In this Book Talk, Dr. Rasheed Arshad discusses Asr-e-Hazir Mein Deen Ki Tafheem o Tashreeh by Maulana Syed Abul Hasan Ali Nadwi — a profound work addressing the challenges of understanding and presenting Islam in the modern age.
The discussion explores the intellectual and cultural crises of contemporary society, the influence of modernity and secularism, and the responsibility of Muslims in preserving the authentic understanding of religion. Dr. Rasheed Arshad highlights Nadwi’s insights on how Islamic teachings can be understood and articulated meaningfully in the context of today’s rapidly changing world.
Convictional Emaan
Extraction from Lectures of Scholars of Islam
16/03/2026
دھوکے کے سال
رسول اللہ ﷺ نے آخری زمانے کے بارے میں فرمایا:
"“لوگوں پر دھوکے کے سال آئیں گے، ان میں جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا اور سچے کو جھوٹا، خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن سمجھا جائے گا، اور اس زمانے میں رُوَیْبِضَہ بات کریں گے۔”
صحابہؓ نے پوچھا: رویبضہ کون ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: “وہ حقیر اور کم حیثیت لوگ ہوں گے جو عوامی معاملات میں مداخلت کریں گے۔”
📚 حوالہ: سنن ابن ماجہ، حدیث: 4036
یہ حدیث اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آخری زمانے میں ایسا ماحول پیدا ہوگا جہاں حق اور باطل کا فرق دھندلا جائے گا اور لوگوں کے لیے سچائی کو پہچاننا مشکل ہو جائے گا۔
سوشل میڈیا نے دھوکے کو آسان بنا دیا
آج کے دور میں سوشل میڈیا نے معلومات کے پھیلاؤ کو بہت تیز کر دیا ہے۔ جہاں اس کے بے شمار فوائد ہیں، وہیں اس کے غلط استعمال نے دھوکے اور فتنوں کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔
آج:
- ایک جھوٹی خبر چند منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے
- پرانی یا ایڈیٹ شدہ ویڈیوز کو نئی بنا کر پھیلایا جاتا ہے
- ہر شخص بغیر تحقیق کے خبریں آگے بڑھا دیتا ہے
- نااہل لوگ اہم مذہبی، سماجی اور سیاسی معاملات پر رائے دینے لگتے ہیں
یہ صورتحال کسی حد تک اسی حقیقت کو ظاہر کرتی ہے جس کا ذکر حدیث میں “دھوکے کے سال” کے طور پر کیا گیا ہے۔
رُوَیْبِضَہ اور آج کا ماحول
حدیث میں بیان کردہ “رویبضہ” وہ لوگ ہیں جو علم اور اہلیت کے بغیر عوامی معاملات پر گفتگو کرتے ہیں۔
آج سوشل میڈیا پر:
- بغیر علم کے فتوے دیے جاتے ہیں
- اہم قومی یا دینی معاملات پر غیر سنجیدہ تبصرے ہوتے ہیں
- شہرت اور لائکس کے لیے سنسنی خیز باتیں پھیلائی جاتی ہیں
اس سے معاشرے میں کنفیوژن اور فکری انتشار پیدا ہوتا ہے۔
مسلمان کی ذمہ داری
ایسے دور میں مسلمان کو چاہیے کہ وہ :
+ تحقیق کے بغیر خبر نہ پھیلائیں
قرآن کریم میں ارشاد ہے:
“اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو۔”
(سورۃ الحجرات: 6)
+ افواہوں اور فتنہ سے بچیں
+اسلام ہمیں دوسروں کے بارے میں بدگمانی اور افواہ پھیلانے سے سختی سے منع کرتا ہے۔
+ اہلِ علم کی پیروی کریں
+ دینی مسائل میں ہمیشہ معتبر علماء سے رہنمائی حاصل کریں۔
+رسول اللہ ﷺ نے فتنوں کے دور میں عبادت، صبر اور اللہ پر توکل کو بہت اہم قرار دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں فتنوں کے دور میں حق کو پہچاننے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اللّٰهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ
آمین
Naat e Rasool e Maqbool ﷺ
دیارِ مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہ اب زرِ کم عیار ہوگا
اقامت دین کے چیمپین!؟
مرزا انجینئر کے بارے میں
اک دن تھا وہ کہ دب گئے تھے لوگ دین سے
اک دن یہ ہے کہ دین دبا ہے مشین سے
اکبر الہ آبادی
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں، خریدار نہیں ہوں
اکبر الہ آبادی
بے پردہ کل جو آئیں نظر چندبی بیاں
اکبر زمیں میں غیرت قومى سے گڑ گیا
پوچھا جواں سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑ گیا
---اکبر الہ آبادی
اصطلاحات حدیث
Click here to claim your Sponsored Listing.