Muhammad Abdul Samad Yaqub

Muhammad Abdul Samad Yaqub

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Muhammad Abdul Samad Yaqub, Education, Islamabad.

06/01/2026
10/06/2025

دِل سے نکلی فریاد — آئی جی پنجاب جناب عثمان انور صاحب اور وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ کے نام

محترم آئی جی صاحب،
محترم وزیر اعلیٰ پنجاب صاحبہ

ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے کبھی شکایت نہیں کی۔ نہ گرمی کی، نہ سردی کی، نہ دہشت گردی کی، نہ مسلسل کھڑی ڈیوٹی کی۔
ہم وہ لوگ ہیں جو وردی پہن کر سب کچھ بھول جاتے ہیں — گھر کا دکھ، بچوں کی خواہشیں، بیوی کی ضرورتیں، ماں باپ کی دعائیں۔

مگر آج... ہم ٹوٹ چکے ہیں۔

جناب، گزارا نہیں ہو رہا۔
یہ الفاظ شاید آپ کے لیے ایک سادہ فقرہ ہوں، مگر ہمارے لیے یہ روز کی حقیقت ہے۔
ہمارے بچوں کے چہرے ہر دن سوال کرتے ہیں:
"ابو، آپ تو پولیس والے ہیں، اتنے عظیم! پھر کیوں ہمارے گھر میں چولہا ٹھنڈا ہے؟"
"ابو، ہر مہینے آپ ادھار کیوں لیتے ہیں؟"

ہمارے پاس ان معصوم سوالوں کا کوئی جواب نہیں۔
ہم اپنے گھر والوں کی نظریں نہیں ملا پاتے۔ دل میں ایک بوجھ، آنکھوں میں نمی، اور جیب میں خالی پن لے کر ڈیوٹی پر آتے ہیں — اور پھر بھی، پوری ایمانداری سے کام کرتے ہیں۔

جناب عالی، ہم کسی آسائش کی بھیک نہیں مانگ رہے — ہم صرف اتنا مانگ رہے ہیں کہ ہمیں جینے دیا جائے۔

آپ کے دستخط سے ہمارے حالات بدل سکتے ہیں۔
ہمارے بچوں کا مستقبل بدل سکتا ہے۔
ہماری راتوں کی بے چینی ختم ہو سکتی ہے۔

ہم وفاقی پولیس سے کم نہیں، ہماری قربانی، ہماری ڈیوٹی، ہمارا جذبہ — سب کچھ برابر ہے۔
تو پھر ہمارا حق برابر کیوں نہیں ؟

ہم ہاتھ جوڑ کر، دل سے، دُکھی دِل سے، آپ سے اپیل کرتے ہیں:

ہماری تنخواہوں میں فوری اضافہ کیا جائے۔

الاونسز اور سہولیات میں انصاف کیا جائے۔

ہمیں وہ عزت دی جائے جو ایک سپاہی کا حق ہے۔

یہ صرف ایک کاغذ پر لکھی درخواست نہیں —
یہ اُن سینکڑوں وردیوں کے پیچھے چھپے دُکھوں کی فریاد ہے۔
جنہوں نے اپنی ہنسی قربان کی ہے، تاکہ ملک ہنس سکے۔
بس اب ہم چاہتے ہیں... ہمیں بھی جینے کا حق ملے۔

آپ سے آخری امید ہے۔

والسلام،
پنجاب پولیس کے جوان — جو اب صرف زندہ نہیں، بلکہ اندر سے ٹوٹے ہوئے ہیں۔

---
📢 آخر میں تمام ساتھیوں سے درخواست ہے:
براہِ کرم اس پیغام کو جتنا ہو سکے واٹس ایپ، فیس بک اور تمام سوشل میڈیا گروپس میں شیئر کریں — تاکہ ہماری یہ آواز وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب کے دِل تک پہنچے۔

ہم خاموش نہیں رہیں گے — اب بات ہوگی، اور پورے پنجاب کو سنی جائے گی۔

29/10/2023

Maulana Tariq Jameel's son was suffering from mental illness, RPO Multan

Maulana Tariq Jameel's son was also using psychiatric drugs for a long time, RPO Multan

Maulana Tariq Jameel's son snatched pistol from guard during exercise in gym, RPO Multan

Maulana Tariq Jameel's son shot himself after snatching pistol from guard, RPO Multan

According to the video Maulana Tariq Jameel's son has committed su***de, RPO Multan

24/10/2023

‏کیا آپ معمر قزافی کو جانتے ہیں ؟؟؟

یہ شخص لیبیا کا صدر تها ، اس کا نام معمر محمد أبو منيار القذافي تها ، اگر آج یہ شخص زندہ ہوتا تو شاید مسلمانوں کی پہچان ہی کچھ اور ہوتی ۔ اس نے 1969 سے لے کر 2011 تک لیبیا میں حکومت کی اور 20 اکتوبر 2011 میں اسے امریکہ نے ففتھ جنریشن وار کا ہتھیار استعمال کرکے مروا دیا ، لیکن کیوں مروایا اس کی بہت سی وجوہات ہیں ۔ لیکن ان میں سے ایک سب سے بڑی وجہ پیٹرو ڈالر تهی ، اس کا ذکر پھر کبھی سہی ، فی الحال اس پوسٹ میں آپ سب کو ان قوانین کے بارے میں بتایا جائے گا جو معمر قذافی نے اپنی حکومت میں قائم کیے تهے .

1۔ لیبیا میں بجلی مفت تهی ، پورے لیبیا میں کہیں بجلی کا بل نہیں بھیجا جاتا تها._*

2۔ سود پر قرض نہیں دیا جاتا تھا ، تمام بینک ریاست کی ملکیت تھے اور صفر فیصد سود پر شہریوں کو قرض کی سہولت دیتے تھے ۔

3۔ اپنا ذاتی گھر لیبیا میں انسان کا بنیادی حق سمجھا جاتا تھا اور اس کے لئے حکومت شہریوں کو مکمل مالی مدد فراہم کرتی تھی ۔

4۔ تمام نئے شادی شدہ جوڑوں کو اپنا نیا گھر بنانے کی مد میں حکومت پچاس ہزار ڈالرز مفت فراہم کرتی تھی ۔

5۔ پڑھائی اور علاج کی سہولتیں لیبیا کے تمام شہریوں کو بنا پیسوں کے حاصل تھیں ۔ قذافی سے پہلے 25 فیصد لوگ پڑھے لکھے تھے جبکہ آج 83 فیصد لوگ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہیں ۔

6۔ کسانوں کو زرعی آلات ، بیج اور زرعی زمین مفت میں فراہم کی جاتی تھیں ۔

7۔ اگر کسی باشندے کو لیبیا میں علاج ، معالجے یا تعلیم کی صحیح سہولت میسر نہ ہوتی تو حکومت بنا کسی خرچے کے بیرونِ ملک بھجواتی تھی ۔

8۔ لیبا میں اگر کوئی شخص اپنی گاڑی خریدنا چاہتا تو حکومت 50 فیصد سبسڈی فراہم کرتی تھی ۔

9۔ پیٹرول کی قیمت 0.14$ فی لیٹر تھی ۔

10۔ لیبیا پر کوئی بیرونی قرضہ نہیں تھا اور لیبیا کے اثاثوں کی کل مالیت تقریبا 150$ ارب ڈالر سے زائد تھی ، جن پر اب مغربی ممالک کا قبضہ ہے ۔

11۔ اگر کوئی باشندہ گریجویشن کرنے کے بعد بھی نوکری حاصل نہ کر پاتا تو حکومت اسے اس کی تعلیمی استعداد کے مطابق مفت تنخواہ ادا کرتی تھی تاوقتیکہ کہ اس باشندے کی ملازمت نہ لگ جائے ۔

12۔ ملک کے تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک مخصوص حصہ تمام لیبیائی باشندوں کے بینک اکاؤنٹس میں جمع کروا دیا جاتا تھا ۔

13۔ ماں کو ہر بچے کی پیدائش پر حکومت کی طرف سے 5000$ ڈالر مفت فراہم کئے جاتے تھے ۔

14۔ قذافی نے ملک کی صحرائی آبادی کے پیشِ نظر دنیا کا سب سے بڑا مصنوعی دریا بنانے کا پراجیکٹ بھی شروع کیا تھا ، تا کہ پورے ملک میں صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے ۔

یہ ان مظالم میں سے کچھ کی تفصیل ہے جو قذافی نامی ڈکٹیٹر نے لیبیا کی عوام پر ڈھائے ۔

ان مظالم کے علاوہ قذافی نے تین بہت بڑے گناہ اور بھی کیے تھے ۔

پہلا کہ پاکستان کو ایٹمی پروگرام کے لیے 100 ملین ڈالر کی رقم اس وقت فراہم کی جب پاکستان پر ہر طرح کی پابندیاں تھیں ۔ اسی رقم سے پاکستان نے اپنا ایٹمی پروگرام شروع کیا تھا ۔

دوسرا اس نے ہمیشہ مسلمان ممالک کو اکھٹا کر کے ان کا ایک بلاک بنانے کی کوشش کی ۔ کبھی افریقی ممالک کا بلاک ، کبھی عرب ممالک کا بلاگ ۔

لیکن ہمارے مسلمان ممالک قذافی کی اس " چال "
میں نہیں آئے اور آپس میں ہی لڑنے مرنے پر متفق رہے ۔

تیسری چیز میں تو اس نے حد ہی کر دی جب اس نے سونے اور چاندی کے سکوں میں لین دین کرنے کا فیصلہ کیا اور اعلان کیا کہ پیپر کرنسی جعلی کرنسی ہے ۔

اس کی ایسی جرات و بہادری کی وجہ سے ہی امریکہ نے قذافی کو قتل کروا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ لیبیا کے عوام کو ایک ذہین ڈکٹیٹر سے نجات دلائی جا سکے ۔

اب لیبیا میں مکمل جمہوریت آچکی ہے اور اپنے ہی اثاثوں سے محروم اور مقروض لیبیا جمہوریت کے مزے لے رہا ہے ۔

بلکل پاکستان کی طرح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

02/10/2023

Syed Aziz urehman shah sb

24/09/2023

عنوان دیجئے ۔۔۔۔۔۔۔۔

Want your school to be the top-listed School/college in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Islamabad