28/09/2026
تحریک پاکستان میں علماء ومشائخ کا کردار
داستانِ حریت: جب محراب و منبر نے تاریخ بدل دی
(تحریکِ پاکستان کے فیصلہ کن معرکوں کی مکالماتی و داستانی روداد)
تمہید: ماضی کے دریچے سے ایک منظر
شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے، اور علمی بیٹھک میں چراغ کی روشنی دھیمی لو کے ساتھ لہرا رہی تھی۔ دو محققین—داستان گو اور راوی—تاریخ کے بکھرے ہوئے ورق الٹ رہے تھے۔
داستان گو: (حیرت اور استعجاب سے) "ذرا تصور کرو! ایک الیکشن کا معرکہ ہے... پندرہ ہزار ووٹرز، برطانوی راج کا تسلط، اقتدار کی تمام تر ریاستی طاقت اور جاگیرداروں کی بے پناہ دولت ایک طرف، مگر جب صندوقچے کھلے تو حاکمِ وقت کی پارٹی کو ان پندرہ ہزار میں سے صرف ایک ووٹ ملا! کیا یہ کوئی سحر تھا یا داستانوی افسانہ؟"
راوی: (مسکرا کر) "نہیں میرے دوست! یہ نہ کوئی افسانہ تھا اور نہ سحر، یہ اس حقیقت کی گواہی تھی کہ جب محراب و منبر اور خانقاہ کا متفقہ فیصلہ میدان میں آتا ہے تو دنیا کی بڑی سے بڑی سلطنت کا غرور مٹی میں مل جاتا ہے۔ یہ 1940ء سے 1947ء کے اس معرکے کی داستان ہے جہاں دیوبندی، بریلوی، اہلِ حدیث اور شیعہ اکابرین نے اپنے تمام تر فروعی و فقہی اختلافات کو لپیٹ کر اسلام اور مسلمانانِ برصغیر کی بقا کا علم بلند کیا تھا۔"
معرکہِ پنجاب: روحانی الٹی میٹم اور بیداریِ سحر
داستان گو: "مگر پنجاب کا وہ جاگیردارانہ قلعہ... جہاں یونینسٹ پارٹی کے نوابوں اور برطانوی سرپرستی کا راج تھا، وہ فصیل کیسے ٹوٹی؟"
راوی: "علماء نے طاقت کا روایتی میدان ہی بدل دیا! جاگیردار کے پاس جائیداد اور ریاستی پولیس کی قوت تھی، لیکن علماء کے پاس ایمانی اور روحانی اقتدار تھا۔ خواجہ قمر الدین سیالویؒ کا وہ واقعہ یاد کرو... جب طاقتور نوابوں نے دباؤ ڈالا کہ سیاسی معاملے میں غیر جانبدار ہو جائیں ورنہ جاگیریں ضبط ہو جائیں گی، تو سیال شریف کے اس مردِ حق نے کڑک کر فرمایا تھا:
'میں اپنی تمام جاگیریں اور مریدین قربان کر سکتا ہوں مگر محمد عربی ﷺ کے دین کا پرچم سرنگوں نہیں ہونے دوں گا!'
جب مریدوں نے دیکھا کہ پیر صاحب جاگیریں ٹھکرا رہے ہیں، تو ان کے دل سے ضبطی کا خوف نکل گیا۔ مرشد سے کٹ جانے کا سماجی بائیکاٹ جاگیر کے چھن جانے سے کہیں بڑا زلزلہ تھا۔"
داستان گو: "اور وہ پندرہ ہزار میں سے ایک ووٹ کا معجزہ؟"
راوی: "وہ اہلِ حدیث عالم حافظ عبدالقادر روپڑیؒ کا تدبر تھا! جب برطانوی راج نے اخبارات اور ریڈیو پر سنسرشپ لگا دی، تو انہوں نے مساجد کے منبروں کو ایک آزاد اور خود مختار مواصلاتی نظام میں بدل دیا۔ منبر سے نکلی ہوئی حق کی آواز ریاستی اعلان سے کہیں زیادہ طاقتور ثابت ہوئی۔"
معرکہِ سرحد: قبائلی جرگے اور ریاستی مشینری کا بائی پاس
داستان گو: "لیکن صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا) میں تو نعروں کا مقابلہ لاٹھی اور برطانوی پولیس سے تھا، وہاں کانگریس اور باچا خان کے اثر کو کیسے مات دی گئی؟"
راوی: "علماء نے ریاستی مشینری سے ٹکرانے کے بجائے اسے بائی پاس کر دیا۔ انہوں نے صدیوں پرانے قبائلی و روحانی رشتوں کو بیدار کیا۔ پیر آف زکوری شریفؒ نے جب نعرہ لگایا کہ 'یہ ووٹ کسی سیاسی جماعت کا نہیں، اسلام کے مستقبل کا فیصلہ ہے'، تو سیاست ایک مقدس دینی فریضے میں ڈھل گئی۔ پیر آف مانکی شریفؒ نے 'جمعیت الاصفیاء' کے تحت قبائلی جرگے کیے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ریفرنڈم میں کانگریسی بائیکاٹ کے باوجود 2,89,244 ووٹ پاکستان کے حق میں پڑے اور مخالفین کے حصے میں صرف 2,874 ووٹ آئے!"
🍃 معرکہِ سلہٹ: غیر یقینی، کانٹے دار مقابلہ اور پانچ دن کا اعجاز
داستان گو: "مشرق میں سلہٹ کا معرکہ تو انتہائی نازک تھا... رمضان المبارک کا شدید ترین حبس اور کانگریس نواز علماء کے منطقی دلائل! وہاں پانسا کیسے پلٹا؟"
راوی: "قائد اعظم اور لیاقت علی خان کی درخواست پر مولانا ظفر احمد عثمانیؒ روزے کی حالت میں سلہٹ پہنچے۔ انہوں نے جذباتی نعروں کے بجائے فقہی اور علمی مناظرے کیے اور ثابت کیا کہ ہندو اکثریت میں مسلم قومیت کی شرعی اور تہذیبی بقا ممکن نہیں۔ دوسری طرف مولانا عبدالحمید خان بھاشانیؒ نے غریب کسانوں کو سود خور جاگیرداروں سے نجات کا راستہ دکھایا۔ علمی منطق اور معاشی انصاف کے اس اتحاد نے محض پانچ دن کی مہم میں ہارتے ہوئے معرکے کو پچاس ہزار ووٹوں کی برتری سے جتوا دیا!"
معرکہِ سندھ: قبائلی عداوتوں کا دفن ہونا اور "فلور مینجمنٹ"
داستان گو: "اور سندھ کا اندرونی بکھراؤ؟ جہاں قبائلی دشمنیاں نسل در نسل چلی آ رہی تھیں؟"
راوی: "سندھ میں مولانا عبد الباقی ہمایونیؒ اور پیر غلام مجددی سرہندیؒ جیسے اکابرین نے غیر جانبدار ثالث اور اخلاقی مسند کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے جانی دشمن قبائل کو آمنے سامنے بٹھا کر فرمایا: 'تمہاری قبائلی انا اسلام کی بقا سے بڑی نہیں ہو سکتی۔' دشمنیاں وہیں دفن ہو گئیں۔
پھر جب سندھ اسمبلی میں انگریزوں نے اکثریت کا چیلنج دیا، تو پیر عبد الرحمن بھرچونڈویؒ نے بند کمروں میں انفرادی ممبران کو طلب کر کے وہ تاریخی 'فلور مینجمنٹ' کی جس نے اسمبلی کے فلور پر مسلم لیگ کی فتح پر مہر ثبت کر دی۔"
💡 حتمی حاصل و پیغام (علمائے کرام کے لیے شمعِ ہدایت)
داستان گو: (گہرے سانس کے ساتھ) "یہ تو ایک عجیب و غریب فکری معجزہ ہے۔ دیوبندی، بریلوی، اہلِ حدیث اور شیعہ... جو عام دنوں میں علمی و مناظرانہ مباحث میں ہوتے تھے، اس نازک موڑ پر کیسے ایک پیج پر آ گئے؟"
راوی: (پرجوش انداز میں) "یہ ہمارے اسلاف کی وہ فکری بلوغت اور تزویراتی حکمت تھی جو آج ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے فروعی اختلافات کو امت کے اجتماعی مستقبل کے راستے میں دیوار نہیں بننے دیا۔
آج جب ہمارا معاشرہ ایک بار پھر فکری، معاشی اور اخلاقی بحرانوں کا شکار ہے اور مسلکی و سیاسی دھڑوں میں بٹا ہوا ہے، تو یہی تاریخ ہم سے سوال کرتی ہے: اگر 1940ء کی دہائی میں تمام تر اختلافات کے باوجود بانیِ پاکستان کی قیادت میں ایک ہوا جا سکتا تھا، تو آج ہم اپنے اسلاف کا وہ سنہری ماڈل کیوں نہیں اپنا سکتے؟"
علماء و مشائخ سے اپیل:
یہ داستان صرف ماضی کا قصہ نہیں، بلکہ مدرسہ ڈاٹ-پی-کے کے پلیٹ فارم سے شروع کی گئی اس تحریک کا مقصد اپنے علمائے کرام کو وہی تاریخی اور قیادتانہ کردار یاد دلانا ہے۔ آئیے! اپنے اکابرین کی اس مشترکہ جدوجہد کو سنہری الفاظ میں محفوظ کریں اور ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اتحاد، بصیرت اور نظریاتی حصار کا پیغام عام کریں۔