13/04/2023
ضبط اپنی جگہ مگر اداسی تخت الٹ سکتی ہے.
Come on ppl share our page and invite your friends....If you like poetry just hit like my page and Enjoy poetry ♥ :)
@[325847044171896:]
Yeh mehloon, yeh takhton, yeh taajoon ki dunya
Yeh insaan k dushman samajon ki dunya
Yeh dolat k bhokhy rawaajon ki dunya
Yeh dunya agr mil b jaye tu kya ha
Yeh dunya agr mil b jaye tu kya ha
Har ek jisam gayal har ek rooh payaasi
Nigahun me uljan dilon me udaasi
Yeh dunya ha ya aalam e badhawaasi
Yeh dunya agr mil b jaye tu kya ha
Yeh dunya agr mil b jaye tu kya ha
Yahan ek dhoka ha in
13/04/2023
ضبط اپنی جگہ مگر اداسی تخت الٹ سکتی ہے.
عید کا دِن تھا، لوگ عید نماز پڑھ کے واپس آ رہے تھے،
راہ میں کھڑا ایک مجذوب ہر اِک سے پوچھتا،
"سئیں، عید کڈاں..!؟"
لوگ ہنستے اور کہتے،
"او سائیں تیکُوں نہیں پتہ کیا، عید تاں اج ہے."
ایسے میں خواجہ غلام فرید (رح) وہاں سے گزرے تو مجذوب نے آپ سے وہی سوال کیا!
"سئیں، عید کڈاں..!؟"
خواجہ غلام فرید (رح) نے فرمایا،
"یار ملے جڈاں."
مجذوب رونے لگا، اور گویا ہوا،
"حضور! یار ملے کڈاں..!؟"
حضرت خواجہ غلام فرید سرکار (رح) نے فرمایا،
ایہُو "مَیں" مرے جڈاں.
مجذوب نے روتے ہوۓ عرض کی،
"حضور! ایہہ "مَیں" مرے کڈاں..!؟"
حضرت خواجہ غلام فرید (رح) مُسکراۓ، مجذوب کے کندھے پہ تھپکی دی اور یہ کہتے ہوۓ چل دیے،
" یار چاہے جڈاں."
ہم کیا کسی کے حسن کا صدقہ اترتے
ایک زندگی ملی ہے وو خیرات کی ترح..
01/08/2019
07/04/2019
تمہیں کیوں اتنی جلدی تھی؟
مرا اقرار سن لیتیں ، مرا اظہار سن لیتیں
کہ اب فرصت ہی فرصت ہے
کہ اب معمول میں میرے، فقط تم سے محبت ہے
مگر یہ بھی حقیقت ہے
کہ میں تاخیر سے پہنچا
تمہیں جانے کی جلدی تھی
وہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔
عجب بات ہے کہ وہ تکلیف دور نہیں کرتا اور برداشت کرنے والوں کے ساتھ رہتا اور تکلیف بھیجنے والا بھی خود ہی.....بس یہی انسانی عظمت کا راز ہے ۔ انسان کی تسلیم و رضا کا روشن باب ، انسان کی انسانیت کا ارفع مقام کہ وہ سمجھ لے کہ ، تکلیف دینے والا ہی راحتِ جاں ہے......یہ زندگی اُسی کی دی ہوئی ہے اُسی کے حکم کی منتظر ہے.......وجود اُس کا بنایا ہوا اُسی کے امر کےتابع ہے........وہ ستم کرے تو، ستم ہی کرم ہے ۔
وہ تکلیف بھیجے تو یہی راحت ہے ۔
وہ ذات ہمارے جسم کو اذیت سے گزارے ، تو بھی یہ اُسکا احسان ہے ۔
حضرت واصف علی واصف رح
یہ اہل ہجر ، یہ راتوں کو جاگنے والے!!!!!
یہ خود سے دور کہیں زندگی گزارتے ہیں
زندگی صرف ریاضی کا عدد نہیں
تحریر: محمد عامر خاکوانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوشل میڈیا کے دوسرے فائدے نقصان اپنی جگہ ،مگر لکھنے والوںکو ایک سہولت مل جاتی ہے کہ وہاں بہت سے ایسے آرٹیکلز، کالمز اور ریسرچ رپورٹیں بھی پڑھنے کو مل جاتی ہیں، جو ممکن ہے ویسے نہ دیکھی جائیں۔ فیس بک استعمال کرنے والے عموماً اپنی پسندکی تحریریں شیئر کرتے رہتے ہیں، انگریزی اخبارکے آرٹیکل،فیچر رپورٹس وغیرہ۔کچھ عرصہ قبل ایک ایسی ہی ایک نئی ریسرچ رپورٹ نظر سے گزری ، دلچسپ لگی تو اسے کمپیوٹر میں محفوظ کر لیا۔ ریسرچ کے مطابق انسانی زندگی صرف عدد کا نام نہیں۔ مثلاً اگر تاریخ پیدائش کے لحاظ سے کچھ افراد کی عمر 30 سال ہے تو ضروری نہیں ہے کہ وہ سب حقیقتاً 30 سال ہی کے ہوں گے۔ ان میں سے کچھ لوگوں کی اصل عمر 30 سال سے کہیں کم اور کچھ کی 30 سال سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔
ہمارے روزمرہ کے مشاہدے میں ایسے بے شمار کیس آتے ہیں۔ دوست احباب ، رشتے داروں ، جاننے والوں یا بسا اوقات کسی معروف کھلاڑی،شوبز سیلیبریٹیز میں ایسے لوگ ملتے ہیں، لگتا ہے جیسے ان کی عمر ٹھیر گئی ہو۔ وہ اپنی اصل عمرسے برسوں کم نظر آئیں گے۔ ہمارے روزنامہ نائنٹی ٹوکے میگزین میں کرکٹر رمیز راجہ پر مضمون شائع آیا ہے ، ان کی تصاویر دیکھ کر واقعی ایسے لگا جیسے گزرتی عمر نے رمیز کا کچھ نہیں بگاڑا۔میاں بیوی کی ایک تصویر بھی شائع ہوئی ، جس میں ان کی اہلیہ محترمہ اپنی فطری عمر کے مطابق اور شوہر نامدار ان سے خاصے چھوٹے لگ رہے تھے، حالانکہ دونوں ایک ہی کلاس میں پڑھتے تھے اور یقینا ہم عمر ہی ہوں گے۔ ہمارے زمانے کے پی ٹی وی کے کئی فنکار آج بھی پہلے کی طرح تروتازہ نظر آتے ہیں۔ ماہ نو ر بلوچ جو آج سے بیس پچیس سال پہلے بھی پختہ ہیروئن تھیں، آج انہیں دیکھا جائے تو لگتا ہے جیسے پچیس کی جگہ ان میں صرف پانچ برسوں کا اضافہ ہوا ہو۔ اگلے روز اخبار میں بھارتی اداکار شیکھر سمن کی تصویر دیکھی، جس میںان کے شاندار باڈی مسلز نظر آ رہے تھے۔ شیکھر سمن نے اپنے بارے میں خود کہا کہ لگتا ہے میں دوبارہ جوان ہو رہا ہوں۔
یہ سب کیسے ہوتا ہے؟یقیناًکچھ فیکٹر موروثی خصوصیات کا بھی ہے۔ عام طورسے ہم کہہ دیتے ہیں کہ فلاں شخص جتنا کھائے، وہ موٹا نہیں ہوتا، اس کی ہڈی ہی ایسی ہے۔یہ موروثی خصوصیت ہے، میٹابولزم تیز ہونا اس کا سبب ہے، جس کے باعث اس کی چربی پگھل جاتی ہے، موٹاپا نہیں چڑھتا۔ اس کے لئے مگر کچھ قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔ زندگی میں ڈسپلن رکھنے والے لوگ اپنے ہم عصروں سے مختلف ہوتے ہیں۔ کم خوراک کھانے اور پیدل چلنے کی عادت رکھنے والے بہت سی ایسی بیماریوں سے بچے رہتے ہیں، جن کا میرے جیسے خوش خوراک نشانہ بن جاتے ہیں۔ مزے دار نہاریوں، ہریسے، پائے، بھنے گوشت، دنبہ کڑھائیوں، انواع واقسام کے کباب، تلوں والے کلچے اور رس ملائی، حلوہ جات کھانے کی کچھ قیمت تو ادا کرنی چاہیے۔ یہ تو قدرت کا انصاف ہی ہے۔
خیر با ت ریسرچ کی ہور ہی تھی، رپورٹ کے مطابق ،”ہماری روزمرہ گفتگو میں اور شناختی دستاویزات میں عمر کا لفظ کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ لیکن، سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ عمر محض ایک ہندسہ ہے اور اس عمر کی حقیقت، جس کا تعلق ہماری تاریخ پیدائش سے ہے، فریب نظر کے سوا کچھ نہیں۔سائنس دان کہتے ہیں انسان کی اصل عمر اس کی بائیولاجیکل ایج یعنی حیاتیاتی عمر ہوتی ہے۔ یعنی اس کے جسمانی خدوخال اور اعضائے رئیسہ کس رفتار سے وقت کا سفر طے کر رہے ہیں اور یہ سفر ان کے اندر کیا تبدیلیاں لا رہا ہے۔ آپ نے بھی محسوس کیا ہوگا کہ کچھ لوگ اپنی تاریخ پیدائش کے لحاظ سے زیادہ بڑے دکھائی دیتے ہیں اور کچھ پر یہ گمان ہوتا ہے کہ جیسے ان کی عمر کسی ایک مقام پر آکر ٹھیر گئی ہے۔ یہی اس شخص کی حیاتیاتی عمر ہوتی ہے۔“
یہ تفصیلی ریسرچ نیشنل اکیڈمی آف سائنسز، واشنگٹن کے جریدے میں شائع ہوئی اوراس میں کنگز کالج، لندن اور امریکہ کی ڈیوک یونیورسٹی کے پروفیسرز نے حصہ لیا۔ سائنسی مطالعے میں 954 رضاکاروں کو موضوع بنایا گیا۔ ان تمام افراد کا تعلق نیوزی لینڈ کے شہر ڈنیڈن (Dunedin) سے تھا اور وہ سب 1972ءاور 1973ءکے دوران پیدا ہوئے تھے۔کیلنڈر کے لحاظ سے اس وقت ان کی عمریں 38 سال ہیں، لیکن، جب انہیں بائیولاجیکل ایج کے پیمانے پر پرکھا گیا تو ان کی عمریں 28 سال سے لےکر 61 سال تک نکلیں۔تقریباً 35 سال تک جاری رہنے والی اس تحقیق میں یہ جاننے کے لیے کہ رضاکاروں کی بائیولاجیکل ایج کس رفتار سے بڑھ رہی ہے یا دوسرے لفظوں میں وہ کتنی تیزی سے بڑھاپے کی جانب بڑھ رہا ہے، چھبیس، بتیس اور اڑتیس کی عمر میں ان پر تجربات کیے گئے۔سائنس دانوں کو پتا چلا کہ بعض افراد کی حیاتیاتی عمر ایک کیلنڈر سال میں تین سال تک بڑھی، کچھ رضاکاروں کی عمر بڑھنے کی رفتار ایک کیلنڈرسال میں بارہ مہینوں سے کم تھی جب کہ اکثریت کی عمر میں ایک کیلنڈرسال کے دوران بارہ مہینے کا اضافہ ہوا۔جن رضاکاروں کی عمر بڑھنے کی رفتار تیز تھی، وہ اپنے دوسرے ساتھیوں کے مقابلے میں عمر رسیدہ دکھائی دیے، جب کہ جن کی عمر میں اضافے کی رفتار سست تھی، وہ اپنی عمر سے چھوٹے لگے۔ماہرین کو پتا چلا کہ رضاکاروں کی حیاتیاتی گھڑی کی رفتار یعنی عمر بڑھنے کا تعلق زیادہ تر ان کے طرز زندگی اور گرد و پیش کے ماحول سے تھا۔تحقیق میں ایسی 18 چیزوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو انسان کی عمر بڑھنے کی رفتار پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ ان میں اعضائے رئیسہ کی کارکردگی، خون کا دباو¿، کولیسٹرول اور شوگر کی سطح سمیت، نیند کا دورانیہ، ورزش، ذہنی دباو¿، کام کرنے کی جگہ اور گھر کا ماحول اور تمباکو اور الکوحل کے استعمال کی مقدار شامل ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انسانی ڈی این اے کی ساخت اس کے telomere کی لمبائی بھی عمر بڑھنے کی رفتار اور زندگی کی طوالت پر اثرانداز ہوتی ہے۔ لیکن، اس عمل میں اس کا حصہ محض بیس فی صد کے لگ بھگ ہے، جب کہ دیگر اسی فی صد عوامل کا تعلق ہماری صحت، عادات اور گرد و پیش کے ماحول سے ہے۔
یہ ریسرچ کئی اہم پہلوﺅں کو سامنے لاتی ہے اور درست بات یہی ہے کہ ہمیں اپنے لائف سٹائل میں ایسی تبدیلیاں لانی چاہئیں جو ایک طرف بائیولوجیکل عمر کو ٹھیرا دے اور اس کے ساتھ اچھی صحت کی وجہ سے کوالٹی آف لائف بھی مل سکے۔ ایک پہلو اور بڑا اہم ہے کہ انسان کی فکری عمر کیا ہے ،اس میں کس قدر اضافہ ہوتا ہے ، کون کون سے فیکٹرز ایسے ہیں جو اسے اپنے ہم عصروں سے زیادہ میچور اور ذہنی طور پر برتر بنا دیں۔ پچیس سال کے دو نوجوان یا چالیس سال کے پختہ عمر مرد جسمانی صحت میں یکساں ہو سکتے ہیں۔ اپنے جسم کا خیال کر کے، اچھی خوراک، ورزش کے ذریعے وہ ایک جیسے نظر آ سکتے ہیں، مگر کیا ان کی ذہنی عمر بھی یکساں ہے؟ ضروری نہیں کہ ایسا ہو۔کئی احباب یہ بتاتے ہیں کہ برسوں بعد انہیں اپنے آبائی گاﺅں، قصبہ یا شہر جانے کا اتفاق ہوا، اپنے ہم عمر کلاس فیلوز سے ملاقات ہوئی تو حیرت ہوئی کہ وہ ابھی تک دس پندرہ سال پرانی ذہنی ، فکری عمر میں ہیں، لگتا ہے جیسے ان کے دماغ منجمند ہوگئے، گزرتے وقت نے کوئی تبدیلی نہیں پیدا کی۔
اس پر ممکن ہے سائنس دانوں نے ریسرچ کی ہو اور باقاعدہ منضبط نتائج اخذ کئے ہوں ،مگر موٹی موٹی باتیں یہ سمجھ میں آتی ہیں کہ مسلسل مطالعہ، مشاہدہ، ایکسپوژر اور غوروفکر سے انسان اپنے ذہن کو بدل سکتا ہے۔ اوسط ذہنی صلاحیت سے وہ ذہین اور ذہین ترین لوگوں میں شامل ہوسکتا ہے۔ مطالعہ اس کے علم میں اضافہ کرتا اور تناظر وسیع کر دیتا ہے۔ مشاہدہ اسے بہت سی نئی باتوں اور جہتوں سے متعارف کراتا ہے، ایکسپوژر خاص کر بیرونی ممالک کے سفر اس کا ذہنی کینوس بڑا کر دیتے ہیں، نئے جہانوں سے وہ روشناس ہوتا ہے۔ سب سے بڑھ کر غور وفکر ہے۔ زندگی کی بنیادی حقیقتوں پر غور کرنا، ان کی حکمت کو جاننے ، سمجھنے کی سعی۔ اس مقصد کے لئے اہل علم سے ملاقات، استفادہ از حد ضروری ہے۔ زندگی واقعی صرف عدد کا نام نہیں۔ یہ آپ کے اپنے اوپر ہے کہ آپ اسے کیسے بسر کرتے ہیں؟ جسمانی عمر اور ذہنی عمر دونوں کے لئے الگ الگ انداز میں سہی، مگر بہرحال ایک نظم وضبط کے ساتھ کوشش کرنا پڑتی ہے۔ اب جو جتنا گڑ ڈالے گا، اسے ثمر بھی اتنا ہی میٹھا ملے گا۔
بــــــــــــــــــــــﻢِ ﺍﻟﻠﮧِ ﺍﻟﺮَّﺣْﻤٰﻦِ ﺍﻟﺮَّﺣِﯿْﻢِ
وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ
اور تمہیں پروردگار عنقریب وہ کچھ عطا فرمائے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے.
آج شیخ صاحب کی بیٹی کی شادی تھی۔
اور وہ بہت دکھی لگ رہے تھے۔ میں نے ان کو اضطراب میں مبتلا دیکھا تو پوچھا جناب کیا مسئلہ ہے۔ اتنی خوشی کے موقع پر آپ کیوں اس قدر پریشان دکھائی دیتے ہیں؟؟؟
۔
بولے۔۔۔لڑکے والوں نے عین موقع پر کار کی مانگ کرلی۔
میں یہ بات سن کر ششدرہ رہ گیا کہ یہ کیا ماجرہ ہے۔
لیکن دوسرے ہی لمحے شیخ صاحب نے مجھے اور حیرانگی میں ڈال دیا۔
۔
بولے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ انہوں نے گاڑی مانگ لی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بیٹی اب وہاں شادی نہیں کرنا چاہتی۔ میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ۔
بیٹی کو جب یہ بات بتائی تو وہ کہنے لگی۔۔۔ بابا جان آپ ایسے شخص سے میری شادی کروانا چاہتے ہیں جن کو مجھ سے نہیں میرے ساتھ آنے والی دولت سے محبت ہے۔ جو مجھے اپنے گھر لیجا کر ایک کونے میں پڑے میز کی طرح استعمال کریں گے۔۔ جب چائے رکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو کھسکا کر سب کے سامنے کر دیا اور جب ضرورت پوری ہوئی تو واپس کونے میں رکھ دیا۔۔
میری کیا زندگی ہوگی وہاں پر جہاں میری عزت میرے علم ہنر اور سلیقہ سے نہیں بلکہ میرے ساتھ آنے والی گاڑی، فریج، ایسی اور دوسری اشیاء سے ہوگی۔۔
کیا آپ نے مجھے اتنا سستا پیدا کیا ہے۔۔ کیا آپکی تربیت کوڑیوں کے بھاؤ بکنے کے قابل ہے۔۔ کیا میری قدر ان بے جان اشیاء سے کم ہے۔
۔
لیکن اب اگر انکار ہوگیا تو لوگ کیا کہیں گے۔۔ شیخ صاحب آبدیدہ آنکھیں لئے بولے۔۔
۔
یہ سب کر میرا دل نکلنے کو آیا لیکن خود کو سنبھال کر ان سے مخاطب ہوا۔
۔
شیخ صاحب خوش قسمت ہیں آپ جو آپکو ایسی بیٹی ملی جسے اپنی قدر و منزلت کا اندازہ ہے۔ آپکو فخر ہونا چاہیئے کہ بیٹی نے آپکو ساری زندگی کی اذیت سے چھٹکارا دلا دیا۔۔ کہاں آپ انکی روز ڈیمانڈ پوری کرتے اور کہاں خون کے آنسو روتے۔ میں تو کہتا ہوں بیٹی نے آپکا سر فخر سے بلند کردیا۔ شیخ صاحب اگر انکی ڈیمانڈ پوری کردی تو کیا گارنٹی ہے کہ وہ آپکی بیٹی کو خوش رکھیں گے؟؟؟
بیٹی کا گھر ٹوٹ جانا اس سے زیادہ تکلیف دہ ہے کہ اس کی شادی ٹوٹ جائے۔۔ جو عین شادی کے وقت ایسی ذلیل حرکت کر رہے وہ آگے جا کر کیا کریں گے۔
۔
لوگوں کی پرواہ نہ کریں ان کا کام ہے کہنا۔۔ اور دو دن میں خود بھول جائیں گے لیکن بیٹی کی تباہی ساری زندگی کا گلے کا طوق بن جائے گی۔۔ سوچ لیجئیے یہ فیصلے روز نہیں ہوتے۔۔
۔
شیخ صاحب نے جیب سے فون نکالا اور اپنے ہونے والے رشتے داروں کو ملایا۔
۔
اسلام علیکم ۔۔ جناب مجھے آپکی تمام شرائط منظور ہیں۔
۔
میں حیرانگی سے انکی طرف تکنے لگا۔ کہ یہ کیا کہہ رہیں ہیں۔۔ سمجھانے کے باوجود بھی۔
۔
اور اگلی بات نے مجھے آکیسجن فراہم کی۔ اور دم یکدم واپس آیا۔
۔
شیخ صاحب بولے کہ بارات لانے کی ضرورت نہیں بس دو عدد ٹرک سامنے لادنے کیلئے اور ایک عدد ڈرائیور کار لیجانے کیلئے بھیج دیں۔ کیونکہ میری بیٹی بکاؤ نہیں لیکن آپ کے بیٹے کی مطلوبہ قیمت میں ادا کر رہا ہوں۔۔۔۔۔ شکریہ۔
۔
اب شیخ صاحب کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔
۔
امیر ہونے کیلئے کوئی اور پیشہ اپنائیں۔۔۔ انسان کی قیمت لگانا اسلام میں حرام ہے اور اولاد کی قیمت لگانا ماں باپ کے عظیم رشتے کی توہین ۔۔