Convictional Emaan

Convictional Emaan

Share

Extraction from Lectures of Scholars of Islam

15/05/2026

In this Book Talk, Dr. Rasheed Arshad discusses Asr-e-Hazir Mein Deen Ki Tafheem o Tashreeh by Maulana Syed Abul Hasan Ali Nadwi — a profound work addressing the challenges of understanding and presenting Islam in the modern age.

The discussion explores the intellectual and cultural crises of contemporary society, the influence of modernity and secularism, and the responsibility of Muslims in preserving the authentic understanding of religion. Dr. Rasheed Arshad highlights Nadwi’s insights on how Islamic teachings can be understood and articulated meaningfully in the context of today’s rapidly changing world.

16/03/2026

دھوکے کے سال

رسول اللہ ﷺ نے آخری زمانے کے بارے میں فرمایا:

"“لوگوں پر دھوکے کے سال آئیں گے، ان میں جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا اور سچے کو جھوٹا، خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن سمجھا جائے گا، اور اس زمانے میں رُوَیْبِضَہ بات کریں گے۔”
صحابہؓ نے پوچھا: رویبضہ کون ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: “وہ حقیر اور کم حیثیت لوگ ہوں گے جو عوامی معاملات میں مداخلت کریں گے۔”
📚 حوالہ: سنن ابن ماجہ، حدیث: 4036

یہ حدیث اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آخری زمانے میں ایسا ماحول پیدا ہوگا جہاں حق اور باطل کا فرق دھندلا جائے گا اور لوگوں کے لیے سچائی کو پہچاننا مشکل ہو جائے گا۔

سوشل میڈیا نے دھوکے کو آسان بنا دیا

آج کے دور میں سوشل میڈیا نے معلومات کے پھیلاؤ کو بہت تیز کر دیا ہے۔ جہاں اس کے بے شمار فوائد ہیں، وہیں اس کے غلط استعمال نے دھوکے اور فتنوں کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔

آج:

- ایک جھوٹی خبر چند منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے
- پرانی یا ایڈیٹ شدہ ویڈیوز کو نئی بنا کر پھیلایا جاتا ہے
- ہر شخص بغیر تحقیق کے خبریں آگے بڑھا دیتا ہے
- نااہل لوگ اہم مذہبی، سماجی اور سیاسی معاملات پر رائے دینے لگتے ہیں

یہ صورتحال کسی حد تک اسی حقیقت کو ظاہر کرتی ہے جس کا ذکر حدیث میں “دھوکے کے سال” کے طور پر کیا گیا ہے۔

رُوَیْبِضَہ اور آج کا ماحول

حدیث میں بیان کردہ “رویبضہ” وہ لوگ ہیں جو علم اور اہلیت کے بغیر عوامی معاملات پر گفتگو کرتے ہیں۔

آج سوشل میڈیا پر:

- بغیر علم کے فتوے دیے جاتے ہیں
- اہم قومی یا دینی معاملات پر غیر سنجیدہ تبصرے ہوتے ہیں
- شہرت اور لائکس کے لیے سنسنی خیز باتیں پھیلائی جاتی ہیں

اس سے معاشرے میں کنفیوژن اور فکری انتشار پیدا ہوتا ہے۔

مسلمان کی ذمہ داری

ایسے دور میں مسلمان کو چاہیے کہ وہ :

+ تحقیق کے بغیر خبر نہ پھیلائیں

قرآن کریم میں ارشاد ہے:
“اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو۔”
(سورۃ الحجرات: 6)

+ افواہوں اور فتنہ سے بچیں

+اسلام ہمیں دوسروں کے بارے میں بدگمانی اور افواہ پھیلانے سے سختی سے منع کرتا ہے۔

+ اہلِ علم کی پیروی کریں

+ دینی مسائل میں ہمیشہ معتبر علماء سے رہنمائی حاصل کریں۔

+رسول اللہ ﷺ نے فتنوں کے دور میں عبادت، صبر اور اللہ پر توکل کو بہت اہم قرار دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں فتنوں کے دور میں حق کو پہچاننے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اللّٰهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ
آمین

04/03/2026

Naat e Rasool e Maqbool ﷺ

24/02/2026

دیارِ مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہ اب زرِ کم عیار ہوگا

16/09/2025

اقامت دین کے چیمپین!؟

03/09/2025
03/09/2025

مرزا انجینئر کے بارے میں

17/07/2025

اک دن تھا وہ کہ دب گئے تھے لوگ دین سے
اک دن یہ ہے کہ دین دبا ہے مشین سے
اکبر الہ آبادی

17/07/2025

دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں، خریدار نہیں ہوں
اکبر الہ آبادی

17/07/2025

بے پردہ کل جو آئیں نظر چندبی بیاں
اکبر زمیں میں غیرت قومى سے گڑ گیا
پوچھا جواں سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑ گیا
---اکبر الہ آبادی

23/03/2025

اصطلاحات حدیث

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Islamabad