Health Tips and Secrets- Pakistan ہیلتھ ٹپس اینڈ سکرٹس

Health Tips and Secrets- Pakistan ہیلتھ ٹپس اینڈ سکرٹس Health is wealth is our moto. We share good tips and secrets of health for you. Dr. Noor
شوابے ہومیو Dr. M. www.homeopathypakistan.blogspot.com

Noor Asi, the founder Chairman of Homeopathy for Humanity Society International , has been working for the betterment of Homeopathy and Herbal Treatment Systems. This page has been created for sharing the knowledge, clinical experience and Tips and Secrets of Homeopathy, Herbal and Home made remedies.

14/08/2026

ورزش کا اصل فائدہ صرف وزن کم کرنا نہیں

اگر آپ ورزش کو صرف وزن کم کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں تو آپ اس کے ایک بڑے فائدے سے محروم ہیں۔

ورزش اور جسمانی سرگرمی کا تعلق صرف ترازو پر نظر آنے والے ہندسوں سے نہیں۔

جب انسان باقاعدگی سے جسم کو حرکت دیتا ہے تو اس کا فائدہ جسمانی صحت کے ساتھ ذہنی کیفیت، روزمرہ توانائی، جسمانی fitness اور مجموعی wellbeing تک پہنچتا ہے۔

اور یہاں ایک عام غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے:

Physical activity صرف gym میں ہونے والی exercise کا نام نہیں۔

تیز قدموں سے چلنا، سائیکل چلانا، تیراکی، کھیل، سیڑھیاں چڑھنا، بعض گھریلو کام اور روزمرہ زندگی کی کئی جسمانی سرگرمیاں بھی physical activity میں شمار ہوتی ہیں۔ WHO بھی واضح کرتا ہے کہ جسمانی سرگرمی صرف باقاعدہ ورزش تک محدود نہیں بلکہ transport، کام، leisure اور household activities بھی اس میں شامل ہو سکتی ہیں۔

بالغ افراد کے لیے WHO ہفتے میں کم از کم 150 سے 300 منٹ moderate-intensity aerobic activity یا اس کے مساوی vigorous activity کی سفارش کرتا ہے۔ اس کے ساتھ بڑے muscle groups کو شامل کرنے والی muscle-strengthening activities ہفتے میں کم از کم دو دن کرنا بھی مفید ہے۔

لیکن اگر آپ آج بالکل inactive ہیں تو یہ نہ سوچیں کہ:

"اب مجھے روزانہ ایک گھنٹہ gym میں گزارنا ہوگا۔"

نہیں۔

شروع چھوٹا کریں۔

آج 15 منٹ چہل قدمی کریں۔
کل اسے 20 منٹ کر دیں۔
کام کے دوران کچھ دیر بیٹھنے کے بعد اٹھ کر چلیں۔
لفٹ کے بجائے کبھی سیڑھیاں استعمال کریں۔
اپنی روزمرہ زندگی میں movement کے چھوٹے مواقع تلاش کریں۔

جسم حرکت کو پہچانتا ہے، چاہے وہ gym میں ہو یا زندگی کے عام راستوں پر۔

ایک اور اہم بات: ورزش کو سزا نہ بنائیں۔

ایسی سرگرمی منتخب کریں جسے آپ طویل عرصے تک جاری رکھ سکیں۔ کسی کے لیے brisk walking بہترین آغاز ہے، کسی کے لیے cycling، کسی کے لیے swimming اور کسی کے لیے strength training۔

صحت میں کامیابی اس دن نہیں ملتی جب ہم ایک سخت workout مکمل کرتے ہیں۔

اصل کامیابی اس وقت شروع ہوتی ہے جب حرکت ہماری زندگی کا مستقل حصہ بن جاتی ہے۔

آج اپنے جسم سے صرف ایک سوال کریں:

"میں اسے آج کتنی دیر حرکت دوں گا؟"

اور پھر جواب عمل سے دیں۔

#نوریات
#
HealthyLifestyle

اگر آپ کو دل، جوڑوں، سانس یا کسی chronic condition کا مسئلہ ہے تو نئی exercise routine شروع کرنے سے پہلے اپنے healthcare professional سے مناسب رہنمائی لیں۔

13/08/2026

نیند — جسم کی خاموش ضرورت

آپ کا جسم رات کو صرف آرام نہیں کرتا، خود کو سنبھالتا بھی ہے۔ 🌙

ہم اکثر نیند کو وقت کا ضیاع سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ اچھی نیند صحت مند زندگی کا بنیادی حصہ ہے۔

بالغ افراد کے لیے عموماً کم از کم 7 گھنٹے کی نیند کی سفارش کی جاتی ہے۔ حالیہ CDC data میں بھی بتایا گیا ہے کہ تقریباً 10 میں سے 3 امریکی بالغ افراد اوسطاً 7 گھنٹے سے کم سوتے ہیں، جبکہ نیند کی دشواریاں بھی عام ہیں۔

اگر آپ اپنی نیند بہتر بنانا چاہتے ہیں تو:

رات کو سونے اور صبح اٹھنے کا وقت تقریباً ایک جیسا رکھیں۔
سونے سے پہلے موبائل اور مسلسل screen exposure کم کریں۔
رات دیر سے بہت بھاری کھانے سے گریز کریں۔
دن کے وقت جسمانی سرگرمی رکھیں۔
اور سب سے اہم، نیند کو "بعد میں پورا کر لیں گے" والی چیز نہ سمجھیں۔

ایک اچھی رات کی نیند اگلے دن کے مزاج، توجہ اور روزمرہ کارکردگی کے لیے اہم بنیاد فراہم کرتی ہے۔

اچھی صحت کا آغاز کبھی کبھی دوا سے نہیں، وقت پر سو جانے سے ہوتا ہے۔ 🌙

03/08/2026

دعا کی قبولیت کا ایک دل چھو لینے والا سچا واقعہ
راوی ۔۔ ایک خاتون ۔۔ جس کا بچہ بصارت سے محروم تھا

خاتون ایک وعظ کی محفل میں موجود تھیں جہاں اس کی ایک جاننے والی اسے لے گئی تھی ۔۔ وہاں عالم تقریر کر رہے تھے اور کہ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آگے کا واقعہ خاتون کی زبانی سنئے ۔

”امام بخاری پیدا ہوئے تو نابینا تھے"
میں چونکی اورسیدھی ہو کر بیٹھ گئی،کیوں کہ میرے ایک بیٹے کی آنکھوں میں بھی ایک بڑا مسئلہ تھا جو کسی ڈاکٹر سے حل نہیں ہو رہا تھا ۔
”آپ جانتے ہیں کہ امام بخاری کون تھے؟“
”ہونہہ،ہو گئیں مولویانہ باتیں شروع ،انہی گھسی پٹی باتوں کو سنانے کے لیے یہ زینت مجھے یہاں گھسیٹ لائی ہے، پتا بھی ہے کہ میں ان مولویوں کی باتوں پر یقین نہیں کرتی مگر خود بھی ملانی بن رہی ہے اور میرا بھی ٹائم خراب کررہی ہے۔ “
میں نے قریب بیٹھی زینت کوغصے سے گھورتے ہوئے زیر لب کہا، جو گردو پیش سے بے نیاز بیان میں منہمک تھی ۔
مولاناکا لہجہ نہایت نپا تلا تھا ، لیکن میرے ذہن میں مولویوں کی ایک مخصوص متعصبانہ تصویر بنی ہوئی تھی جس کی وجہ سے میں ان کی کسی بات سے متاثر نہیں ہو سکتی تھی۔
”امام بخاری حدیث کے وہ استاد ہیں کہ جن کی کتاب ”بخاری شریف “ پڑھے اور سیکھے بغیر کوئی عالم نہیں بن سکتا.... “
”اچھا اتنی بڑی کتاب ہے بخاری شریف ! ہمیں تو کورس میں اس کتاب کا تھوڑا سا تعارف کروایا گیا تھا کہ اچھی کتاب ہے، اس کامطالعہ کرتے رہنا چاہیے....اچھا اس کا مطلب ہے کہ یہ مولانا بھی بخاری شریف پڑھے ہوئے ہیں۔“میں نے خود کلامی چھوڑی اور بیان سننے میں مگن ہو گئی۔
”امام بخاری پیدائشی نابینا تھے، یعنی انہیں آنکھوں سے نظر نہیں آتا تھا۔ ان کی ماں کو اس کا بے حد غم تھا، وہ بہت روتی تھیں، لیکن ہماری طرح عاملوں کے پاس نہیں بھاگی پھرتی تھیں، بلکہ سبب کے درجے میں انہوں نے اس وقت کے سارے رائج علاج بھی کروائے جو ناکام ہو گئے اوراس فاعل حقیقی اور مسبب الاسباب کے سامنے روتی بھی رہیں، گڑگڑاتی رہیں.... “
”ان مولویوں کو دیکھو ،جس کو چاہیں رلا دیں.... “ میں نے سر ہلایا۔
”دو برس کے بعد ان کی والدہ کو خواب آیا....“
”خواب گھڑنا تو کوئی ان سے سیکھے !“ سوال جواب ختم ہی نہیں ہو رہے تھے۔ میں نے سر جھٹکا اور تعو ذ پڑھنے کی کوشش کی۔
”خواب میں انہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زیار ت ہوئی، ان کی ماں کو مخاطب کر کے خلیل اللہ نے فرمایا :
”اللہ نے تیرے بیٹے کی بصارت واپس لوٹا دی۔“
مولانا کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگئے۔ چاروں طرف سے سبحان اللہ سبحان اللہ کی صدائیں آنے لگیں۔ میرے دل پر ایک چوٹ سی لگی۔ گود میں سوئے ہوئے چار سالہ احمد کے معصوم چہرے پر نظر پڑی اور اسی لمحے میرے منطقی دل کی ساری منطق گویا بھاپ بن کر اڑ گئی۔ میرا ممتا بھرا دل بے اختیار بھر آیا اور پھر دل سے آواز ابھری۔
”تم اس کی آنکھیں اپنے اللہ سے واپس لے سکتی ہو ؟“
اس جملے کی گونج اتنی تھی کہ میں بیان سننا بھول گئی۔ پتا نہیں مولانا نے اور کیا کچھ کہا ، مگر میری نظریں اپنے احمد کے معصوم سے چہرے پر جم کر رہ گئی تھیں۔
20مئی 2007ء کو احمد پیدا ہوا تھا۔ سارے خاندان میں خوشیاں منائی گئیں تھیں۔ ڈھول دھمکے نے پورے علاقے کو سر پر اٹھا لیا تھا۔ پورے علاقے میں ہم نے مٹھائیاں تقسیم کی تھیں، لیکن جب احمد تھوڑاسا بڑا ہوا تو انکشاف ہوا کہ احمدکی خوبصورت آنکھیں بینائی سے محروم ہیں ۔ ہم نے آغا خان میں پاکستان کے سب کے بڑے آئی اسپیشلسٹ ڈاکٹر اعظم علی کو دکھایا ۔
”ڈاکٹر اعظم علی کا رزلٹ سو فیصد ہے ....ان کے علاج سے ضرورآرام آجائے گا ۔ “میرے ساتھ ویٹنگ روم میں بیٹھی ایک عورت نے بتایا ۔
”اچھا....!! “میں صرف اتنا ہی کہہ سکی، کیوں کہ میرے ضبط کے بندھن ٹوٹنے لگے تھے۔
”باجی! رو مت ، اللہ خیر کرے گا۔“
”اللہ تو خیر ہی کرتا ہے ،لیکن میرے بیٹے کی بینائی معلوم نہیں کون سی خیر میں چلی گئی!“میں نے شکوہ کیا۔
”باجی! اللہ سے شکوہ نہیں کرتے ہوتے۔ “
”احمد علی.... “ نرس نے چیکنگ کے لیے پکارا تومیں احمد کو لے کر اندر چلی گئی۔اسے دوا پلا کر بے ہوش کیاگیا اور تقریبا ً دو گھنٹے چیک اپ ہوتارہا۔ دو گھنٹہ بعد ڈاکٹراعظم ہماری طرف آئے۔
” مجھے شدید افسوس ہے ،آپ کے بچے کی آنکھ کاپردہ پیدائشی طور پر بے جان ہے۔ “
یہ الفاظ تھے یا ایٹم بم تھا ۔میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور میں گر کر بے ہوش ہوگئی۔ مجھے نرسوں نے سنبھال کر بیڈ پر لٹا دیا۔
”سر !ہو سکتا ہے کہ....کہ آپ سے چیک اپ میں کوئی مسئلہ ہو گیا ہو!“یہ میرے شوہر کی آواز تھی۔
” بھائی! میں نے پندرہ برس آنکھ کے پردے پر کام کیا ہے، مجھے اتنا بھی نہیں معلوم ہو گا کہ پردہ زندہ ہے یا مردہ!؟ “ ڈاکٹر صاحب نے مشفقانہ لہجے میں کہا۔
”یعنی ....یعنی اب کچھ نہیں ہو سکتا؟“میرے شوہر نے کہا۔ان کی آواز بھی آنسوو ں سے بوجھل تھی۔
”آپ ایک سال بعد دکھائیں،یہ تھوڑا بڑا ہو گا تو پھر مزید دیکھیں گے ،مجھ سے جو ہو سکے گا ضرو ر کروں گا۔“ ڈاکٹراعظم یہ کہہ کر چلے گئے۔صاف لگ رہا تھا کہ انہوں نے طفل تسلی دی ہے۔ مجھے میرے شوہر وہیل چیئر پر ڈال کر گاڑی تک لائے۔ اس کے بعدبھی ہم نے بہت سے چھوٹے بڑے ڈاکٹروں کو دکھایا۔ ڈاکٹر ام محمد صاحبہ کو بھی دکھایا ۔ انہوں نے آبِ زمزم ڈالنے کا کہا ، مگر ایک برس ہو گیا، کچھ نہیں ہوا ۔
٭
” ہاں ....ہاں میں اس کی آنکھیں اپنے اللہ سے مانگوں گی....“
”کیا ہو گیا کومل ؟ کس سے باتیں کر رہی ہو؟ “
شوہر کی آواز سے میں چونکی۔مجھے پتہ ہی نہ چلا تھا کہ میں گاڑی میں خود سے باتیں کرنے لگی تھی۔
”کک ....کچھ نہیں۔“
”نہیں بھئی کچھ تو ہے! “شوہر نے اصرار کیا
”وہ دراصل زینت مجھے اپنے ساتھ ایک بیان میں لے گئی تھی۔“میں نے شوہر کو اصل بات بتانا شروع کر دیا۔
”تم اور بیان ....کس ملا کے بیان میں چلی گئی تھیں؟“انہوں نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
”پتا نہیں کون تھے؟“
”یہ ملاوں کے چکر میں مت پڑ و....“ میرے شوہر نے گاڑی کی رفتار بڑھاتے ہوئے کہا۔
”کوئی پاگل ہی اُن کے چکروں میں آئے گا....لیکن ایک کام کی بات انہوں نے بتائی ہے ....میرا اس پر عمل کا ارادہ ہے۔“ میں نے پرعزم لہجے میں کہا۔
”کیا بات کہہ دی ،جوتم جیسی ڈھیٹ کے دل میں اتر گئی۔“
”کوئی خاص نہیں بس ایک واقعہ سنایا تھا....“پھر میں نے امام بخاری والا واقعہ انہیں سنا دیا۔
وہ بھی باپ تھے۔ جب احمد کے حوالے سے انہوں نے یہ واقعہ سنا تو کچھ دیر خاموش رہے مگر اپنی عادت کے مطابق بولے:
”اپنا منہ دھو کے دعا مانگنا،وہ کوئی اور لوگ تھے جن کی اللہ سنتا تھا۔“
٭
اس کے بعد میری زندگی بالکل بدل گئی ۔ اپنے بچے کے لیے ، اس کی بینائی کی خیرات مانگنے کے لیے میں کس کس طرح نہ اپنے ربّ کے سامنے گڑ گڑائی۔ رات رات بھر تڑپی۔
میں جو اپنی مخصوص تربیت و ماحول کی وجہ سے علماءکرام کا مذاق اڑایا کرتی تھی، ان کی کسی بات پر یقین کرنا تو دور کی بات تھی، مگر اس کے باوجود امام بخاری کا یہ واقعہ اس دن گویا میرے دل کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر گیا تھا۔ مجھے کامل یقین ہو گیا تھا کہ میں بھی امام بخاری کی والدہ کی طرح رو رو کر اللہ سے مانگوں گی تو ضرور میرے بچے کو روشنی ملے گی۔ میں روتی رہی، گڑگڑاتی رہی، یوں چھ ماہ گزر گئے ۔
اور.... پھر ایک دن بیٹھے بیٹھے اچانک میرے اندر ایک ابال سا اٹھااور پھر مجھ سے بیٹھا نہیں گیا۔ میں نے ہسپتال فون کر کے ایمرجنسی میں اپائنٹمنٹ لیا اور پھر شوہر کو فون کیا۔
”سنیں جلدی سے گھر آ جائیں، ڈاکٹر کے پاس چلنا ہے.... “
”کس ڈاکٹر کے پاس؟“انہوںنے حیرت سے کہا۔
” ڈاکٹراعظم علی کے پاس اور کس کے پاس!“
”یہ اچانک کیا ہو گیا بیٹھے بٹھائے تمہیں؟ “
”چھوڑیں سب باتیں،بس ابھی گھر پہنچیں .... جلدی کریں ناں.... “شدت جذبات سے میری آواز بلند ہو گئی تھی۔ میرے اندر کی ممتا نے ایک جنون کی شکل اختیار کر لی تھی اور مجھے اپنے آپ پر کنٹرول نہیں رہا تھا۔
”ارے پاگل ہو گئی ہو کیا ،کوئی اپائنٹمنٹ تو لیا نہیں، ایسے کیسے چلے جائیں؟“
اس بار انہوں نے نہایت نرمی سے مجھے سمجھانا چاہا۔ شاید وہ میری کیفیت بھانپ گئے تھے۔
”میں نے فون پر بات کر لی ہے کہ ہم آ رہے ہیں۔ ایمرجنسی میں دکھانا ہے ۔ آپ آجائیں بس....“
یہ کہہ کر میں نے فون کاٹ دیا۔ میں نے جلدی سے احمد کو تیار کیا، عبایا اوڑھا اور زندگی میں پہلی مرتبہ نقاب لگایا۔ٹھیک بیس منٹ بعد گاڑی کے ہارن کی آواز سنائی دی۔میں نے احمد کوبے بی کاٹ میں لٹایا اور گیٹ سے باہر نکل گئی۔ مجھے دیکھ کر میرے شوہر حیرت سے گنگ ہو گئے۔تھوڑی دیر کے بعد بولے:
”تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے کیا؟ “
”ہاں.... “میں نے قدرے نارمل انداز میں مختصر جواب دیا۔ اب اندرونی ابال قدرے دب گیا تھا۔
”او حجن صا حبہ! یہ آج سورج کہاں سے نکلا ہے؟ “
میں چپ رہی۔ سارے راستے شوہر پوچھتے رہے کہ یہ بیٹھے بٹھائے تمہیں ہسپتال جانے کی کیا سوجھی مگر میں نے کچھ نہ بتایا اور بتاتی بھی کیا،بتانے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں ۔میں خود اپنی کیفیت پر حیران تھی ۔ بس ایک انجانی سی قوت تھی جو مجھ سے یہ سب کام کروا رہی تھی۔
جیسے جیسے ہسپتال قریب آ رہا تھا، میری بے چینی پھر سے بڑھ رہی تھی۔
٭
”حیرت انگیز ،ناممکن ....امپاسیبل....“ ڈاکٹر صاحب کے لہجے میں حیرت گویا کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔
”کک....کیاہوگیاڈاکٹرصاحب؟ “میرے شوہر گڑبڑا گئے۔
”آپ کے بیٹے کی آنکھ کا پردہ سو فیصد زندہ ہو گیا ہے ،میری پوری زندگی کا یہ پہلا کیس ہے ....ایسا کبھی نہیں ہوا....آپ کو بہت بہت مبارک ہو، اللہ کا شکر ادا کریں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے بیٹے کی آنکھوں کو روشنی دے دی ہے۔“
ڈاکٹر اعظم خوشی سے چہک رہے تھے۔ شاید اپنے نزدیک ایک ناممکن کو ممکن ہوتے دیکھ کر وہ بھی جذباتی ہو گئے تھے.... اور .... اور قاریات! ایک ماں کی ایسے وقت میں خوشی کی انتہاکو کون سمجھ سکتا ہے؟ شاید وہ ماں ہی سمجھ سکے، جس کا بچہ چارسال تک معذوری کی زندگی گزار کر اچانک صحت مند ہو جائے ۔میرے شوہرخوشی سے بے اختیار رونے لگے اور میرے تو خوشی سے حواس ہی مختل ہونے لگے۔ میری ہچکیاں بندھ گئیں۔ دنیا کا کوئی پیمانہ ایسا نہیں تھا، جو اس وقت میری خوشی کو ناپ سکتا۔ میرے اللہ نے اپنی ایک نہایت گناہ گار بندی کی لاج رکھ لی تھی۔ میرا تھوڑا سا رونا اس نے قبول کر لیا تھا اور میرے احمد کو اندھیروں کی جگہ جگمگاتی روشنیاں عطا کر دی تھیں۔
مجھے اپنی ٹوٹی پھوٹی دعاوں کا صلہ 6 جون2012ء کوہی مل گیا تھا۔ ہماری ساری امیدوں کا محور و مرکز ایک اللہ تعالیٰ کی ہی ذات ہے، وہ جو اپنے بندوں پر بے انتہا مہربان ہے، ستر ماوں سے بھی زیادہ! بس اس سے پورے یقین کے ساتھ مانگنے کی ضرورت ہے۔

شیئرنگ سے لیا گیا

ہم سب کسی نہ کسی کے بعد والے آدمی ہیںہم جیسے لوگوں کی ایک غلط فہمی یہ بھی ہے  کہ ہم خود کو آغاز سمجھ بیٹھتے ہیں، حالانکہ...
23/07/2026

ہم سب کسی نہ کسی کے بعد والے آدمی ہیں

ہم جیسے لوگوں کی ایک غلط فہمی یہ بھی ہے کہ ہم خود کو آغاز سمجھ بیٹھتے ہیں، حالانکہ ہم میں سے کوئی بھی آغاز نہیں۔ ہم سب کسی نہ کسی کہانی کا اگلا باب ہیں۔ ہم جس دروازے سے اندر داخل ہوتے ہیں، اس سے پہلے وہاں کسی اور کے قدموں کی آہٹ موجود ہوتی ہے۔ جس کرسی پر ہم بیٹھتے ہیں، اس کی لکڑی کسی اور کے انتظار، کسی اور کی تھکن اور کسی اور کی خاموشی سن چکی ہوتی ہے۔ جس قلم سے ہم لکھتے ہیں، اس نے پہلے بھی کسی کے خواب، کسی کے استعفے، کسی کی محبت اور کسی کی آخری درخواست لکھی ہوتی ہے۔ زندگی میں ہم پہلے آدمی نہیں ہوتے، ہم کسی نہ کسی کے بعد والے آدمی ہوتے ہیں۔
انسان کو اپنے بارے میں بہت زیادہ غرور نہیں کرنا چاہیے۔ یہ احساس آدمی کو چھوٹا نہیں کرتا، بلکہ اسے مہذب بنا دیتا ہے۔ جب انسان جان لیتا ہے کہ وہ کسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، پوری زنجیر نہیں، تو اس کے لہجے میں نرمی آ جاتی ہے۔ وہ دوسروں کی جگہ چھیننے کے بجائے اپنی جگہ سنوارنے لگتا ہے۔
کبھی کسی پرانے اسکول میں جائیے۔ دیواروں پر نیا رنگ چڑھا ہوگا، کمروں میں نئے بچے بیٹھے ہوں گے، اساتذہ بھی بدل چکے ہوں گے، مگر فضا میں کہیں نہ کہیں ان بچوں کی ہنسی اب بھی تیرتی محسوس ہوگی جو برسوں پہلے یہاں سے رخصت ہوئے تھے۔ زندگی شاید یہی ہے۔ انسان چلا جاتا ہے، مگر اس کی موجودگی پوری طرح ختم نہیں ہوتی۔ وہ آواز کی طرح نہیں، بازگشت کی طرح رہ جاتا ہے۔
ہم اپنے گھروں کو بھی صرف اپنا سمجھتے ہیں، حالانکہ گھر ہم سے پہلے بھی کسی کے تھے اور ہمارے بعد بھی کسی کے ہوں گے۔ کسی کھڑکی پر کبھی کسی ماں نے اپنے بیٹے کا انتظار کیا ہوگا، اسی کھڑکی سے آج کوئی بچہ بارش دیکھ رہا ہے، اور کل شاید کوئی بوڑھا شخص اسی کھڑکی سے شام کا سورج ڈوبتے ہوئے دیکھے گا۔ مکان وہی رہتا ہے، صرف کہانیاں بدلتی رہتی ہیں۔ دیواریں کبھی کسی ایک انسان کی نہیں ہوتیں، وہ صرف وقت کی امانت ہوتی ہیں۔
ہم سب اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم کسی کے بعد آئے ہیں۔ اسی بھول سے تکبر جنم لیتا ہے۔ ہمیں لگنے لگتا ہے کہ سب کچھ ہم سے شروع ہوا ہے۔ یہ دفتر، یہ ادارہ، یہ خاندان، یہ شہر، یہ روایت۔ حالانکہ ہم سے پہلے بھی لوگ تھے جو اتنی ہی سنجیدگی سے جیتے تھے، اتنی ہی شدت سے محبت کرتے تھے، اتنی ہی خاموشی سے روتے تھے اور ایک دن اسی خاموشی کے ساتھ چلے گئے۔
کتابیں شاید اسی لیے انسان سے زیادہ زندہ رہتی ہیں۔ آپ کسی پرانی کتاب کا پہلا صفحہ کھولیے۔ وہاں کسی کا نام لکھا ہوگا، کوئی تاریخ، شاید سیاہی سے لکھی ہوئی ایک دعا، یا کسی بچے کی بے ترتیب لکھائی۔ وہ شخص آج دنیا میں ہو یا نہ ہو، مگر اس کے ہاتھ کی جنبش اب بھی اس صفحے پر محفوظ ہے۔ ہم کتاب نہیں پڑھتے، ہم اپنے سے پہلے گزر جانے والے انسانوں کی موجودگی کو بھی پڑھتے ہیں۔ ہر کتاب دراصل یہ اعلان کرتی ہے کہ علم بھی وراثت ہے اور احساس بھی۔
درخت بھی یہی سبق دیتے ہیں۔ ایک بوڑھا برگد کبھی اپنے لیے سایہ نہیں بناتا۔ وہ ان لوگوں کے لیے سایہ بنتا ہے جنہیں شاید وہ کبھی دیکھ بھی نہ سکے۔ اس کی جڑیں ماضی میں ہوتی ہیں اور اس کی ٹھنڈک مستقبل کے نام لکھی جاتی ہے۔انسان کی زندگی بھی تب ہی خوب صورت بنتی ہے جب وہ صرف اپنے لیے نہیں جیتا، بلکہ اپنے بعد آنے والوں کے لیے بھی کچھ چھوڑ جاتا ہے۔کوئی کتاب، کوئی خیال، کوئی دعا، کوئی درخت، کوئی نرم لہجہ، یا صرف ایک اچھی یاد۔
تاریخ بتاتی ہے کہ دنیا کو بدلنے والے لوگ اکثر اپنے بعد آنے والوں کے بارے میں سوچتے تھے۔ ایک اچھا استاد اس لیے محنت نہیں کرتا کہ شاگرد ہمیشہ اسے یاد رکھیں، وہ اس لیے پڑھاتا ہے کہ ایک دن شاگرد اس سے بھی بہتر ہو جائیں۔ ایک باپ اس لیے گھر نہیں بناتا کہ وہ ہمیشہ اس میں رہے، وہ اس لیے بناتا ہے کہ اس کے بعد بھی کسی کے سر پر چھت باقی رہے۔ ایک شاعر اس لیے نہیں لکھتا کہ اس کو صرف شہرت ملے، وہ اس لیے بھی لکھتا ہے کہ شاید کوئی اجنبی برسوں بعد اس کے کسی شعر میں اپنا دل دھڑکتا ہوا محسوس کر لے۔
یہ بات اتنی اہم نہیں کہ ہم نے اپنے بزرگوں سے کیا پایا، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے ان سے ملی ہوئی امانت کا کیا کیا۔ کیا ہم نے دنیا کو ذرا سا بہتر چھوڑا، یا پہلے سے زیادہ شور، زیادہ نفرت اور زیادہ بے حسی اس کے حصے میں ڈال دی؟ ہر نسل اپنے سے اگلی نسل کے لیے موسم تیار کرتی ہے۔ اگر ہم نفرت بوتے ہیں تو ہمارے بعد والے کانٹوں پر چلتے ہیں، اور اگر ہم احترام، محبت اور دیانت کے بیج بوتے ہیں تو شاید ہمیں نہ سہی، انہیں سایہ ضرور مل جاتا ہے۔
سب سے خوب صورت احساس یہی ہے کہ ہمارے دنیا سے چلے جانے کے بعد راستے کم دشوار رہ جائیں۔ کسی کے دل میں انسان پر اعتماد کا ایک چراغ بجھنے نہ پائے۔ کسی بچے کو یہ یقین رہے کہ دنیا میں اچھے لوگ اب بھی موجود ہیں۔ بعض لوگ اپنی پوری زندگی میں کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دیتے، مگر ان کے نرم لہجے، ان کی دیانت اور ان کی شفقت نسلوں تک منتقل ہوتی رہتی ہے۔ یہ وہ سرمایہ ہے جو تاریخ کی کتابوں میں نہیں لکھا جاتا، مگر انسانوں کے رویّوں میں زندہ رہتا ہے۔
ہم سب ایک دن کسی اور کے لیے "پہلے والے آدمی" بن جائیں گے۔ ہماری کرسی پر کوئی اور بیٹھے گا، ہماری کتاب کوئی اور کھولے گا، ہمارے لگائے ہوئے درخت کے نیچے کوئی اور سانس لے گا، ہمارے گھر کی دیواروں پر کسی اور کے بچوں کی ہنسی گونجے گی۔ اس دن شاید کسی کو ہمارا نام بھی یاد نہ ہو، مگر اگر ہمارے وجود سے دنیا میں ذرا سی روشنی، ذرا سی مہربانی اور ذرا سا اعتماد بڑھ گیا، تو یہی ہماری اصل پہچان ہوگی۔
زندگی کا حسن یہی ہے کہ ہم ہمیشہ کسی کے بعد آتے ہیں اور کسی سے پہلے چلے جاتے ہیں۔ درمیان کا مختصر وقفہ ہماری ذمہ داری بھی ہے اور آزمائش بھی۔ یہی وقفہ بتاتا ہے کہ ہم نے صرف زندگی گزاری تھی یا زندگی کو اپنے بعد بھی تھوڑا سا زندہ چھوڑ گئے تھے۔

سیب کے سرکے کے فوائد اور استعمالمستند معلومات قدرت کا ایک قدیم نسخہ یا جدید تحقیق کی روشنی میں آج کل صحت سے متعلق گفتگو ...
21/07/2026

سیب کے سرکے کے فوائد اور استعمال
مستند معلومات
قدرت کا ایک قدیم نسخہ یا جدید تحقیق کی روشنی میں

آج کل صحت سے متعلق گفتگو میں اگر کسی قدرتی غذا کا نام سب سے زیادہ لیا جاتا ہے تو وہ سیب کا سرکہ (Apple Cider Vinegar) ہے۔ سوشل میڈیا پر اسے وزن کم کرنے سے لے کر شوگر، بلڈ پریشر، ہاضمے اور جلد کے مسائل تک تقریباً ہر بیماری کا علاج قرار دیا جاتا ہے۔ مگر کیا واقعی یہ دعوے درست ہیں؟ کیا سیب کا سرکہ اتنا ہی مؤثر ہے جتنا بتایا جاتا ہے، یا حقیقت اس سے مختلف ہے؟

آئیے مستند سائنسی تحقیق کی روشنی میں اس کا جائزہ لیتے ہیں۔

سیب کا سرکہ کیا ہے؟

سیب کے سرکے کو تازہ سیبوں کو خمیر (Fermentation) کے عمل سے گزار کر تیار کیا جاتا ہے۔

اس عمل کے دو مراحل ہوتے ہیں

پہلے مرحلے میں خمیر (Yeast) سیب میں موجود قدرتی شکر کو الکحل میں تبدیل کرتا ہے۔
دوسرے مرحلے میں مفید بیکٹیریا اس الکحل کو ایسٹک ایسڈ (Acetic Acid) میں تبدیل کرتے ہیں۔

یہی ایسٹک ایسڈ سیب کے سرکے کا بنیادی فعال جزو ہے اور اس کے زیادہ تر طبی فوائد اسی سے وابستہ سمجھے جاتے ہیں۔

خام (Raw)، غیر فلٹر شدہ (Unfiltered) اور "Mother" والے سرکے میں کچھ مفید بیکٹیریا، انزائمز اور نامیاتی مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں۔

غذائی اجزاء

سیب کا سرکہ غذائیت کے اعتبار سے بہت زیادہ توانائی فراہم نہیں کرتا۔

ایک کھانے کے چمچ (15 ملی لیٹر) میں تقریباً 3 کیلوریز
معمولی مقدار میں پوٹاشیم
ایسٹک ایسڈ
پولی فینولز (Antioxidants)
پائے جاتے ہیں۔

صحت کے ممکنہ فوائد
۔ خون میں شوگر کے اتار چڑھاؤ کو کم کرنے میں مدد

یہ سیب کے سرکے پر ہونے والی سب سے مضبوط تحقیق ہے۔

متعدد مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ اگر کاربوہائیڈریٹ والی غذا کے ساتھ مناسب مقدار میں سیب کا سرکہ استعمال کیا جائے تو

کھانے کے بعد شوگر نسبتاً کم بڑھتی ہے۔
انسولین کی حساسیت بہتر ہو سکتی ہے۔
پری ذیابیطس کے مریضوں میں فائدہ ہو سکتا ہے۔

تاہم

یہ شوگر کی دوا کا متبادل نہیں ہے۔

اگر کوئی مریض انسولین یا شوگر کی دوا استعمال کر رہا ہو تو ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اس کا استعمال خطرناک حد تک شوگر کم کر سکتا ہے۔

۔ وزن کم کرنے میں معمولی مدد

بہت سے لوگ سیب کا سرکہ صرف وزن کم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق

سیب کا سرکہ

بھوک میں معمولی کمی پیدا کر سکتا ہے۔
معدے سے خوراک کے اخراج کی رفتار کم کر دیتا ہے۔
انسان نسبتاً دیر تک سیر محسوس کرتا ہے۔

جاپان میں ہونے والی ایک تحقیق میں 12 ہفتوں کے استعمال سے وزن میں معمولی کمی دیکھی گئی، لیکن یہ کمی اتنی زیادہ نہیں تھی کہ صرف سرکے کو وزن کم کرنے کا مؤثر علاج قرار دیا جا سکے۔

اصل وزن کم کرنے کا راز اب بھی یہی ہے

متوازن غذا
کیلوریز کا کنٹرول
روزانہ ورزش
اچھی نیند
۔ ہاضمہ بہتر بنانے میں مدد

بعض افراد کھانے سے پہلے تھوڑی مقدار میں سیب کا سرکہ استعمال کرتے ہیں۔

ممکنہ فوائد

معدے میں تیزاب کی مناسب مقدار برقرار رکھنے میں مدد
بعض افراد میں اپھارے میں کمی
چکنائی والے کھانے کے بعد ہاضمہ بہتر ہونا

تاہم

اگر کسی کو

معدے کا السر
تیزابیت
GERD
سینے کی جلن

ہو تو سرکہ علامات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

۔ دل کی صحت

جانوروں پر کی گئی بعض تحقیقات میں یہ دیکھا گیا کہ

کولیسٹرول کم ہوا۔
ٹرائگلیسرائیڈز میں کمی آئی۔
بلڈ پریشر میں بہتری آئی۔

لیکن انسانوں میں ابھی تک اتنے مضبوط شواہد موجود نہیں کہ اسے دل کے مریضوں کا باقاعدہ علاج کہا جا سکے۔

۔ اینٹی بیکٹیریل خصوصیات

قدیم زمانے سے سیب کا سرکہ

زخم صاف کرنے
خوراک محفوظ رکھنے
بعض جراثیم ختم کرنے

کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

ایسٹک ایسڈ بعض بیکٹیریا کی افزائش کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

۔ جلد کے لیے استعمال

کچھ افراد اسے استعمال کرتے ہیں

مہاسوں
چکنی جلد
خشکی

میں۔

لیکن خالص سرکہ جلد پر لگانے سے

جلن
سرخی
کیمیائی جلنا

بھی ہو سکتا ہے۔

اس لیے بغیر ماہر جلد کے مشورے کے براہ راست استعمال مناسب نہیں۔

۔ بالوں کی نگہداشت

بعض افراد سر دھونے کے بعد پانی میں ملا کر استعمال کرتے ہیں۔

ممکنہ فوائد

بالوں میں چمک
خشکی میں معمولی کمی
سر کی جلد کی صفائی

اگرچہ اس حوالے سے سائنسی تحقیق محدود ہے۔

استعمال کا درست طریقہ

عام طور پر

روزانہ

ایک سے دو کھانے کے چمچ

کو

ایک بڑے گلاس پانی میں ملا کر استعمال کیا جاتا ہے۔

کبھی بھی

خالص سرکہ نہ پئیں۔
ایک ساتھ زیادہ مقدار استعمال نہ کریں۔
کن لوگوں کو احتیاط کرنی چاہیے؟

سیب کا سرکہ ہر شخص کے لیے مناسب نہیں۔

احتیاط ضروری ہے اگر

شوگر کی دوا استعمال کرتے ہیں۔
انسولین لیتے ہیں۔
گردوں کی بیماری ہے۔
معدے کا السر ہے۔
شدید تیزابیت رہتی ہے۔
دانت حساس ہیں۔
حاملہ یا دودھ پلانے والی خاتون ہیں۔
ممکنہ نقصانات

ضرورت سے زیادہ استعمال سے

دانتوں کی اینمل خراب ہو سکتی ہے۔
گلے میں جلن ہو سکتی ہے۔
معدے میں تیزابیت بڑھ سکتی ہے۔
پوٹاشیم کم ہو سکتا ہے۔
بعض ادویات کے اثرات متاثر ہو سکتے ہیں۔
کیا خالی پیٹ پینا چاہیے؟

یہ ایک عام سوال ہے۔

سائنسی تحقیق یہ ثابت نہیں کرتی کہ خالی پیٹ پینا زیادہ فائدہ مند ہے۔

اگر کسی کو معدے کی تکلیف نہ ہو تو پانی میں ملا کر استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن کھانے کے ساتھ یا کھانے سے پہلے استعمال کرنا نسبتاً بہتر سمجھا جاتا ہے۔

خریدتے وقت کن باتوں کا خیال رکھیں؟

بہتر معیار کا سیب کا سرکہ

✔ Raw ہو۔

✔ Unfiltered ہو۔

✔ Organic ہو (اگر دستیاب ہو)۔

✔ "With Mother" درج ہو۔

کیا یہ ہر بیماری کا علاج ہے؟

مختصر جواب

نہیں۔

سیب کا سرکہ ایک مفید غذائی جزو ضرور ہو سکتا ہے، لیکن

یہ شوگر کی دوا نہیں۔
کولیسٹرول کی دوا نہیں۔
بلڈ پریشر کی دوا نہیں۔
موٹاپے کا معجزاتی علاج نہیں۔

یہ صرف صحت مند طرزِ زندگی کا ایک معاون حصہ بن سکتا ہے۔

ماہرین کی رائے

جدید طبی تحقیق اس بات کی تائید کرتی ہے کہ سیب کا سرکہ

خون میں شوگر کے بعد از غذا اضافے کو کسی حد تک کم کرنے،
بھوک پر معمولی اثر ڈالنے،
اور ہاضمے میں بعض افراد کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

لیکن اس کے فوائد محدود ہیں اور اسے علاج کے بجائے صحت بخش غذا کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔
سیب کا سرکہ قدرت کی ایک دلچسپ نعمت ہے جس کے چند فوائد سائنسی تحقیق سے ثابت ہوئے ہیں، جبکہ کئی مشہور دعووں کے لیے ابھی مزید مضبوط شواہد درکار ہیں۔ اگر اسے مناسب مقدار میں، متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور صحت مند طرزِ زندگی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ مجموعی صحت میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم کسی دائمی بیماری کے علاج کے لیے اسے ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات کا متبادل ہرگز نہیں سمجھنا چاہیے۔

20/07/2026

پاکستان کی معروف ہومیوپیتھک کمپنیوں کے مشہور کمبی نیشن
کمپنی مشہور کمبی نیشن عام استعمال
Dr. Masood Pharma Kraver Gold Tablets بھوک کی کمی، جسمانی کمزوری، عمومی ٹانک کے طور پر مارکیٹ کیا جاتا ہے۔
Silajit Syrup جسمانی نقاہت، توانائی، مردانہ کمزوری کے لیے بطور سپلیمنٹ۔
Genetone Solution Oil بالوں کے گرنے اور سر کی جلد کی نگہداشت کے لیے۔
Mektum Pharma T10 Sexual Disorders Drops مردانہ کمزوری، قبل از وقت انزال، Libido اور Stamina کے لیے مارکیٹ کیا جاتا ہے۔
مختلف Disease Drops Series معدہ، کھانسی، جوڑوں کے درد، الرجی وغیرہ کے لیے مختلف کمبی نیشن ڈراپس۔
Kent Pharma Kent Numbers Series مخصوص بیماریوں مثلاً معدہ، جگر، اعصاب، جوڑوں کے درد وغیرہ کے لیے مختلف نمبر کمبی نیشن۔
Paul Brooks Endura Capsules جسمانی کمزوری اور توانائی بڑھانے کے لیے۔
Spevol Capsules مردانہ صحت اور طاقت کے لیے مارکیٹ کیا جاتا ہے۔
Kamal Laboratories KL Numbers Series مختلف بیماریوں کے لیے نمبر سسٹم پر مبنی کمبی نیشنز۔
BM Laboratories BM Numbers معدہ، اعصاب، جوڑوں، جلد اور دیگر عمومی امراض کے لیے مختلف کمبی نیشن۔
Willmar Schwabe (Germany) Tonsiotren گلے اور ٹانسلز کی علامات کے لیے۔
Damiana Pentarkan اعصابی و جسمانی کمزوری کے لیے۔
Dr. Reckeweg R41 مردانہ Vitality کے لیے مارکیٹ کیا جاتا ہے۔
دیگر R-Series (R1, R2, R5, R7, R10, R14, R55 وغیرہ) مختلف بیماریوں مثلاً نزلہ، معدہ، جگر، گردہ، الرجی، جوڑوں کے درد وغیرہ کے لیے۔
Blossom Labs مختلف OTC Combinations خواتین، معدہ، جلد، اعصاب وغیرہ کے لیے مختلف کمبی نیشنز۔
Brooks Laboratories مختلف Specialty Combinations معدہ، سانس، اعصاب اور عمومی صحت کے لیے مختلف مصنوعات۔
پاکستان میں سب سے زیادہ معروف کمپنیاں
دستیاب پاکستانی ذرائع کے مطابق درج ذیل کمپنیاں سب سے زیادہ معروف اور وسیع پراڈکٹ رینج رکھنے والی شمار ہوتی ہیں:
1. Dr. Masood Homoeopathic Pharmaceuticals
2. Mektum Homoeo Pharma
3. Kent Pharma
4. Paul Brooks
5. Kamal Laboratories
6. BM Laboratories
7. Willmar Schwabe
8. Dr. Reckeweg
9. Blossom Labs
10. Brooks Laboratories
ا
پاکستان میں ہومیوپیتھک ڈاکٹروں اور میڈیکل اسٹورز میں جن کمبی نیشنز کی مانگ نسبتاً زیادہ دیکھی جاتی ہے، ان میں شامل ہیں:
معدہ و تیزابیت کے کمبی نیشن
جوڑوں کے درد اور Arthritis کے کمبی نیشن
الرجی اور نزلہ زکام کے کمبی نیشن
کھانسی کے کمبی نیشن
جگر کے کمبی نیشن
گردے اور پیشاب کی نالی کے کمبی نیشن
خواتین کے امراض کے کمبی نیشن
مردانہ کمزوری کے کمبی نیشن
بال گرنے کے کمبی نیشن
اعصابی کمزوری کے کمبی نیشن

عورت کی سوچ دلیلوں سے نہین بدلی جا سکتی جب کوئی مرد کسی عورت کی سوچ بدلنے کا خواب دیکھتا ہے، تو وہ اکثر دلیلوں کے ہتھیار...
06/07/2026

عورت کی سوچ دلیلوں سے نہین بدلی جا سکتی
جب کوئی مرد کسی عورت کی سوچ بدلنے کا خواب دیکھتا ہے، تو وہ اکثر دلیلوں کے ہتھیار اٹھا لیتا ہے، لیکن یہ جنگ وہیں ہار جاتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ کسی کی انا کو شکست دے کر اس کی سوچ کو نہیں بدلا جا سکتا، اسے صرف "اتفاق" کے نرم لمس سے ہی ہموار کیا جا سکتا ہے۔عورت کی فطرت میں تضاد نہیں، بلکہ ایک ایسی گہرائی ہوتی ہے جسے سمجھنے کے لیے منطق نہیں، بلکہ خلوص کی ضرورت ہوتی ہے۔
جب آپ کسی عورت کی بات سے اختلاف کے بجائے، اتفاق کرتے ہیں، تو آپ دراصل اسے یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ "میں تمہاری رائے کا احترام کرتا ہوں، میں تمہارے وجود کو تسلیم کرتا ہوں۔" یہ اتفاقِ رائے اس کے دفاعی حصار کو گرا دیتا ہے۔ اور وہ نرم ہو جاتی ہے۔ یہ کوئی چال نہیں، بلکہ محبت کا وہ اعلیٰ ترین درجہ ہے جہاں آپ دوسرے کے نقطہ نظر کو اپنی سوچ میں جگہ دیتے ہیں۔
جب آپ اس کی سوچ سے اتفاق کرتے ہیں، تو آپ اسے یہ موقع دیتے ہیں کہ وہ خود اپنی سوچ کے خدوخال کو ٹھنڈے دل سے دیکھے۔ جس لمحے اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ اس کے خلاف نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ہیں، اسی لمحے وہ اپنی رائے پر نظر ثانی کرنے لگتی ہے۔ اتفاق کرنا، اس کی انا کو پامال نہیں کرتا بلکہ اسے ایک نئی بصیرت عطا کرتا ہے۔
یاد رکھیے، کسی کی سوچ بدلنا اسے مجبور کرنا نہیں، بلکہ اسے اس مقام تک لانا ہے جہاں وہ خود بدلنا چاہے۔ اور اس تبدیلی کا سب سے مختصر اور خوبصورت راستہ "اتفاق" ہے۔ جب آپ اس کے نظریے میں خود کو شامل کر لیتے ہیں، تو وہ بھی آپ کے نظریے کو اپنے اندر جگہ دینے پر آمادہ ہو جاتی ہے۔ یہی وہ لطیف نفسیات ہے جس سے دل بھی فتح ہوتے ہیں اور سوچیں بھی بدلتی ہیں۔

#نوریات

04/07/2026

زندگی کی ادھوری کہانیاں
زندگی کی کتاب جب آخری صفحے پر پہنچتی ہے، تو اکثر ہماری انگلیاں وہیں ٹھہر جاتی ہیں جہاں سے کوئی باب ادھورا چھوٹ گیا تھا۔ ہم پلٹ کر دیکھتے ہیں، ان لفظوں کو ڈھونڈتے ہیں جو ہم لکھ نہ پائے، ان جذبوں کو ٹٹولتے ہیں جو ہم بیان نہ کر سکے۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ کہانی کا حسن اس کے مکمل ہونے میں نہیں، بلکہ اس کے ادھورے پن میں مضمر ہوتا ہے۔
کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں فطرت ادھورا ہی چھوڑ کر مکمل کرتی ہے۔ یہ جو ہمارے اندر ایک "کاش" کا کانٹا چبھتا رہتا ہے، یہ دراصل ہماری انسانی جبلت ہے جو تسکین چاہتی ہے۔ لیکن غور کریں تو معلوم ہوگا کہ جو پل ہم نے جی لیے، وہ مکمل تھے۔ جو وعدے ہم نے نبھائے، وہ بھرپور تھے۔ اگر سب کچھ مل جاتا، اگر ہر کہانی اپنی منطقی انجام تک پہنچ جاتی، تو زندگی ایک بے ذائقہ دستاویز بن جاتی۔
زندگی کے وہ ادھورے رشتے، وہ ان کہی باتیں، اور وہ بےکل لمحے جو وقت کی دھند میں کہیں گم ہو گئے، دراصل ہماری ذات کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔ ان ادھوری چیزوں کو اپنی جگہ پر ہی مکمل مان لینا ہی دراصل خود سے صلح کر لینا ہے۔ اب وہ پوری نہیں ہو سکتیں، نہ ہی ان کے انجام کو بدلا جا سکتا ہے۔ اور شاید یہی ان کا حسن ہے۔
جب آخری صفحہ پلٹ جائے، تو پرانے اوراق کو مت کریدیں۔ جو ادھورا تھا، اسے ادھورا ہی رہنے دیں، کیونکہ کبھی کبھی ایک مکمل کہانی کے مقابلے میں ایک ادھوری کہانی زیادہ دیر تک زندہ رہتی ہے۔ اپنی زندگی کے ان خاموش اور ادھورے حصوں کو سینے سے لگائیے، کیونکہ انہی کے طفیل ہم نے جینا سیکھا تھا۔ کہانی ختم ہو چکی ہے، اور یہی اس کا سب سے خوبصورت انجام ہے۔

#نوریات

Address

Orakzai Plaza, Lehtrar Road
Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Health Tips and Secrets- Pakistan ہیلتھ ٹپس اینڈ سکرٹس posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Health Tips and Secrets- Pakistan ہیلتھ ٹپس اینڈ سکرٹس:

Shortcuts

Share