Learn Quran with Hafiz Muhammad Idrees

Learn Quran with Hafiz Muhammad Idrees

Share

Assalam u Alaikum! Welcome to our Quran Academy. I hope all my brothers are doing well! I am a Quran teacher and working in this field since last 6 years.

By the grace of Allah, I taught Quran to many people who are an example for the society.

02/06/2026

🌹سلسلہ اقوال صالحین🌹

02/06/2026

🌹سلسلہ سلام رضا🌹

کثرتِ بعدِ قِلّت پہ اکثر درود
عزّتِ بعدِ ذِلّت پہ لاکھوں سلام

مشکل الفاظ کی وضاحت
کثرت بعد قلت: ایسی کثرت جو کمی سے دور ہے
عزت بعد ذلت: ایسی عزت جو ذلت سے بعید ہے

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

ربِّ اَعلیٰ کی نعمت پہ اعلیٰ درود
حق تعالیٰ کی مِنَّت پہ لاکھوں سلام

مشکل الفاظ کی وضاحت
نعمت: عطا
منت: احسان
( یعنی حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ)

02/06/2026

🌹سلسلہ حدیث شریف🌹

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللهَ لَا يَجْمَعُ أُمَّتِيْ أَوْ قَالَ: أُمَّةَ مُحَمَّدٍ عَلٰى ضَلَالَةٍ وَيَدُ اللهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ وَمَنْ شَذَّ شَذَّ فِي النَّارِ" رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
روایت ہے حضرت ابن عمرسے فرماتےہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یقینًا اللہ میری امت کو یا فرمایا امت محمد مصطفی کو گمراہی پر متفق نہ ہونے دے گا ۱؎ جماعت پر اللہ کا دست کرم ہے ۲؎جو جماعت سے الگ رہا وہ دوزخ میں الگ ہی جائے گا۔(ترمذی)

شرحِ حدیث ⬇️
۱؎ یہاں امت سے امت اجابت مرادہے یعنی حضور پر ایمان لانے والے لوگ یہ حدیث پچھلی حدیث کی گویا تفسیرہے،یعنی اگرچہ میری امت میں بنی اسرائیل سے زیادہ فرقے ہوں گے،لیکن فرق یہ ہے کہ وہ سارے گمراہ ہوگئے تھے،یہ امت ساری گمراہ نہ ہوگی بلکہ قیامت تک ایک فرقہ اس میں حق پر رہے گا۔یہ اس امت کی خصوصیت ہے۔اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ مسلمانوں کا اجماع برحق ہے جس پر سارے علماء اولیاء متفق ہوجائیں وہ مسئلہ ایسا ہی لازم العمل ہے جیسے قرآن کی آیت۔اس حدیث کی تائید اس آیت سے ہے:"وَیَتَّبِعْ غَیۡرَ سَبِیۡلِ الْمُؤْمِنِیۡنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَ"یعنی جو مسلمانوں کے راستہ کے علاوہ کوئی اور راہ چلے گا ہم اسے دوزخ میں بھیجیں گے۔اجماع امت کا حجت ہونا یہ بھی اس امت کی خصوصیت ہے۔معلوم ہوا کہ خلافت شیخین برحق ہے۔
۲؎ دستِ کرم سے مراد حفاظت،مدد اور رحمت ہے۔یعنی اللہ تعالٰی جماعت کو غلطی اور دشمنوں کی ایذا سے بچائے گا۔ان پر سکینہ اتارے گا وغیرہ۔

02/06/2026

🌹سلسلہ تفسیر صراط الجنان فی تفسیر القرآن🌹

پوسٹ #12⬇️

{اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ:بیشک وہ لوگ جن کی قسمت میں کفر ہے ان کے لئے برابر ہے ۔}چونکہ ٹھنڈک کی پہچان گرمی سے ، دن کی پہچان رات سے اور اچھائی کی پہچان برائی سے ہوتی ہے اسی لئے اہل ایمان کے بعدکافروں اور منافقوں کے افعال اور ان کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ ان کی پہچان بھی واضح ہوجائے اور آدمی کے سامنے تمام راہیں نمایاں ہوجائیں۔اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے پیارے حبیب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، وہ لوگ جن کی قسمت میں کفر ہے جیسے ابو جہل اور ابو لہب وغیرہ کفار،ان کے لئے برابر ہے کہ آپ انہیں اللہ تعالیٰ کے احکامات کی مخالفت کرنے کے عذاب سے ڈرائیں یا نہ ڈرائیں ،یہ کسی صورت ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو پہلے سے ہی معلوم ہے کہ یہ لوگ ایمان سے محروم ہیں۔(جلالین مع جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۶، ۱ / ۲۰-۲۱)

کفر کی تعریف اورازلی کافروں کو تبلیغ کرنے کا حکم دینے کی وجہ:

یہاں دو باتیں ذہن نشین رکھیں :

(1)… ضروریاتِ دین میں سے کسی چیز کا انکار یا تحقیر و استہزاء کرنا کفر ہے اورضروریاتِ دین ، اسلام کے وہ احکام ہیں ،جن کو ہر خاص و عام جانتے ہوں ، جیسے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نبوت، نماز، روزے ، حج، جنت،دوزخ ، قیامت میں اُٹھایا جانا وغیرہا۔ عوام سے مراد وہ مسلمان ہیں جو علماء کے طبقہ میں شمار نہ کئے جاتے ہوں مگر علماء کی صحبت میں بیٹھنے والے ہوں اورعلمی مسائل کا ذوق رکھتے ہوں ،اس سے وہ لوگ مراد نہیں جو دور دراز جنگلوں پہاڑوں میں رہنے والے ہوں جنہیں صحیح کلمہ پڑھنا بھی نہ آتا ہو کہ ایسے لوگوں کا ضروریاتِ دین سے ناواقف ہونا اِس دینی ضروری کو غیرضروری نہ کردے گا، البتہ ایسے لوگوں کے مسلمان ہونے کے لئے یہ بات ضروری ہے کہ وہ ضروریاتِ دین کاانکار کرنے والے نہ ہوں اور یہ عقیدہ رکھتے ہوں کہ اسلام میں جو کچھ ہے حق ہے اور ان سب پر اجمالاً ایمان لائے ہوں۔(بہارِ شریعت، ۱ / ۱۷۲-۱۷۳، ملخصاً)

(2)… ایمان سے محروم کفار کے بارے میں معلوم ہونے کے باوجود انہیں تبلیغ کرنے کاحکم اس لئے دیاگیا تاکہ ان پر حجت پوری ہو جائے اور قیامت کے دن ان کے لئے کوئی عذر باقی نہ رہے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

’’رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا‘‘(النساء: ۱۶۵)

ترجمۂ کنزالعرفان:(ہم نے )رسول خوشخبری دیتے اور ڈر سناتے (بھیجے)تاکہ رسولوں (کو بھیجنے) کے بعد اللہ کے یہاں لوگوں کے لئے کوئی عذر (باقی )نہ رہے اور اللہ زبردست ہے،حکمت والا ہے۔

اور ارشاد فرمایا:

’’وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِـعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى‘‘ (طہ: ۱۳۴)

ترجمۂ کنزالعرفان:اور اگر ہم انہیں رسول کے آنے سے پہلے کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو ضرور کہتے: اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے تیری آیتوں کی پیروی کرتے؟

نیز انہیں تبلیغ کرنے سے ایک فائدہ یہ بھی حاصل ہواکہ وہ اگرچہ ایمان نہیں لائے لیکن حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو انہیں تبلیغ کرنے کا ثواب ضرور ملے گا اور یہ بات ہر مبلغ کو پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ اس کا کام تبلیغ کرنااور رضائے الہٰی پانا ہے، لوگوں کو سیدھی راہ پر لاکر ہی چھوڑنا نہیں لہٰذا مبلغ نیکی کی دعوت دیتا رہے اور نتائج اللہ تعالیٰ کے حوالے کردے اور لوگوں کے نیکی کی دعوت قبول نہ کرنے سے مایوس ہونے کی بجائے ا س ثواب پر نظر رکھے جو نیکی کی دعوت دینے کی صورت میں اسے آخرت میں ملنے والاہے۔

02/06/2026

🌹سلسلہ سلام رضا🌹

شمعِ بزمِ دَنٰی ہُو میں گم کُن اَنا
شَرْحِ مَتنِ ہُوِیَّت پہ لاکھوں سلام

مشکل الفاظ کی وضاحت
شمع بزم دنی: اللّٰہ تعالیٰ کے قرب خاص کی مجلس کے چراغ
شرحِ متن ہویت: مرتبہ وحدت کی تشریح

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

اِنتہائے دوئی اِبتِدائے یکی
جمعِ تفریق و کثرت پہ لاکھوں سلام

مشکل الفاظ کی تشریح
انتہائے دوئی ابتدائے یکی: اللّٰہ کی صفات کے عظیم مظہر
جمع تفریق و کثرت: صفات فعلیہ و ذاتیہ کے مظہر

31/05/2026

🌹سلسلہ حدیث شریف🌹

وَعَنْ ابی ھریرة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ، فَطُوبٰى لِلْغُرَبَاءِ (رَوَاهُ مُسْلِمٌ)
روایت ہے حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام غریبی سے شروع ہوا اورجیسا شروع ہوا تھا ویسا ہی پھر ہوجائے گا غربا کو خوشخبری ہو ۱؎ (مسلم)

شرحِ حدیث ⬇️

۱؎ غربت کے لفظی معنی ہیں تنہائی اور بیکسی،اسی لیئے مسافر اور تنگ دست کو غریب کہا جاتا ہے کہ مسافر سفر میں اکیلا ہوتا ہے اور تنگ دست بیکس،یعنی اسلام کو پہلے تھوڑے لوگوں نے قبول کیا اور آخر میں بھی تھوڑے ہی لوگوں میں رہ جائے گا،یہ دونوں جماعتیں بڑی مبارک ہیں۔الحمدلِلّٰہِ!تھوڑے مسلمان بہتوں پر غالب آتے رہے اور آتے رہیں گے،تھوڑا سونا بہت سے لوہے پر اور تھوڑا مشک بہت سی مٹی پر غالب ہے۔یہ بھی دیکھا گیا کہ غریب مسکین لوگ اسلام پر قائم رہتے ہیں اکثر مالداربھٹک جاتے ہیں۔

31/05/2026

🌹سلسلہ تفسیر صراط الجنان فی تفسیر القرآن🌹

پوسٹ #11⬇️

{هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ: وہی فلاح پانے والے ہیں۔} یعنی جن لوگوں میں بیان کی گئی صفات پائی جاتی ہیں وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے عطا کی گئی ہدایت پر ہیں اوریہی لوگ جہنم سے نجات پاکر اور جنت میں داخل ہو کر کامل کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۵، ۱ / ۲۵)

اصل کامیابی ہر مسلمان کو حاصل ہے:
یاد رہے کہ اس آیت میں فلاح سے مراد ’’کامل فلاح‘‘ ہے یعنی کامل کامیابی متقین ہی کو حاصل ہے ہاں اصلِ فلاح ہر مسلمان کو حاصل ہے اگرچہ وہ کتنا ہی گناہگار کیوں نہ ہو کیونکہ ایمان بذات ِ خود بہت بڑی کامیابی ہے جس کی برکت سے بہرحال جنت کا داخلہ ضرور حاصل ہوگا اگرچہ عذابِ نار کے بعد ہو۔

30/05/2026

🌹سلسلہ سلام رضا🌹

خَلق کے دادْرَس سب کے فریادْرَس
کَہفِ روزِ مصیبت پہ لاکھوں سلام

مشکل الفاظ کی وضاحت
خلق: مخلوق
دادرس: مددگار
فریادرس: فریاد سننے والے
کہف روز مصیبت: مصیبت کے دن کی جائے پناہ

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

مجھ سے بے کس کی دولت پہ لاکھوں درود
مجھ سے بے بس کی قوت پہ لاکھوں سلام

مشکل الفاظ کی وضاحت
بے کس: بے سہارا
بے بس: عاجز، کمزور

30/05/2026

🌹سلسلہ حدیث شریف🌹

وَعَنْ ابي هريرة قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "كَفٰی بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
روایت ہے حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ انسان کے جھوٹا ہونے کو یہ ہی کافی ہے کہ ہرسنی بات بیان کردے ۱؎(مسلم)

شرحِ حدیث ⬇️
۱؎ یعنی ہر ایرے غیرے کی ہر بات بغیر تحقیق کیے بیان کردے۔خصوصًا احادیث شریفہ ورنہ محدثین،فقہاء،علماء ان کی ہر بات پر عوام کو اعتماد کرنا پڑے گا۔رب تعالٰی فرماتا ہے:"لِیُنۡذِرُوۡا قَوْمَہُمْ اِذَا رَجَعُوۡۤا" لہذا یہ حدیث فقہاء کے اس قول کے خلا ف نہیں کہ دینی باتوں میں ایک کی خبرمعتبر ہے،محدثین خبرواحد کا اعتبارکرتے ہیں۔

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Islamabad