08/02/2021
We Are Anti Qadyani (Mirzaies)
We Are Anti Ahmadiya (qadiyanis
مسئلہ نزولِ مسیح علیہ السلام اس حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ بانیِ قادیانیت مرزا غلام احمد نے دعویٰ نبوت سے پہلے دعویٰ مسیحیت کو اس عمارت کی بنیاد کے طور پر کھڑا کیا جس پر آگے چل کر مجازی، ظلی، بروزی اور درپردہ حقیقی نبوت کے دعاوی نہایت چابکدستی اور عیاری سے استوار کر لیے۔ اُنہوں نے اپنی جھوٹی نبوت منوانے کے لیے سب سے بھیانک اور گمراہ کن کردار منصبِ مسیحیت پر خود کو فائز کرنے کے حوالے سے ا
08/02/2021
08/12/2020
یہ بھی ایک جناب ہیں پیسوں کی خاطر مرززا مردود سے بعیت کرنے کے خواہشمند
مرزا غلام قادیانی کے بارے میں یہ غلط مشہور کیا جارہا ہے کہ وہ باتھ روم میں مرا تھا عوام لاعلمی اور تحقیق نہ ہونے پر غلط افواہوں ، قیاس آراٸیوں پر یقین کرلیتی ہے۔۔۔
مرزا غلام قادیانی کے دور میں WC ایجاد نہیں ہوا تھا اس دوران گھر کے بیرونی طرف پردے یا کچی دیواروں کے اندر ایک گھڑا ہوتا تھا اگر کسی کو بھی حاجت ہوتی تھی تو وہ اس گھڑے میں فارغ ہوجاتا تھا یہ گھڑا گہرا ہوتا تھا اور اس کے بھرنے کی معیاد قریب بہ دس دن ہوتی تھی۔۔
(بحوالہ کتاب راہ قادیان جلد 2 ص 230)
گھڑے کو خالی کرنے کے لۓ برٹش بلدیہ کے سرکاری ملازمین ہوتے تھے جو ٹریکٹر نما بند گاڑی جس کے آگے بیل بندھی ہوتی تھی کے ہمراہ آیا کرتے تھے اور گھڑے میں پڑے انسانی بول و براز کو ایک ڈول نما شے کی مدد سے خالی کرکے اس گاڑی میں ڈالتے پھر کھلے میدان میں اسے پھینک کر آتے جہاں برٹش بلدیہ نے pigسوروں کو چھوڑ رکھا تھا ..
(بحوالہ History of hindustan)
مرزا غلام قادیانی آخر وقتوں میں بے حد کمزوری کا شکار تھا وہ کھڑا تو کجا بیٹھ بھی نہیں سکتا تھا چارپاٸ میں پے درپے غلاظت نکلنے اور بدبو پھیلنے کی وجہ سے مریدین اس کے قریب بھی نہیں آتے تھے یہاں تک کہ اس کی رن بھی اس سے دور ہوگٸ تھی یہی وجہ تھی کہ اس کے عقیدتمندوں نے اس کے بیت الخلاصہ کے گھڑے کو اتنا چوڑا کرنے کا فیصلہ کیا کہ اس میں پوری منجھی آجاۓ اور پھر گھڑا چوڑا کرنے کے بعد مرزا کو منجھی سمیت گھڑے کے اندر چھوڑ دیا تاکہ وہ وہیں کے وہیں فارغ ہوسکے۔۔۔
بحوالہ ( خزاٸن القادیان جلد 1 ص 17)
غلام مرزا قادیانی مسلسل ٹ ۔پ کرکر گھڑا اتنا بھرچکا کہ منجھی کے پاۓ دکھاٸ نہیں دیتے تھے۔۔۔
بحوالہ ( کتاب کرنل کی بیوی )
اور پھر ایسا وقت آیا کہ گھڑے کے اندر صرف ٹ ۔پ دکھاٸ دیتا تھا اور مرزا غلام قادیانی منجھی سمیت لاپتہ تھا بالاآخر معتقدین نے گھر کا دروازہ کھولا اور بیت الخلاصہ کی صورت حال کو دیکھ کر بلدیہ کی گاڑی منگواٸ صبح سے سہ پہر تک موال مواد نکالنے کے بعد بالاآخر مرزے کی منجھی نظر آٸ جو پورا لید سے تتر بتر ہوا پڑا تھا۔۔۔۔
بحوالہ : کتاب ( یہ کیا لال لال سارا مزہ ہی خراب کردیا)
باتھ روم میں گر کر مرنا یہ عمومی بات ہے اور اکثر اسپتالوں میں مریض باتھ روموں میں مرجاتے ہیں اس لۓ باتھ روم والی موت سے باہر آٸیں تحریر میں اختلاف ہوسکتا ہے مگر واقعہ ایسا ہی کچھ ہے یقین نہ آۓ تو کسی قادیانی سے تصدیق کرسکتے ہیں۔۔۔
بعد میں مرزا غلام قادیانی کو دستانے پہن کر چھ ہندوٶں نے باہر کھینچا ہو یا اسے رسی سے منجھی سمیت باندھ کر ایکسیلٹر دے کر گاڑی کے ذریعے نکالا ہو اس سے ہمیں کوٸ فرق نہیں پڑتا کہ قادیانی زندیق تھے اور زندیق ہی رہیں گے ۔۔۔!!!باتحریر خود آدم سیل عسجدانی
ﺍﯾﮏ ﺩﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ ﻟﮍﮐﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﮯﻗﺮﯾﺐ
ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯽ ﮔﺰﺭﺍ۔ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯﺍﺳﮯ ﺳﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ
ﻟﺌﮯﻣﺮﺯﺍ ﮐﻮ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ۔ ﯾﮧ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺍﻭﮐﺎﮌﮦ
ﺷﮩﺮ ﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺑﻨﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺎ ﮨﮯ۔ﺍﺱ ﻭﻗﺖ
ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﭘﻮﺭﺍ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﺘﯽ
ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯽ ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ
ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﺘﮏ ﻋﺰﺕ ﮐﺎ ﺩﻋﻮﯼٰ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﻭﮐﺎﮌﮦ
ﮐﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﻠﺲ ﺍﺣﺮﺍﺭ ﻻﮨﻮﺭ ﮐﮯ ﺩﻓﺘﺮ ﮐﻮ
ﺧﻂ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﺳﺎﺭﯼ ﺻﻮﺭﺗﺤﺎﻝ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ
ﮐﯽ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﺪﺩﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻓﺘﺮ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺑﮭﯿﺠﺎ
ﺟﺎﺋﮯ۔ﺟﻮ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻣﺪﺩ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻄﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺷﺎﮦ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﮯ
ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺣﯿﺎﺕ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ۔ ﺍٓﭖ
ﺍﻭﮐﺎﮌﮦ ﭼﻠﮯﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯿﺲ ﮐﯽ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﮐﺮﯾﮟ ۔
ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺣﯿﺎﺕ ﺍﻭﮐﺎﮌﮦ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ۔ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ
ﮐﯽ۔ ﺳﺎﺭﮮ ﮐﯿﺲ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﮐﯿﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﻭﮐﯿﻞ ﮐﯽ
ﺧﺪﻣﺎﺕ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﮟ۔ ﺍﺳﮯ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺩﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ﺣﻮﺍﻟﮯ
ﺩﮐﮭﺎﺋﮯﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﺮﺯﺍ ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ
ﮐﯿﺎ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺩﯼ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ
ﮐﺮﻧﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﻥ ﮐﻮﻥ ﺳﮯ ﺩﻻﺋﻞ ﺩﯾﻨﮯ ﮨﯿﮟ
ﻣﻘﺮﺭﮦ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﻮ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮭﭽﺎﮐﮭﭻ ﺑﮭﺮ
ﮔﺌﯽ۔ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﻣﻘﺪﻣﮯ ﮐﯽ ﮐﺎﺭﻭﺍﺋﯽ ﮐﻮ ﺳﻨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ
ﺗﮭﮯ۔ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺣﯿﺎﺕ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻭﮐﯿﻞ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺗﯿﺎﺭﯼ
ﮐﺮﻭﺍﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﯿﺌﮯ ﻭﮦ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﺎ
ﻭﮐﯿﻞ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﻟﮯ ﮔﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﯽ
ﺑﺘﺎﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﻭﮦ ﺳﺐ ﯾﻮﻧﮩﯽ
ﺭﮦ ﮔﺌﯽ۔
ﻭﮐﯿﻞ ﺍﺱ ﻃﺮﻑ ﺍٓﯾﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ، ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻋﺪﺍﻟﺖ
ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻟﻤﺒﯽ
ﭼﻮﮌﯼ ﺑﺤﺚ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺩﻻﺋﻞ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ ﺍٓﭖ
ﺻﺮﻑ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ! ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺮﺯﺍ ﮐﻮ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ
ﮔﺎﻟﯽ ﺩﯼ ﮨﮯ۔ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺳﮑﮯ ﮐﮧ
ﻭﮦ ﮔﺎﻟﯽ ﮨﮯ ﺑﮭﯽ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ۔ ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ
ﺳﮑﺘﮧ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ
ﻣﺠﺴﭩﺮﯾﭧ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﺭﻭﻣﺎﻝ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ
ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﺧﻮﺏ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ۔ ﺍٓﺧﺮ ﻣﺮﺯﺍﺋﯽ ﻧﮯ
ﮐﮩﺎ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﻮﻧﺴﯽ ﮔﺎﻟﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ
ﮔﺎﻟﯽ ﺿﺮﻭﺭ ﺗﮭﯽ ۔ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ
ﻧﮩﯿﮟ ، ﻣﯿﮟ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﺍٓﭖ ﺳﻨﺘﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ، ﺟﺐ ﻭﮦ
ﮔﺎﻟﯽ ﺍٓﺋﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎﺩﯾﮟ :
کیا اسنے کہا تھا کہ تیرے مرزے دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟
ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺳﺎﻧﺲ
ﻣﯿﮟ ﻣﺮﺯﺍﺋﯽ ﮐﻮ ﮐﺌﯽ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ، ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﮐﯿﺎ ﺍﻥ ﮔﺎﻟﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﮔﺎﻟﯽ ﺍٓﺋﯽ ھﮯ، ﺟﻮ ﺍﻥ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ۔ ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯽ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﮐﮩﺎ :
ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ ۔ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﻭﺭ
ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺳﻨﻮ، ﺍﺱ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﯼ 51 ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ
ﺩﯾﮟ۔ ﻣﺠﺴﭩﺮﯾﭧ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺩﺑﯽ ﺩﺑﯽ ﮨﻨﺴﯽ
ﮨﻨﺲ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺑﺲ ﻣﺮﺯﺍﺋﯽ ﺳﺎﮐﺖ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ
ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﻓﻖ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺏ ﭘﮭﺮ ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ۔ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﮔﺎﻟﯽ ﺍٓﺋﯽ ھﮯ۔؟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﮐﮩﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ
ﻧﮩﯿﮟ۔
ﺍﺏ ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ ﺟﺞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺳﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻞ ﮐﯽ
ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﮐﮯ ﺁﺅﮞ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ
ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ھﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﻞ ﺗﮏ ﻭﮦ ﮔﺎﻟﯽ ﯾﺎﺩ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ ۔
ﺟﺞ ﻧﮯ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺩﻥ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺩﮮ ﺩﯼ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺩﻥ ﺟﺐ ﻭﮐﯿﻞ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﺠﺴﭩﺮﯾﭧ ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ
ﺑﺘﺎﯾﺎ : ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﻞ ﮨﯽ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﺩﮮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﯿﺲ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
(اب کیا مجھے بتانا پڑے گا کہ اسے فارورڈ کریں ورنہ صبح اٹھو گے تو اتنے لاکھ کا نقصان ھو جائیگا۔ کوئی کام عشق رسول (ص) میں فی سبیل اللہ بھی کر لیا کریں)۔
29/04/2020
بڑا فیصلہ ( اب قادیانیوں کے شناختی کارڈ پر بھی قادیانی لکھا جائے گا )
قادیانیوں کو عیسائیوں ، ہندوؤں کی طرح اقلیتی کمیشن میں شامل کردیا گیا ۔ 73 کے آئین میں انہیں غیر مسلم قرار دیا گیا تھا مگر قادیانی اپنے آپ کو مسلمانوں کا ہی ایک مسلک کہتے تھے ۔ عمران خان نے قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن شامل کردیا ۔
مطلب اب کسی قادیانی کے شناختی کارڈ پر بھی قادیانی لکھا ہوگا
29/04/2020
وفاقی حکومت کا زبردست فیصلہ ماشاءاللہ
25/12/2019
دنیا میں ایسی کوئی طاقت نہیں جو پاکستان کو مٹا سکے. قائداعظم محمد علی جناح
25/11/2019
ویزے اور پاسپورٹ کی غرض سے اپنا عقیدہ اور مذہب کاغزات میں تبدیل کروانا کیسا عمل ہے
Passport Ke Liye Islam Ko Chorna | ARY Qtv | M***i Akmal Passport Ke Liye Islam Ko Chorna | ARY Qtv To Watch More Click Here: http://aryqtv.tv Android App: https://play.google.com/store/apps/details?id=com.aryservi...
03346198520 یہ بھی کسی حرامی کا نمبر ہے جو مجھے کال کر کے کہتا ہے کے آپ کی مس کال آئی ہے اور بعد میں کہتا ہے کے آپ کا نمبر فیسبک سے ملا ہے کتے کی نسل اگر گند کھانے کا شوق ہے تو کسی مرزائی قادیانی سے رابطہ کر مجھ سے بلکل بھی نہیں.
۔
مرزا قادیانی کی پہلی بیوی سے 32 سال میں صرف 2 بچے پیدا ہوے
جبکہ مرزا قادیانی کی دوسری بیوی سے 24 سال میں 10 بچے ہیدا ہوے کیسے؟؟؟؟
جبکہ مرزا قادیانی کی شادی ہوئی تھی تو اس کو یقین تھا کہ وہ نامرد ہے.مکتوبات احمدیہ جلد 5 نمبر 2، صفحہ 21، مکتوب نمبر 14
اسکا نام حرمت بی بی تھا۔اس سے 1852ء یا 1853ء میں شادی ہوئی."
پہلی بیوی سے مرزاقادیانی کے 2 بیٹے تھے۔
1۔ مرزا سلطان احمد 2۔ مرزا فضل احمد
ان دونوں بیٹوں نے مرزا قادیانی کو دعوی نبوت میں کذاب سمجھا تھا۔
مرزا فضل احمد، مرزا قادیانی (اپنے باپ) کی زندگی میں مر گیا لیکن مرزا نے اسکا جنازہ نہ پڑھا ۔
( روزنامہ الفضل قادیان 7 جولائی 1943ء ص 3)
مرزا قادیانی کی دوسری بیوی نصرت جہاں ایک رنگین مزاج عورت تھی
’’بیوی صاحبہ مرزا جی کے مریدوں کو ساتھ لے کر لاہور وغیرہ سے کپڑے بھی خود ہی خرید لایا کرتی تھیں ۔‘‘(کشف الظنون مرتبہ ڈاکٹر بشارت احمد صفحہ 88)۔نصرت جہان سے شادی
دوسری بیوی جسکا نام نصرت جہاں بیگم ہے اس سے نکاح 1884ء میں ہوا.
"نصرت جہاں بیگم کے متعلق مرزا قادیانی نے خود اعتراف کیا ہے کہ لوگ میری بیوی پر الزام لگاتے ہیں کہ اسکی میرے بعض مریدوں سے آشنائی ہے."
(روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 197 ، 203 )
مرزاقادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے لکھا ہے کہ
"کیا وجہ ہے کہ حکیم نور الدین اور عبدالکریم سیالکوٹی باقی قادیانی جماعت کے برعکس نصرت جہاں بیگم کو " ام المومنین " کی بجائے
"بیوی صاحبہ" کہتے تھے؟
(سیرت المہدی جلد 1 حصہ اول ص 63 روایت نمبر 77 طبع جدید 2008ء ص 56)
"نصرت جہاں سے مرزاقادیانی کی اولاد"
مرزا قادیانی کی دوسری بیوی نصرت جہاں سے درج ذیل اولاد ہوئی۔
"لڑکے "
1۔مرزا بشیر احمد (1888ء تا 1887ء)
2۔مرزا بشیر الدین محمود احمد (1889ءتا 1965ء) 3۔مرزا شوکت احمد (1891ءتا 1892ء)
4۔ مرزا بشیر احمد ایم اے (1893ءتا 1963ء)
5۔مرزا شریف احمد (1895ءتا 1961ء)
6۔ مرزا مبارک احمد (1899ءتا 1908ء)
"لڑکیاں"
1۔عصمت (1886ءتا 1891ء)
2۔ مبارکہ بیگم (1897ء تا1997ء)
3۔ امتہ النصیر (1903ءتا 1903ء)
4۔ امتہ الحفیظ بیگم (1904ءتا 1987ء)
(دیکهے حسب نامہ مرزا سیرت المہدی حصہ اول صفحہ 116 روایت 129 طبع جدید 2008ء
صفحہ 104 روایت نمبر 128 حصہ دوم صفحہ 150 روایت نمبر 467 طبع جدید روایت نمبر 470 صفحہ نمبر 442)
مرزا قادیانی کا جب نصرت جہاں سے نکاح ہوا تو مرزا کے پاس نقدی دو اڑھائی سو روپے تھے کوئی زیورات نہیں تھے جو نصرت جہاں کو پہنائے
جب نصرت جہاں کی رخصتی ہوئی صرف ایک صندوق میں کچھ سامان تھا جس کی چابی مرزا قادیانی کو دی گئی تھی اس کے لئے دیکھیں ( حیات ناصر صفحہ 8 مولف شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی اور سیدہ نصرت جہاں بیگم صفحہ 205 مولف شیخ محمود عرفانی قادیانی )
مرزا قادیانی بیوی کے پاس اتنے زیورات اور روپیہ کہاں سے آیا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
مرزا صاحب کے اپنے بیان کے مطابق حال ہی میں اس نے اپنا باغ اپنی زوجہ یعنی دوسری بیوی مسماۃ نصرت جہاں بیگم کے پاس گروی رکھ کر اس سے چار ہزار روپیہ کا زیور اور ایک ہزار روپیہ نقد وصول پایا ہے ۔ تو جس شخص کی عورت اس قدر روپیہ دے سکتی ہو اس کی نسبت گمان گذرتا ہے کہ وہ مالدار ہوگا " ( خزائن جلد 13 صٖفحہ 517 )
مرزا قادیانی کی بیوی نسرت جہاں کے پاس جو زیورات تھے ان کی کل رقم 3505روپے ہے ۔ (قادیانی نبوت ص85)اس زمانہ میں سونا تقریباً بیس روپے تولہ تھا اب اس زمانہ سے خود ہی مرزا غلام قادیانی کی بیوی کے زیورات کی مالیت کا اندازہ لگا لیں
نصرت جہاں بنا روپے پیسے اور زیورات کے بیاہ کر آئیں پر اتنی دولت اور زیورات کہاں سے آئے قادیانی غصہ نہ کریں عقل کریں اور اس کا جواب دیں
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Address
44000