علمی رسوخ کی جستجو

علمی رسوخ کی جستجو مدرسہ ڈاٹ-پی-کے کے شعبہ ورکشاپس اور علمی شخصیات کے انٹرویوز کی سرگرمیوں سے باخبر رہنے اور انتہائی مفید مواد سے استفادے کے لیے اس پیج سے جڑے رہیں

28/09/2026

تحریک پاکستان میں علماء ومشائخ کا کردار
داستانِ حریت: جب محراب و منبر نے تاریخ بدل دی
(تحریکِ پاکستان کے فیصلہ کن معرکوں کی مکالماتی و داستانی روداد)
تمہید: ماضی کے دریچے سے ایک منظر
شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے، اور علمی بیٹھک میں چراغ کی روشنی دھیمی لو کے ساتھ لہرا رہی تھی۔ دو محققین—داستان گو اور راوی—تاریخ کے بکھرے ہوئے ورق الٹ رہے تھے۔

داستان گو: (حیرت اور استعجاب سے) "ذرا تصور کرو! ایک الیکشن کا معرکہ ہے... پندرہ ہزار ووٹرز، برطانوی راج کا تسلط، اقتدار کی تمام تر ریاستی طاقت اور جاگیرداروں کی بے پناہ دولت ایک طرف، مگر جب صندوقچے کھلے تو حاکمِ وقت کی پارٹی کو ان پندرہ ہزار میں سے صرف ایک ووٹ ملا! کیا یہ کوئی سحر تھا یا داستانوی افسانہ؟"

راوی: (مسکرا کر) "نہیں میرے دوست! یہ نہ کوئی افسانہ تھا اور نہ سحر، یہ اس حقیقت کی گواہی تھی کہ جب محراب و منبر اور خانقاہ کا متفقہ فیصلہ میدان میں آتا ہے تو دنیا کی بڑی سے بڑی سلطنت کا غرور مٹی میں مل جاتا ہے۔ یہ 1940ء سے 1947ء کے اس معرکے کی داستان ہے جہاں دیوبندی، بریلوی، اہلِ حدیث اور شیعہ اکابرین نے اپنے تمام تر فروعی و فقہی اختلافات کو لپیٹ کر اسلام اور مسلمانانِ برصغیر کی بقا کا علم بلند کیا تھا۔"

معرکہِ پنجاب: روحانی الٹی میٹم اور بیداریِ سحر
داستان گو: "مگر پنجاب کا وہ جاگیردارانہ قلعہ... جہاں یونینسٹ پارٹی کے نوابوں اور برطانوی سرپرستی کا راج تھا، وہ فصیل کیسے ٹوٹی؟"

راوی: "علماء نے طاقت کا روایتی میدان ہی بدل دیا! جاگیردار کے پاس جائیداد اور ریاستی پولیس کی قوت تھی، لیکن علماء کے پاس ایمانی اور روحانی اقتدار تھا۔ خواجہ قمر الدین سیالویؒ کا وہ واقعہ یاد کرو... جب طاقتور نوابوں نے دباؤ ڈالا کہ سیاسی معاملے میں غیر جانبدار ہو جائیں ورنہ جاگیریں ضبط ہو جائیں گی، تو سیال شریف کے اس مردِ حق نے کڑک کر فرمایا تھا:

'میں اپنی تمام جاگیریں اور مریدین قربان کر سکتا ہوں مگر محمد عربی ﷺ کے دین کا پرچم سرنگوں نہیں ہونے دوں گا!'

جب مریدوں نے دیکھا کہ پیر صاحب جاگیریں ٹھکرا رہے ہیں، تو ان کے دل سے ضبطی کا خوف نکل گیا۔ مرشد سے کٹ جانے کا سماجی بائیکاٹ جاگیر کے چھن جانے سے کہیں بڑا زلزلہ تھا۔"

داستان گو: "اور وہ پندرہ ہزار میں سے ایک ووٹ کا معجزہ؟"

راوی: "وہ اہلِ حدیث عالم حافظ عبدالقادر روپڑیؒ کا تدبر تھا! جب برطانوی راج نے اخبارات اور ریڈیو پر سنسرشپ لگا دی، تو انہوں نے مساجد کے منبروں کو ایک آزاد اور خود مختار مواصلاتی نظام میں بدل دیا۔ منبر سے نکلی ہوئی حق کی آواز ریاستی اعلان سے کہیں زیادہ طاقتور ثابت ہوئی۔"

معرکہِ سرحد: قبائلی جرگے اور ریاستی مشینری کا بائی پاس
داستان گو: "لیکن صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا) میں تو نعروں کا مقابلہ لاٹھی اور برطانوی پولیس سے تھا، وہاں کانگریس اور باچا خان کے اثر کو کیسے مات دی گئی؟"

راوی: "علماء نے ریاستی مشینری سے ٹکرانے کے بجائے اسے بائی پاس کر دیا۔ انہوں نے صدیوں پرانے قبائلی و روحانی رشتوں کو بیدار کیا۔ پیر آف زکوری شریفؒ نے جب نعرہ لگایا کہ 'یہ ووٹ کسی سیاسی جماعت کا نہیں، اسلام کے مستقبل کا فیصلہ ہے'، تو سیاست ایک مقدس دینی فریضے میں ڈھل گئی۔ پیر آف مانکی شریفؒ نے 'جمعیت الاصفیاء' کے تحت قبائلی جرگے کیے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ریفرنڈم میں کانگریسی بائیکاٹ کے باوجود 2,89,244 ووٹ پاکستان کے حق میں پڑے اور مخالفین کے حصے میں صرف 2,874 ووٹ آئے!"

🍃 معرکہِ سلہٹ: غیر یقینی، کانٹے دار مقابلہ اور پانچ دن کا اعجاز
داستان گو: "مشرق میں سلہٹ کا معرکہ تو انتہائی نازک تھا... رمضان المبارک کا شدید ترین حبس اور کانگریس نواز علماء کے منطقی دلائل! وہاں پانسا کیسے پلٹا؟"

راوی: "قائد اعظم اور لیاقت علی خان کی درخواست پر مولانا ظفر احمد عثمانیؒ روزے کی حالت میں سلہٹ پہنچے۔ انہوں نے جذباتی نعروں کے بجائے فقہی اور علمی مناظرے کیے اور ثابت کیا کہ ہندو اکثریت میں مسلم قومیت کی شرعی اور تہذیبی بقا ممکن نہیں۔ دوسری طرف مولانا عبدالحمید خان بھاشانیؒ نے غریب کسانوں کو سود خور جاگیرداروں سے نجات کا راستہ دکھایا۔ علمی منطق اور معاشی انصاف کے اس اتحاد نے محض پانچ دن کی مہم میں ہارتے ہوئے معرکے کو پچاس ہزار ووٹوں کی برتری سے جتوا دیا!"

معرکہِ سندھ: قبائلی عداوتوں کا دفن ہونا اور "فلور مینجمنٹ"
داستان گو: "اور سندھ کا اندرونی بکھراؤ؟ جہاں قبائلی دشمنیاں نسل در نسل چلی آ رہی تھیں؟"

راوی: "سندھ میں مولانا عبد الباقی ہمایونیؒ اور پیر غلام مجددی سرہندیؒ جیسے اکابرین نے غیر جانبدار ثالث اور اخلاقی مسند کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے جانی دشمن قبائل کو آمنے سامنے بٹھا کر فرمایا: 'تمہاری قبائلی انا اسلام کی بقا سے بڑی نہیں ہو سکتی۔' دشمنیاں وہیں دفن ہو گئیں۔

پھر جب سندھ اسمبلی میں انگریزوں نے اکثریت کا چیلنج دیا، تو پیر عبد الرحمن بھرچونڈویؒ نے بند کمروں میں انفرادی ممبران کو طلب کر کے وہ تاریخی 'فلور مینجمنٹ' کی جس نے اسمبلی کے فلور پر مسلم لیگ کی فتح پر مہر ثبت کر دی۔"

💡 حتمی حاصل و پیغام (علمائے کرام کے لیے شمعِ ہدایت)
داستان گو: (گہرے سانس کے ساتھ) "یہ تو ایک عجیب و غریب فکری معجزہ ہے۔ دیوبندی، بریلوی، اہلِ حدیث اور شیعہ... جو عام دنوں میں علمی و مناظرانہ مباحث میں ہوتے تھے، اس نازک موڑ پر کیسے ایک پیج پر آ گئے؟"

راوی: (پرجوش انداز میں) "یہ ہمارے اسلاف کی وہ فکری بلوغت اور تزویراتی حکمت تھی جو آج ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے فروعی اختلافات کو امت کے اجتماعی مستقبل کے راستے میں دیوار نہیں بننے دیا۔

آج جب ہمارا معاشرہ ایک بار پھر فکری، معاشی اور اخلاقی بحرانوں کا شکار ہے اور مسلکی و سیاسی دھڑوں میں بٹا ہوا ہے، تو یہی تاریخ ہم سے سوال کرتی ہے: اگر 1940ء کی دہائی میں تمام تر اختلافات کے باوجود بانیِ پاکستان کی قیادت میں ایک ہوا جا سکتا تھا، تو آج ہم اپنے اسلاف کا وہ سنہری ماڈل کیوں نہیں اپنا سکتے؟"

علماء و مشائخ سے اپیل:
یہ داستان صرف ماضی کا قصہ نہیں، بلکہ مدرسہ ڈاٹ-پی-کے کے پلیٹ فارم سے شروع کی گئی اس تحریک کا مقصد اپنے علمائے کرام کو وہی تاریخی اور قیادتانہ کردار یاد دلانا ہے۔ آئیے! اپنے اکابرین کی اس مشترکہ جدوجہد کو سنہری الفاظ میں محفوظ کریں اور ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اتحاد، بصیرت اور نظریاتی حصار کا پیغام عام کریں۔

26/09/2026

تحقیق ایک باقاعدہ علمی عمل ہے جس کے لیے درست منہج، معتبر مصادر کا انتخاب، حوالہ جات کی صحت، موضوع کی گہرائی سے سمجھ اور علمی اصولوں کی پابندی ضروری ہوتی ہے۔ انہی بنیادی امور کو تحقیق کے لوازمات کہا جاتا ہے۔

مدرسہ ڈاٹ- پی -کے کی جانب سے پیش کیا جانے والا "فنِ تحقیق و عملی مقالہ نگاری کورس" طلبہ، علماء اور محققین کو جدید تحقیقی تقاضوں سے آگاہ کرنے اور عملی مقالہ نگاری کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے مرتب کیا گیا ہے۔

اس مختصر کلپ میں مولانا ارسلان صاحب "تحقیق کے لوازمات" کے اہم پہلوؤں پر گفتگو فرما رہے ہیں۔ مکمل ویڈیو دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور مکمل رہنمائی حاصل کریں۔

26/09/2026

ایک کامیاب محقق صرف کتب بینی کرنے والا شخص نہیں ہوتا بلکہ اس کے اندر علمی دیانت، صبر، تنقیدی سوچ، تحقیق کا ذوق اور حقائق تک پہنچنے کی صلاحیت کا ہونا بھی ضروری ہے۔ ایک محقق کے اوصاف ہی اس کی تحقیق کے معیار اور اثر پذیری کو متعین کرتے ہیں۔

مدرسہ ڈاٹ- پی -کے کی جانب سے منعقد کیے جانے والے "فنِ تحقیق و عملی مقالہ نگاری کورس" میں علماء، طلبہ اور اہلِ علم کو تحقیق کے بنیادی اصول، تحقیقی صلاحیتوں کی نشوونما اور علمی کام کو بہتر انداز میں پیش کرنے کے طریقے سکھائے جا رہے ہیں۔

اس مختصر کلپ میں مولانا ارسلان صاحب "محقق کے اوصاف" کے موضوع پر اہم رہنمائی فرما رہے ہیں۔ مکمل ویڈیو دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں اور تفصیلی علمی گفتگو سے استفادہ کریں۔

24/09/2026

تحریک پاکستان میں علماء ومشائخ کا کردار

تحریکِ پاکستان میں علما و مشائخ کا کردار کے عنوان سے راول آڈیٹوریم، فری قرآن ایجوکیشن، روات، راولپنڈی میں منعقدہ سیمینار میں معروف عالمِ دین مولانا دوست محمد صاحب نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔

مولانا دوست محمد صاحب نے اپنی گفتگو کا آغاز قرآنِ کریم کی آیتِ مبارکہ:

"هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ"

سے کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو دینِ حق کے غلبے کے لیے مبعوث فرمایا، اور یہی مقصد علما و اہلِ علم کی جدوجہد کا بھی ہونا چاہیے کہ وہ دینِ اسلام کی سربلندی، عزت اور رہنمائی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے اس اہم علمی نشست کے انعقاد پر منتظمین، بالخصوص حضرت مصطفیٰ صاحب، سیدنا رسول صاحب اور تمام رفقا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک قابلِ قدر کاوش ہے کہ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے اہلِ علم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا، تاکہ ایک دوسرے کو قریب سے سننے، سمجھنے اور باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے کا موقع مل سکے۔

مولانا دوست محمد صاحب نے حدیثِ مبارک "العلماء ورثة الأنبياء" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ علما انبیا کے وارث ہیں، اس لیے ان کی ذمہ داری صرف انفرادی دینی خدمات تک محدود نہیں بلکہ امت کی رہنمائی، معاشرے کی اصلاح اور دین کے اجتماعی مقاصد کے لیے کوشش کرنا بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مدارس، مساجد، خانقاہیں اور دینی ادارے اپنی جگہ نہایت اہم ہیں، لیکن ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تحریکِ پاکستان میں علما و مشائخ کی جدوجہد کا مقصد صرف مدارس، مساجد یا خانقاہوں کا قیام نہیں تھا بلکہ ایک ایسی اسلامی فلاحی ریاست کا قیام تھا جہاں دین کی تعلیمات اجتماعی زندگی میں اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ برصغیر کے اکابر علما نے وقت کی ضرورت کو محسوس کیا اور قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنی علمی بصیرت اور دینی اثر و رسوخ کو امت کے اجتماعی مفاد کے لیے استعمال کیا اور عوام کی رہنمائی فرمائی۔

مولانا دوست محمد صاحب نے کہا کہ تحریکِ پاکستان میں علما و مشائخ نے گلی گلی، شہر شہر جا کر عوام میں شعور بیدار کیا اور مسلمانوں کو ایک مقصد کے لیے متحد کیا۔ ان کی جدوجہد، قربانیاں اور رہنمائی ہماری تاریخ کا روشن باب ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی ہمیں اپنے اکابر کے اخلاص، اتحاد، قربانی اور اجتماعی سوچ سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔ جس طرح ہمارے اسلاف نے بڑے مقصد کے لیے مل کر کام کیا، اسی طرح موجودہ دور میں بھی علما، اہلِ علم اور مختلف طبقات کو باہمی تعاون، احترام اور اتحاد کے ساتھ دین و ملت کی خدمت کرنی چاہیے۔

آخر میں مولانا دوست محمد صاحب نے اس علمی و فکری سیمینار کے انعقاد کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے منتظمین کو مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ ایسے پروگرام آئندہ بھی جاری رہیں گے۔

🌐

23/09/2026

تحریک پاکستان میں علماء ومشائخ کا کردار
تحریکِ پاکستان میں علما و مشائخ کا کردار ہماری تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ ہمارے اکابر نے باہمی اختلافات کے باوجود بڑے قومی اور دینی مقاصد کے لیے اتحاد، تعاون اور مشترکہ جدوجہد کی ایک روشن مثال قائم کی۔

اسی موضوع پر راول آڈیٹوریم، فری قرآن ایجوکیشن، روات، راولپنڈی میں منعقدہ سیمینار کے دوران مولانا پیر سعید جہانگیر سعیدی صاحب، صوبائی ناظمِ اعلیٰ اہلسنت پاکستان نے پینل ڈسکشن میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے مدرسہ ڈاٹ پی کے کی اس کاوش کو سراہا اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ایسے علمی اور فکری اجتماعات وقت کی اہم ضرورت ہیں، جہاں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علما ایک جگہ بیٹھیں، ایک دوسرے کو سنیں اور مشترکہ مسائل پر مثبت اور سنجیدہ گفتگو کریں۔

مولانا پیر سعید جہانگیر سعیدی صاحب، صوبائی ناظمِ اعلیٰ اہلسنت پاکستان نے بالخصوص اس بات کو خوش آئند قرار دیا کہ اس سیمینار میں مختلف مکاتبِ فکر کے اہلِ علم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا اور انہیں باہمی تبادلۂ خیال کا موقع فراہم کیا گیا۔

اپنی گفتگو میں مولانا پیر سعید جہانگیر سعیدی صاحب، صوبائی ناظمِ اعلیٰ اہلسنت پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اپنے اکابر کی تعلیمات، کردار اور طرزِ عمل سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ جس طرح ہمارے اسلاف نے بڑے مقاصد کے لیے مل کر کام کیا، اسی طرح آج بھی ہمیں باہمی فاصلے کم کرتے ہوئے امت کے مشترکہ مفادات کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

انہوں نے اس احساس کو اجاگر کیا کہ امتِ مسلمہ کو درپیش مسائل کا مقابلہ تنہائی میں نہیں بلکہ اتحاد، باہمی احترام، مکالمے اور مشترکہ جدوجہد سے کیا جا سکتا ہے۔ اختلاف اپنی جگہ، لیکن مشترکہ دینی اور قومی مقاصد کے لیے تعاون ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔

یہ پینل ڈسکشن اس پیغام کی نمائندگی کرتی ہے کہ آج کے دور میں مکالمہ، باہمی احترام اور اتحاد ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنے اکابر کی روایت کو آگے بڑھا سکتے ہیں اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔

📍 مقام: راول آڈیٹوریم، فری قرآن ایجوکیشن، روات، راولپنڈی
🎙️ پینل ڈسکشن: مولانا پیر سعید جہانگیر سعیدی صاحب
🏛️ عہدہ: صوبائی ناظمِ اعلیٰ اہلسنت پاکستان
🎓 موضوع: تحریکِ پاکستان میں علما و مشائخ کا کردار

#

📢مسئلہ_فلسطین_کی_آگاہی #غزہ کی تاریخ، 7 اکتوبر اور اسرائیلی جنگ: ٹکر کارلسن کی نارمن فنکلسٹائن سے گفتگوغزہ کے موجودہ الم...
23/09/2026

📢مسئلہ_فلسطین_کی_آگاہی #

غزہ کی تاریخ، 7 اکتوبر اور اسرائیلی جنگ: ٹکر کارلسن کی نارمن فنکلسٹائن سے گفتگو

غزہ کے موجودہ المیے کو صرف 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی جنگ کے تناظر میں سمجھنا شاید پوری تصویر سامنے نہ لا سکے۔ معروف امریکی صحافی ٹکر کارلسن سے طویل گفتگو میں پروفیسر نارمن فنکلسٹائن نے غزہ کی تاریخ، فلسطینی مہاجرین کی بے دخلی، طویل محاصرے، اسرائیلی فوجی کارروائیوں، نسل کشی کے الزامات، امریکہ میں آزادیِ اظہار پر دباؤ اور اپنی کئی دہائیوں پر محیط علمی و ذاتی جدوجہد پر تفصیل سے بات کی۔

1948 سے 7 اکتوبر تک: بے دخلی، محاصرہ اور غزہ کی طویل داستان

فنکلسٹائن کے مطابق موجودہ غزہ کی تشکیل کو 1948 کی فلسطینی بے دخلی سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کے بیان کے مطابق لاکھوں فلسطینی اپنے علاقوں سے نکالے گئے اور تقریباً تین لاکھ افراد غزہ پہنچے، جس کے بعد وہاں مہاجرین آبادی کی بڑی اکثریت بن گئے۔ وہ تاریخی حوالوں کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ غزہ کی بندش اور محرومی کی کیفیت نئی نہیں۔ 2006 میں فلسطینی انتخابات میں حماس کی کامیابی کے بعد اسرائیل، امریکہ اور یورپی طاقتوں کی جانب سے سخت پابندیاں عائد ہوئیں، جن میں روزمرہ استعمال کی متعدد اشیاء تک محدود کر دی گئیں۔ اس کے بعد 2008، 2012 اور 2014 میں غزہ بار بار بڑی فوجی کارروائیوں کا نشانہ بنتا رہا، اور ہر نئی جنگ نے پہلے سے کمزور معاشرتی و اقتصادی ڈھانچے کو مزید نقصان پہنچایا۔

7 اکتوبر کے بعد کی تباہی اور نسل کشی کا سوال

گفتگو کا سب سے اہم اور حساس حصہ 7 اکتوبر کے بعد غزہ میں ہونے والی وسیع تباہی سے متعلق ہے۔ فنکلسٹائن مختلف اعداد و شمار اور انسانی حقوق کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے گھروں، اسکولوں، ہسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی، بچوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں اور آبادی کی بے دخلی کو ایک غیر معمولی انسانی بحران قرار دیتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کا بنیادی سیاسی مقصد غزہ کی آبادی کو علاقے سے نکالنا یعنی نسلی صفائی ہے، لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے جو تباہ کن طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے، وہ ان کے نزدیک نسل کشی کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ وہ اس حوالے سے بین الاقوامی قانونی ماہرین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی عدالتِ انصاف کی کارروائی کا بھی ذکر کرتے ہیں۔

3۔ اختلافِ رائے، تعلیمی آزادی اور فنکلسٹائن کی ذاتی جدوجہد

گفتگو کا آخری بڑا موضوع امریکہ میں اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کو درپیش دباؤ ہے۔ فنکلسٹائن کے مطابق یونیورسٹیوں، ثقافتی اداروں اور دیگر شعبوں میں فلسطین کے حق میں بولنے والے طلبہ، اساتذہ اور کارکنوں کو ملازمت، تعلیم اور سماجی حیثیت کے حوالے سے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ ہارورڈ، کولمبیا اور دیگر جامعات کے واقعات، طلبہ کی بلیک لسٹنگ اور احتجاجی سرگرمیوں پر دباؤ کو تعلیمی آزادی کے لیے غیر معمولی خطرہ قرار دیتے ہیں۔ اسی گفتگو میں وہ اپنی زندگی کا ذکر بھی کرتے ہیں کہ کس طرح اپنے مؤقف کی وجہ سے طویل عرصے تک بے روزگاری، تدریسی مواقع کی کمی اور پیشہ ورانہ مشکلات کا سامنا کیا۔ آخر میں وہ نوم چومسکی سے اپنی پہلی ملاقات، فلسطین سے متعلق تحقیق کے آغاز اور اس اصول کا ذکر کرتے ہیں کہ علمی زندگی میں کسی سیاسی مؤقف سے زیادہ اہم چیز دلیل، تحقیق اور سچائی کی تلاش ہونی چاہیے۔

یہ طویل گفتگو ایک بنیادی سوال ہمارے سامنے رکھتی ہے: **کیا غزہ کے حالیہ حالات کو صرف 7 اکتوبر کے بعد کے واقعات سے سمجھا جا سکتا ہے، یا اس کے لیے 1948 سے آج تک بے دخلی، محاصرے، جنگ، سیاست اور عالمی طاقتوں کے کردار کے پورے تاریخی تسلسل کو دیکھنا ضروری ہے؟
https://www.youtube.com/watch?v=Jmv2h1WYnNo

#غزہ
ٰ

Norman Finkelstein has been telling the truth about Gaza longer tha...

22/09/2026

تحریک پاکستان میں علماء ومشائخ کا کردار

تحریکِ پاکستان محض ایک سیاسی جدوجہد نہیں تھی بلکہ یہ ایک فکری، دینی اور قومی تحریک بھی تھی، جس میں برصغیر کے علما و مشائخ نے نہایت اہم اور مؤثر کردار ادا کیا۔ انہوں نے نہ صرف قیامِ پاکستان کے نظریے کی تائید کی بلکہ اپنے خطبات، اجتماعات، عوامی رابطوں اور عملی جدوجہد کے ذریعے مسلمانوں میں ایک الگ وطن کے شعور کو بیدار کیا اور اس عظیم مقصد کے لیے بے شمار قربانیاں پیش کیں۔

اسی تاریخی کردار کو نئی نسل کے سامنے اجاگر کرنے کے لیے "تحریکِ پاکستان میں علما و مشائخ کا کردار" کے عنوان سے راول آڈیٹوریم، فری قرآن ایجوکیشن، روات، راولپنڈی میں ایک اہم سیمینار منعقد ہوا۔

اس موقع پر مفتی کامران شہزاد صاحب، ڈائریکٹر مدرسہ ڈاٹ پی کے، نے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے تحریکِ پاکستان میں علما و مشائخ کی خدمات، قربانیوں اور جدوجہد کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمارے اکابر اور اسلاف نے قومی اور دینی مقاصد کے حصول کے لیے باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ جدوجہد کی، ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور امت کے اجتماعی مفاد کو ترجیح دی۔

اپنے خطاب میں انہوں نے موجودہ دور کے علما، دینی طبقات اور نوجوانوں کو خصوصی طور پر اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ آج بھی ہمیں اپنے اسلاف کے اسی طرزِ عمل سے رہنمائی لینے کی ضرورت ہے۔ اگر ماضی میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے اہلِ علم ایک عظیم مقصد کے لیے متحد ہو سکتے تھے تو آج بھی ہمیں مشترکہ دینی، قومی اور سماجی مقاصد کے لیے ایک دوسرے کے قریب آنا چاہیے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ باہمی اختلافات کو تصادم کا ذریعہ بنانے کے بجائے علمی اور مثبت انداز میں سمجھا جائے، جبکہ امت اور ملک کو درپیش بڑے مسائل پر مشترکہ موقف اور مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے۔ علما و مشائخ کی اصل طاقت ان کا باہمی تعلق، اعتماد، اتحاد اور عوام کے ساتھ فکری و دینی رہنمائی کا مضبوط رشتہ ہے۔

یہ گفتگو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تحریکِ پاکستان میں ہمارے اسلاف نے جس اخلاص، قربانی، اتحاد اور اجتماعی سوچ کا مظاہرہ کیا، وہی جذبہ آج بھی ہماری قومی اور دینی ضرورت ہے۔

آئیے اپنے اسلاف کی جدوجہد سے سبق حاصل کریں، باہمی فاصلے کم کریں، مشترکہ نکات پر جمع ہوں اور دین و ملت کی خدمت کے لیے ایک مضبوط، مثبت اور متحد کردار ادا کریں۔

📍 تحریک پاکستان میں علماء ومشائخ کا کردار
🎙️ مقرر: مفتی کامران شہزاد صاحب
ڈائریکٹر، مدرسہ ڈاٹ پی کے

(باب اول: فکری پس منظر اور دو قومی نظریے کا ارتقاء 185)ء تا 194 ءتحریکِ پاکستان کی تاریخ محض سیاسی مذاکرات، انتخابی مہما...
21/09/2026

(باب اول: فکری پس منظر اور دو قومی نظریے کا ارتقاء 185)ء تا 194 ء
تحریکِ پاکستان کی تاریخ محض سیاسی مذاکرات، انتخابی مہمات اور جغرافیائی تقسیم کی داستان نہیں، بلکہ یہ برصغیر کے
مسلمانوں کی دینی، فکری، تہذیبی اور اجتماعی بقا کی ایک طویل جدوجہد تھی۔ اس جدوجہد میں سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ
علماء، مشائخ، دینی مدارس، مذہبی جماعتوں اور مختلف مکات ِب فکر سے وابستہ شخصیات نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ افسوس یہ
ہے کہ تاریخ کے عمومی بیانیے میں اس پہلو کو یا تو بہت محدود انداز میں بیان کیا گیا یا بڑی حد تک نظر انداز کر دیا گیا۔
باب اول اسی تاریخی خال کو سامنے التے ہوئے 1857ء سے 1940ء تک کے اس فکری سفر کا جائزہ پیش کرتا ہے جس کے
نتیجے میں مسلمانوں میں ایک جداگانہ قومی، تہذیبی اور سیاسی شعور مضبوط ہوتا گیا۔ 1857ء کے بعد برصغیر کے مسلمانوں
کو صرف سیاسی شکست کا سامنا نہیں تھا، بلکہ ان کے مذہبی تشخص، تعلیمی نظام، معاشرتی حیثیت اور اجتماعی مستقبل کے
متعلق بھی سنگین سواالت پیدا ہو گئے تھے۔ انہی حاالت میں مختلف دینی، علمی اور سیاسی حلقوں نے مسلمانوں کی فکری
بیداری، تعلیم، مذہبی شناخت اور اجتماعی تنظیم کے لیے اپنی اپنی سطح پر کام شروع کیا۔
vetira Ga)pک ے۔ف یکض رفانیوب میں وںریکِ Na e T" (Narra Th (اس تاریخی موضوع کا ایک اہم پہلو "تاریخی بیانیے کا نےی
پاکستاپ کو تان کوک رفاسی یا اسیافیجغر واقعہ بنا عہ بنا کرا یشا، اس یا نجسجے میں جےاجد، مدارس، علماء اور اءنی ریادت
کے ادتار کو دا جکو وہ جگ سنہ مل سک وج مکےحق تھے۔ قوسری طرف ری طرفاء و لماءخ کا ائخ کاا کر ہوا توقات پوری
تدوجہد کو جہد کوک سیت ِب فکر، ِخصوص جماعت یا اعت یاصیات تک یاتود کر دود کرا۔ اس یا ِ۔ سیان ِے یان سےل ئی
نسلنے تاریخ کی ریخ کیمکمل تصویر آتی یر آتی ہےتلف مکات ِب فکر بِ فکریان غیر انوری فکری یاصلے پیدا ےونے اا
ونےان بڑھ انتا ھے۔
اس باب کا بنیادی فکری محور یہ حقیقت ہے کہ برصغیر کے علماء اور مذہبی حلقوں کے درمیان فقہی اور مسلکی اختالفات اپنی
جگہ موجود تھے، لیکن مسلم قومیت، تہذیبی شناخت اور سیاسی مستقبل جیسے بڑے سواالت پر مختلف طبقات نے مشترکہ
جدوجہد میں اپنا حصہ ڈاال۔ کسی نے علمی و فکری میدان میں رہنمائی کی، کسی نے منبر و محراب سے مسلمانوں کو بیدار کیا،
کسی نے اپنے حلقۂ اثر اور مریدین کو منظم کیا، کسی نے فتاو ٰی اور تحریروں کے ذریعے موقف واضح کیا اور کسی نے براِہ
راست سیاسی میدان میں مسلم قیادت کا ساتھ دیا۔ یوں اختالفات کو ختم کیے بغیر بھی ایک بڑے قومی مقصد کے لیے مشترکہ
محاذ قائم ہونے کی مثال سامنے آتی ہے۔

اسی پس منظر میں قائداعظم محمد علی جناؒح کی سیاسی حکم ِت عملی کا پہلو بھی نمایاں ہوتا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو فرقہ
وارانہ تقسیم سے اوپر اٹھا کر ایک وسیع تر "مسلم شناخش" کے ت "ک ستحتی یاس پط متپر متحد کر کوکی کوش یکی ویہ ہو
کہ تحکہکِ ریکِتان ست مطکاعہ العہ کرتے ہوئ کصر اکس مایکی ذہبی حل سییای یاسیت ما دیکونا کھنا کافی، ہیں، بل پواس
پورے فکر ساوری ماجیل اح سمکونا جھنای رو جس نے مسنےانوں انو امیں اپنےانہ گانہبل تق شعکا شعور پیدا
اس تحقیق کی ایک خاص خصوصیت اس کا دستاویزی اور تحقیقی طریقۂ کار ہے۔ غیر مستند روایات، مبالغہ آمیز واقعات اور
محض جذباتی بیانات پر انحصار کرنے کے بجائے تاریخی دعووں کو متعدد معتبر ذرائع سے جانچنے کی کوشش کی گئی ہے۔
معاصر اخبارات، اصل فتاو ٰی، علماء و سیاسی شخصیات کے خطوط، سرکاری ریکارڈ اور دیگر تاریخی دستاویزات کو بنیادی
اہمیت دی گئی ہے۔ کوشش یہ ہے کہ کسی اہم دعوے کو اس وقت تک حتمی تاریخی حقیقت کے طور پر پیش نہ کیا جائے جب
اس پوری تحقیق کو محض جذباتی Rule Verification-Double تک آزاد اور معتبر مراجع سے اس کی مناسب تائید نہ ہو۔ یہی
بیانیے کے بجائے ایک مستند تاریخی مطالعے میں تبدیل کرتا ہے۔
باب اول میں 1857ء کے بعد مسلمانوں کے حاالت سے آغاز کرتے ہوئے اس فکری ارتقاء کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے
جس نے آگے چل کر دو قومی نظریے کے لیے زمین ہموار کی۔ مذہبی تشخص، تہذیبی امتیاز، تعلیمی بیداری، مسلم سیاسی حقوق
اور جداگانہ قومی شعور مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے باآلخر ایک منظم سیاسی مطالبے کی صورت اختیار کرتے گئے۔
1940ء تک پہنچتے پہنچتے مسلمانوں کا یہ احساس مزید واضح ہو چکا تھا کہ ان کے مذہبی، تہذیبی اور سیاسی مستقبل کا تحفظ
ایک مستقل اور بااختیار سیاسی نظام کے بغیر ممکن نہیں۔
یہ باب صرف ماضی کے واقعات بیان کرنے کی کوشش نہیں بلکہ موجودہ نسل کے لیے بھی ایک اہم پیغام رکھتا ہے۔ ہماری
تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اصولی اور فقہی اختالفات کے باوجود مشترکہ قومی مسائل پر تعاون ممکن ہے۔ تحریکِ پاکستان کے دور
میں مختلف مکات ِب فکر نے اپنی مذہبی شناخت برقرار رکھتے ہوئے اجتماعی مفاد کے لیے جو کردار ادا کیا، وہ آج بھی باہمی
ِل احترام، فکری اعتدال اور قومی وحدت کے لیے ایک

قاب غور مثال ہے۔

اس سلسلے کا مقصد تاریخ کے کسی ایک کردار کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا یا دوسرے کرداروں کو کم کرنا نہیں، بلکہ تحریکِ
پاکستان میں حصہ لینے والے مختلف مکات ِب فکر کے علماء، مشائخ اور دینی حلقوں کی مشترکہ جدوجہد کو مستند تاریخی شواہد
کی روشنی میں سامنے النا ہے۔ باب اول اسی وسیع تحقیقی سفر کی بنیاد فراہم کرتا ہے، جس کے بعد آنے والے ابواب میں
مختلف علماء و مشائخ، عالقائی تحریکوں، فتاو ٰی، صحافتی جدوجہد، طلبہ کی قربانیوں اور
ِ
قیام پاکستان کے فیصلہ کن مراحل کا

تفصیلی جائزہ پیش کیا جائے گا۔
یہ تاریخ صرف جاننے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے حال کو سمجھنے اور مستقبل کے لیے مشترکہ راستہ تالش کرنے کے لیے بھی
ہے۔

بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کا تفصیلی دورہمفتی طاہر مسعود صاحب، ناظمُ الامور مدرسہ ڈاٹ-پی-کے، نے بین الاقوا...
18/09/2026

بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کا تفصیلی دورہ

مفتی طاہر مسعود صاحب، ناظمُ الامور مدرسہ ڈاٹ-پی-کے، نے بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات، تعلیمی ماحول اور علمی سرگرمیوں کا مشاہدہ لیا۔

اس دورے کے دوران یونیورسٹی کے تعلیمی و تحقیقی نظام، طلبہ کے لیے موجود مواقع اور دینی و عصری تعلیم کے باہمی تعلق کے حوالے سے بھی اہم امور پر گفتگو ہوئی۔

مفتی طاہر مسعود صاحب نے مدرسہ ڈاٹ-پی-کے کی نمائندگی کرتے ہوئے دینی مدارس اور جامعات کے درمیان علمی و تعلیمی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔

17/09/2026

تحریکِ_پاکستان_میں_علماء_و_مشائخ_کا_کردار #

تحریکِ پاکستان میں علماء و مشائخ کا کردار: مدرسہ ڈاٹ-پی-کے کے زیرِ اہتمام خصوصی علمی و فکری سیمینار کی روداد

قیامِ پاکستان کی جدوجہد محض ایک سیاسی تحریک نہیں تھی بلکہ یہ ایک ہمہ گیر قومی و فکری جدوجہد تھی، جس میں علماء و مشائخ نے قوم کی فکری رہنمائی، عملی قیادت اور بے مثال قربانیوں کے ذریعے اہم کردار ادا کیا۔

انہی تاریخی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور نئی نسل کو اس ورثے سے روشناس کرانے کے لیے مدرسہ ڈاٹ پی کے کے زیرِ اہتمام ’’تحریکِ پاکستان میں علماء و مشائخ کا کردار‘‘ کے عنوان سے ایک خصوصی علمی و فکری سیمینار فری قرآن ایجوکیشن سینٹر، روات، راولپنڈی کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔

علماء، اساتذہ اور طلبہ کی شرکت

صبح ہی سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف علاقوں سے علماء کرام، اساتذہ اور طلبہ کے قافلے روات پہنچنا شروع ہوئے۔ مدرسہ ڈاٹ-پی-کے کی انتظامی ٹیم نے شرکاء اور معزز مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا اور پروگرام کے دوران ان کی رہنمائی و معاونت کا اہتمام کیا۔

— تلاوتِ کلامِ پاک اور افتتاح

پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد شرکاء کو مدرسہ ڈاٹ-پی-کے کے تعارف، خدمات، بنیادی مقاصد اور مستقبل کے وژن سے آگاہ کیا گیا۔

— تحریکِ پاکستان پر خصوصی ڈاکومنٹری

سیمینار میں تحریکِ پاکستان کے حوالے سے ایک خصوصی ڈاکومنٹری بھی پیش کی گئی۔
یہ ڈاکومنٹری گزشتہ ڈھائی سال کے دوران مدرسہ ڈاٹ-پی-کے کے فیس بک پیج پر شائع ہونے والی ’’تحریکِ پاکستان میں علماء و مشائخ کا کردار‘‘ کے عنوان سے جاری سیریز سے ماخوذ تھی، جس میں علماء و مشائخ کی تاریخی جدوجہد، خدمات، فکری کردار اور قربانیوں کو جامع انداز میں اجاگر کیا گیا۔

— پہلا پینل: چاروں مکاتبِ فکر، ایک اسٹیج

پہلے پینل میں چاروں مکاتبِ فکر کی نمائندگی کرنے والے جید علماء کرام نے ایک ہی اسٹیج پر شرکت کی۔

گفتگو کا مرکزی موضوع ’’تحریکِ پاکستان میں علماء و مشائخ کا کردار‘‘ تھا، جس کے تحت قیامِ پاکستان کے لیے علماء و مشائخ کی فکری رہنمائی، عملی جدوجہد اور بے مثال قربانیوں کو اجاگر کیا گیا۔

🤝 اس نشست کا ایک نمایاں پہلو باہمی احترام، فکری ہم آہنگی اور مشترکہ دینی و قومی مقاصد پر مبنی اتحاد و وحدت کا پیغام تھا۔

مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کی ایک ہی اسٹیج پر موجودگی نے مذہبی ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور باہمی احترام کی ایک خوب صورت اور امید افزا مثال پیش کی۔

— خصوصی تقسیمِ انعامات
علمی نشست کے بعد تقسیمِ انعامات کا خصوصی مرحلہ منعقد ہوا۔

الف۔ مقالہ نویسی کے مقابلے کے کامیاب شرکاء
تحریکِ پاکستان میں علماء و مشائخ کے کردار کے حوالے سے گیارہ ذیلی موضوعات پر مقالہ جات تحریر کرنے والے علماء اور طلبہ میں سے نمایاں کارکردگی دکھانے والے تین کامیاب شرکاء کو خصوصی انعامات سے نوازا گیا۔

ب۔ تلاوتِ قرآنِ پاک پر حوصلہ افزائی
تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حاصل کرنے والے بچے کی حوصلہ افزائی کے لیے اسے خصوصی انعام پیش کیا گیا۔

ج۔ لیوریفائی ٹیم کی پذیرائی
لیوریفائی بزنس کمپنی کے ٹیم ممبران **جناب ذیشان صاحب اور جناب احسن علی صاحب** کو بھی ان کی خدمات کے اعتراف میں خصوصی انعامات پیش کیے گئے۔

— مدرسہ ڈاٹ پی کے اور لیوریفائی ٹیم کا تعارف

اس موقع پر مدرسہ ڈاٹ پی کے کی انتظامی ٹیم اور لیوریفائی بزنس کمپنی کی ٹیم کا شرکاء سے تعارف کروایا گیا۔

ٹیم کے اراکین کی علمی، انتظامی اور تعلیمی خدمات کو سراہتے ہوئے اس امر کو اجاگر کیا گیا کہ کسی بھی کامیاب علمی و فکری پروگرام کے پس منظر میں ایک منظم، مخلص اور محنتی ٹیم کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

— دوسرا پینل: جامعات اور تعلیمی اداروں کا اشتراک

دوسرے پینل میں جامعات اور مختلف دعوتی و تعلیمی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔

گفتگو کا مرکزی محور تھا:

🔹 دینی و عصری تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط روابط
🔹 باہمی تجربات سے استفادہ
🔹 مشترکہ علمی و تحقیقی منصوبوں کا فروغ
🔹 تربیتی و تعلیمی تعاون کے نئے امکانات

پینل کے شرکاء نے مستقبل میں مؤثر ادارہ جاتی تعاون کے لیے قیمتی آرا اور قابلِ عمل تجاویز پیش کیں، جس سے مختلف اداروں کے درمیان مشترکہ علمی سفر کی نئی راہیں سامنے آئیں۔

— اختتامی کلمات اور اجتماعی دعا

علمی نشستوں اور پینل مباحثوں کے بعد اختتامی کلمات پیش کیے گئے۔

معزز مہمانوں، علماء کرام، جامعات و معاون اداروں کے نمائندگان، شرکاء اور پروگرام کے منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا، جبکہ اجتماعی دعا کے ساتھ سیمینار کا باضابطہ اختتام ہوا۔

— نماز اور ظہرانہ

نماز کے وقت تمام شرکاء نے باجماعت نماز ادا کی۔

نماز کے بعد شرکاء کے لیے ظہرانے کا اہتمام کیا گیا، جہاں کھانے کے دوران بھی علمی گفتگو، باہمی تعارف اور مستقبل میں مشترکہ علمی و تعلیمی کام کے امکانات پر تبادلۂ خیال جاری رہا۔

— شرکاء کی باحفاظت واپسی

دن بھر جاری رہنے والی علمی، فکری اور باہمی سرگرمیوں کے بعد سہ پہر 3:30 بجے شرکاء کی واپسی کے لیے منظم ٹرانسپورٹ روانہ ہوئی۔

مدرسہ ڈاٹ-پی-کے کی ٹیم نے مختلف علاقوں سے آنے والے معزز مہمانوں، علماء، اساتذہ اور طلبہ کے قافلوں کو نیک تمناؤں کے ساتھ الوداع کہا۔

ایک تاریخی ورثہ، ایک مشترکہ مستقبل

یہ سیمینار صرف ایک تاریخی موضوع پر گفتگو کا موقع نہیں تھا، بلکہ علماء و مشائخ کے تاریخی کردار کو نئی نسل تک منتقل کرنے، مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان علمی ہم آہنگی پیدا کرنے اور دینی و عصری اداروں کے مابین تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش بھی تھا۔

مدرسہ ڈاٹ-پی-کے اس عزم کے ساتھ علمی، فکری اور تربیتی میدان میں اپنا سفر جاری رکھے گا کہ ہمارے علماء اور طلبہ اپنے شاندار علمی ورثے سے جڑتے ہوئے عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ، مؤثر اور صاحبِ کردار علمی قیادت کا حصہ بنیں۔

تحریکِ پاکستان کا ورثہ — ہماری ذمہ داری، ہماری رہنمائی، ہمارا مشترکہ مستقبل۔





Address

Civic Center Bahria Town
Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when علمی رسوخ کی جستجو posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to علمی رسوخ کی جستجو:

Shortcuts

Share