19/05/2026
حلقہ ایل اے-4 کھڑی شریف کے باشعور عوام کے نام
السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته
آج میں آپ کے سامنے صرف ایک امیدوار کے طور پر نہیں بلکہ ایک تعلیم یافتہ، باکردار، نوجوان اور دردِ دل رکھنے والے کشمیری کے طور پر کھڑا ہوں۔
میرا مقصد اقتدار، دولت یا خاندانی سیاست نہیں بلکہ عوام کی خدمت، نوجوان نسل کا روشن مستقبل اور ایک باوقار معاشرہ ہے۔
میرے محترم ووٹرز!
ووٹ صرف ایک سیاسی حق نہیں بلکہ ایک امانت ہے، اور اسلام ہمیں امانت دیانتدار اور اہل شخص کے سپرد کرنے کا حکم دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:
"بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل لوگوں کے سپرد کرو"
(سورۃ النساء: 58)
آج آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ:
کیا ووٹ ایسے لوگوں کو دیا جائے جو نسل در نسل سیاست کرتے آئے ہیں مگر عوام آج بھی غربت، بے روزگاری اور مسائل کا شکار ہیں؟
کیا ووٹ ایسے سیاستدانوں کو دیا جائے جن کے اپنے کاروبار، جائیدادیں اور مفادات محفوظ ہیں مگر غریب عوام دو وقت کی روٹی کے لئے پریشان ہیں؟
کیا ووٹ ایسے افراد کو دینا چاہئے جن کی ڈگریاں مشکوک ہوں، جن کا ماضی سوالیہ نشان ہو، یا جو صرف الیکشن کے دنوں میں عوام کے درمیان نظر آئیں؟
یا پھر ووٹ ایک ایسے نوجوان کو دینا چاہئے جو:
✔ ماسٹر ڈگری ہولڈر ہے
✔ نئی اور صاف قیادت کی علامت ہے
✔ نائب صدر تحریک جوانان کشمیر ہے
✔ نوجوان نسل کی آواز ہے
✔ تعلیم، شعور اور میرٹ پر یقین رکھتا ہے
✔ عوام کے دکھ درد کو سمجھتا ہے
✔ خاندانی سیاست نہیں بلکہ عوامی خدمت پر یقین رکھتا ہے
میرا دوسرے امیدواران کے ساتھ تقابلی جائزہ آپ خود کرلیں:
وہ لوگ:
❌ برسوں اقتدار میں رہے مگر عوام کے حالات نہ بدل سکے
❌ سیاست کو ذاتی کاروبار سمجھتے ہیں
❌ نوجوانوں کو صرف نعروں تک محدود رکھتے ہیں
❌ الیکشن کے بعد عوام سے دور ہوجاتے ہیں
اور میں:
✅ تعلیم یافتہ ہوں
✅ نوجوان قیادت کی نمائندگی کرتا ہوں
✅ عوام کے درمیان موجود ہوں
✅ مسئلہ سننے کے ساتھ حل کرنے کی نیت رکھتا ہوں
✅ کشمیر کے نوجوانوں کے مستقبل کے لئے عملی وژن رکھتا ہوں
میرے عزیز بھائیو، بزرگوں، نوجوانوں اور بہنوں!
حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے:
"اگر دریا کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر جائے تو عمر سے سوال ہوگا۔"
یہی احساسِ ذمہ داری ایک حقیقی قیادت کی پہچان ہے۔
میں آپ سے وعدہ نہیں بلکہ عہد کرتا ہوں کہ:
میں عوام کے حق، نوجوانوں کے روزگار، تعلیم، صحت اور انصاف کی آواز بنوں گا۔
میں آپ کے ووٹ کو اپنی طاقت نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری سمجھوں گا۔
آئیں!
اس بار شخصیت نہیں، قابلیت کو ووٹ دیں
نعروں نہیں، کردار کو ووٹ دیں
خاندانی سیاست نہیں، نوجوان قیادت کو ووٹ دیں
دولت مند سیاستدانوں نہیں، عوام کے نمائندے کو ووٹ دیں
آپ کے ووٹ کا اصل حقدار:
فاروق اقبال
امیدوار ایل اے-4 کھڑی شریف
نائب صدر تحریک جوانان کشمیر
"تعلیم یافتہ قیادت — روشن مستقبل"
18/05/2026
آپ مجھے اپنے مشورے سے ضرور آگاہ کریں۔
فاروق اقبال
نائب صدر تحریک جوانان کشمیر
15/05/2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمدللہ!
میں دل کی گہرائیوں سے مشکور ہوں محترم
محمد عبداللہ حمید گل صاحب (چیئرمین تحریک جوانان پاکستان و کشمیر)
اور
سردار اجمل مغل صاحب (صدر تحریک جوانان پاکستان و کشمیر)
کا، جنہوں نے مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے مجھے تحریک جوانان پاکستان و کشمیر کا نائب صدر مقرر کیا۔
یہ ذمہ داری میرے لیے اعزاز بھی ہے اور ایک بڑی امانت بھی۔ میں ان شاء اللہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس اعتماد پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔
میرا عزم ہے کہ:
پاکستان کی نظریاتی اساس کے تحفظ کے لیے کام کروں
نوجوانوں کی مثبت رہنمائی اور کردار سازی میں اپنا کردار ادا کروں
تحریک کے مشن کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دن رات محنت کروں
میں تمام ساتھیوں، دوستوں اور بزرگوں کا بھی شکر گزار ہوں جن کی دعائیں اور حمایت ہمیشہ میرے ساتھ رہی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص، استقامت اور حق کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
والسلام
فاروق اقبال
نائب صدر
تحریک جوانان پاکستان و کشمیر
15/05/2026
شکر کی اہمیت اور اس کے دلائل
شکر ایک عظیم عبادت اور اعلیٰ اخلاقی صفت ہے جس کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچان کر اس کا دل، زبان اور عمل سے اعتراف کرنا۔ ایک مومن کی زندگی میں شکر کا مقام بہت بلند ہے، کیونکہ یہ انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے اور نعمتوں میں اضافہ کا ذریعہ بنتا ہے۔
قرآن مجید سے دلائل:
1. اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ" (سورۃ ابراہیم: 7)
ترجمہ: اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔
➤ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ شکر نعمتوں میں اضافہ کا سبب ہے۔
2. ایک اور جگہ فرمایا:
"وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ" (سورۃ سبأ: 13)
➤ یعنی اللہ کے بندوں میں شکر کرنے والے کم ہیں، جو اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
احادیث سے دلائل:
1. نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔"
➤ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شکر صرف اللہ ہی نہیں بلکہ بندوں کے ساتھ بھی ضروری ہے۔
2. حضور ﷺ راتوں کو عبادت کرتے تھے، حالانکہ آپ کے گناہ معاف تھے۔ جب پوچھا گیا تو فرمایا:
"کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟"
➤ یہ شکر کی عملی مثال ہے۔
شکر کے فوائد:
نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے
دل کو سکون اور اطمینان ملتا ہے
اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے
انسان ناشکری اور شکایت سے بچتا ہے
شکر کرنے کے طریقے:
دل سے نعمت کو اللہ کی طرف سے ماننا
زبان سے الحمدللہ کہنا
نعمت کو صحیح اور جائز کام میں استعمال کرنا
نتیجہ:
شکر ایک ایسی صفت ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب بناتی ہے۔ ہمیں ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، چاہے حالات اچھے ہوں یا مشکل، کیونکہ شکر ہی کامیابی اور برکت کا راستہ ہے۔
فاروق اقبال
چیف ایگزیکٹو آفیسر
ایوٹرز و الرسالہ ایجوکیشن
12/05/2026
نوکری انسان کو محدود آمدن دیتی ہے، جبکہ کاروبار ترقی، آزادی اور دوسروں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے۔
اگر محنت، دیانت اور صبر کے ساتھ کاروبار کیا جائے تو یہ کامیابی اور خودمختاری کا بہترین راستہ بن سکتا ہے۔
CEO, EUTORS
Farooq Iqbal
11/05/2026
انسان حکمت، صبر اور خاموشی کے ساتھ اپنے مقاصد پر کام کر کے ایک اعلی مقام حاصل کرسکتا ہے۔
انسان کو اپنے ہر ارادے، منصوبے اور خواب کو وقت سے پہلے دنیا کے سامنے ظاہر نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات لوگوں کی حسد بھری نظریں، منفی سوچ یا غیر ضروری تنقید انسان کے عزم کو کمزور کردیتی ہے۔
“چاند جب آسمان پر مکمل روشنی کے ساتھ چمکتا ہے تو پوری دنیا خود بخود جان لیتی ہے کہ وہ چاند ہے۔”
یعنی کامیابی کو شور کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ کامیابی خود اپنی پہچان بن جاتی ہے۔ جو لوگ خاموشی سے محنت کرتے ہیں، وقت آنے پر ان کی کامیابی خود ان کا تعارف بن جاتی ہے۔
زندگی میں نوجوانوں، طلبہ، کاروباری افراد اور ہر اس شخص کے لیے سبق موجود ہے جو زندگی میں بڑا مقام حاصل کرنا چاہتا ہے کہ:
اپنے خوابوں کو ہر کسی کے سامنے بیان نہ کریں۔
اپنی توانائی باتوں میں نہیں بلکہ عمل میں لگائیں۔
مستقل مزاجی کے ساتھ محنت جاری رکھیں۔
کامیابی آنے پر دنیا خود آپ کو پہچان لے گی۔
اسلام انسان کو عاجزی، اخلاص اور خاموش عمل کی تعلیم دیتا ہے۔ بعض اوقات خاموشی میں کی گئی محنت، اعلان کرکے کی گئی محنت سے زیادہ بابرکت ثابت ہوتی ہے۔
فاروق اقبال
چیف ایگزیکٹو آفیسر
ایوٹرز و الرسالہ ایجوکیشن
10/05/2026
معرکۂ حق "بنیانٌ مرصوص" کی تکمیل کا ایک سال — عزم، قربانی اور فتح کی داستان
آج ہم اُس عظیم معرکۂ حق "بنیانٌ مرصوص" کی پہلی سالگرہ منا رہے ہیں جس نے نہ صرف قومی دفاع کو مضبوط کیا بلکہ پوری قوم کے حوصلے، اتحاد اور ایمان کو نئی توانائی بخشی۔
یہ معرکہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب قوم اپنے محافظوں کے ساتھ "بنیانٌ مرصوص" یعنی سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑی ہو جائے، تو کوئی بھی دشمن اس کے عزائم کو شکست نہیں دے سکتا۔
افواجِ پاکستان نے اس جدوجہد میں بے مثال جرات، حکمتِ عملی اور قربانیوں کی ایسی مثالیں قائم کیں جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت، غیر متزلزل عزم اور مادرِ وطن سے محبت ہر پاکستانی کے لیے فخر کا باعث ہے۔
ہم اپنے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جن کی قربانیوں نے اس کامیابی کو ممکن بنایا، اور غازیوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنی بہادری سے وطن کا دفاع یقینی بنایا۔
آج کے دن ہم اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ: ہم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے،
قومی یکجہتی کو فروغ دیں گے،
اور پاکستان کو مزید مضبوط، مستحکم اور ناقابلِ تسخیر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
پاکستان زندہ باد
افواجِ پاکستان پائندہ باد
فاروق اقبال
چیف ایگزیکٹو آفیسر ایوٹرز
10/05/2026
کسی انسان کے لیے
دوست اور دشمن کو واضح کر دینا
رب العالمین کی بہت بڑی نعمت ہے۔
زندگی کے سفر میں سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو دوست اور دشمن کی پہچان عطا فرما دیتا ہے۔
جب منافق چہرے ہوں اور دلوں میں خیانت چھپی ہو، تب سچ کو پہچاننا ہر کسی کے لیے ممکن نہیں ہوتا، مگر اللہ کی رحمت سے پردے ہٹ جاتے ہیں اور حق واضح ہو جاتا ہے۔
اپنے رب کا شکر ادا کریں اور ہر تعلق کو اللہ کی رضا کی کسوٹی پر پرکھیں۔
پرامن، کامیاب اور باوقار زندگی کی یہی نشانی ہے۔
فاروق اقبال
چیف ایگزیکٹو آفیسر ایوٹرز و الرسالہ ایجوکیشن