InfoTech Assistant

InfoTech Assistant

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from InfoTech Assistant, Educational consultant, Islamabad.

The purpose of creation of these page is to help its visitors being updated towards Information Technology field, you can ask questions regarding IT field & pass your queries regarding any IT issue.

31/12/2025

31 دسمبر 2020: انٹرنیٹ کے ایک سنہری دور کا اختتام
​اردو:
31 دسمبر 2020 وہ تاریخ ہے جب انٹرنیٹ کی دنیا کا ایک بہت بڑا باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔ اس دن Adobe نے باضابطہ طور پر Flash Player کی سپورٹ ختم کر دی۔
​یہ انٹرنیٹ کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ اس لیے ہے کیونکہ 2000 کی دہائی میں انٹرنیٹ کا زیادہ تر مزہ اسی سافٹ ویئر کی وجہ سے تھا۔ ہم نے جو بھی پرانی براؤزر گیمز (جیسے Miniclip games)، اینیمیشنز، اور ابتدائی ویڈیوز دیکھیں، وہ سب فلیش پلیئر پر چلتی تھیں۔ اس دن کے بعد ویب سائٹس نے فلیش مواد چلانا بند کر دیا، جس سے انٹرنیٹ گیمنگ اور اینیمیشن کا ایک پرانا اور خوبصورت دور ختم ہو گیا۔
یہ واقعہ کیوں اہم ہے؟
بچپن کی یادیں: انٹرنیٹ استعمال کرنے والے پرانے صارفین کے لیے یہ ایک اداس دن تھا کیونکہ ان کے بچپن کی پسندیدہ گیمز ختم ہو گئیں۔
ٹیکنالوجی کی تبدیلی: اس واقعے نے دنیا کو بتایا کہ اب انٹرنیٹ HTML5 اور نئی ٹیکنالوجیز کی طرف منتقل ہو چکا ہے جو زیادہ محفوظ اور تیز ہیں۔

29/12/2025

یہ ایک بہترین اور متاثر کن کہانی ہے۔ میں نے اس واقعے کی تاریخی تفصیلات، پس منظر اور اس کے اثرات کو شامل کر کے اسے مزید تفصیل اور گہرائی کے ساتھ لکھا ہے۔
یہ رہی ری ٹاملنسن اور ای میل کی ایجاد کی مکمل اور تفصیلی داستان:
ری ٹاملنسن: وہ خاموش موجد جس نے دنیا کو @ کے ذریعے جوڑ دیا
یہ 1971ء کے موسمِ خزاں کی بات ہے۔ امریکا کی ریاست میساچوسٹس کے شہر کیمبرج میں "بولٹ، بیرانیک اینڈ نیومین" (BBN) نامی کمپنی کی ایک لیبارٹری میں مشینوں کی دھیمی گونج سنائی دے رہی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب انٹرنیٹ اپنی ابتدائی شکل میں تھا اور اسے 'ارپانیٹ' (ARPANET) کہا جاتا تھا۔
اس لیب میں 29 سالہ کمپیوٹر انجینئر، ری ٹاملنسن (Ray Tomlinson)، ایک ایسے پراجیکٹ پر کام کر رہا تھا جو اس کی سرکاری ذمہ داریوں کا حصہ بھی نہیں تھا۔ اسے کسی نے نہیں کہا تھا کہ وہ دنیا کے مواصلاتی نظام کو بدل کر رکھ دے، لیکن اس کے ذہن میں ایک سوال کھٹک رہا تھا۔
مسئلہ: ڈیجیٹل تنہائی
اس وقت تک کمپیوٹرز پر پیغامات چھوڑنے کا طریقہ بہت محدود تھا۔ سائنسدان اور محققین ایک ہی کمپیوٹر (مین فریم) کو باری باری استعمال کرتے تھے۔ اگر کسی کو دوسرے کے لیے پیغام چھوڑنا ہوتا، تو وہ کمپیوٹر کی لوکل ڈرائیو پر ایک ٹیکسٹ فائل بنا دیتا، بالکل اسی طرح جیسے آپ کسی کی میز پر کاغذ کی پرچی چھوڑ دیں۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اگر وہ شخص کسی دوسرے شہر یا دوسری عمارت میں موجود کمپیوٹر پر بیٹھا ہو، تو اسے وہ پیغام نہیں مل سکتا تھا۔
ری ٹاملنسن کا خیال تھا: "ہمیں فائلوں کو نہ صرف ایک ہی کمپیوٹر کے اندر، بلکہ نیٹ ورک کے ذریعے دوسرے کمپیوٹرز تک بھیجنے کے قابل ہونا چاہیے۔"
حل کی تلاش اور 'SNDMSG'
ری ٹاملنسن نے دو موجودہ پروگراموں کو ملانے کا فیصلہ کیا۔ ایک کا نام SNDMSG (سینڈ میسج) تھا جو مقامی پیغامات کے لیے تھا، اور دوسرا CPYNET تھا جو نیٹ ورک پر فائلیں بھیجتا تھا۔ انہوں نے کوڈنگ میں تبدیلیاں کیں تاکہ پیغامات کو ایک مشین سے دوسری مشین تک سفر کرایا جا سکے۔
لیکن یہاں سب سے بڑی تکنیکی رکاوٹ سامنے آئی:
کمپیوٹر کو یہ کیسے سمجھایا جائے کہ یہ پیغام کس "شخص" کے لیے ہے اور وہ شخص کس "مشین" (ایڈریس) پر موجود ہے؟
تاریخی انتخاب: @ کا نشان
ری کو ایک ایسے الگ کرنے والے نشان (Separator) کی ضرورت تھی جو انسان کے نام اور کمپیوٹر کے نام میں فرق کر سکے۔ اس نے اپنے Teletype Model 33 کی بورڈ پر نظر ڈالی۔ اسے ایک ایسا نشان چاہیے تھا جو کسی کے نام کا حصہ نہ بنتا ہو تاکہ کمپیوٹر کنفیوز نہ ہو۔
اس کی نظر "@" (At the rate of) پر پڑی۔ یہ نشان اکاؤنٹنگ اور قیمتوں کے تعین کے لیے استعمال ہوتا تھا اور عام گفتگو یا ناموں میں اس کا کوئی کام نہیں تھا۔ ری نے سوچا کہ یہ انگریزی لفظ "At" (یعنی 'پر') کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔
اس نے فیصلہ کیا: [صارف کا نام] @ [کمپیوٹر کا نام]۔
مثال کے طور پر: tomlinson@bbn-tenexa
یہ چند سیکنڈز کا فیصلہ تھا جس نے مستقبل کی ڈیجیٹل دنیا کی بنیاد رکھ دی۔
پہلا پیغام اور "خفیہ" ایجاد
ری ٹاملنسن کے کمرے میں دو بڑے PDP-10 کمپیوٹرز ساتھ ساتھ رکھے تھے۔ انہوں نے ایک کمپیوٹر سے دوسرے کمپیوٹر پر دنیا کا پہلا نیٹ ورک ای میل بھیجا۔ وہ پیغام کیا تھا؟ کوئی فلسفیانہ بات نہیں، بلکہ شاید کی بورڈ کی پہلی قطار کے حروف: "QWERTYUIOP" یا اسی طرح کا کچھ بے معنی ٹیسٹ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب یہ کامیاب ہو گیا، تو ری نے اپنے ساتھی جیری برچفیل (Jerry Burchfiel) کو بلایا اور اسے یہ نظام دکھایا۔ پھر مسکراتے ہوئے کہا:
> "کسی کو مت بتانا کہ میں نے یہ کیا ہے۔ ہمیں یہ کام کرنے کے پیسے نہیں مل رہے، یہ ہمارے کام کا حصہ نہیں ہے۔"
>
اثرات اور میراث
وہ ایجاد جسے "چھپانے" کی کوشش کی گئی تھی، جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ چند ہی سالوں میں ارپانیٹ پر ہونے والی 75 فیصد ٹریفک ای میلز پر مشتمل تھی۔
* آج کی حقیقت: آج دنیا میں روزانہ تقریباً 330 ارب ای میلز کا تبادلہ ہوتا ہے۔ ہر کاروباری معاہدہ، ہر تعلیمی داخلہ، اور ہر اہم رابطہ اسی "@" کے نشان کا مرہونِ منت ہے۔
* بغیر معاوضے کے خدمت: ری ٹاملنسن نے کبھی اس ایجاد کا پیٹنٹ (Patent) نہیں کرایا۔ اگر وہ چاہتے تو اس سے اربوں ڈالر کما سکتے تھے، لیکن انہوں نے اسے انسانیت کے لیے تحفہ سمجھا۔
اختتامیہ
جب 2016 میں 74 سال کی عمر میں ری ٹاملنسن کا انتقال ہوا، تو دنیا نے محسوس کیا کہ ہم نے ایک عظیم محسن کو کھو دیا ہے۔ انہوں نے شور مچا کر دنیا کو اپنی طرف متوجہ نہیں کیا، بلکہ خاموشی سے دنیا کے ایک کونے کو دوسرے کونے سے جوڑ دیا۔
ان کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیا کو بدلنے کے لیے آپ کو مشہور ہونے کی ضرورت نہیں، بس ایک درست نیت، تھوڑی سی مہارت اور مسلسل محنت درکار ہوتی ہے۔
کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں ایسی ہی کوئی اور "ٹیک ہسٹری" (Tech History) کی کہانی (جیسے کہ انٹرنیٹ کی ایجاد یا گوگل کے بننے کی کہانی) آپ کے لیے لکھوں؟



26/12/2025

26 دسمبر: جب سمندر ہلا اور انٹرنیٹ خاموش ہو گیا
​یہ 26 دسمبر 2006 کی ایک عام شام تھی۔ ایشیا کے زیادہ تر ممالک میں لوگ اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف تھے اور انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا سے جڑے ہوئے تھے۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ سمندر کی گہرائی میں کچھ ایسا ہونے والا ہے جو جدید دنیا کی رفتار کو روک دے گا۔
​زلزلے کا جھٹکا
اچانک تائیوان (Taiwan) کے جنوبی ساحل کے قریب سمندر کی تہہ میں ایک خوفناک زلزلہ آیا۔ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 7.0 تھی۔ زلزلہ تو آیا اور گزر گیا، لیکن اس نے سمندر کے نیچے خاموشی سے اپنا کام دکھا دیا تھا۔
​سمندر کے نیچے تباہی
سمندر کی تہہ میں ہزاروں میل لمبی، موٹی "سب میرین کیبلز" (Submarine Cables) بچھی ہوتی ہیں، جو بالوں سے بھی باریک فائبر آپٹکس کے ذریعے دنیا کا 99 فیصد انٹرنیٹ ٹریفک ایک ملک سے دوسرے ملک لے جاتی ہیں۔ اس زلزلے نے ان تاروں کو بری طرح کاٹ دیا اور توڑ دیا۔
​ڈیجیٹل بلیک آؤٹ (Digital Blackout)
جیسے ہی یہ تاریں ٹوٹیں، زمین کے اوپر ایک عجیب ہلچل مچ گئی۔
​چین، ہانگ کانگ، جاپان، سنگاپور اور جنوبی کوریا میں اچانک انٹرنیٹ غائب ہو گیا۔
​بڑے بڑے بینکوں کا نظام رک گیا، لوگ ای میل بھیجنے سے قاصر ہو گئے اور کروڑوں ڈالر کا آن لائن کاروبار ٹھپ ہو گیا۔
​لوگ سمجھ ہی نہیں پا رہے تھے کہ ان کے کمپیوٹرز اور موبائلز کو اچانک کیا ہو گیا ہے۔
​حقیقت کا انکشاف
کچھ گھنٹوں بعد معلوم ہوا کہ یہ کوئی فنی خرابی نہیں تھی، بلکہ انٹرنیٹ کی شہ رگ (Backbone) کٹ چکی تھی۔ تب دنیا کو پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ ہمارا "انٹرنیٹ" ہوا میں یا بادلوں (Cloud) میں نہیں، بلکہ سمندر کے نیچے مچھلیوں اور شارک کے درمیان ان تاروں میں بہتا ہے۔
​مرمت کرنے والے درجنوں جہازوں کو سمندر میں بھیجا گیا، اور انجینئرز کو ان ٹوٹی ہوئی تاروں کو دوبارہ جوڑنے میں 49 دن (تقریباً 7 ہفتے) لگ گئے۔ یہ انٹرنیٹ کی تاریخ کا ایک ایسا سبق تھا جسے دنیا کبھی نہیں بھلا پائی۔

24/12/2025

🌐 ورلڈ وائڈ ویب (WWW) کی تکمیل (1990)
​24 دسمبر 1990 (یا کرسمس کے دنوں کے دوران) وہ وقت تھا جب سر ٹم برنرز لی (Sir Tim Berners-Lee) نے دنیا کا پہلا ویب سرور اور ویب براؤزر مکمل طور پر تیار کر لیا تھا۔
​یہ واقعہ CERN (یورپین آرگنائزیشن فار نیوکلیئر ریسرچ) میں پیش آیا۔
​اہم نکات:
​پہلا ویب براؤزر: ٹم برنرز لی نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر WorldWideWeb نامی پہلا براؤزر بنایا (جس کا نام بعد میں Nexus رکھ دیا گیا)۔
​پہلا رابطہ: 24 دسمبر کے آس پاس، انہوں نے اپنے کمپیوٹر (NeXT Computer) کو دنیا کے پہلے سرور کے طور پر سیٹ کیا اور اس پر ہائپر ٹیکسٹ (Hypertext) کے ذریعے معلومات کو جوڑنے کا کامیاب تجربہ کیا۔
​پہلی ویب سائٹ: دنیا کی پہلی ویب سائٹ کا ایڈریس info.cern.ch تھا، جو اسی پروجیکٹ کا حصہ تھی۔
​💡 یہ اتنا اہم کیوں ہے؟
​اس واقعے سے پہلے انٹرنیٹ صرف سائنسدانوں اور فوج کے درمیان پیغامات بھیجنے کا ایک پیچیدہ ذریعہ تھا۔ 24 دسمبر 1990 کے اس کام نے انٹرنیٹ کو:
​ویب سائٹس کی شکل دی۔
​عام لوگوں کے لیے معلومات تک رسائی (Browsing) کو ممکن بنایا۔
​آج ہم جو کچھ بھی اسکرین پر دیکھتے ہیں (تصاویر، لنکس، پیجز)، اس کی تکنیکی بنیاد اسی دن مکمل ہوئی تھی۔
​🚀 ایک اور دلچسپ ٹیکنالوجی واقعہ (Apollo 8)
​اگرچہ یہ براہ راست "انٹرنیٹ" نہیں ہے، لیکن 24 دسمبر 1968 کو اپالو 8 مشن کے خلابازوں نے چاند کے مدار سے زمین کی مشہور تصویر "Earthrise" لی اور ٹی وی پر براہ راست نشریات کیں۔ یہ انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی نشریات میں سے ایک تھی جس نے "گلوبل ویلیج" اور کمیونیکیشن کے تصور کو جنم دیا۔

13/12/2025

🟢 T568B وائرنگ سٹینڈرڈ (RJ45 کنیکٹر)
​T568B سٹینڈرڈ ایک مخصوص ترتیب ہے جو زیادہ تر نیٹ ورک ڈیٹا کیبلز (Ethernet) میں استعمال ہوتی ہے۔ RJ45 کنیکٹر میں 8 پن ہوتے ہیں، اور ہر پن کے ساتھ ایک مخصوص تار کا رنگ جوڑا جاتا ہے۔ ۔

💡 ڈیٹا (Data In/Out) کی تاریں
عام طور پر 10/100 Mbps ایتھرنیٹ کے لیے، صرف دو جوڑے استعمال ہوتے ہیں:
ڈیٹا باہر (Data Out / Tx):
پن 1: سفید/نارنجی
پن 2: نارنجی
ڈیٹا اندر (Data In / Rx):
پن 3: سفید/سبز
پن 6: سبز
🔌 پاور اوور ایتھرنیٹ (PoE) کی تاریں
"پاور" (Power) کے لیے کوئی الگ سے تاریں نہیں ہوتیں، لیکن Power over Ethernet (PoE) ٹیکنالوجی میں، پاور کو ڈیٹا تاروں کے ساتھ یا غیر استعمال شدہ تاروں کے جوڑوں (پن 4/5 اور 7/8) کے ذریعے بھیجا جاتا ہے۔
PoE کے عام طریقے:
Mode A (Phantoms Power): پاور، ڈیٹا تاروں (1, 2, 3, 6) کے ساتھ ہی بھیجی جاتی ہے۔
Mode B (Spare Pairs): پاور، نیلے جوڑے (4, 5) اور بُھورے جوڑے (7, 8) کے ذریعے بھیجی جاتی ہے۔
📞 وائس (Voice) کی تاریں
یہ تاریں بنیادی طور پر ڈیٹا کے لیے ہیں، لیکن پرانے نیٹ ورکس یا کچھ خاص سیٹ اپ میں، RJ45 کنیکٹر کیبل کے غیر استعمال شدہ جوڑوں کو وائس (Voice) سگنل (جیسے اینالاگ فون لائن) کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جیسے کہ پن 4، 5، 7، اور 8۔ تاہم، یہ ایک غیر معیاری (Non-standard) استعمال ہے اور آج کل زیادہ تر VoIP (Voice over IP) ٹیکنالوجی استعمال ہوتی ہے، جو
ڈیٹا تاروں (1, 2, 3, 6) پر ہی وائس بھیجتی ہے
نیچے تصویر شیر کر رہا ہوں

ن

12/12/2025

Data science classes

Photos from InfoTech Assistant's post 12/12/2025

The RJ45 connector uses one of two standardized wiring schemes, T568A or T568B, for terminating Cat 6 (or Cat 5e/7) twisted-pair Ethernet cables. Both standards provide the same transmission performance, but the order of the wires is different.
T568A is often used in residential installations, U.S. government contracts, and is recognized as the preferred global standard.
T568B is the more widely used standard in commercial (enterprise) installations in the United States.
Key Difference:
The difference between T568A and T568B is the swapping of the Green and Orange wire pairs (specifically, the wires on pins 1, 2, 3, and 6). The Blue and Brown pairs remain the same.
Cable Types:
Straight-Through Cable: Both ends are terminated using the same standard (A-to-A or B-to-B). This is the most common type used to connect devices of different types (e.g., PC to Switch/Router).
Crossover Cable: One end is terminated with T568A and the other with T568B. This was traditionally used to connect devices of the same type (e.g., PC to PC), but modern networking equipment with Auto MDI-X capability usually makes crossover cables unnecessary

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address

Islamabad