Department of Pakistani Languages, NUML, Islamabad

Department of Pakistani Languages, NUML, Islamabad

Share

The Pakistani Languages & Culture department is playing a significant role to promote Pakistani languages and culture in the country and abroad.

We offer different programs both for Pakistani and foreigner students.

Photos from Department of Pakistani Languages, NUML, Islamabad's post 01/05/2026

شعبہ پاکستانی زبانیں، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) اسلام آباد کے زیرِ اہتمام 30 اپریل 2026ء کو ''براہوئی زبان و ثقافت پر عالمگیریت کے اثرات'' کے عنوان سے ایک علمی، ادبی اور ثقافتی سیمینار انتہائی شان و شوکت اور علمی وقار کے ساتھ منعقد ہوا۔ اس سیمینار میں اساتذہ اور طلبہ نے بھرپورشرکت کی، جس سے پروگرام کی علمی فضا مزید نکھر گئی۔
سیمینار کا پُروقار آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت شعبہ پاکستانی زبانیں کے پشتو کے استاد جناب محمد یونس شیرپاؤ نے حاصل کی ۔ پروگرام کی نظامت شعبہ پاکستانی زبانیں کے بلوچی کے لیکچرر جناب رازق راجؔ نے شگفتگی اور خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دی۔ انہوں نے سیمینار کے موضوع کی علمی اہمیت اور افادیت واضح کرتے ہوئے براہوئی زبان و ثقافت کا مختصر مگر جامع تعارف پیش کیا اور تمام حاضرین، اساتذہ اور مہمانانِ گرامی کو فراخ دلی اور خلوصِ دل کے ساتھ خوش آمدید کہا۔
سیمینار کے افتتاحی کلمات شعبہ پاکستانی زبانیں کے صدر پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق انجم نے ادا کیے۔ انہوں نے نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) اسلام آباد کے ریکٹر، ڈائریکٹر جنرل، ڈین فیکلٹی آف لینگویجز اور تمام انتظامیہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایسے علمی و تحقیقی سیمینارز انہی سرپرستوں کی شفقت، حوصلہ افزائی اور رہنمائی کی بدولت ممکن ہوتے ہیں اور وقتاً فوقتاً منعقد ہوتے رہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں عالمگیریت کے مفہوم، اس کے وسیع تر اثرات اور بالخصوص براہوئی زبان و ثقافت پر اس کے گہرے نقوش کا تفصیلی جائزہ پیش کیا اور زور دیا کہ عالمگیریت کے اس دور میں مادری زبانوں اور مقامی ثقافتوں کا تحفظ ایک سنجیدہ ذمہ داری بن چکا ہے۔
اس کے بعد شعبہ پاکستانی زبانیں کے براہوئی کے استاد جناب محمد عمران نے گلوبلائزیشن اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی اہمیت اور ان سے پیدا ہونے والے چیلنجز پر اپنے خیالات خوبصورت انداز میں پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ زبان کی ترقی اور بقا کے لیے علمی بحث و مباحثہ اور فکری کاوشیں ناگزیر ہیں اور جس طرح زندگی کی دیگر بنیادی ضروریات پر توجہ دی جاتی ہے، اسی طرح زبان، ثقافت اور تاریخ کے تحفظ کو بھی ترجیح دینا ہوگی، کیونکہ زبان اور ثقافت ہی کسی قوم کی اصل شناخت اور ورثے کی امین ہوتی ہیں۔
ان کے بعد شعبہ کے براہوئی کے استاد ڈاکٹر حفیظ اللہ سرپرہ نے اپنے خطاب میں زبان و ثقافت پر عالمگیریت کے منفی اور مثبت دونوں پہلوؤں کا سیرحاصل اور دلائل پر مبنی تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہاں عالمگیریت نے مختلف اقوام کو باہم قریب کیا اور معلومات و ثقافت کے تبادلے کے نئے دروازے کھولے، وہیں اس نے چھوٹی اور مقامی زبانوں کے وجود کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ عالمگیریت ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے اور اسے روکنا ممکن نہیں، تاہم اس کے منفی اثرات سے اپنی زبانوں اور ثقافتوں کو بچانے کے لیے مؤثر اور ٹھوس حکمتِ عملی ترتیب دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
سیمینار کے مہمان خاص ریٹائرڈ کنٹرولر پی ٹی وی اور اکادمی ادبیات پاکستان کے اعزازی ڈائریکٹر پروگرامز (بلوچستان)، نامور براہوئی ادیب، دانشور، محقق، شاعر و دو درجن سے زائد کتابوں کے مصنف ڈاکٹر عبدالقیوم بیدار تھے۔،جس نے آن لائن شرکت کی۔ انہوں نے اپنے مدلل اور فکرانگیز خطاب میں اس عام تاثر کی تردید کی کہ براہوئی زبان معدومیت کے دہانے پر ہے اور دلیل کے ساتھ ثابت کیا کہ براہوئی زبان آج بھی زندہ اور فعال ہے، کیونکہ قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین، افغانستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں لاکھوں افراد اسے اپنی مادری زبان کے طور پر بولتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی زبان کی پائیدار ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے سرکاری سطح پر سرپرستی اور تحفظ حاصل نہ ہو اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ براہوئی سمیت تمام مقامی زبانوں کی ترقی، ترویج اور تحفظ میں اپنی آئینی و اخلاقی ذمہ داری کو پوری تندہی سے ادا کرے۔
سیمینار کے اختتامی کلمات شعبہ پاکستانی زبانیں کے صدر جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق انجم نے ادا کیے،آپ نے مہمان خاص کے لیے نمل یونیورسٹی کی جانب سے پیش کردہ یادگاری شیلڈ براہوئی کے استاد ڈاکٹر حفیظ اللہ سرپرہ کو پیش کی اور مہمانِ خصوصی، تمام مقررین، اساتذہ، طلبہ اور حاضرینِ سیمینار کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد گروپ فوٹو سیشن ہوا، اور یوں یہ نہایت کامیاب، علمی، فکری اور پُرکیف سیمینار ایک خوشگوار اور یادگار فضا میں اپنے اختتام کو پہنچا ۔
شعبہ پاکستانی زبانیں، پاکستانی زبانوں کے فروغ اور تحفظ کے لیے وقتاً فوقتاً علمی، ادبی اور ثقافتی سیمینارز اور پروگرامز کا اہتمام کرتا رہتا ہے اور یہ سیمینار بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔

Photos from Department of Pakistani Languages, NUML, Islamabad's post 14/04/2026

شعبہ پاکستانی زبانیں،نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز( نمل) اسلام آباد کے زیرِ اہتمام 14 اپریل 2026ء کو پنجابی زبان و ثقافت کی مناسبت سے ایک علمی، ادبی اور ثقافتی سیمینار بعنوان ''پنجابی زبان اور ثقافت: حال، ماضی اور مستقبل'' نہایت شان و شوکت اور علمی وقار کے ساتھ منعقد ہوا، جس میں زبان و ادب کے اہلِ علم، اساتذہ اور طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔
سیمینار کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت شعبہ پاکستانی زبانیں کے پشتو کے سینئر انسٹرکٹر جناب محمد یونس شیرپاؤ نے حاصل کی۔ پروگرام کی نظامت شعبہ پاکستانی زبانیں کے براہوئی کے لیکچرر ڈاکٹر حفیظ اللہ سرپرہ نے انتہائی اعتماد اورخوش اسلوبی کے ساتھ انجام دی۔ انہوں نے سیمینار کے موضوع کی افادیت واضح کرتے ہوئے پنجابی زبان و ثقافت کا مختصر مگر جامع تعارف پیش کیا اور تمام حاضرین و مہمانانِ گرامی کا پُرتپاک خیرمقدم کیا۔
ابتدائی کلمات صدرِ شعبہ پاکستانی زبانیں پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق انجم نے ادا کیے۔ انہوں نے نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز( نمل) اسلام آباد کے ریکٹر، ڈائریکٹر جنرل، ڈین فیکلٹی آف لینگویجز اور انتظامیہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہی سرپرستوں کی شفقت و رہنمائی کی بدولت اس نوع کے علمی و تحقیقی سیمینارز وقتا فوقتا منعقد ہوتے رہتے ہیں۔ انہوں نے ثقافت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ یادگار بات کہی کہ ثقافت دراصل قوموں کی امانت اور ان کی پہچان ہوتی ہے، اور انہی ثقافتی اقدار کے دم سے قومیں زندہ و پائندہ رہتی ہیں۔
اس کے بعد شعبہ پاکستانی زبانیں کے استادِ پنجابی جناب قیصر زمان ورک نے پنجابی ثقافت کے تاریخی پس منظر پر سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ پنجابی ثقافت صدیوں کے سفر سے گزر کر آج بھی قائم ہے۔ انہوں نے اس دن کو گندم کی کٹائی کے جشن سے منسوب کیا اور کہا کہ یہ وہ مبارک روز ہے جب پنجابی کسان اپنی محنت کا پھل پا کر بے پناہ مسرت و شادمانی سے اس دن کو مناتے تھے۔ جناب قیصر زمان ورک نے پنجابی کو آریائی زبان قرار دیتے ہوئے بتایا کہ آریا قبائل تقریباً پندرہ سو سال قبلِ مسیح اس خطے میں وارد ہوئے اور انہوں نے اپنی زبان و تہذیب کے گہرے نقوش چھوڑے۔ انہوں نے مزید بیان کیا کہ ''پنجابی'' کی اصطلاح سولہویں صدی میں رواج پذیر ہوئی اور ''پنجاب'' کا نام شیر شاہ سوری کے دورِ حکومت سے مستعمل ہوا، اس سے قبل یہ خطہ مختلف ناموں سے یاد کیا جاتا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس زبان کے لسانی آثار پانچ ہزار سال قدیم ہیں، جو اس کی گہری تاریخی جڑوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اس کے بعد شعبہ پاکستانی زبانیں کے استاد ا ڈاکٹر عبدالرؤف گوندل نے اپنے خطاب میں زبان و ثقافت کے تحفظ پر فکرانگیز انداز میں اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب دو افراد آپس میں اپنی مادری زبان میں گفتگو کرتے ہیں تو وہ میرے نزدیک لائقِ تعظیم ہیں، کیونکہ وہ اپنی تہذیب و ثقافت کے امین اور محافظ ہیں۔ ڈاکٹر عبدالرؤف گوندل نے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زبانوں کو ہر دور میں چیلنجوں کا سامنا رہا ہے، تاہم کوئی زبان بھی مکمل طور پر نابود نہیں ہوئی۔ جدید دور کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ آج پنجابی مواد گوگل اور انٹرنیٹ پر کافی حد تک دستیاب ہے، جو ایک حوصلہ افزا پیشرفت ہے۔ انہوں نے حکومتی سطح پر آواز بلند کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کالجوں اور جامعات میں پنجابی زبان کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنایا جائے۔
سیمینار کے مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد فارانی نے اپنے خطاب کا آغاز حضرت میاں محمد بخشؒ کے پُرحکمت کلام سے کیا۔ انہوں نے پنجابی زبان کی تاریخی اہمیت، اس کی فلسفیانہ گہرائی اور اس میں پنہاں حکمت و دانائی کے سرچشموں پر مدلل گفتگو کی۔ پنجابی بولنے والوں کے ساتھ ہونے والی لسانی حق تلفی کا درد بھرا تذکرہ کیا اور پنجاب کی ثقافت کے امتیازی خصائص کو نہایت دل نشین انداز میں بیان کیا۔ انہوں نے نمل یونیورسٹی کو، اس کے لسانی مشن کے اعتبار سے، پاکستانی زبانوں کی نمائندہ جامعہ قرار دیا اور اسے خراجِ تحسین پیش کیا۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے بلھے شاہ، وارث شاہ اور سلطان باہوؒ جیسے صوفی شعرا کے کلام میں پوشیدہ روحانی حکمت و دانش کا گہرائی سے تجزیہ کیا اور شرکا کو روشناس کرایا۔
پروگرام کے اختتام پر صدرِ شعبہ پاکستانی زبانیں ڈاکٹر محمد فاروق انجم نے مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد فارانی کو یادگاری شیلڈ پیش کی۔ اختتامی کلمات میں انہوں نے مہمانِ خصوصی، مقررین، اساتذہ اور تمام شرکا کا تہِ دل سے شکریہ ادا کیا۔ بعدازاں یادگار گروپ فوٹو سیشن ہوا اور یوں یہ نہایت کامیاب، علمی اور پُرکیف سیمینار ایک خوشگوار فضا میں اپنے اختتام کو پہنچا۔

Photos from Department of Pakistani Languages, NUML, Islamabad's post 17/12/2025

شعبہ پاکستانی زبانیں، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) اسلام آباد کے زیرِ اہتمام بروز 17 دسمبر 2025ء اساتذہ کے لیے ایک نہایت اہم اور مفید تربیتی ورکشاپ بعنوان Understanding International Phonetic Alphabet (IPA) “Symbols for Effective Language Teaching of Pakistani Languages”منعقد ہوئی۔ اس تربیتی ورکشاپ کا بنیادی مقصد پاکستانی زبانوں کی تدریس سے وابستہ اساتذہ کو انٹرنیشنل فونیٹک الفابیٹ (IPA) کے نظری اور عملی پہلوؤں سے روشناس کرانا اور زبانوں کی مؤثر تدریس میں اس کے کردار کو واضح کرنا تھا۔
ورکشاپ کی نظامت جناب قیصر زمان ورک (لیکچرر پنجابی) نے انجام دی۔ انہوں نے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد اور تھیم کی وضاحت کرتے ہوئے معزز مہمانِ خصوصی، گیسٹ اسپیکر اور شریک اساتذہ کو خوش آمدید کہا اور ان کی علمی شرکت پر شکریہ ادا کیا۔
ابتدائی کلمات صدرِ شعبہ پاکستانی زبانیں، جناب ڈاکٹر فاروق انجم نے ادا کیے۔ انہوں نے نمل کے معزز ریکٹر، پرو ریکٹر، ڈی جی، پروفیسر ڈاکٹر جمیل اصغر جامی (ڈین فیکلٹی آف لینگویجز) اور جامعہ کی انتظامیہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہی کی سرپرستی کے باعث اس نوعیت کی علمی و تربیتی ورکشاپس کا انعقاد ممکن ہوتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اساتذہ کے لیے اس طرح کی تربیتی ورکشاپس تدریسی معیار کو بہتر بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ انہوں نے واضح کیا کہ انٹرنیشنل فونیٹک الفابیٹ زبانوں کے صوتی نظام کو سائنسی بنیادوں پر سمجھنے کا ایک مستند اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ ذریعہ ہے، جو زبانوں کی درست ادائیگی، تحقیق اور تدریس میں نہایت اہمیت رکھتا ہے۔
ورکشاپ کے گیسٹ اسپیکر جناب ڈاکٹر عامر ظہیر (صدرِ شعبہ فرانسیسی) تھے۔ انہوں نے اپنے جامع اور تحقیقی خطاب میں انٹرنیشنل فونیٹک الفابیٹ کے عملی اطلاق پر تفصیلی گفتگو کی اور بتایا کہ کس طرح آئی پی اے مختلف زبانوں میں درست تلفظ، صوتی فرق اور ادائیگی کی باریکیوں کو واضح کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے مختلف زبانوں کی مثالوں کے ذریعے آئی پی اے کی افادیت کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا، جس سے شریک اساتذہ کو عملی تدریسی رہنمائی حاصل ہوئی۔
بعد ازاں مقررین نے آئی پی اے کی تاریخی تشکیل، صوتی علامات اور پاکستانی زبانو خصوصاً بلوچی ،براہوئی ،پشتو اور پنجابی کے صوتی نظام کے تناظر میں اس کے استعمال پر روشنی ڈالی۔
ورکشاپ کے اختتامی مرحلے میں سوال و جواب کا سیشن منعقد ہوا جس میں شریک اساتذہ نے آئی پی اے سے متعلق تدریسی اور تحقیقی نوعیت کے سوالات کیے اور گیسٹ اسپیکر کے جوابات سے بھرپور استفادہ کیا۔
اختتامی کلمات جناب پروفیسر ڈاکٹر سفیر اعوان (پرو ریکٹر ریسرچ، نمل اسلام آباد) نے ادا کیے۔ انہوں نے اس تربیتی ورکشاپ کو اساتذہ کے لیے نہایت بروقت اور مفید قرار دیتے ہوئے شعبہ پاکستانی زبانیں اور منتظمین کو کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی اور اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کی علمی و تربیتی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔
اختتام پر تربیتی ورکشاپ میں شریک اساتذہ کو سرٹیفکیٹس جناب پروفیسر ڈاکٹر سفیر اعوان کے بدست تقسیم کیے گئے۔ اس کے بعد گروپ فوٹو سیشن ہوا اور یوں یہ تربیتی ورکشاپ خوشگوار اور علمی ماحول میں اپنے اختتام کو پہنچی۔
رپورٹ:رازق راج لیکچرر بلوچی نمل، اسلام آباد

Photos from Department of Pakistani Languages, NUML, Islamabad's post 23/09/2025

شعبہ پاکستانی زبانیں کے زیرِ اہتمام آج 23 ستمبر 2025 کو ایک نہایت اہم علمی، تحقیقی اور ثقافتی سیمینار بعنوان’’پشتو زبان، ادبی روایت اور ثقافتی ارتقا‘‘ منعقد ہوا۔
سیمینار کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کی سعادت محمد عمران (سینئر انسٹریکٹر براہوئی) نے حاصل کی۔ پروگرام کی نظامت میڈم فرخندہ جبین (لیکچرر پشتو)نے نہایت خوش اسلوبی اور اعتماد کے ساتھ کی۔ انہوں نے سیمینار کے تھیم کی وضاحت کی اور شرکا و مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔
ابتدائی کلمات صدرِ شعبہ پاکستانی زبانیں، جناب ڈاکٹر فاروق انجم نے پیش کیے۔ انہوں نے نمل کے ریکٹر، ڈی جی، ڈین ،فیکلٹی آف لینگویجز اور انتظامیہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہی کی سرپرستی کے باعث ایسے علمی و تحقیقی سیمینارز وقتاً فوقتاً منعقد ہوتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کلچر کی اہمیت پر مدلل اور جامع انداز میں روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ "ثقافت دراصل قوموں کی امانت اور ان کی پہچان ہوتی ہے۔"
اس کے بعد مقررین نے پشتو زبان اور ثقافت کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا۔ جناب رضوان اللہ (وزٹنگ لیکچرر پشتو) نے پشتو زبان کے ماخذ اور ثقافتی گوشوں کو تحقیقی حوالوں کے ساتھ پیش کیا۔ جناب محمد یونس شیرپاؤ (سینئر انسٹرکٹر پشتو) نے پشتونوں کی حریت پسندی، مہمان نوازی اور بہادری کو اجاگر کرتے ہوئے پشتو ادب کی مختصر تاریخ بیان کی اور ان کے رسوم و کھیلوں پر خوبصورت روشنی ڈالی۔ جناب حفیظ الرحمن (کنٹریکٹ لیکچرر) نے پشتون معاشرت میں قانون سازی اور اقدار کے پہلو کو موضوع بنایا اور جرگہ کے نظام کو "پارلیمنٹ" سے تشبیہ دیتے ہوئے اس کی اہمیت واضح کی۔
مہمانِ خاص، جناب ڈاکٹر حنیف خلیل(ڈائریکٹر آف NIPS، قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد)نے اپنے خطاب میں "ثقافت، کلچر، تمدن اور تہذیب" جیسی اہم اصطلاحات پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے مشرقی و مغربی علمی روایت کے تناظر میں ان کے ماخذات اور معنوی جہات پر روشنی ڈالی۔ پشتو ادب پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "پشتو فوک ادب پشتون ثقافت کا آئینہ ہے اور ٹھپہ جیسی صنف میں زندگی کے تمام رنگ سمٹے ہوئے ہیں۔"
پروگرام کے آخر میں سوال و جواب کا سیشن ہوا جس میں طلبا و شرکا نے مہمانِ خاص سے علمی و تحقیقی استفادہ کیا۔ اختتامی کلمات ڈاکٹر فاروق انجم نے ادا کیے اور ڈاکٹر حنیف خلیل سمیت تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد گروپ فوٹو کا سیشن ہوا اور یوں یہ کامیاب سیمینار خوشگوار اور علمی ماحول میں اپنے اختتام کو پہنچا۔
رپورٹ: رازق راج، لیکچرر بلوچی،نمل اسلام آباد

Photos from Department of Pakistani Languages, NUML, Islamabad's post 12/05/2025

آج مورخہ 12 مئی 2025 کو شعبہ پاکستانی زبانیں، نمل اسلام آباد کے زیر اہتمام ایک علمی سیمینار بعنوان "براہوئی لسانیات، زبان کی روایت اور ثقافت کا ارتقا" کا انعقاد کیا گیا۔ اس اہم علمی نشست کی نظامت کے فرائض محترمہ فرخندہ جبین (لیکچرار پشتو، نمل اسلام آباد) نے نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دیے۔ پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت محمد یونس شیرپاؤ (سینئر انسٹرکٹر، پشتو، نمل اسلام آباد) نے حاصل کی۔
اس کے بعد صدر شعبہ پاکستانی زبانیں، جناب محمد فاروق انجم نے ابتدائی کلمات میں معزز ریکٹر، ڈائریکٹر جنرل، ڈین, فیکلٹی آف لینگویجز کا شکریہ ادا کیا جن کی سرپرستی اور رہنمائی سے ایسے علمی پروگرامز ممکن ہو پاتے ہیں۔ انہوں نے براہوئی کو پاکستان کی قدیم زبانوں میں شمار کرتے ہوئے اس کی لسانی اور ثقافتی اہمیت پر مختصر مگر جامع روشنی ڈالی۔
بعد ازاں، محمد عمران (لیکچرار براہوئی، نمل اسلام آباد) نے براہوئی زبان کو درپیش چیلنجز، بالخصوص سرکاری سطح پر سرپرستی کی کمی کا ذکر کیا۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ براہوئی زبان کے قلم کار اپنی تصانیف ذاتی وسائل سے شائع کرنے پر مجبور ہیں۔
اس کے بعد ڈاکٹر حفیظ اللہ سرپرہ (لیکچرار براہوئی، نمل اسلام آباد) نے آن لائن مہمانانِ گرامی کا تعارف اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے براہوئی زبان و ادب پر ایک مختصر مگر بامعنی گفتگو کی، جس میں زبان کے ماخذ، معنی اور وجہ تسمیہ پر سیر حاصل بحث کی۔ انہوں نے بتایا کہ براہوئی دراوڑی لسانی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے براہوئی بولنے والوں کے جغرافیائی پھیلاؤ اور اس زبان پر ہونے والے تحقیقی کاموں کا جائزہ بھی پیش کیا، نیز براہوئی ثقافت کی اہمیت پر مختصراً گفتگو کی۔
بعد ازاں آن لائن مہمان گرامی جناب سلطان احمد شاہوانی (ادیب،دانشور،آرکیالوجسٹ،جنرل سیکریٹری، براہوئی اکیڈمی،کوئٹہ،پاکستان)نے براہوئی زبان کی تاریخی پس منظر پر جامع اور مدلل گفتگو کی۔ انہوں نے براہوئی زبان کی ابتدا، ارتقائی مراحل، اور مختلف ادوار میں اس کی ترقی کے عوامل پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ براہوئی زبان نہ صرف ایک لسانی وحدت ہے بلکہ یہ ایک تہذیبی اور ثقافتی ورثہ بھی رکھتی ہے، جس کا تعلق دراوڑی لسانی خاندان سے ہے۔ انہوں نے براہوئی زبان کی قدامت کو تاریخی اور لسانی حوالوں سے ثابت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس زبان کے بقاء کے لیے علمی و تحقیقی سطح پر منظم کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مختلف دور کے شعرا، ادیبوں اور محققین کا بھی ذکر کیا جنہوں نے براہوئی زبان کو زندہ رکھنے میں کردار ادا کیا۔
اس کے بعد معروف براہوئی محقق اور ادیب ڈاکٹر نذیر شاکر براہوئی (ماہر لسانیات و دراوڑیات، ماہر بشریات و تاریخدان، ڈائریکٹر، براہوئی ریسرچ سینٹر پاکستان،لائف ٹائم ممبر، ڈریوڈین لنگوسٹکس ایسوسی ایشن۔ انڈیا)نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شعبہ پاکستانی زبانیں، نمل کا شکریہ ادا کیا کہ انہیں اس علمی نشست میں شرکت کا موقع دیا گیا۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں براہوئی زبان و ادب کی وسعت اور تنوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔ انہوں نے براہوئی زبان کی لسانی و ثقافتی روابط پر سیر حاصل گفتگو کی اور کئی الفاظ، تراکیب اور لسانی ساختوں کی مثالوں کے ذریعے تقابلی تجزیہ پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ زبانیں محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیبی شناخت کا ستون ہوتی ہیں، لہٰذا براہوئی زبان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے علمی، تعلیمی اور حکومتی سطح پر اقدامات ناگزیر ہیں۔
آخر میں، صدر شعبہ، ڈاکٹر محمد فاروق انجم نے اختتامی کلمات میں مہمانانِ گرامی اور آن لائن شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ اس سیمینار میں طلباء، اساتذہ اور زبان و ثقافت سے وابستہ افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ پروگرام کے اختتام پر شرکاء کا اجتماعی فوٹو سیشن ہوا اور یوں یہ علمی نشست کامیابی سے اپنے اختتام کو پہنچی۔

12/05/2025

آج نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل)، اسلام آباد کے شعبہ پاکستانی زبانیں کی جانب سے ایک اہم سیمینار منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں براہوئی لسانیات، ادبی روایت اور ثقافتی ارتقا جیسے موضوعات پر مختلف اسکالرز اپنے خیالات پیش کریں گے۔ یہ سیمینار زبان و ادب سے دلچسپی رکھنے والے طلبہ و محققین کے لیے ایک مفید علمی موقع فراہم کرے گا۔

Photos from Department of Pakistani Languages, NUML, Islamabad's post 17/03/2025

آج مورخہ 17 مارچ 2025ء کو نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل)، اسلام آباد کے شعبۂ پاکستانی زبانیں کے زیر اہتمام "پنجابی زبان، ادبی روایات اور ثقافتی ارتقاء" کے موضوع پر ایک علمی و فکری سیمینار منعقد ہوا۔ اس بامقصد نشست کے مہمانانِ گرامی میں پروفیسر ڈاکٹر جمیل اصغر جامی (ڈین، فیکلٹی آف لینگویجز، نمل)، ڈاکٹر عامر ظہیر بھٹی (صدر، شعبۂ فرنچ، نمل) اور ڈاکٹر زیب النساء (لیکچرار، شعبۂ پاکستانی زبانیں، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی) شامل تھے۔ علاوہ ازیں، پنجابی زبان و ادب کی نمائندگی جناب قیصر زمان ورک (لیکچرار، شعبۂ پاکستانی زبانیں، نمل) نے کی۔
اس علمی نشست کے ماڈریٹرز کی ذمہ داریاں جناب محمد عمران (سینئر انسٹرکٹر، شعبۂ پاکستانی زبانیں، نمل) اور محترمہ فرخندہ جبین (لیکچرار، شعبۂ پاکستانی زبانیں، نمل) نے نہایت عمدگی سے نبھائیں، جنہوں نے سیمینار کے اغراض و مقاصد شرکاء کے سامنے نہایت خوش اسلوبی سے بیان کیے۔ نشست کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت جناب محمد یونس شیرپاؤ (سینئر انسٹرکٹر، شعبۂ پاکستانی زبانیں، نمل اسلام آباد) نے حاصل کی۔
افتتاحی کلمات صدرِ شعبۂ پاکستانی زبانیں، ڈاکٹر فاروق انجم نے ادا کیے، جنہوں نے جامعہ کے ریکٹر، پرو ریکٹر، ڈائریکٹر جنرل ، ڈین، فیکلٹی آف لینگویجز اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا کہ وہ اس قسم کے علمی مباحث کے انعقاد کے لیے ہمیں وقتا فوقتا مواقع فراہم کرتے رہتے ہیں۔ اپنے خطاب میں انہوں نے پاکستان کو ایک کثیر اللسانی اور کثیر الثقافتی ملک قرار دیا، جہاں مختلف زبانوں اور تہذیبوں کے امتزاج نے اس کی شناخت کو منفرد اور رنگا رنگ بنا دیا ہے۔ انہوں نے اس امر پر روشنی ڈالی کہ پنجابی زبان اپنی قدیم اور زرخیز ادبی و لسانی روایات کی بدولت ایک ممتاز حیثیت رکھتی ہے اور اس کی تہذیبی جڑیں صدیوں پر محیط ہیں۔ انہوں نے اس سیمینار کے انعقاد کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
اس کے بعد جناب قیصر زمان ورک نے پنجابی زبان و ادب کے مختلف ادوار اور اس کے ثقافتی اثرات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے پنجابی قوم کے طرزِ زندگی، رہن سہن اور ثقافتی پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ ہر قوم کو اپنی شناخت کو برقرار رکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجابی زبان کا تعلق آریائی زبانوں سے ہے اور اس کی جڑیں بہت قدیم ہیں۔
ڈاکٹر عامر ظہیر بھٹی نے پنجابی زبان، اس کی ادبی روایات اور ثقافتی ارتقاء پر مدلل گفتگو کی۔ انہوں نے پنجابی زبان کے الفاظ میں ہونے والی صوتی و معنوی تبدیلیوں اور اس کے مختلف رسم الخط کے ارتقاء پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ بھارتی پنجابیوں نے اپنی زبان اور ثقافت کو زیادہ مستحکم اور زندہ رکھا ہے، جبکہ پاکستانی پنجابیوں میں اپنی زبان کے تئیں وہ لگن کم نظر آتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زبانوں کی بقاء اسی میں ہے کہ لوگ اپنی مادری زبان میں گفتگو کریں، اسے لکھیں اور پڑھیں۔
ڈاکٹر زیب النساء نے زبان، ادب اور ثقافت کے تغیر و ارتقاء پر بصیرت افروز اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے ثقافت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مذہب کے چھاپ جتنے گہرے نہیں جس طرح ثقافت کا اثر زیادہ دیرپا ہوتا ہے۔ انہو ں نے پنجابی ادب کے مختلف گوشوں کو نہایت عمدہ انداز میں حاضرین کے سامنے پیش کیا، جس نے سامعین کو علم و آگہی کے نئے دریچے عطا کیے۔
پروفیسر ڈاکٹر جمیل اصغر جامی نے اپنے اختتامی خطاب میں پنجابی زبان و ادب کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ زبان کسی بھی قوم کی پہچان اور فکری آزادی کی علامت ہوتی ہے، اور پنجابی زبان کو فروغ دینا نہ صرف ایک علمی فریضہ ہے بلکہ ہماری تہذیبی شناخت کا بھی تقاضا ہے۔ انہوں نے پنجابی شاعری اور نثر میں موجود فکری وسعت اور روحانی اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پنجابی ادب نے ہمیشہ محبت، رواداری اور اخوت کا پیغام دیا ہے، جسے نسلِ نو تک پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
آخر میں ڈین، فیکلٹی آف لینگویجز، نمل کے ہاتھوں مہمانانِ گرامی کو شیلڈز پیش کی گئیں۔ اس موقع پر شعبۂ پاکستانی زبانیں کے استاد جناب محمد عمران نے اپنی نئی تحقیقی کتاب بھی ڈین اور مہمانانِ گرامی کو پیش کی۔
سیمینار کے اختتام پر طلبہ اور شرکاءکے ساتھ گروپ فوٹو لیا گیا اور یوں یہ بامقصد علمی نشست اختتام پذیر ہوئی۔

16/03/2025

شعبۂ پاکستانی زبانیں کل ایک اہم علمی نشت و سیمنار بعنوان "پنجابی زبان، ادبی روایت اور ثقافتی ارتقا" منعقد کرنے جا رہا ہے، جو پنجابی زبان و ادب کی گہرائیوں کو سمجھنے اور اس کے تہذیبی سفر کا جائزہ لینے کے لیے ایک بہترین موقع فراہم کرے گا۔ اس علمی نشست میں پروفیسر جمیل اصغر جامی (ڈین، فیکلٹی آف لینگویجز)، ڈاکٹر عامر ظہیر بھٹی (صدرشعبۂ فرنچ، نمل اسلام آباد) ، ڈاکٹر زیب النسا ( لیکچرار،علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد)، اور جناب قیصر زمان ورک( لیکچرار، نمل اسلام آباد) اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ اس سیمنار کا مقصد پنجابی زبان کے تاریخی پس منظر، اس کے ادبی و ثقافتی رنگ اور اس کی ترقی کے امکانات پر علمی گفتگو کو فروغ دینا ہے، جو زبان و ادب کے طلبہ اور محققین کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

Photos from Department of Pakistani Languages, NUML, Islamabad's post 04/03/2025

آج مورخہ 4 مارچ 2025 کوبلوچ کلچر ڈے کے موقع پر شعبہ پاکستانی زبانیں، اسلام آباد کی طرف سے ایک علمی اور فکری سیمینار منعقد کیا گیا جس کا عنوان "بلوچی زبان، ثقافتی روایات اور ادب کا ارتقا" تھا۔ اس سیمینار کا مقصد بلوچی زبان، اس کی ثقافتی روایات اور ادب کے ارتقائی مراحل پر روشنی ڈالنا تھا۔ پروگرام کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر جمیل اصغر جامی (ڈین، فیکلٹی آف لینگویجز) نے کی، جبکہ ماڈریٹر کے فرائض جناب قیصر زمان ورک(لیکچرار، شعبہ پاکستانی زبانیں) نے انجام دیے۔ سیمینار کا آغاز ڈاکٹر فاروق انجم (صدر، شعبہ پاکستانی زبانیں) کے افتتاحی کلمات سے ہوا، جنہوں نے سیمینار کے مقصد اور اس کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے مقامی زبانوں کی ترویج اور تحفظ پر زور دیا۔ انہوں نے ریکٹر نمل، ڈی جی اور ڈین، فیکلٹی آف لینگویجز کا خصوصی شکریہ ادا کیا، جن کی سرپرستی اور رہنمائی کی بدولت ایسے علمی پروگرام ممکن ہو پاتے ہیں۔

اس کے بعد جناب ناصر بشیر (سینئر انسٹرکٹر، شعبہ پاکستانی زبانیں) نے بلوچی زبان، بلوچ ثقافت اور ادب پر جامع مگر مختصر گفتگو کی۔ انہوں نے بلوچی زبان کے مختلف لہجوں کا حوالہ دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ مکرانی لہجے پر زیادہ کام ہو رہا ہے، کتابیں شائع کی جا رہی ہیں اور مختلف علمی و ادبی پروگرام بھی منعقد کیے جا رہے ہیں، مگر دیگر بلوچی لہجوں پر بہت کم تحقیق ہوئی ہے۔ انہوں نے اس پہلو پر مزید کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے بعد جناب رازق راج (لیکچرار، شعبہ پاکستانی زبانیں، اسلام آباد) نے بلوچی زبان، ثقافتی روایات اور بلوچی ادب کے ارتقا پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بلوچی زبان کوتعلیمی نصاب میں شامل کرنے اور سرکاری سطح پر نمائندگی دینے کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ یہی اقدامات اس زبان کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس کے بعد جناب چراگ وداد، لیکچرار شعبہ پاکستانی زبانیں،نے بلوچی ثقافت کے ایک اہم جزو بیرگیری اور پناہ گیری پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے تاریخ سے میر چاکر رند اور میر گوہرام لاشاری کے تیس سالہ جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جب بیبگر نے میر گوہرام سے پناہ طلب کی، تو اس نے اپنی تمام دشمنی بھول کر اسے پناہ دے دی۔ یہ واقعہ بلوچ ثقافت کی وسعت، روایات اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کی واضح مثال ہے، جو آج بھی بلوچ سماج میں دیکھنے کو ملتی ہے۔

آخر میں پروفیسر ڈاکٹر جمیل اصغر جامی نے سیمینار کی اہمیت پر تفصیل سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ زبان کسی بھی قوم کی شناخت اور ثقافت کی بنیاد ہوتی ہے، اور ہمیں اپنی علاقائی زبانوں کے تحفظ اور فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں میں مقامی زبانوں کی تدریس اور تحقیق کو فروغ دیا جائے تاکہ نئی نسل اپنی زبان اور ثقافت سے جڑی رہے۔ انہوں نے شعبہ پاکستانی زبانیں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی ایسے علمی و تحقیقی سیمینار منعقد کیے جاتے رہیں گے، تاکہ زبان و ثقافت پر تحقیق کا عمل جاری رہے اور نئی نسل اس سے مستفید ہو سکے۔

سیمینار کے اختتام پر تمام شرکاء کے ساتھ گروپ فوٹو لیا گیا اور یوں یہ معلوماتی اور فکر انگیز نشست اختتام پذیر ہوئی۔ یہ سیمینار بلوچی زبان، ثقافت اور ادب کے فروغ کی جانب ایک مثبت قدم تھا، اور اس کی سفارشات مستقبل میں بلوچی زبان پر مزید تحقیقی کام کے لیے راہ ہموار کریں گی۔

Photos from Department of Pakistani Languages, NUML, Islamabad's post 24/02/2025

شعبۂ پاکستانی زبانیں، نمل کے زیر اہتمام آج ایک اہم وبینار کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف زبانوں کے ماہرین اور اسکالرز نے مادری زبانوں کی اہمیت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس وبینار کا آغاز محترمہ فرخندہ جبین نے کیا، جو اس پروگرام کی ماڈریٹر تھیں۔ انہوں نے مادری زبانوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور مقررین کو اپنے خیالات کے اظہار کے لیے دعوت دی۔

صدر شعبہ، ڈاکٹر فاروق انجم نے اپنے خطاب میں نمل کے ریکٹر، ڈی جی، اور ڈین فیکلٹی آف لینگویجز کا شکریہ ادا کیا کہ وہ ہر ایسے علمی اور تحقیقی پروگرام میں بھرپور تعاون فراہم کرتے ہیں اور ہماری حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

اس وبینار میں رازق راجؔ، لیکچرار شعبہ پاکستانی زبانیں، نے "مادری زبان: قومی تشخص اور ترقی کا ستون" کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے مادری زبان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کرنے پر زور دیا۔
بعد ازاں، گورنمنٹ کالج لاہور کے اسسٹنٹ پروفیسر، ڈاکٹر افتخار احمد نے پنجابی زبان میں خطاب کیا اور کہا کہ جو افراد اپنی مادری زبان نہیں بولتے، وہ جسمانی طور پر زندہ تو رہ سکتے ہیں مگر جذباتی طور پر نہیں۔
سنگت رفیق، جو جامعہ بلوچستان، کوئٹہ میں بلوچی زبان کے لیکچرر ہیں، نے بلوچی زبان کی موجودہ صورتحال پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچی زبان کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر اس کی ترقی کے لیے مزید سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بلوچی اکیڈمی، کوئٹہ کا بھی ذکر کیا اور اس کی سالانہ گرانٹ میں ہونے والی کمی پر تشویش کا اظہار کیا۔

پروگرام میں اساتذہ اور طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔ وبینار کے اختتام پر شرکاء نے اساتذہ کے ساتھ گروپ فوٹو سیشن میں حصہ لیا۔ آخر میں صدر شعبہ، ڈاکٹر فاروق انجم نے تمام مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے اس علمی نشست کو باضابطہ طور پر ختم کیا۔

23/02/2025

شعبۂ پاکستانی زبانیں کل ایک اہم وبینار بعنوان "مادری زبانیں" منعقد کرنے جا رہا ہے۔ اس وبینار کا مقصد مادری زبانوں کی اہمیت، ان کے تحفظ اور ترقی کے امکانات پر علمی و تحقیقی گفتگو کرنا ہے۔ ماہرینِ لسانیات، اساتذہ، محققین اور طلبہ اس علمی نشست میں شریک ہوں گے، جہاں زبانوں کی موجودہ صورتِ حال، ان کے درپیش مسائل اور ان کے فروغ کے لیے ممکنہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ یہ وبینار مادری زبانوں کے فروغ کے حوالے سے ایک مؤثر علمی و فکری مکالمے کو جنم دے گا اور اس سے زبان و ثقافت کے متعلق آگہی میں اضافہ ہوگا۔

Want your school to be the top-listed School/college?

Telephone

Website

Opening Hours

Monday 08:00 - 01:30
Tuesday 08:00 - 01:30
Wednesday 08:00 - 01:30
Thursday 08:00 - 01:30
Friday 08:00 - 01:30