں۔ جب یہ نشے کی عادی ہو جاتی تو نہ نکلنا ممکن رہتا نہ انکار۔ پھر یہی لڑکی سمگلروں کے ہاتھ میں چلی جاتی اور پھر واپسی کا کوئی راستہ نہیں بچتا۔

اعوان صاحب کہتے ہیں کہ لیڈی ولنگٹن ہسپتال جاؤ۔ وہاں سینکڑوں خواتین ایسی ملیں گی جن کے جسم ان کی بے بسی کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان کی بیماریاں قابل علاج تھیں لیکن علاج کرانے گئیں تو راز کھل جاتا ہے ۔

یہ کہانی ختم نہیں ہوئی۔ بس شہر بدلے ہیں نام بدلے ہیں لیکن سلسلہ آج بھی جاری ہے۔۔۔۔
ایسے واقعات شئیر کرنے کا مقصد یہی ہے کہ اپنی پیاروں کو بچا لیں ۔۔۔

22/06/2026

افسوسناک مگر ناقابل یقین سچی کہانی:
ایک لڑکی کو شیخوپورہ پولیس کی ایک سپیشل ٹیم نے سندھ جاکر ایک کوٹھے سے بازیاب کروایا تھا ، کہانی کا پس منظر یہ ہے کہ 2023 میں یہ حسین و جمیل لڑکی ایک خوبرو نوجوان کی محبت میں گرفتار ہو گئی لڑکی کو لگتا کہ جو سانسیں یہ لیتی ہے وہ بھی اسکے محبوب کی امانت ہیں چنانچہ ایک روز اپنے محبوب کے کہنے پر یہ اسکے ساتھ لاہور چلی گئی ، لڑکی نے نجانے کیا سوچ کر ماں باپ کی دہلیز کو عبور کیا ہو گا مگر لڑکا اسے لاہور تو لے گیا لیکن چند دن استعمال کرنے کے بعد داتا دربار کے قریب لڑکی کو ایک مرد عورت کے سپرد کردیا کہ انکے ساتھ چلی جاو ایک دو دن میں تمہارے پاس پہنچ جاؤنگا پھر ساری زندگی ایک ساتھ گزاریں گے ، لڑکی اس مرد عورت کے ساتھ لاہور سے چلی تو یہ سندھ کے ایک شہر آن رکے وہاں اگلے ہی دن لڑکی کو تیار ہونے کا کہا گیا اوراسکی بچی کھچی عزت پھر ہر روز فروخت ہونے لگی اسے کمائی کا ذریعہ بنا دیا گیا ۔ چند دن کے اندر ہی لڑکی عشق محبت بھول کر کھلونا بن کررہ گئی ۔ پھر یہ ایک سال تک ہر روز کئی بار لٹی اس ایک سال میں اسکے مالک بدلتے رہے ہر تین ماہ بعد اسکا سودا کردیا جاتا وہ سندھ کے مختلف شہرون میں لٹتی رہی آخر کار غریب والدین کی شکایت پر پولیس نے جو مشن شروع کررکھا تھا وہ پورا ہوا اور لڑکی کو مختلف طریقوں سے سراغ لگا کر ایک کوٹھے سے بازیاب کروا لیا گیا ۔۔۔۔ یہ وہ کہانی ہے جو اس لڑکی کی زبانی پولیس اور میڈیا کو پتہ چلی مگر اپنے انٹرویو میں لڑکی نے کچھ باتیں ایسی بتائیں جن سے لگتا ہے معاملہ کچھ اور تھا ۔۔مثلا لڑکی نے بتایا کہ جس عورت نے اسے خریدا تھا اسکے پاس ایک ہزار لڑکیاں تھیں یہ ایک ہزار لڑکیاں چھوٹے سے مکان کے دو کمروں میں رہتی تھیں ۔ اس لڑکی سمیت سب لڑکیوں کو بہت کم کھانا ملتا اور پینے کا پانی بھی دن میں صرف ایک یا دوبار دیا جاتا تھا ، کھانے اور پانی کی بات تو مانی جا سکتی ہے لیکن دو کمروں میں ایک ہزار لڑکیوں کی موجودگی کا دعویٰ ظاہر کرتا ہے کہ بات اتنی تھی نہیں جو گھڑ کر بیان کی جارہی ہے ۔۔۔یہ لڑکی ایک مثال ہے ایک نشان عبرت ہے ان لڑکیوں کے لیے جو چند دن کی شناسائی کو والدین کی برسوں کی شفقت محبت پر ترجیح دے کر گھر سے نکل پڑتی ہیں اور اپنا سب کچھ لٹا کر کہیں کی بھی نہیں رہتیں ۔ ایسی لڑکیاں اول تو دردناک انجام سے دوچار ہوتی ہیں اور اگر کسی طرح گھر واپس پہنچ بھی جائیں تو انکی باقی ماندہ زندگی بے اعتباری اور شک بھری نظروں کا سامنا کرتے گزرجاتی ہے ۔۔۔۔

20/06/2026

Waiting for Marriage

20/06/2026
26/05/2026

بہترین ہیں وہ لوگ جن پر زندگی تو سخت ہوئی لیکن وہ کسی پر سخت نہیں ہوئے۔۔۔🌻

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Islamabad

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00