مسئلہ نزولِ مسیح علیہ السلام اس حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ بانیِ قادیانیت مرزا غلام احمد نے دعویٰ نبوت سے پہلے دعویٰ مسیحیت کو اس عمارت کی بنیاد کے طور پر کھڑا کیا جس پر آگے چل کر مجازی، ظلی، بروزی اور درپردہ حقیقی نبوت کے دعاوی نہایت چابکدستی اور عیاری سے استوار کر لیے۔ اُنہوں نے اپنی جھوٹی نبوت منوانے کے لیے سب سے بھیانک اور گمراہ کن کردار منصبِ مسیحیت پر خود کو فائز کرنے کے حوالے سے ا
دا کیا۔ اگرچہ مرزا صاحب خود کو مثیلِ مسیح قرار دینے سے پہلے نفسِ ختمِ نبوت کا عقیدہ تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہیں لیکن پھر رفتہ رفتہ ’’النّاس کالأنعام‘‘ کی سادہ لوحی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے وہ انتہائی دجل و فریب سے اس مسئلے پر الحاد و تشکیک کی فضا پیدا کر دیتے ہیں۔ ان کی جسارت اس انتہاء کو پہنچ جاتی ہے کہ ان کا بے باک قلم یہاں تک لکھ دیتا ہے:
ومع ذلک إذا کان نبینا ﷺ خاتم الأنبیاء فلا شک أنہ من آمن بنزول المسیح الذی ھو نبي میں بني إسرائیل فقد کفر بخاتم النبیین۔
غلام احمد قادیانی، رسالہ تحفہ بغداد: 28، مندرجہ روحانی خزائن، 7: 34
’’اس کے ساتھ جب ہمارے نبی خاتم الانبیاء ہیں تو اس میں ذرہ شک نہیں کہ جس شخص نے نزولِ مسیح پر ایمان رکھا جو بنی اسرائیل کے نبی تھے اُس نے خاتم الانبیاء کا انکار کیا۔‘‘
Alerts
Be the first to know and let us send you an email when We Are Anti Qadyani (Mirzaies) posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.