24/07/2026
سوشل میڈیا سائیکو پروفائلنگ کا اخلاقی اور شرعی تجزیہ:
ڈیجیٹل دور میں ہماری ہر آن لائن سرگرمی—ایک سادہ سا کلک، ویڈیو پر رکنا، یا کوئی پوسٹ لائک کرنا—محض ایک عارضی عمل نہیں رہتا۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور جدید الگورتھمز ان تمام علامات کو جوڑ کر ایک شخص کا مکمل نفسیاتی خاکہ تیار کرتے ہیں، جسے سائیکو پروفائلنگ *(Psychoprofiling)* یا سائیکوگرافک ٹارگٹنگ کہا جاتا ہے۔
سائیکو پروفائلنگ کیا ہے؟
روایتی انداز کے برعکس (جس میں لوگوں کو صرف ان کی عمر، جنس یا علاقے کے لحاظ سے تقسیم کیا جاتا ہے)، سائیکو پروفائلنگ انسان کی اندرونی شخصیت کی ساخت کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔
اس کے لیے Big Five Personality Model (OCEAN) جیسے ماڈلز کا استعمال کیا جاتا ہے:
جدت پسندی (Openness): تجسس اور نئی چیزوں کی خواہش—جس کا اندازہ فن، سائنس فکشن، یا مختلف قسم کے مواد کو پسند کرنے سے لگایا جاتا ہے۔
برون بینی (Extraversion): سماجی میل جول اور توانائی—جس کا اظہار گروہی سرگرمیوں اور پوسٹس پر زیادہ بات چیت سے ہوتا ہے۔
احساسِ حساسیت (Neuroticism): جذباتی حساسیت یا پریشانی—جس کا پتہ اکثر پوسٹ کرنے کے اوقات، الفاظ کے انتخاب، یا پریشانی کی حالت میں کی گئی تلاش سے چلتا ہے۔
ان خصوصیات کا نقشہ بنا کر، پلیٹ فارمز اور اشتہار دینے والے ایسا مواد تیار کرتے ہیں جو انسان کی جذباتی کمزوریوں یا بنیادی رغبتوں کو براہِ راست نشانہ بناتا ہے.
عام طور پر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ٹیکنالوجی بذاتِ خود ایک "غیر جانبدار اوزار" (Neutral Tool) ہے اور اس کا اچھا یا برا ہونا صرف استعمال کرنے والے پر منحصر ہے۔ تاہم، میڈیا تھیوری اور اسلامی اصولوں کی گہری نظر سے دیکھا جائے تو یہ دعویٰ ناقص ثابت ہوتا ہے۔
۱. ٹیکنالوجی غیر جانبدار نہیں: "دی میڈیم از دی میسج"
مشہور میڈیا مفکر مارشل میک لوہان (Marshall McLuhan) کا تاریخی جملہ "The Medium is the Message" اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ کسی بھی ذریعہ ابلاغ (میڈیم) کی ساخت اور نظام ہی اس کا اصل پیغام ہوتا ہے، نہ کہ صرف وہ مواد جو اس کے ذریعے منتقل کیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا اور سائیکو پروفائلنگ کے تناظر میں یہ اصول درج ذیل باتوں کو ثابت کرتا ہے:
• بنیادی ساخت کا تعصب (Embedded Architecture): سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کوئی خالی کاغذ نہیں ہیں۔ ان کا ڈیزائن—لامحدود سکرولنگ، الگورتھمک فیڈز، اور نوٹیفکیشن سسٹمز—انسان کی توجہ کو مسلسل قید رکھنے اور اس کا ڈیٹا نچوڑنے کے لیے ہی بنایا گیا ہے۔ سائیکو پروفائلنگ اس نظام کا کوئی عارضی حصہ نہیں، بلکہ اس کا لازمی نتیجہ ہے۔
• مشترکہ حقیقت کا خاتمہ: پرانے ذرائع ابلاغ (اخبار یا ٹی وی) تمام لوگوں کو ایک جیسا مواد دکھاتے تھے۔ اس کے برعکس، سائیکو پروفائلنگ کا میڈیم ہر فرد کے لیے ایک الگ نفسیاتی دنیا (Filter Bubble) تخلیق کرتا ہے۔ یوں یہ میڈیم انسانوں کے باہمی تعامل اور اجتماعی حقیقت کے تصور کو بنیادی طور پر بدل دیتا ہے۔
• شدت پسندی کی ترغیب: چونکہ اس میڈیم کی بقا "پیشگوئی" (Prediction) پر منحصر ہے، اس لیے یہ قدرتی طور پر معتدل گفتگو کے بجائے شدید جذباتی ہیجان (خوف، غصہ، اور تفریق) کو زیادہ فروغ دیتا ہے، کیونکہ اسی سے سب سے زیادہ ڈیٹا حاصل ہوتا ہے۔
۲. سائیکو پروفائلنگ کے معاشی اور نفسیاتی خطرات
جب اس نادیدہ میڈیم کو تجارتی اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو اس کے شدید نتائج سامنے آتے ہیں:
• پرائیویسی کا شدید نقصان: صارفین کو علم ہی نہیں ہوتا کہ ان کی غیر محسوس عادتوں سے ان کے سیاسی، مالی اور ذاتی رجحانات کا خفیہ اندازہ لگایا جا رہا ہے۔
• نفسیاتی اور رویوں کی تبدیلی (Manipulation): الگورتھم جب کسی شخص کی جذباتی کمزوریوں (جیسے تنہائی، خوف یا احساسِ کمتری) کو پہچان لیتے ہیں، تو اس کی بنیاد پر مخصوص مواد دکھا کر اس کے فیصلوں اور خرید و فروخت کو اس کی مرضی کے بغیر موڑا جاتا ہے۔
• کمزوریوں کا استحصال: جذباتی طور پر پریشان یا حساس افراد کو باآسانی سود پر مبنی قرضوں، آن لائن جوئے، یا غیر مصدقہ ادویات کی جانب راغب کیا جا سکتا ہے۔
۳. قرآن و سنت کی روشنی میں اخلاقی اور شرعی جائزہ:
اسلام میں انسان کی عزتِ نفس، پرائیویسی، اور خود مختاری کو بنیادی مقام حاصل ہے۔ جب قرآن و سنت کے احکامات کی روشنی میں اس میڈیم کا جائزہ لیا جائے تو اس کا بنیادی ساختاری ڈیزائن کئی شرعی اصولوں سے ٹکراتا ہے:
(الف) تجسّس کی ممانعت (Tajassus)
اسلام کسی شخص کے پوشیدہ احوال یا باطنی کیفیت کو کریدنے سے سختی سے منع کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ ۖ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا..."
(سورۃ الحجرات: ۱۲)
"اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، بیشک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور تجسّس نہ کرو (ایک دوسرے کے بھید نہ ٹٹولو)..."
صارف کی خبر کے بغیر اس کے ڈیجیٹل نقوش سے اس کے باطنی رجحانات کا پتہ لگانا تجسّس کی ایک جدید اور خوفناک شکل ہے۔
(ب) ظن اور قیاس آرائی سے گریز
سائیکو پروفائلنگ انسان کے رویوں کی بنیاد پر اس کی شخصیت یا نیت کا اندازہ لگاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بغیر تصدیق کے اندازے قائم کرنے سے انتباہ فرمایا:
"گمان سے بچو، کیونکہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے؛ اور نہ کسی کے عیوب کی تلاش کرو، نہ تجسّس کرو..."
(صحیح بخاری)
انسانوں کو الگورتھم کے بنائے ہوئے خانوں میں تقسیم کرنا اور ان پر اندازوں کی بنیاد پر حکم لگانا انسانی شرف کے منافی ہے۔
(ج) دھوکہ دہی اور جذباتی استحصال
کسی انسان کی غیر محسوس طریقے سے ذہن سازی کرنا اور اس کی جذباتی کمزوریوں کا فائدہ اٹھانا اسلامی اخلاقیات کے خلاف ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
"جس نے دھوکہ دیا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔"
(صحیح مسلم)
(د) ذرائع اور اسباب کی اخلاقی حیثیت
فقہ اسلامی کا قاعدہ ہے کہ صرف مقصد ہی نہیں، بلکہ مقصد تک پہنچانے والے وسائل اور ذرائع (Means and Systems) بھی اخلاقی اور شرعی حدود کے تابع ہوتے ہیں۔ اگر کسی میڈیم کا بنیادی ڈھانچہ ہی تجسّس، کنٹرول اور استحصال پر مبنی ہو، تو وہ میڈیم بذاتِ خود اخلاقی طور پر زیرِ بحث آتا ہے۔
حاصلِ کلام
سائیکو پروفائلنگ بطورِ میڈیم محض ایک بے ضرر اوزار نہیں ہے، بلکہ اس کی ساخت بذاتِ خود یہ پیغام دیتی ہے کہ:
"انسان کی نفسیات اور جذبات کوئی محترم راز نہیں، بلکہ ایک ایسا رقبہ ہیں جسے نپنا، پریڈکٹ کرنا، اور بیچا جانا چاہیے۔"
اس ڈیجیٹل دور میں انسانی وقار اور خودمختاری کو برقرار رکھنے کے لیے جہاں قانونی سطح پر ان کمپنیوں کی جوابدہی ضروری ہے، وہیں انفرادی سطح پر ڈیجیٹل شعور کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی پرائیویسی اور فکر و عمل کو ان نادیدہ اثرات سے محفوظ رکھ سکیں۔