Online Quran Teaching Center

Online Quran Teaching Center

Share

LEARN TO READ THE HOLY QURAN, QAAIDAH, 6KALMAAS, SOORAH, PRAYERS, PRAYS/DUA & OTHER ISLAMIC EDUCATIO To contact us dail: 00923015623508, 00923135623508

Its a orgnization which is providing the Online Quran Teaching service to Muslims in all over the World through Online Internet at home. through this service our Muslims Brother, Sisters, Perents, Childs & anyone can learn the Quran at his/her home through Online Internet.

26/05/2021

حکایت پیر چنگی رحمت اللہ علیہ
از مولانا روم رحمت اللہ علیہ
خلافتِ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک شخص خوش الحان چنگ بجایا کرتاتھا۔ اس کی آواز پر مرد،عورت اور بچے سب قربان تھے۔اگر کبھی مست ہوکر گاتاہوا جنگل سے گزرجاتا تو چرند پرند اس کی آوازسننے کے لیے جمع ہوجاتے۔رفتہ رفتہ جب یہ بوڑھا ہوا اور آواز پیری کے سبب بھدّی ہوگئی تو عشّاقِ آوازبھی رفتہ رفتہ کنارہ کش ہوگئے۔ اب جدھر سے گزرتاہے کوئی پوچھنے والانہیں۔ نام وشہرت سب رخصت ہوگئے اور فاقوں پر فاقے گزرنے لگے۔ خلق کی اس خود غرضی کو سوچ کر ایک دن بہت مغموم ہوا اور دل میں کہنے لگاکہ اے خدا! جب میں خوش آواز تھاتو مخلوق مجھ پر پروانہ وار گرتی تھی اور ہر طرف میری خاطر تواضع ہوتی تھی۔ اب بڑھاپے سے آواز خراب ہوگئی تو یہ ہوا پرست اور خود غرض لوگ میرے سایہ سے بھی گریزاں ہوگئے۔ ہائے ایسی بے وفا مخلوق سے میں نے دل لگایا۔ یہ تعلق کس درجہ پُر فریب تھا۔ کاش! میں آپ کی طرف رجوع ہوا ہوتا اور اپنے شب وروز آپ ہی کی یاد میں گزارتااور آپ ہی سے امیدیں رکھتا تو آج یہ دن نہ دیکھتا۔ پیر چنگی دل ہی دل میں نادم ہورہاتھااور آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے کہ اچانک پیر چنگی نے ایک آہ کھینچی اور خلق سے منہ موڑ کر دیوانہ وار مدینہ منوّرہ کے قبرستان کیطرف روانہ ہوگیا اور ایک پرانی و شکستہ قبر کے غار میں جابیٹھا۔ روتے ہوئے اس نے حق تعالیٰ سے عرض کیاکہ اے اللہ! آج میں تیرا مہمان ہوں ۔ جب ساری مخلوق نے مجھے چھوڑدیا تو اب بجز تیری بارگاہ کے میرے لیے کوئی پناہ گاہ نہیں ہے اور بجز تیرے کوئی میری اس آواز کا خریدار نہیں ہے، اے اللہ!آشنا بیگانے ہوچکے اور اپنے پرائے ہوچکے، اب سوائے آپ کے میری کوئی پناہ گاہ نہیں ہے، اے اللہ! میں بڑی امیدیں لے کر آپ کی بارگاہ میں حاضر ہواہوں۔ اپنی رحمت سے آپ مجھے نہ ٹھکرائیے۔
’’ اے پناہِ ما حریمِ کوئے تو
من با میدے رسیدم سوئے تو‘‘
کوئی دروازہ نہیں تیرے سوا
چھوڑ کر تجھ کو کہاں جاؤں بھلا ؟
پرانی قبرکے اس غار میں پیرچنگی اس طرح آہ وزاری میں مشغول تھااور آنکھوں سے خونِ دل بہہ رہاتھاکہ حق تعالیٰ کا دریائے رحمت جوش میں آگیا اورحضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو الہام ہوا کہ اے عمر! میرا فلاں بندہ جو اپنی خوش آوازی کے سبب زندگی بھر مخلوق میں مقبول ومحبوب رہاہے اور اب بوجہ پیری آواز خراب ہوجانے سے ساری خلقت نے اسے چھوڑدیاہے
اگرچہ زندگی بھر وہ نافرمان وغافل رہاہے لیکن میں اس کی آہ وزاری کو قبول کرتاہوں۔ کیوں کہ میری بارگاہ کے علاوہ میرے بندے کے لیے کوئی اور جائے پناہ نہیں۔ پس اے عمر! آپ بیت المال سے کچھ رقم لے کر اس قبرستان میں جائیے اور میرے بندۂ عاجزومضطر کو میرا سلام پیش کیجیے۔ پھر یہ رقم پیش کرکے کہہ دیجیے کہ آج سے حق تعالیٰ نے تجھے اپنا مقرب بنالیاہے اور اپنے فضل کو تیرے لیے خاص کردیاہے۔ اب تجھے ملولِ خاطر ہونے کی ضرورت نہیں نہ ہی مخلوق کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت ہے۔ اے عمر! میرے اس بندے سے کہہ دو کہ حق تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیے غیب سے تیری روزی کا انتظام کردیاہے ؎
قبول است گرچہ ہنر نیست است
کہ جز ما پناہِ دگر نیست است ؎
خلیفۂ وقت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس قبرِ کہنہ کے سامنے باادب کھڑے ہوئے انتظار فرمارہے تھے کہ پیر چنگی بیدار ہوں تو ان سے حق تعالیٰ کا سلام و پیام عرض کروں۔ اسی اثناء میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو چھینک آگئی جس سے پیر چنگی کی آنکھ کھل گئی۔ خلیفۃ المسلمین کو دیکھ کرغلبۂ ہیبت سے وہ کانپنے لگے کہ اس چنگ کی وجہ سے نہ جانے مجھ پر کتنے دُرّے پڑیں گے کیوں کہ عہدِ خلافتِ عمر رضی اللہ عنہ میں دُرّۂ فاروقی کی شہرت تھی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جب دیکھاکہ پیر چنگی لرزہ بر اندام ہیں تو ارشاد فرمایا کہ خوف مت کرو، میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لیے بہت بڑی خوشخبری لایاہوں
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زبانِ مبارک سے پیر چنگی کو جب حق تعالیٰ کے الطاف و عنایات اور افضال کا علم ہوا تو اس مشاہدۂ رحمتِ ذخّار سے اس پر شکر وندامت کا حال طاری ہوگیا۔ اسی کو مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎
پیر لرزاں گشت چوں ایں را شنید
دست می خائید و بر خود می تپید
بانگ می زد کائے خدائے بے نظیر !
بس کہ از شرم آبِ شر بے چارہ پیر
چوں بسے بگریست و از حد رفت درد
چنگ را زد بر زمیں و خردہ کرد
گفت اے بودہ حجابم از الٰہ
اے مرا تو راہ زن از شاہراہ
اے بخوردہ خونِ من ہفتاد سال
اے ز تو رویم سیہ پیشِ کمال
مولانا فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زبانِ مبارک سے پیر چنگی کو جب حق تعالیٰ کے الطاف وعنایات اور عطائے انعامات کا علم ہوا تو غلبۂ حیرت وشکر اور ندامت سے کانپنے لگا ، اپنے ہاتھ کو ندامت سے چبانے لگا اور اپنے اوپر غصہ ہونے لگا۔ اپنی غفلت اور حق تعالیٰ کی رحمت کا خیال کرکے ایک چیخ ماری اور کہا کہ اے میرے آقائے بے نظیر! اپنی نالائقی اور غفلت کے باوجود آپ کی رحمتِ بے مثال کو دیکھ کر میں شرم سے پانی پانی ہورہاہوں۔ جب پیر چنگی خوب رو چکا اور اس کا دردحد سے گزرگیا تو اپنے چنگ کو غصے سے زمین پر پٹک کر ریزہ ریزہ کردیااور اس کو مخاطب کرکے کہا کہ تونے ہی مجھے حق تعالیٰ کی محبت و رحمت سے محجوب رکھا تھا، تو نے ہی شاہراہِ حق سے میری راہ زنی کی تھی اور تونے ہی ستر سال تک میراخون پیا۔ یعنی تیرے ہی سبب لہو ولعب اور نافرمانی کرتے کرتے بوڑھا ہوگیااور تیرے ہی سبب میرا چہرہ حق تعالیٰ کے سامنے سیاہ تھا۔
اس مردِ پیر کی گریہ وزاری اور آہ و بکاء سے حضرت عمررضی اللہ عنہ کاکلیجہ منہ کو آرہا تھا اور آپ کی آنکھیں اشکبار ہورہی تھیں۔ آپ نے فرمایاکہ اے شخص! تیری گریہ و زاری تیری باطنی ہوشیاری کی دلیل ہے، تیری جان حق تعالیٰ کے قرب سے زندہ اور روشن ہوگئی ہے کیوں کہ حق تعالیٰ کی بارگاہ میں گناہ گار کے آنسوؤں کی بڑی قیمت ہے ؎
کہ برابر می کند شاہی مجید
اشک را در وزن با ونِ شہید
حق تعالیٰ گناہ گار بندے کے ندامت سے نکلے ہوئے ایک آنسو کو شہید کے قطرۂ خون سے ہم وزن رکھتے ہیں۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی صحبت ِ مبارکہ کے فیض سے پیر چنگی پیرِ طریقت ہوگئے اور اکابر اولیاء اللہ کی صف میں داخل ہوگئے۔
فائدہ : اس واقعے سے معلوم ہوا کہ انسان کو اپنی کسی بدحالی کی وجہ سے ناامید نہ ہونا چاہیے اور ہمیشہ حق تعالیٰ کی ر حمت سے امید وار رہنا چاہیے۔
اس واقعے سے یہ بھی معلوم ہواکہ حق تعالیٰ کے سوا جتنے تعلقات ہیں سب فانی ہیں اوران میں کچھ بوئے وفا نہیں۔ صرف حق تعالیٰ ہی کی ذاتِ پاک ایسی کریم اور حی وقیوم ہے جو ہرحال میں اپنے بندوں کی خریدار ہے۔ البتہ وہ محبت اور تعلق جو کسی کو کسی سے صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہووہ حق تعالیٰ ہی کی محبت میں داخل ہے۔

26/05/2021

ایک بادشاہ راستہ بھٹک کر کسی ویرانے میں پہنچ گیا،
وہاں جھونپڑی تھی اس جھونپڑی میں رہنے والے شخص نے بادشاہ کی بڑی خدمت کی، وہ غریب جانتا بھی نہیں تھا کہ یہ بادشاہ ہے، مسافر سمجھ کر خدمت کی، بادشاہ بہت خوش ہوا، جب جانے لگا تو اس نے اپنی انگلی سے انگوٹھی اتاری اور کہا:تم مجھے نہیں جانتے ہو کہ میں بادشاہ ہوں۔یہ انگوٹھی اپنے پاس رکھو، جب کبھی کوئی ضروت ہوگی ہمارے محل میں آجانا، دروازے پر جو دربان ہوگا اسے یہ انگوٹھی دکھا دینا، ہم کسی بھی حالت میں ہوں گے وہ ہم سے ملاقات کرادے گا۔بادشاہ چلا گیا،
کچھ دن کے بعد اس کو کوئی ضرورت پیش آئی ، تو وہ دیہاتی بڑے میاں محل کے دروازے پر پہنچے، کہا بادشاہ سے ملنا ہے، دربان نے اوپر سے نیچے تک دیکھا کہ اس کی کیا اوقات ہے بادشاہ سے ملنے کی، کہنے لگا نہیں مل سکتے، مفلس وقلاش آدمی ہے۔ اس دیہاتی شخص نے پھر وہ انگوٹھی دکھائی، اب جو دربان نے دیکھا تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، یہ بادشاہ کی مہر لگانے والی انگوٹھی آپ کے پاس ؟بادشاہ کا حکم تھا کہ یہ انگوٹھی جولے کر آئے گا ہم جس حالت میں ہو اُسے ہمارے پاس پہنچادیا جائے، چنانچہ دربان اسےساتھ لے کر بادشاہ کے خاص کمرے تک گیا، دروازہ کھلا ہوا تھا، اندر داخل ہوئے، اب یہ جو شخص وہاں چل کر آیا تھا، اس کی نظر پڑی کہ بادشاہ نماز میں مشغول ہے، پھر اس نے دعا کے لئے اپنے ہاتھ اٹھائے،اس کی نظر پڑی تو وہ وہیں سے واپس ہوگیا اور محل کے باہر جانے لگا، دربان نےکہا مل تو لو کہا اب نہیں ملنا ہے، کام ہوگیا ۔ اب واپس جاناہے تھوڑی دورچلاگیا،
جب بادشاہ فارغ ہوگیا دربان نے کہاایسا ایسا آدمی آیا تھا یہاں تک آیا پھر واپس جانے لگا بادشاہ نے کہا فوراً لے کر آو وہ ہمارا محسن ہے، واپس لایا گیا بادشاہ نے کہا آئے ہو تو ملے ہوتے ایسے کیسے چلے گئے؟ اس نےکہا کہ بادشاہ سلامت !اصل بات یہ ہے کہ آپ نے کہا تھا کہ کوئی ضرورت پیش آئے تو آجانا ہم ضرورت پوری کردیں گے۔مجھے ضرورت پیش آئی تھی میں آیا اور آکر دیکھا کہ آپ بھی کسی سے مانگ رہے ہیں ، تو میرے دل میں خیال آیا کہ بادشاہ جس سے مانگ رہا ہے کیوں نہ میں بھی اسی سے مانگ لوں۔*
*یہ ہے وہ چیزکہ ہمیں جب کبھی کوئی ضرورت ہو بڑی ہو یا چھوٹی ٬اس کا سوال صرف اللہ پاک سےکیاجائےکہ وہی ایک در ہےجہاں مانگی ہوئی مرادملتی ہے ۔*

*جو چاہئے سو مانگیے

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Karachi Flates
Islamabad
46000

Opening Hours

Monday 18:00 - 23:55
Tuesday 18:00 - 23:55
Wednesday 18:00 - 23:55
Thursday 18:00 - 23:55
Friday 18:00 - 23:55
Saturday 08:00 - 22:55
Sunday 08:00 - 22:55