Islamabad School of Journalism ISJ

Islamabad School of Journalism ISJ

Share

To promote professional and quality journalism in Pakistan
پروفیشنل اور معیاری صحافت کافروغ

20/12/2025

فارقلیط عبدالرحمان کی ایک اور رپورٹ جس میں انہوں نے بتایا کہ جب سی ڈی اے نے کوڑا دان رکھے ہیں تو آپ کیوں کچرا باہر پھینکتے ہیں۔ ⁦‪‬⁩

15/11/2025
دالبندین، رپورٹ، نصیب ملک بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام 25 جنوری دالبندین میں بلوچ نسل کشی کے دن کے مناسبت سے راچی مچی کا انعقاد کیا گیا جہاں بلوچستان بھر سے لاکھوں افراد جن میں بزرگ خواتین اور بچوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہاریاست پاکستان نے بلوچ قوم کی قدرتی معدنیات کو پچھلے ستتر سالوں سے لوٹ رہا ہیے مگر بحیثیت بلوچ قوم اب ہم کسی صورت اجازت نہیں دینگے اور تمام سرمایہ کاروں جو سرزمین بلوچستان میں کام کرنے کی دلچسپی رکھتے ہیں انکو بتانا چاہتے ہیے بلوچ قوم کو اعتماد لیئے بغیر کسی بھی ادارے کو بلوچستان میں سرمایہ کاری کی اجازت نہیں دینگے، بیرک گولڈ اور سعودی عرب کو آگاہ کرنا چاہتے ہیے اگر ریکوڈک پروجیکٹ میں آپ لوگ سرمایہ کاری کیلئے دلچسپی رکھتے ہو تو آپ لوگوں کو بلوچ قوم کے حقیقی نمائیندوں سے براہ راست بات چیت کرنا ہوگا ورنہ کسی بھی پروجیکٹ کو شروع کرنے کی اجازت نہیں دینگے ،بدقسمتی سے معدنی وسائل سے مالا مال بلوچ قوم اس ملک میں ایک غلام قوم کی حیثیت سے زندگی جی رہی ہیں جس کو ہم کسی بھی صورت قبول نہیں کرینگے اور ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں ضلع چاغی میں ریکوڈک ، سینڈک پروجیکٹس و دیگر کے فاہدے بلوچ قوم کے ترقی بجاے ریاست اس فاہدے بلوچ نسل کشی میں استعمال کررہی ہیے جبکہ دوسری طرف ریاست نے پنجاپ میں اورینج ڑین، گرین بس، اور میٹرو جیسے پروجیکٹس شروع کی ہیں جس سے اب صاف ظاہر ہوتا ہیے یہ ملک بلوچ قوم کی خوشحالی و ترقی کیلئے مخلص نہیں ہیے انہوں نے مزید کہا کہ ریاست نے صوبے کو ترقی دینے کے بجائے جان بوجھ کر بلوچ قوم کو دہائیوں سے پسماندہ رکھا ہیے مقامی بلوچ دو وقت کی روٹی کیلئے ایران/ افغان بارڈر پر تڑپ رہیے ہیں کبھی زمیاد گاڈیوں کے انجن میں مٹھی ڈالا جاتا ہیے تو کبھی بلوچ ڈرائیورز کو تپتی دھوپ پہ ننگے پاوں بارڈرز پر بھوکہ پیاسہ چھوڈا جاتا ہیے جس سے کہی نوجوان شہید زخمی ہوچکے ہیں، ڈاکٹر ماہ رنگ کا کہنا تھا بارڈر پر تجارت کرنا بلوچ قوم کا بنیادی حق ہیے اگر اس حق کو حکومت مقامی لوگوں سے چینا چاہتی ہیے تو بلوچ قوم اپنے حق و حقوق کیلئے مزاہمت کا راستہ اختیار کریگی، راجی مچی سے خطاب کرتے ہوئے شاجی صبغت اللہ شاہ نے کہا جس بےدردی سے بلوچ قوم کے وسائل کو روزانہ کی بنیاد پر لوٹا جارہا ہیے اب اسکا راستہ روکنا ہوگا ورنہ بلوچ قوم ہمیں کبھی معاف نہیں کریگی زندہ قومیں ہمیشہ یکجہتی اور متحد ہوکر ظالم سے اپنا حق چین لیتا ہیے، شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے شاجی نے کہا ماضی میں لوگوں کو اپنے حقوق کے آواز اٹھانے پر ریاست ڈراتی تھی مگر اب بلوچ قوم خوف و ڈر کی بھوت سے باہر نکل گئی ہیے ظلم، بلوچ نسل کشی پالیسی کے خلاف آواز اٹھائیگی مقامی نام نہاد سردار، میر ، نواب ، اور نمائیندوں نے سرکار سے ملکر لوگوں کے حقوق پامال کررہے ہیں بلوچ نوجوان ان مکرو چہروں کو یاد رکھے اور انکا راستہ روکے تاکہ آئیندہ کوئی بھی نام نہاد سردار، میر، نواب بلوچ قوم کے حقوق ہڑپ کرنے کا سوچے بھی نہیں، اس موقع پر سمی دین نے راجی مچی کے شرکاء کو آگاہ کرتے ہوئے کہا آج لاپتہ افراد ایک عالمی مسلہ بن چکا ہیے آج سے دس سال قبل جب ہم لاپتہ خاندانوں کے ہمراہ پیدل اسلام آباد کا رخ کیا تو یہی سوچ رہے تھے کہ اپنا مقدمہ حکمرانوں کے سامنے پیش کرکے شاید لاپتہ افراد کا مسلہ حل ہو جائے مگر افسوس حکمران طبقہ اس مسلے پر بے بس نظر آئے۔ سمی دین کا کہنا تھا اب ریاست پریشان ہیے کہ بلوچ نے کیوں مزاحمت کا راستہ چنا ہیے تو اسکا وجہ ریاست کے غلط پالیسی ہیے کہی بار ہم نے ریاست کو کہا ہیے اگر کسی لاپتہ افراد نے کوئی جرم کی ہیے تو اسکو آئین و قانون کے تحت عدالت میں پیش کریں اگر کسی نے کوئی جرم کی ہیے تو اسکو آئین پاکستان کے تحت سزا دی جائیں ورنہ معصوم اور بے گناہ افراد کو جلد رہا کیا جائے بلوچ ماں بہنوں کے آنسو خشک ہوچکے ہیں آپنے پیاروں کے لئے ، مگر ریاست بے گناہ افراد کو رہا کرنے کیلئے تیار نہیں اور نہ لاپتہ افراد کے فیملیز کو آگاہ کرتے ہیں کہ انکے پیارے زندہ ہیں یا شہید ہوچکے ہیں۔راجی مچی سے مرکزی رہنما لالا وہاب، ڈاکٹر صبیحہ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ 26/01/2025

دالبندین، رپورٹ، نصیب ملک بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام 25 جنوری دالبندین میں بلوچ نسل کشی کے دن کے مناسبت سے راچی مچی کا انعقاد کیا گیا جہاں بلوچستان بھر سے لاکھوں افراد جن میں بزرگ خواتین اور بچوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہاریاست پاکستان نے بلوچ قوم کی قدرتی معدنیات کو پچھلے ستتر سالوں سے لوٹ رہا ہیے مگر بحیثیت بلوچ قوم اب ہم کسی صورت اجازت نہیں دینگے اور تمام سرمایہ کاروں جو سرزمین بلوچستان میں کام کرنے کی دلچسپی رکھتے ہیں انکو بتانا چاہتے ہیے بلوچ قوم کو اعتماد لیئے بغیر کسی بھی ادارے کو بلوچستان میں سرمایہ کاری کی اجازت نہیں دینگے، بیرک گولڈ اور سعودی عرب کو آگاہ کرنا چاہتے ہیے اگر ریکوڈک پروجیکٹ میں آپ لوگ سرمایہ کاری کیلئے دلچسپی رکھتے ہو تو آپ لوگوں کو بلوچ قوم کے حقیقی نمائیندوں سے براہ راست بات چیت کرنا ہوگا ورنہ کسی بھی پروجیکٹ کو شروع کرنے کی اجازت نہیں دینگے ،بدقسمتی سے معدنی وسائل سے مالا مال بلوچ قوم اس ملک میں ایک غلام قوم کی حیثیت سے زندگی جی رہی ہیں جس کو ہم کسی بھی صورت قبول نہیں کرینگے اور ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں ضلع چاغی میں ریکوڈک ، سینڈک پروجیکٹس و دیگر کے فاہدے بلوچ قوم کے ترقی بجاے ریاست اس فاہدے بلوچ نسل کشی میں استعمال کررہی ہیے جبکہ دوسری طرف ریاست نے پنجاپ میں اورینج ڑین، گرین بس، اور میٹرو جیسے پروجیکٹس شروع کی ہیں جس سے اب صاف ظاہر ہوتا ہیے یہ ملک بلوچ قوم کی خوشحالی و ترقی کیلئے مخلص نہیں ہیے انہوں نے مزید کہا کہ ریاست نے صوبے کو ترقی دینے کے بجائے جان بوجھ کر بلوچ قوم کو دہائیوں سے پسماندہ رکھا ہیے مقامی بلوچ دو وقت کی روٹی کیلئے ایران/ افغان بارڈر پر تڑپ رہیے ہیں کبھی زمیاد گاڈیوں کے انجن میں مٹھی ڈالا جاتا ہیے تو کبھی بلوچ ڈرائیورز کو تپتی دھوپ پہ ننگے پاوں بارڈرز پر بھوکہ پیاسہ چھوڈا جاتا ہیے جس سے کہی نوجوان شہید زخمی ہوچکے ہیں، ڈاکٹر ماہ رنگ کا کہنا تھا بارڈر پر تجارت کرنا بلوچ قوم کا بنیادی حق ہیے اگر اس حق کو حکومت مقامی لوگوں سے چینا چاہتی ہیے تو بلوچ قوم اپنے حق و حقوق کیلئے مزاہمت کا راستہ اختیار کریگی، راجی مچی سے خطاب کرتے ہوئے شاجی صبغت اللہ شاہ نے کہا جس بےدردی سے بلوچ قوم کے وسائل کو روزانہ کی بنیاد پر لوٹا جارہا ہیے اب اسکا راستہ روکنا ہوگا ورنہ بلوچ قوم ہمیں کبھی معاف نہیں کریگی زندہ قومیں ہمیشہ یکجہتی اور متحد ہوکر ظالم سے اپنا حق چین لیتا ہیے، شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے شاجی نے کہا ماضی میں لوگوں کو اپنے حقوق کے آواز اٹھانے پر ریاست ڈراتی تھی مگر اب بلوچ قوم خوف و ڈر کی بھوت سے باہر نکل گئی ہیے ظلم، بلوچ نسل کشی پالیسی کے خلاف آواز اٹھائیگی مقامی نام نہاد سردار، میر ، نواب ، اور نمائیندوں نے سرکار سے ملکر لوگوں کے حقوق پامال کررہے ہیں بلوچ نوجوان ان مکرو چہروں کو یاد رکھے اور انکا راستہ روکے تاکہ آئیندہ کوئی بھی نام نہاد سردار، میر، نواب بلوچ قوم کے حقوق ہڑپ کرنے کا سوچے بھی نہیں، اس موقع پر سمی دین نے راجی مچی کے شرکاء کو آگاہ کرتے ہوئے کہا آج لاپتہ افراد ایک عالمی مسلہ بن چکا ہیے آج سے دس سال قبل جب ہم لاپتہ خاندانوں کے ہمراہ پیدل اسلام آباد کا رخ کیا تو یہی سوچ رہے تھے کہ اپنا مقدمہ حکمرانوں کے سامنے پیش کرکے شاید لاپتہ افراد کا مسلہ حل ہو جائے مگر افسوس حکمران طبقہ اس مسلے پر بے بس نظر آئے۔ سمی دین کا کہنا تھا اب ریاست پریشان ہیے کہ بلوچ نے کیوں مزاحمت کا راستہ چنا ہیے تو اسکا وجہ ریاست کے غلط پالیسی ہیے کہی بار ہم نے ریاست کو کہا ہیے اگر کسی لاپتہ افراد نے کوئی جرم کی ہیے تو اسکو آئین و قانون کے تحت عدالت میں پیش کریں اگر کسی نے کوئی جرم کی ہیے تو اسکو آئین پاکستان کے تحت سزا دی جائیں ورنہ معصوم اور بے گناہ افراد کو جلد رہا کیا جائے بلوچ ماں بہنوں کے آنسو خشک ہوچکے ہیں آپنے پیاروں کے لئے ، مگر ریاست بے گناہ افراد کو رہا کرنے کیلئے تیار نہیں اور نہ لاپتہ افراد کے فیملیز کو آگاہ کرتے ہیں کہ انکے پیارے زندہ ہیں یا شہید ہوچکے ہیں۔راجی مچی سے مرکزی رہنما لالا وہاب، ڈاکٹر صبیحہ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

06/05/2024

If you can engage yourself in any positive and productive work, you are the salt of the earth.

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address

Hamza Tower, Apartment B1, Street 73, Hilal Road, F11/1
Islamabad
44000